پاکستانی فوج کے افسروں کے لیے مختص زمین سِول افسران میں کیوں تقسیم کی گئی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پنجاب حکومت نے فوجی افسران اور جوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختص زمینوں کا ایک بڑا حصہ 47 سول سرکاری افسران و اہلکاروں میں تقسیم کرنے کی باضابطہ قانونی منظوری دی ہے۔ یہ وہ افسران ہیں جن کے لیے زمین کی الاٹمنٹ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے قانونی اور اخلاقی اعتراضات کے بعد منسوخ کر دی تھی۔
وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی سربراہی میں پنجاب حکومت نے 30 اپریل کو کابینہ کے اجلاس میں ان سول سرکاری افسران و ملازمین کو اربوں روپے مالیت کی کم و بیش پونے آٹھ سو ایکڑ قطعہ اراضی کی الاٹمنٹ کی منظوری دی۔ پاک فوج کا محکمہ ایڈجوٹنٹ جنرل پہلے ہی ان الاٹمنٹس کی منظوری دے چکا تھا۔
دراصل سابق صدر اور فوجی آمر پرویز مشرف اقتدار سے رخصت ہونے سے قبل ان افراد کو زمینوں کی الاٹمنٹ کی منظوری دے گئے تھے۔ مگر پنجاب میں سنہ 2008 کے عام انتخابات کے بعد شہباز شریف کی سربراہی میں بننے والی حکومت نے ان الاٹ شدہ زمینوں اور سرکاری حکام پر سوال اٹھا دیا تھا اور زمینوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرتے ہوئے پاکستان فوج کے محکمہ ایڈجوٹنٹ جنرل کو خط بھی لکھ دیا تھا۔
اب پنجاب میں دوبارہ انھی افراد کو زمینوں کی الاٹمنٹ کردی گئی ہے جن کی منظوری مشرف دورمیں ایڈجوٹنٹ جنرل کی طرف سے عمل میں لائی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسلح افواج کو سرکاری زمین کس قانون کے تحت الاٹ کی جاتی ہیں؟
حکومت پاکستان مسلح افواج کو تربیت اور آپریشنل مقاصد کے لیے زمین گاہے بگاہے، فوجی ضروریات کے پیش نظر ملک کے مختلف علاقوں میں الاٹ کرتی رہتی ہے۔ یہ زمین باقاعدہ طور پر وفاقی حکومت الاٹ کرتی ہے اور اس الاٹمنٹ کو باضابطہ قانونی شکل دی جاتی ہے۔
’اے ون لینڈز‘ کے نام سے الاٹ ہونے والی یہ زمین کسی بھی صورت میں فوج کی تربیت یا آپریشنل مقاصد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی۔
اے ون لینڈز کا تمام ریکارڈ وفاقی حکومت کے پاس بھی باقاعدہ محفوظ کیا جاتا ہے اور انھیں باضابطہ ’لیگل اتھارٹی‘ کی منظوری سے مشروط کیا جاتا ہے جو کہ کابینہ یا وزیراعظم ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ShehryarAfridi1
دوسری قسم کی زمینیں جو مسلح افواج کو الاٹ کی جاتی ہیں وہ ان کی فلاحی سکیموں کی مد میں الاٹ کی جاتی ہیں۔ یہ زمینیں مسلح افواج کے ویلفیئر ٹرسٹ صوبائی حکومتوں سے ایک طے شدہ رقم ادا کر کے حاصل کرتی ہیں جو عام طور پر بہت معمولی رقم ہوتی ہے۔
مسلح افواج یہ زمینیں فلاحی سکیموں کے لیے استعمال کرتی ہیں جن میں کمرشل منصوبے بھی شامل ہوتے ہیں اور شہدا کے خاندانوں کی فلاح کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔
