آرمی چیف کی تعیناتی پر تنازع: فوجی افسران کی سینیارٹی کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGovernment of Pakistan
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے آرمی چیف کی ’میرٹ پر تعیناتی‘ سے متعلق بیان اور پھر پاکستانی فوج کی جانب سے دیے جانے والا ردِ عمل اس وقت پاکستان میں موضوعِ بحث ہے۔
عمران خان آج کل ملک کے مختلف شہروں میں آئے روز جلسے کر رہے ہیں جس میں وہ موجودہ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنانے کے علاوہ فوری انتخابات کا مطالبہ بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم اتوار کے روز فیصل آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے نومبر میں آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق کہا کہ ’آصف زرادری اور نواز شریف نومبر میں اپنا فیورٹ آرمی چیف لے کر آنا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے اس بارے میں مزید باتے کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اپنا آرمی چیف لے کر آنا چاہتے ہیں کیونکہ انھوں نے پیسے چوری کیے ہوئے ہیں۔‘
’یہ ڈرتے ہیں کہ یہاں کوئی تگڑا آرمی چیف آ گیا، ایک محب وطن آرمی چیف آ گیا تو پوچھے گا ان سے تو اس ڈر سے یہ دونوں مل کر اپنا آرمی چیف مقرر کریں گے۔‘
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ’جو سب سے میرٹ پر ہے اس کو آرمی چیف بننا چاہیے۔ کسی کا پسندیدہ آرمی چیف نہیں ہونا چاہیے، کسی کا فیورٹ نہیں ہونا چاہیے۔‘
اگلے روز اس بیان کے ردِ عمل میں آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ پاکستان آرمی میں فیصل آباد میں ایک سیاسی جلسے کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ’پاک فوج کی سینیئر قیادت کے بارے میں ہتک آمیز اور غیر ضروری بیان پر شدید غم و غصہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سب کے بعد یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آخر آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل جن فوجی افسران کے ناموں کی فہرست وزیرِ اعظم کو ارسال کی جاتی ہے اس میں کون سے نکات پر غور کیا جاتا ہے۔ اس تحریر میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ وزیراعظم کو جو فہرست ممکنہ طور پر بھیجی جائے گی اس میں کس کس جنرل کا نام شامل ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر اس سے پہلے یہ بتا دیں کہ پاکستان میں آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق حالیہ بحث کافی عرصے سے چل رہی ہے اور بظاہر اب یہ 29 نومبر 2022 کو جنرل قمر باجوہ کو ان کی مدتِ ملازمت میں دی گئی توسیع کی مدت کے اختتام پر بھی ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔
چند ماہ قبل فوج کے ترجمان نے واضح کیا تھا کہ جنرل باجوہ ملازمت میں مزید توسیع کے خواہشمند نہیں تاہم اس مدت کے خاتمے میں جب اب تین ماہ سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ’ایکسٹینشن‘ کی بازگشت دوبارہ سنائی دینے لگی ہے اور فوج کی جانب سے فی الوقت ان خبروں پر دوبارہ کوئی ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔
سو اب آتے ہیں پاکستانی فوج کے سربراہان کی تقرری پر۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 243 کے سیکشن تین کے مطابق صدر، وزیر اعظم کی سفارش پر سروسز چیفس کا تقرر کرتا ہے۔
عام طور پر جی ایچ کیو چار سے پانچ سب سے سینیئر لیفٹیننٹ جنرلز کے ناموں کی فہرست اور ان کی تفصیلات وزارت دفاع کو بھیجتا ہے، جس کے بعد یہ فہرست وزیراعظم کی میز پر پہنچتی ہے جو صدر سے مشاورت کے بعد اس عہدے پر تعیناتی کرتے ہیں۔
اس معاملے پر مزید غور و خوض کے لیے اگر وزیراعظم چاہیں تو کابینہ کے سامنے بھی یہ معاملہ زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے اور وزیر اعظم سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کے ساتھ غیر رسمی مشاورت کر سکتے ہیں۔
