’سکیورٹی سے نمٹنا فوج کا بطور ادارہ کام ہے، ایک افسر کا نہیں‘

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر کو ریٹائر ہو رہے تھے تاہم ان کی مدتِ ملازمت میں تین برس کی توسیع کی گئی تھی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہوئِے جنرل باجوہ سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر کو ریٹائر ہونا تھا تاہم وزیراعظم عمران خان نے ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل ہی انھیں تین برس کے لیے توسیع دینے کا اعلان کیا تھا۔

اس توسیع کے خلاف درخواست پیر کو جیورسٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی اور منگل کو چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔

سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار ریاض حنیف راہی پیش نہ ہوئے اور ان کی جانب سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی تاہم عدالت نے اسے مفادِ عامہ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کیس کو از خود نوٹس میں تبدیل کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان اور قمر جاوید باجوہ

،تصویر کا ذریعہISPR

’علاقائی سکیورٹی سے نمٹنا فوج کا بطور ادارہ کام ہے‘

سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامے کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ علاقائی سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر آرمی چیف کو توسیع دی جا رہی ہے لیکن ایسی توسیع کے لیے خطے کی سکیورٹی کی صورتحال کی اصطلاح مبہم ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ علاقائی سکیورٹی سے نمٹنا فوج کا بطور ادارہ کام ہے، کسی ایک افسر کا نہیں اور 'علاقائی سکیورٹی کی وجہ مان لیں تو فوج کا ہر افسر دوبارہ تعیناتی چاہے گا۔'

عدالتِ عظمیٰ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل مدت ملازمت میں توسیع یا نئی تعیناتی کا قانونی جواز فراہم نہیں کر سکے۔

عدالت کے مطابق فوجی قوانین کے تحت صرف ریٹائرمنٹ کو عارضی طور پر معطل کیا جا سکتا ہے اور ریٹائرمنٹ سے پہلے ریٹائرمنٹ معطل کرنا گاڑی کو گھوڑے کے آگے باندھنے والی بات ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل نے قانون کی کوئی ایسی شق نہیں بتائی جس میں چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع اور دوبارہ تعیناتی کی اجازت ہو۔

وزیر اعظم نے خود آرڈر پاس کر کے موجودہ آرمی چیف کو ایک سال کی توسیع دی لیکن سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس معاملے میں آرٹیکل 243 کے تحت صدر مجاز اتھارٹی ہوتا ہے۔

منگل کو دورانِ سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو تو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار نہیں اور صرف صدر پاکستان ہی ایسا کر سکتے ہیں جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع صدر کی منظوری کے بعد کی گئی اور کابینہ سے بھی اس سمری کی منظوری لی گئی۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ وزیراعظم نے 19 اگست کو اپنے طور پر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا اور نوٹیفکیشن کے بعد غلطی کا احساس ہوا تو وزیراعظم نے صدر کو سمری بھجوائی۔

justice asif khosa

،تصویر کا ذریعہSupreme court of Pakistan

جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ کیا کابینہ نے اس معاملے پر فیصلہ کرنے سے قبل مناسب سوچ بچار کی۔

جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ دستاویزات کے مطابق کابینہ کی اکثریت نے اس معاملے پر کوئی رائے نہیں دی اور 25 ارکان میں سے 11 اس کے حق میں تھے جبکہ 14 ارکان نے عدم دستیابی کے باعث کوئی رائے نہیں دی۔

انھوں نے کہا کہ کیا حکومت نے ارکان کی خاموشی کو ان کی ہاں سمجھ لیا۔ اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کابینہ کے جن ارکان نے رائے نہیں دی وہ ووٹنگ میں شریک نہیں تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کابینہ کے 14 ارکان نے ابھی تک آرمی چیف کی توسیع پر مثبت جواب نہیں دیا تو کیا آپ کابینہ کے ارکان کو سوچنے کا موقع بھی نہیں دینا چاہتے۔

مختصر سماعت کے بعد عدالت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا حکم نامہ معطل کرتے ہوئے فوج کے سربراہ، وفاقی حکومت اور وزارتِ دفاع کو نوٹس جاری کر دیا جبکہ سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

خیال رہے کہ وزیرِاعظم عمران خان نے 19 اگست کو جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں تین برس یعنی 'فل ٹرم' کی توسیع کی تھی۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع کا فیصلہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کی کمان نومبر 2016 میں سنبھالی تھی۔ انھیں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے فوج کی سربراہی کے لیے تعینات کیا تھا۔ جنرل باجوہ کو فوج کی کمان جنرل راحیل شریف سے منتقل ہوئی تھی۔

