آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ: ’وزیراعظم ریٹائرڈ جرنیل کو بھی آرمی چیف لگا سکتا ہے‘

قمر باجوہ

،تصویر کا ذریعہPMO.GOV.PK

،تصویر کا کیپشنآرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعظم عمران خان(فائل فوٹو)

پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ فوج جیسا ادارہ سربراہ کے بغیر نہیں رہ سکتا اور اگر اٹارنی جنرل برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملے پر جمعرات تک عدالت کو مطمئن نہ کر سکے تو عدالت قانون کے مطابق فیصلہ کر دے گی۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ازخود نوٹس کی سماعت جمعرات کی صبح تک ملتوی کیے جانے سے قبل چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں تین سمریاں بھیجی گئیں جن میں سے ایک میں تقرری کا ذکر ہے، ایک میں دوبارہ تقرری کی بات کی گئی ہے جبکہ نوٹیفیکیشن مدتِ ملازمت میں توسیع کا جاری کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اتنی غلطیاں تو اسسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی میں نہیں ہوتی جتنی اس معاملے میں کی گئی ہیں۔

اس سے قبل اٹارنی جنرل آف پاکستان نے اپنے دلائل میں کہا کہ آرمی چیف ایک عہدہ ہے اور وزیراعظم کسی ریٹائرڈ جرنیل کو بھی فوج کا سربراہ مقرر کر سکتے ہیں۔

انور منصور خان نے کہا کہ آئین میں وزیراعظم پر کوئی قدغن نہیں ہے اور وہ کسی بھی ریٹائرڈ جنرل کو آرمی چیف تعینات کر سکتے ہیں، چاہے انھیں ریٹائر ہوئے 10 سے 20 سال ہو گئے ہوں۔

مزید پڑھیے

اس پر عدالت نے سوال اٹھایا کہ آرمی چیف تین سال کے بعد کیسے ریٹائر ہو جاتا ہے جب اس کی مدت کا تعین ہی نہیں ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر مدت کا تعین نہیں ہے تو پھر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیوں کی جا رہی ہے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے یہ استفسار کیا کہ موجودہ آرمی چیف کب ریٹائر ہو رہے ہیں تو پھر آرمی چیف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم روسٹرم پر آئے اور بتایا کہ 28 نومبر 2019 کی رات 12 بجے ان کی مدت ملازمت ختم ہونے والی ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیونکہ یہ بہت اہم معاملہ ہے اور فوج کی قربانیوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن فوج کو یہ بھی کم از کم معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا کمانڈر کون ہو گا۔

بدھ کی صبح سماعت کے آغاز پر پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ملک کے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کا معاملہ انتہائی اہم ہے، ماضی میں جرنیل خود کو توسیع دیتے رہے اور اب یہ معاملہ عدالت کے سامنے آیا ہے تو اسے قانون کے مطابق ہی دیکھا جائے گا۔

باجوہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی کہا کہ وفاقی کابینہ نے اس سلسلے میں آرٹیکل 255 میں منگل کو جو ترمیم کی ہے وہ آرمی چیف سے متعلق نہیں بلکہ فوجی افسران سے متعلق ہے۔

خیال رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر کو ریٹائر ہونا ہے تاہم وزیراعظم عمران خان نے ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل ہی انھیں تین برس کے لیے توسیع دینے کا اعلان کیا تھا۔

اس توسیع کے خلاف درخواست پیر کو جیورسٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی اور منگل کو چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی ابتدائی سماعت کے بعد ایکسٹینشن کا حکم نامہ معطل کرتے ہوئے جنرل باجوہ سمیت فریقین کو نوٹس جاری کیے تھے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ برّی فوج کے سربراہ کی تقرری کی مدت کا معاملہ انتہائی اہم ہے مگر اس میں آئین خاموش ہے۔

اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مدت تعیناتی نوٹیفکیشن میں لکھی جاتی ہے جو صوابدید ہے۔ اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’پانچ، چھ جرنیل خود کو توسیع دیتے رہے، 10، 10 سال تک توسیع لی گئی لیکن کسی نے پوچھا تک نہیں، تاہم آج یہ سوال سامنے آیا ہے، اس معاملے کو دیکھیں گے تاکہ آئندہ کے لیے کوئی بہتری آئے۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ تاثر دیا گیا کہ آرمی کی چیف کی مدت ملازمت تین سال ہوتی ہے۔ اس پر بینچ کے رکن جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ آرمی چیف کی مدت تین سال کہاں مقرر کی گئی ہے۔

جواب میں اٹارنی جنرل انور منصور خان کا کہنا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل 57 سال کی عمر میں چار سال کی مدت مکمل کر کے ریٹائر ہوتے ہیں،اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل کے علاوہ کہیں بھی مدت کا تعین نہیں کیا گیا اور بعض لیفٹیننٹ جنرلز کو تعیناتی کے بعد چار برس کی مدت نہیں ملتی۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ فوج کے سربراہ کو تعینات کرنے کی مجاز اتھارٹی کون ہے، صدر یا وزیراعظم۔ اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وفاق کے پاس اس کا اختیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت یہ تعیناتی ہوتی ہے جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ آرٹیکل 243 آرمی چیف کی تنخواہ اور مراعات سے متعلق ہے اس میں مدتِ ملازمت میں توسیع کی کہیں بات نہیں کی گئی ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دیے کہ فوج میں جنرل بہت سارے ہوتے ہیں لیکن آرمی چیف صرف ایک بنتا ہے۔