کور کی کمان اور سٹاف ڈیوٹی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی فوج کے ایک سابق سینیئر افسر کے مطابق فوج میں یہ قانون تو نہیں تاہم روایت ضرور ہے کہ فور سٹار جنرل یعنی آرمی چیف یا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر ترقی پانے والے افسران بطور لیفٹننٹ جنرل کمانڈ اور سٹاف دونوں فرائض سرانجام دیتے ہیں۔
پاکستانی فوج میں اب تک صرف ایک افسر ایسے ہیں جو کور کی کمان کیے بغیر فور سٹار کے رینک تک پہنچے۔
یہ اس وقت ہوا تھا جب سابق فوجی صدر جنرل ضیا الحق نے جنرل خالد محمود عارف کو وائس چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر ترقی دی تھی۔
خیال رہے کہ ایک لیفٹننٹ جنرل کے عہدے کی مدت چار سال ہے جس میں سے عام طور پر دو سال پرنسپل سٹاف ڈیوٹی جبکہ دو سال کسی بھی کور کی کمان میں صرف کیے جاتے ہیں۔
افسر کی سینیارٹی کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آرمی ایکٹ کے مطابق کسی بھی افسر کی لانگ کورس میں سینیارٹی ملٹری اکیڈمی کاکول سے پاسنگ آؤٹ کے موقع پر ملنے والے نمبر ، جسے پاک آرمی یا پی اے نمبر کہا جاتا ہے، کی بنیاد پر طے کی جاتی ہے۔
سروس کی عمر یا اس رینک کے لیے مختص مدت میں سے جو پہلے آئے، اسی کے مطابق ریٹائرمنٹ ہو جاتی ہے۔ مثلا موجودہ آرمی چیف اگرچہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ایک ہی دن پاس آوٹ ہوئے تاہم آرمی چیف بننے سے قبل وہ اپنے کورس میں سینیارٹی میں چھٹے نمبر پر تھے جس کی وجہ ان کا پی اے نمبر تھا۔
اسی طرح موجودہ سینیئر ترین لانگ کورس کے لیفٹیننٹ جنرل سید عدنان اپنے رینک کی مدت پوری ہونے پر اکتوبر 2022 میں ریٹائر ہوں گے اور یوں وہ فور سٹار جنرل کی دوڑ میں بھی شامل نہیں ہوں گے۔
ذیل میں ان تمام افسران کا ذکر ہے جو آئندہ برس نومبر میں سینیر ترین ہوں گے اور آرمی چیف بننے کی دوڑ میں شامل ہوں گے۔
مگر اس سے پہلے یہ بتا دیں کہ موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں مزید توسیع نہ کی گئی تو وہ رواں برس نومبر میں فوج سے ریٹائر ہو جائیں گے۔
فوج کا 76 واں لانگ کورس
نومبر 2022 میں اگر وزیر اعظم شہباز شریف سینیارٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے آرمی چیف کا انتخاب کرتے ہیں تو موجودہ فوجی سربراہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت 76 ویں لانگ کورس کے افسران فوج میں سب سے سینیئر ہیں۔
اس لانگ کورس میں اعزازی شمشیر حاصل کرنے والے افسر لیفٹیننٹ جنرل سید عدنان کا ذکر ہم پہلے کر چکے، ان کی طرح لیفٹیننٹ جنرل وسیم اشرف بھی آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے صرف آٹھ دن پہلے ریٹائر ہو جائیں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے بڑے بھائی لیفٹیننٹ جنرل نعیم اشرف تھے اور اگر جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن نہ ملتی تو وہ اس وقت آرمی چیف کے لیے تین سینئر ترین افسران میں سے ایک تھے۔
لیفٹینٹ جنرل عاصم منیر

،تصویر کا ذریعہiSPR
لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کا تعلق او ٹی ایس کے اس کورس سے ہے جو 75ویں لانگ کورس سے جونیئر اور 76ویں لانگ کورس سے سینیئر ہے۔ اُن کی ترقی موجود کور کمانڈر لاہور، منگلا، ڈی جی ایس پی ڈی اور آئی جی ٹی اینڈ ای کے ساتھ اکتوبر 2018 میں ہوئی تھی۔ تاہم انھوں نے رینک تقریباً ڈیڑھ مہینے کی تاخیر سے لگایا جس کی وجہ سے ان کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ اپنے جونیئرز کے بھی بعد ہے۔
موجود آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے دو روز پہلے ہی ان کی ریٹائرمنٹ ہو جائے گی۔ اس کی بنیاد وہی قواعد و ضوابط ہیں جن کا ذکر پہلے ہو چکا یعنی مدت ملازمت یا رینک کے لیے متعین مدت میں سے جو پہلے آ جائے، اسی تاریخ پر افسر کی سروس ختم ہو جاتی ہے۔
اس لیے ان کی چار سالہ مدت ملازمت 27 نومبر کو یعنی موجود آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ سے صرف دو دن پہلے پوری ہو گی اور وہ اس دوڑ میں اسی صورت میں شامل ہو سکتے ہیں کہ انھیں دو دن کی ایکسٹینشن مل جائے۔
لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر پاکستان ملٹری اکیڈمی کے فارغ التحصیل نہیں بلکہ انھوں نے آفیسرز ٹریننگ سکول سے فوج کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔
ایک سابق فوجی اہلکار کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے کے لیے منتخب ہونے کے اہل ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ اُن کی ریٹائرمنٹ کے دن جنرل عاصم حاضر سروس ہوں گے۔ آرمی چیف کے عہدے کے لیے انھیں دو دن کی توسیع یا موجودہ آرمی چیف کی دو روز قبل ریٹائرمنٹ کرنا ہوگی۔
لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کے بعد اس کورس میں اب سب سے پہلا نام لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا ہے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر چھٹے نمبر پر ہیں۔
ماضی میں بننے والے فوجی سربراہان کا ریکارڈ اور ان جنرلز کی اسائنمنٹس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کورس کے تقریبا تمام ہی افسران مضبوط پروفائل رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا
سندھ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے ساحر شمشاد مرزا اس وقت ٹین کور، جسے راولپنڈی کور بھی کہا جاتا ہے، کمان کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل خود آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بھی یہی کور کمان کی تھی۔ یہ علاقے کے لحاظ سے فوج کی سب سے بڑی کور ہے جو کشمیر اور سیاچن جیسے علاقوں کی نگرانی کرتی ہے۔
اس سے پہلے وہ فوج کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک یعنی بطور چیف آف جنرل سٹاف تعینات رہے۔
وہ اپنے کیریئر میں تین بار یعنی بطور لیفٹیننٹ کرنل ، بریگیڈیئر اور پھر بطور میجر جنرل ملٹری آپریشنز یعنی ایم او ڈائریکٹوریٹ میں تعینات رہے۔
انھوں نے وائس چیف آف جنرل سٹاف رہے جو ملٹری آپریشنز اور ملٹری انٹیلی جنس کی نگرانی کرتا ہے۔
جس کے بعد وہ چیف آف جنرل سٹاف بنے۔ بطور میجر جنرل انھوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کی ڈویژن کی کمانڈ کی جو اس وقت جنوبی وزیرستان میں ہونے والے آپریشنز کی نگرانی کر رہی تھی۔
لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس
بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے اظہر عباس سینیارٹی میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ اس وقت فوج کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک یعنی چیف آف جنرل سٹاف کے طور پر تعینات ہیں۔
اس سے قبل انھوں نے بطور کور کمانڈر ٹین کور کمان کی ہے۔ ان دو عہدوں کی حد تک جنرل اظہر عباس اور ساحر شمشاد مرزا کی پروفائل ملتی جلتی ہے۔
اظہر عباس بطور میجر جنرل کمانڈنٹ انفنٹری سکول تعینات رہے جبکہ سابق فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرح وہ مری کے جی او سی بھی رہے۔
جنرل (ر) راحیل شریف کے پی ایس سی یعنی پرنسپل سیکرٹری بھی رہے ہیں۔ بطور لیفٹیننٹ جنرل وہ ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ سٹاف رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود
اگرچہ نعمان محمود سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر ہیں مگر ایک مضبوط کیریئر کے حامل ہیں۔ فوج میں انھیں خاص طور پر پاکستان کی مغربی سرحد کا ماہر مانا جاتا ہے۔
ان کے والد کرنل راجہ سلطان نے 1971 کی جنگ میں شامل تھے تاہم وہ مسنگ ان ایکشن افسر ہیں یعنی ان کے لاپتہ ہونے کے باعث ان کے زندہ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق علم نہیں۔ بعد میں نعمان محمود نے اپنے والد کی یونٹ 22 بلوچ کی کمانڈ بھی کی۔