جنرل باجوہ کو رواں ہفتے ریٹائر ہونا ہے لیکن ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا اعلان ریٹائرمنٹ سے دو ماہ قبل ہی کر دیا گیا تھا۔

قمر باجوہ

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@PTIOFFICIAL

منگل کو عدالت میں کیا ہوا

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں اس درخواست کی سماعت کاز لسٹ کے مطابق بینچ نمبر ایک میں اس روز کے آخری مقدمے کے طور پر کی گئی۔

حیرت انگیز طور پر درخواست گزار ریاض حنیف راہی سپریم کورٹ کے احاطے میں تو موجود تھے لیکن سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں نہیں آئے۔ اُنھوں نے ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک درخواست بھی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے توسط سے دی جس میں اس درخواست کو واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی۔ تاہم عدالت نے ان کی اس استدعا کو مسترد کر دیا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس درخواست کو مفاد عامہ یعنی آئین کے آرٹیکل 184 تھری کے تحت سماعت کے لیے منظور کرلیا۔ عمومی طور پر اس ارٹیکل کے تحت ہونے والی کارروائی عدالت کی طرف سے از خود نوٹس کے ذمرے میں بھی آتی ہے۔

درخواست گزار ریاض حنیف راہی اعلیٰ عدالتوں میں اس نوعیت کی درخواتین دائر کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تعیناتی کو بھی اُنھوں نے ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا تاہم عدالت عظمیٰ نے ان کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق اس درخواست کی سماعت کرنا شروع کی تو اٹارنی جنرل جنہیں اس درخواست میں نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا تھا وہ پہلے ہی سے کمرہ عدالت میں موجود تھے اور ان کے پاس وہ تمام ریکارڈ موجود تھا جو ابتدائی طور پر عدالت کو اس درخواست کے لیے درکار تھے۔

یہ بھی پڑھیے

کمرہ عدالت میں موجود تمام لوگ اس بات پر حیران تھے کہ ابھی اس درخواست کے معاملے پر عدالت کی طرف سے کوئی نوٹس بھی جاری نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود اٹارٹی جنرل انور منصور خان کمرہ عدالت میں موجود تھے جبکہ عمومی طور پر ایسی درخواستوں پر اٹارنی جنرل عدالتوں میں بن بلائے نہیں جاتے۔

ابھی اس درخواست کی سماعت شروع ہی ہوئی تھی کہ اٹارنی جنرل روسٹم پر آگئے اور اُنھوں نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مدت ملازمت میں توسیع کا طریقہ کار آئین سے مطابقت نہیں رکھتا۔

انور منصور نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فوج میں تقرریوں کے حوالے سے اس کے رولز میں ہے کہ کسی بھی فوجی کی ریٹائرمنٹ کو معطل کیا جاسکتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے اس میں ایک جگہ ایکسٹینشن کا ذکر ہے جبکہ دوسری جگہ تقرری کا ذکر ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایک ہی شخص کی مدت ملازمت میں توسیع اور اس کی تقرری کیسے ہوسکتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے اس پر کہا کہ یہ معاملہ کانفیڈینشیل (مخفی) ہوتا ہے جس پر عدالت نے سوال کیا کہ وہ تمام معاملہ اور دستاویزات عدالت میں کیوں لیکر آئے ہیں۔

انور منصور خان نے اپنے تئیں کوشش کی کہ عدالت جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن معطل نہ کرے لیکن ان کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔

عدالتی سماعت ختم ہونے کے بعد اٹارنی جنرل تیزی کے ساتھ کمرہ عدالت سے نکلے تو راستے میں اُنھیں کچھ صحافیوں نے روکنے کی کوشش کی تو وہ ہاتھ چھڑا کر چلے گئے جس پر ایک صحافی نے کہا کہ ’لگتا ہے کہ انور منصور فوج کے ریٹائرڈ کپتان نہیں بلکہ حاضر سروس کپتان ہیں‘۔

احاطہ عدالت میں درخواست گزار ریاض حنیف راہی بھی موجود تھے جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ اُنھوں نے اپنی درخواست کو واپس لینے کی درخواست کیوں دی تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ درخواست واپس لینے کے لیے ان پر ’دباؤ‘ تھا تاہم اُنھوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں کہ ان پر دباؤ کس نے ڈالا ہے۔