#BajwaExtension: سپریم کورٹ کی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت کے حوالے سے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مشروط توسیع دینے کا اعلان کیا ہے۔
اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر میاں خیل پر مشتمل تین رکنی بینچ کر رہا تھا۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعرات کی دوپہر سنائے گئے مختصر فیصلے میں عدالت کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ کی موجودہ تقرری چھ ماہ کے لیے ہو گی اور اس توسیع کا اطلاق جمعرات 28 نومبر 2019 سے ہو گا۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر کو ریٹائر ہونا تھا تاہم وزیراعظم عمران خان نے ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل ہی انھیں تین برس کے لیے توسیع دینے کا اعلان کیا تھا جس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 243، آرمی ایکٹ 1952 اور آرمی ریگولیشنز رولز 1998 میں کہیں بھی مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں تاہم عدالت نے اس معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کیا اور معاملات کو قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔
عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے یقین دلایا ہے کہ اس معاملے میں قانون سازی کی جائے گی اور عدالت چھ ماہ بعد اس سلسلے میں ہونے والی قانون سازی کا جائزہ لے گی۔
جمعرات کی دوپہر عدالتی کارروائی ایک وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو حکومت کی جانب سے عدالت کو یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ تین میں عدالت کی جانب سے اٹھائے جانے والے چار نکات پر بیان حلفی جمع کروایا جائے گا۔
اس یقین دہانی کے بعد عدالت نے مختصر فیصلہ سنایا اور کہا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
اس سے قبل عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے حکومت سے کہا تھا کہ آرمی چیف کی تقرری کے نئے حکم نامے میں مدت کے تعین اور عدالت کے ذکر کو نکال دیا جائے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت چھ ماہ کے اندر آرمی چیف کی مدت ملازمت اور ان کو دی گئی مراعات کے متعلق قانون سازی کرے۔
جمعرات کو سماعت کے موقع پر عدالت نے یہ بھی تجویز دی کہ جب تک آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق قانون سازی نہیں ہو جاتی اور حکومت چھ ماہ میں قانون سازی کرنے کا بیان حلفی دیتی ہے تو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں اتنی دیر تک کی توسیع کر دی جائے تاہم اٹارنی جنرل انور منصور نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔

آرمی چیف ’ڈرافٹنگ اور سمریاں تیار نہیں کرسکتا‘
اس موقع پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کوئی قانون ہی موجود نہیں ہے تو وہ قانون کہاں سے لائیں؟
چیف جسٹس نے جواب دیا کہ گذشتہ 72 برس سے ایسا نہیں ہوا کیونکہ اب یہ معاملہ عدالت کے سامنے آیا ہے تو اسے قانون کے مطابق دیکھنا پڑے گا۔
جسٹس کھوسہ نے کہا کہ آرمی چیف کا کام ملک کا دفاع ہوتا ہے وہ آپ کے ساتھ بیٹھ کر ڈرافٹنگ اور سمریاں تیار نہیں کرسکتا، اس سے وقت اور انرجیز کا ضیاع ہوتا ہے۔ گذشتہ دن مضحکہ خیز خبریں چل رہی تھیں کہ توسیع کے نوٹیفیکیشن سے متعلق مشاورتی اجلاس میں آرمی چیف بھی پہنچ گئے ہیں۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کی قیادت بھی عدالت میں موجود تھی۔
چیف جسٹس آصف کھوسہ نے اٹارنی جنرل انور منصور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سماعت کے دوران جو سمریاں پیش کی گئی تھیں اس کے بارے میں جب عدالت نے یہ کہا کہ اس میں کچھ غلطیاں ہیں، چند خلا ہیں تو اٹارنی جنرل نے یہ کہا تھا کہ اس میں کوئی غلطی نہیں ہے تو اگر آپ نے کوئی غلطی نہیں کی تو تیسری سمری کیوں لے کر آئے ہیں۔
سابق فوجی سربراہان کا ریکارڈ پیش
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ تمام معاملات کو قانون کے مطابق چلنا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ جنھوں نے قوم کی خدمت کی ہے ہمارے دل میں ان کا بہت احترام ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کر احترام آئین پاکستان کا ہے جس پر عملدرآمد کرنے کے ہم سب پابند ہیں۔
سابق وزیر قانون فروغ نسیم نے عدالت کے سامنے سابق آرمی چیفس اشفاق پرویز کیانی کی توسیع جبکہ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کی سمریاں پیش کیں۔ اٹارنی جنرل نے فروغ نسیم کی طرف اشارہ کر کے عدالت کو بتایا کہ ان کا معاملہ بھی حل ہوگیا ہے۔
فروغ نسیم نے عدالت کے سامنے مختصر دلائل بھی دیے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے ’مسئلے حل ہو جاتے ہیں لیکن ہمارے پاس آتا کوئی نہیں ہے۔ کہتے ہیں ہم خود نوٹس لے لیں، کیوں لیں۔ ایک راہی (درخواست گزار ریاض راہی) آیا ہمارے پاس پھر ہم نے اسے جانے نہیں دیا۔‘
اس سے قبل جمعرات کو جب اس معاملے کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سابق فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدتِ ملازمت میں توسیع اور ان کی جگہ لینے والے جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے متعلق دستاویزات طلب کیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ’ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ جنرل کیانی کو کن شرائط پر توسیع ملی تھی۔‘
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتے، اگر جنرل ریٹائر نہیں ہوتے تو پینشن بھی نہیں ہوتی، تو جنرل راحیل کی دستاویزات دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان پر کیا لکھا ہے اور اگر وہ ریٹائر نہیں ہوئے تو ان کو پینشن مل رہی ہے یا نہیں۔‘
