#ووٹ_کو_عزت_دو: آرمی ایکٹ کے ترمیمی بل کی غیر مشروط حمایت پر مسلم لیگ نون شدید تنقید کی زد میں

گذشتہ روز پاکستان کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی جانب سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بل کی حمایت کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

اور اس کے ساتھ ہی #ووٹ_کو_عزت_دو بھی پاکستانی سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے آرمی ایکٹ کے ترمیمی بل (جس کا مقصد پاکستان آرمی کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع ہے) کی غیر مشروط حمایت کی خبر پر اس کے حمایتی پہلے حیران پھر پریشان اور اس کے بعد خاصے برہم نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@asmashirazi

مسلم لیگ کے ایک ووٹر محمد مغل نے اپنے لیڈر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں وہاں تھا جب جب میاں نواز شریف کہہ رہے تھے ووٹ کو عزت دو۔ میں گجرانوالہ میں آپ کے سامنے کھڑا تھا۔ اب میں آپ سے یہی چاہتا ہوں۔ ہم آپ کے ساتھ کھڑے تھے آپ کو بھی ہمارے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@mughalaqib3

جبکہ حسن خان کا مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے کارکنان کو مایوس کیا ہے۔ اگر آپ لوگوں کی امنگوں کی ترجمانی پارلیمان میں نہیں کر سکتے تو انہیں اپنے نام نہاد انقلابی نعروں سے بے وقوف نہ بنائیں۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@HassanKhan6

مسلم لیگ نواز کے حمایتیوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آنے کے بعد پارٹی کے قائد نوازشریف کا جماعت کے عہداروں کے نام ایک مبینہ خط سامنے آیا جس میں تمام پارلیمانی تقاضوں کو پورا کرنے کی بعد اس کی منظوری دینے کی تلقین کی گئی ہے۔

عبدالقیوم خان کا اس ’خط‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’سنا ہے کہ ایک انتہائی بڑے لیڈر جنہوں نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ تخلیق کیا انہوں نے خط لکھا ہے کہ ایکسٹنشن تو دو مگر ذرا اس بات کا خیال رکھو کہ ایسا نہ لگے این آر او دو اور ایکسٹنشن لو والی ڈیل ہوئی ہے۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@Akkundi

جبکہ صحافی رضا رومی کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن کا فیصلہ ان کی حالیہ پالیسی کا مظہر ہے۔ اگر آپ کو حیرت ہو رہی ہے تو یہ آپ کا مسئلہ ہے۔ پنجاب کی پارٹی اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ دیر جھگڑا نہیں کر سکتی۔ ان دونوں فریقین کا تعاون ملک میں سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ لگتا ہے کہ شہباز شریف اب ڈرائیونگ سیٹ پہ براجمان ہیں۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@Razarumi

صحافی سلیم صافی نے رضا رومی سے اتفاق کرتے ہوئے کہا ’نون لیگ کا یو ٹرن دراصل اس وسیع ترمفاہمت کا حصہ ہےجو ’ملک‘ اور شریف فیملی کے وسیع تر مفاد میں گذشتہ سال ہوچکی ہے۔ جس کے تحت مریم نواز خاموش ہیں۔ شریفوں کا نام نہاد اختلاف فقط اتنا ہے کہ چھوٹے شریف ایک صوبے سے آغاز پر راضی ہوگئے ہیں جبکہ بڑے شریف مرکز سے آغاز پر اصرار کر رہے تھے۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@SaleemKhanSafi

مسلح افواج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق الگ الگ بل جب قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو حزب مخالف کی جماعتوں نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف پیش کیا کہ اس معاملے میں پارلیمانی قواعد و ضوابط کی پیروی کی جائے۔ جس کے بعد بل کو قومی اسبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بھیج دیا گیا۔

تاہم ناقدین اپوزیشن جماعتوں کی اس چھوٹی سے مزاحمت سے زیادہ متاثر دکھائی نہیں دیے۔

صحافی بےنظیر شاہ کا کہنا تھا کہ ’حزب اختلاف نے اس (آرمی ایکٹ) ترمیمی بل کی حمایت کا فیصلہ کسی کمیٹی کی جانب سے پڑتال اور پارلیمان میں بحث سے قبل ہی کرلیا تھا تو اب ان تکلفات میں پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@Benazir_Shah

جہاں لوگوں نے مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے اس بل کی حمایت کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا وہیں پختون تحفظ موومنٹ کے ممبر پارلیمان محسن داوڑ کی جانب سے اس بل کی مخالفت کو سراہا۔

آسیہ رحمان کا کہنا تھا کہ ’امید ہے کہ اب پی ٹی ایم کے سینیر کارکنان اور رہنما کو پتہ چل گیا ہوگا کہ مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلزپارٹی جیسی بڑی جماعتوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

وہیں پی ٹی آئی کے سپورٹرم اپنی رائے دینے میں پیچھے نہ رہے۔ ایک ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ ’ہمیں تنقید کے بجائے جسٹس کھوسہ کو ان کے اس انوکھے آئیڈیا کے لیے شکر ادا کرنا چاہیے۔ اب کم سے کم پاکستان تحریک انصاف کو ایکسٹنشن کے لیے مورد الزام نہیں ٹھرایا جائے گا۔‘

گزشتہ روز میڈیا میں مسلم لیگ نون کی طرف سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی حمایت سے متعلق خبریں چلیں تو ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگانے والی جماعت نے اس کی تردید یا تصدیق نہیں کی تھی۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@Fereeha

حال ہی میں اینٹی نارکوٹکس فورس کی قید سے رہا ہونے والے رکن قومی اسمبلی رانا ثنااللہ نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی جماعت کی پارلیمانی پارٹی نے آرمی چیف کی توسیع سے متعلق جو حمایت کی ہے وہ غیر مشروط ہے تو پھر اسے ڈیل کیسے کہا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری جماعت پارلیمانی کمیٹی کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہو گی۔

بس پھر کیا تھا سوشل میڈیا بریگیڈ حرکت میں آگئی اور نون لیگ کی اس حمایت اور خاموشی پر خوب خبر لی اور ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نام سے ایسا نیا ٹرینڈ بنایا کہ جو کبھی لیگی قیادت خود فخر سے پیش کرتی تھی۔

صحافی طلعت حسین کا کہنا تھا ’شھباز شریف اور نواز شریف نے آرمی ایکٹ کی ترامیم پر PTI کا تھوکا چاٹ کر آج ووٹ اور ووٹر کو تاریخی عزت دی ہے۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@TalatHussain12

ماہا نظام خیل نامی صارف نے لکھا ’میرے ووٹ کی عزت کو ن لیگ نے رول دیا۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@MNizamkhel

ایک اور صارف نے نواز شریف کی تصویر کے ساتھ ٹویٹ کیا ’بوٹ کو عزت دو۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہ@Mohsinbwn

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل بھی دائر کر رکھی ہے، تاہم سماعت کا انتظار کیے بغیر حکومت نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کا آپشن اختیار کیا۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کچھ دن قبل ہی بتا دیا تھا کہ آرمی چیف کی توسیع سے متعلق حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