بلوچ رجمنٹ کے لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود اس وقت نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ ہیں۔ جبکہ اس سے قبل وہ پشاور کے کور کمانڈر تعینات رہے ہیں۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عام طور پر دفتر میں نہیں پائے جاتے اور ان کا زیادہ وقت فارورڈ ایریاز میں گزرتا ہے۔ انھیں سابق فاٹا کی جنگ کا ماہر سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ ان کی اسائنمنٹس ہیں۔
وہ بریگیڈئیر کے طور پر الیون کور میں ہی چیف آف سٹاف رہے، بطور میجر جنرل انھوں نے شمالی وزیرستان میں ڈویژن کی کمان سنبھالی اور افغان سرحد کے ساتھ باڑ لگانے کے منصوبے کی نگرانی کی۔
خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں بھی تجزیاتی ونگ کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ جبکہ لیفٹیننٹ جنرل کے طور آئی جی سی اینڈ آئی ٹی رہے۔
لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید

،تصویر کا ذریعہTWITTER/LINDSEY HILSUM
پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے۔ وہ اُس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ کے چیف آف سٹاف تھے جب جنرل باجوہ ٹین کور کمانڈ کر رہے تھے۔
بطور میجر جنرل انھوں نے پنوں عاقل کی ڈویژن کی کمانڈ کی۔ وہ آئی ایس آئی میں ہی 'سی آئی' یعنی کاؤنٹر انٹیلیجنس سیکشن کے ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں اور آئی ایس آئی کی سربراہی سے قبل کچھ ہفتوں کے لیے ایجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید آئی ایس آئی میں اپنے کریئر کے دوران میڈیا میں مختلف تنازعات کا بھی شکار رہے۔
اس سے قبل ان کا نام نومبر 2017 میں اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر مذہبی تنظیم تحریکِ لبیک کے دھرنے کے دوران بھی سامنے آیا تھا۔
اس تنظیم اور حکومت کے درمیان چھ نکات پر مشتمل معاہدے کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ معاہدہ کرنے میں اس وقت میجر جنرل کے عہدے پر کام کرنے والے فوجی افسر فیض حمید کی مدد شامل رہی۔
بعدازاں سپریم کورٹ کے فیصلے میں وزارت دفاع کے توسط سے آرمی چیف سمیت افواج پاکستان کے سربراہان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے ان ماتحت اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں جنھوں نے 'اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی امور میں مداخلت کی ہے۔'
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت وہ سینیارٹی میں چوتھے نمبر پر ہوں گے۔ اُن کے بارے میں فوج میں ایک یہ رائے پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے کام کو تکمیل تک پہنچا کر دم لیتے ہیں۔
لیفٹننٹ جنرل محمد عامر
یہ اس فہرست میں غالبا خاموش ترین طبیعت کے افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آرٹلری سے تعلق رکھتے ہیں اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ملٹری سیکرٹری بھی رہے ہیں۔
وہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ڈائریکٹر جنرل سٹاف ڈیوٹیز تھے اور آرمی چیف سیکرٹریٹ کے امور کی نگراتی کرتے تھے۔ بطور میجر جنرل انھوں نے لاہور ڈویژن کمانڈ کی۔
اس وقت اس وقت وہ گجرانوالہ کور کی کمان کر رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ جی ایچ کیو میں ایجوٹنٹ جنرل تھے.
لیفٹننٹ جنرل چراغ حیدر
لیفٹینٹ جنرل چراغ حیدر کا تعلق فرنٹئیر فورس رجمنٹ سے ہے۔ وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کے فارغ التحصیل نہیں ہیں بلکہ انھوں نے آفیسر ٹریننگ سکول سے فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا۔
بطور بریگیڈیئر وہ ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ میں تعینات رہے ۔ انڈیا کی جانب سے ستمبر 2019 میں لائن آف کنٹرول کے پاس سرجیکل سٹرائیک کے وقت وہ جہلم کا ڈویژن کمانڈ کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر ڈائریکٹر جنرل ملٹری ٹریننگ رہے جبکہ ڈی جی جوائنٹ سٹاف کے عہدے پر بھی تعینات رہے ہیں۔ اس وقت وہ کور کمانڈر ملتان ہیں۔