اس کے بعد عدالت نے سماعت میں 15 منٹ کا وقفہ کردیا جس کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سماعت کے دوبارہ آغاز پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مدت مکمل ہونے کے بعد جنرل ریٹائر ہوجاتا ہے جس پر بینچ کے رکن جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’کل تو آپ کہہ رہے تھے جرنیل ریٹائر نہیں ہوتا۔‘
خیال رہے کہ بدھ کو سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور خان نے موقف دیا تھا کہ وزیراعظم کسی ریٹائرڈ جرنیل کو بھی فوج کا سربراہ لگا سکتے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف تعیناتی کی نئی سمری عدالت میں پیش کی تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انھیں عدالت کو مطمئن کرنا ہو گا کہ اب ہونے والی تعیناتی کیسے درست ہے۔
انھوں نے استفسار کیا کہ آج بھی جنرل باجوہ ہی آرمی چیف ہیں اور جو عہدہ خالی نہیں، اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ تعیناتی قانونی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
’تین دن میں بیان حلفی جمع کروائیں‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سمری میں عدالتی کارروائی کا ذکر کیا گیا ہے اور حکومت کو چاہیے کہ ’اپنا بوجھ خود اٹھائے، ہمارا کندھا استعمال نہ کرے‘۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ نئی سمری سے عدالت کا نام نکالا جائے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل انور منصور اور فوجی سربراہ کے وکیل فروغ نسیم سے کہا کہ وہ عدالت میں تین دن میں بیان حلفی جمع کروائیں کہ فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق جو سمری پیش کی گئی ہے اس میں سپریم کورٹ کی گذشتہ دو سماعتوں کا جو ذکر ہے اسے نکال دیا گیا ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ بھی کہا کہ آرمی چیف کا عہدہ آئینی ہے اور اس عہدے کو قاعدے اور ضابطے کے تحت پُر کیا جانا چاہیے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ابہام ہے جس پر جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس ابہام کو دور کرنا پارلیمان کا کام ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ آرمی ایکٹ کو اپ ڈیٹ کرے تو نئے رولز بنیں گے۔
اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کو کابینہ کے سامنے پیش کر کے ضروری تبدیلیاں کی جائیں گی جس پر جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دیے کہ یہ بھی طے کیا جائے کہ آئندہ توسیع ہوگی یا نئی تعیناتی۔
چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا کہ ’آپ نے پہلی دفعہ کوشش کی ہے کہ آئین پر واپس آئیں‘۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آرٹیکل 243 کے تحت جو نئی سمری آپ نے بنائی ہے اس میں تین سال مدت ملازمت لکھ دی گئی ہے اور یوں آپ نے مہر ثبت کر دی کہ توسیع 3 سال کے لیے ہو گی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نوٹیفکیشن میں مدت تین سال لکھی گئی ہے، اگر زبردست جنرل مل گیا تو شاید مدت 30 سال لکھ دی جائے، ایک واضح نظام ہونا چاہیے جس کا سب کو علم ہو۔ تین سال تعیناتی اب ایک مثال بن جائے گی، ہو سکتا ہے اگلے آرمی چیف کو حکومت ایک سال رکھنا چاہتی ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا پر ردِ عمل اور ’ففتھ جنریشن وارفیئر‘
اس کیس کے حوالے سے سماعت سے متعلق اور ججز کے متعلق سوشل میڈیا پر جو کچھ کہا گیا اس پر بھی عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ اس ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والے ججز کو سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دینے کے ساتھ ساتھ انھیں ففتھ جنریشن وارفیئر کا حصہ بھی قرار دیا گیا۔
چیف جسٹس نے کہا ’مجھے بھی کسی سے پوچھنا پڑا کہ یہ ففتھ جنریشن وار ہوتی کیا ہے۔‘
واضح رہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کا کیس سننے پر کچھ نجی ٹی وی چینلز پر عدالت اور ججز سے متعلق تنقید کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس کے عہدے اور نام کو بھی درست طور پر نہیں پکارا گیا۔ ایسے ہی ایک اینکر پرسن بول ٹی وی پر پروگرام کرتے ہیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر غلط نام پکارنے کو ’سلپ آف ٹنگ‘ قرار دیتے ہوئے معذرت کی۔
عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق انڈیا اور دیگر ممالک کے قوانین پڑھ لیں گے تو آسانی ہوگی۔
سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ فوج کے سربراہ کی تعیناتی کا نیا نوٹیفیکیشن عدالت میں پیش کریں جس میں مدتِ ملازمت کا ذکر نہ ہو۔
سماعت کے بعد اٹارنی جنرل نے بتایا کہ محفوظ کیا جانے والا فیصلہ جمعرات کی دوپہر ہی سنا دیا جائے گا۔
اس سے قبل بدھ کو آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کے معاملے کی سماعت کے دوران پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے تھے کہ فوج جیسا ادارہ سربراہ کے بغیر نہیں رہ سکتا اور اگر اٹارنی جنرل برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملے پر جمعرات تک عدالت کو مطمئن نہ کر سکے تو عدالت قانون کے مطابق فیصلہ کر دے گی۔
بدھ کو سماعت کے بعد وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ایک ہنگامی اجلاس بھی ہوا جس میں حکومتی وزرا اور ماہرین قانون نے شرکت کی تھی اور میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے نیا مسودہ تیار کیا گیا تھا۔











