قاسم سوری کا انتخاب کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے پر سپریم کورٹ کا حکمِ امتناع

،تصویر کا ذریعہNational Assembly
پاکستان کی سپریم کورٹ نے کوئٹہ سے تحریکِ انصاف کے رکن اسمبلی اور قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے انتخاب کو کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے کے خلاف حکمِ امتناع جاری کر دیا ہے۔
پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کے 14 ماہ بعد الیکشن ٹریبونل نے گذشتہ ماہ کوئٹہ کے حلقہ این اے 265 سے متعلق انتخابی عذرداری پر فیصلہ سناتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی بطورایم این اے کامیابی کو کالعدم قرار دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو اس حلقے میں ضمنی انتخابات سے متعلق شیڈول جاری کرنے سے بھی روک دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے اس فیصلے کے خلاف درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ جب تک الیکشن ٹریبونل کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست پر فیصلہ نہیں ہو جاتا، اس وقت تک متعلقہ حلقے میں ضمنی انتخاب نہ کروایا جائے۔
عدالت کے فیصلے کے بعد قاسم سوری رکن اسمبلی کے ساتھ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے پر بھی برقرار رہیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیر کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف قاسم سوری کی اپیل کی سماعت کی۔
قاسم سوری کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی کی طرف سے 50 ہزار سے زیادہ غیر تصدیق شدہ ووٹوں سے متعلق الیکشن ٹربیونل میں جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ ان کے موکل ان غیر مصدقہ ووٹوں کے ذمہ دار ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ عام انتخابات میں ہونے والی بےضابطگیاں ان کے موکل سے منسوب نہیں کی جا سکتیں۔
عدالت کا کہنا ہے کہ تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ دیا جائے گا۔
ابتدائی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن نے قاسم سوری کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور اس اپیل کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
قاسم سوری کی بطور رکن قومی اسمبلی کامیابی کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما نوابزادہ لشکری رئیسانی نے چیلنج کیا تھا اور 27 ستمبر کو الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس عبداللہ بلوچ نے اس سلسلے میں فیصلہ سناتے ہوئے حلقہ این اے 265 میں دوبارہ الیکشن کروانے کا حکم دیا تھا۔
اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے قاسم سوری کو ڈی سیٹ کیے جانے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا تھا تاہم قومی اسمبلی کا اجلاس حکومتی رکن کی جانب سے کورم کی نشاندہی کے بعد غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کی وجہ سے نئے ڈپٹی سپیکر کا انتخاب نہیں ہو سکا تھا۔
قاسم سوری کی کامیابی کو چیلینج کرتے ہوئے لشکری رئیسانی کا موقف تھا کہ این اے 265 میں انتخاب کے دوران دھاندلی ہوئی۔ اس سلسلے میں نادرا نے ووٹوں کی بایومیٹرک رپورٹ بھی ٹربیونل میں جمع کرائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حلقے میں ڈالے گئے 52 ہزار ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
قاسم سوری کو ڈی سیٹ کیا جانا 2018 کے انتخابات کے بعد پہلا موقع تھا کہ کوئی نشست انتخاب کالعدم ہونے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔
ماضی میں بھی الیکشن ٹربیونلز کے فیصلوں کی وجہ سے ارکانِ اسمبلی کو ڈی سیٹ کیا جاتا رہا ہے۔ سنہ 2014 میں مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والی سمیرا ملک کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا گیا جبکہ سنہ 2015 میں ہری پور سے عمر ایوب خان کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا گیا۔
عمر ایوب اُس وقت مسلم لیگ نون کا حصہ تھے جبکہ اب وہ وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں شامل ہیں۔
ٹربیونل کے فیصلوں میں تاخیر کیوں؟
الیکشن امور پر گہری نظر رکھنے والے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک کے مدثر رضوی کے مطابق چونکہ ٹربییونل میں ہائی کورٹ کے ججز ہوتے ہیں تو ان کی اور مصروفیات بھی زیادہ ہوتی ہیں جس کی وجہ سے الیکشن امور تاخیر کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ان کے مطابق ٹربیونل میں جج کے بجائے وکیل کارروائی کو ریگولیٹ کرتا ہے۔
پلڈاٹ سے منسلک آسیہ ریاض کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلوں کے لیے سب زیادہ جس پہلو پر زور دیا جاتا ہے وہ یہی ہے کہ وقت پر فیصلے آئیں۔ الیکشن اصلاحات میں بھی اپیل کے لیے بھی ایک وقت کی حد مقرر کی گئی تھی۔
مدثر رضوی کے مطابق 2013 کے انتخابات کے بعد الیکشن ٹربیونل کے پاس 410 پیٹیشنز دائر کی گئی تھیں جبکہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد دو سو سے زائد پیٹیشن دائر ہوچکی ہیں۔
ایک ٹربیونل کو آفیشل گزٹ کے اعلان کے 45 دن تک کسی کو بھی انتخابی نتائج چیلنج کرنے کا اختیار ہوتا ہے اور اس کے بعد الیکشن ٹریبیونل کو چار ماہ میں فیصلہ سنانا ہوتا ہے۔ ’البتہ عملی طور پر ایسا نہیں ہوتا۔‘