عدالت نے سوال اٹھایا کہ آیا کسی ریٹائرڈ افسر کو بھی فوج کا سربراہ بنایا گیا جس کا اٹارنی جنرل نے نفی میں جواب دیا۔

اٹارنی جنرل نے بتایا ہے کہ قانون میں اور آرمی ایکٹ میں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کا کوئی ذکر نہیں ہے جس پر عدالت نے پوچھا اگر ایسا نہیں ہے تو ان کی تین برس کی تقرری کا نوٹیفیکیشن کیوں جاری کیا گیا جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسا رسمی طور پر لکھا جاتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے مطابق صرف جنگ کی حالت میں آرمی چیف فوجی افسران کی ریٹائرمنٹ کو عارضی طور پر معطل کر سکتا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کے تحت آرمی چیف فوج کی کارروائیوں سے متعلق وفاقی حکومت کو جوابدہ ہے۔

بدھ کی دوپہر سماعت جب وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 243 کے تحت وزیراعظم کے پاس آرمی چیف کی تعیناتی کا اختیار ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں تاہم دیکھنا ہے کہ مدت کا معاملہ کیا ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا آرٹیکل 243 میں مدت ملازمت کا لفظ نہیں اور دوبارہ تعیناتی اسی آرٹیکل کے تحت ہوتی ہے۔

جسٹس منصور نے سوال اٹھایا کہ کیا ایک ریٹائرڈ آرمی افسر کو آرمی چیف مقرر کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ آرمی ایکٹ میں کوئی ایسی بات ہے کہ مدت ملازمت میں توسیع دی جائے ’کوئی ایسی چیز دکھائیں جس سے توسیع دینا واضح ہو سکے۔‘

اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ’ ایسی پروویژن ہے کہ مدت ملازمت میں توسیع دی جائے۔‘ ان کے اس جواب پر جسٹس منصور نے کہا کہ ’آپ جس کا حوالہ دے رہے ہیں وہ رولز ہیں ہمیں ایکٹ دکھائیں۔‘

justice asif khosa

،تصویر کا ذریعہSupreme court of Pakistan

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا کہ ابھی تک آپ نے آرمی ایکٹ اور ریگولیشنز میں کوئی شق ایسی نہیں بتائی جو توسیع سے متعلق ہو۔ ’ہمیں بتائیں اچھی کارکردگی والے افسر کو کس قانون کے تحت عہدے پر برقرار رکھا جاتا ہے۔‘

اس سے قبل سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ بات طے ہے منگل کو سماعت کے دوران جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی انھیں تسلیم کر لیا گیا اور اسی لیے حکومت نے انھیں ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔

تاہم اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور کا موقف تھا کہ حکومت کی جانب سے منگل کی شام کیے جانے والے اقدامات کا مطلب خامیاں تسلیم کرنا نہیں تھا۔ ’حکومت نے کہیں بھی نہیں کہا کہ ان سے غلطی ہوئی۔‘

اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر حالات پہلے جیسے ہیں تو قانون کےمطابق فیصلہ سنا دیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ کابینہ کے صرف 11 ارکان نے توسیع کی حمایت کی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ توسیع سے متعلق قانون نہ ہونے کا تاثر بھی درست نہیں۔

فروغ نسیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبدھ کو جب سماعت کا آغاز ہوا تو فروغ نسیم وفاقی حکومت کے وکیل کی حیثیت سے عدالت میں پیش ہوئے

خیال رہے کہ منگل کو سماعت کے دوران چیف جسٹس کی جانب سے مدتِ ملازمت میں توسیع کے حکم نامے کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے تھے جس کے بعد حکومت نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے آرمی ایکٹ کی شق 255 میں ترمیم کی تھی۔

اسی اجلاس کے بعد وزیر تعلیم شفقت محمود نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ 'وفاقی کابینہ نے ڈیفنس سروسز رولز کے آرٹیکل 255 میں ترمیم کرتے ہوئے 'مدت ملازمت میں توسیع' کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت مدت ملازمت میں توسیع وزیراعظم کی صوابدید ہے، وہ صدر کو ایڈوائس جاری کر سکتے ہیں۔'

وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر نے کابینہ کے صرف گیارہ اراکین کی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی حمایت کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا رولز آف بزنس کی شق 19 کے مطابق جو وزیر اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتے ہیں اسے بھی قانون کی نظر میں ’ہاں‘ تصور کیا جاتا ہے۔

شہزاد اکبر نے کابینہ کے اراکین کی رائے کے حوالے سے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کے اراکین کو اپنی رائے کے اظہار کے لیے چوبیس گھنٹے دیے گئے تھے اور اگلے روز 19 اراکان اس فیصلے کے حق میں رائے دے چکے تھے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ ان کی رائے میں فوجی افسر کی ریٹائرمنٹ کو ’روکنے‘ کا عمل ’مدت ملازمت میں توسیع‘ تصور ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا حکومت نے مزید وضاحت کےلیے آرمی ریگولیشنز میں ترمیم کر دی ہے اور کابینہ کا نیا فیصلہ ترمیم شدہ رولز کی روشنی میں کیا گیا ہے۔