بنیادی طور پر یہ زمینیں استعمال کرنے کا پورا حق مسلح افواج کے پاس ہوتا ہے اور اس مقصد کے لیے انھیں صوبائی حکومتوں کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ایک اور قسم کی زمینیں جو فوج کی ملکیت میں جاتی ہیں وہ اس کے رہائشی منصوبوں، جیسا کہ ڈی ایچ اے یا عسکری رہائشی منصوبوں میں استعمال ہوتی ہیں لیکن یہ زمینیں افوج کمرشل طریقے سے مارکیٹ سے خریدتی ہیں۔
جن زمینوں اور الاٹمنٹ پر تنازعہ کھڑا ہوا ہے وہ ریٹائر فوجی افسروں کو الاٹ کی جانے والی زرعی زمینیں ہیں جن کی قانونی حیثیت پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔
یعنی بعض سرکاری افسران یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ جو زمین فوج نے سول افسران کو الاٹ کرنے کی سفارش کی کیا ان زمینوں پر خود فوج کا کوئی قانونی حق تھا بھی یا نہیں؟
پاکستان کی بری فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ الاٹمنٹ 13 سال پہلے خصوصی استثنی کے تحت کی گئی تھیں۔
انھوں نے تسلیم کیا کہ کسی قانون میں اس الاٹمنٹ کی گنجائش نہیں، اس کے باوجود سابق فوجی صدر کی ہدایت کی روشنی میں ’ون ٹائم‘ معاملے کے طور پر یہ زمینیں سول افسروں کے نام کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
زرعی زمینیں فوجی افسروں کو الاٹ کرنے کا کوئی قانون یا پالیسی نہیں
پاکستان فوج کی طرف سے زمینوں کی الاٹمنٹ کا کام فوج کے شعبہ ایڈجوٹنٹ جنرل کے زیرانتظام ویلفئیر اینڈ ری ہیبلی ٹیشن ونگ کرتا ہے جو فوجی افسران اور شہدا کے خاندانوں کو زمینوں کی الاٹمنٹ کے کام کا اصل نگران بھی ہوتا ہے۔
اس شعبے کی طرف سے زمینوں کی الاٹمنٹ کا کوئی قانون یا پالیسی ابھی تک ریکارڈ پر نہیں لائی گئی۔
کتاب دا آرمی اینڈ ڈیموکریسی (The Army and Democracy) کے مصنف، سول ملٹری امور کے ماہر اور امریکہ کی یونیورسٹی آف اوکلا ہوما میں ایسوسی ایٹ پروفیسر عاقل شاہ کا کہنا ہے ’افسران کو رہائشی زمین الاٹ کی جاتی ہے۔ رہائشی پلاٹوں کی الاٹمنٹ میجر کے عہدے سے لیکر اوپر تک کے عہدوں کے لیے عمل میں لائی جاتی ہے۔ جتنا اونچا رینک ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ زمین ملتی ہے۔‘
’جی ایچ کیو میں زمینوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں باقاعدہ ایک پالیسی پائی جاتی ہے لیکن اس حوالے سے آرمی چیف کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں۔ جہاں تک میرے علم میں ہے امریکہ، برطانیہ حتیٰ کہ ارجنٹینا اور برازیل کی فوجی آمریت میں بھی ایسی مثالیں نہیں ملتیں۔‘
بعض ریٹائر سینیئر فوجی افسران کے مطابق، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے، زمینوں کی الاٹمنٹ کا یہ معاملہ ملک کے پہلے فوجی آمر فیلڈ مارشل ایوب خان کے زمانے سے ریکارڈ پر موجود ہے۔
ایوب خان نے آرمی چیف اور پھر صدر بننے کے بعد فوج کے سینئر افسران کو زمینوں کی الاٹمنٹ کا ایک سلسلہ شروع کیا۔
ابتدا میں تو قبل ازوقت ریٹائر ہونے والے افسران کو یہ زمینیں دی جاتی تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ سینئر فوجی افسران تک پھیل گیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ فوج کو زمینوں کی الاٹمنٹ میں مدد اور معاونت فراہم کرنے والے سول سرکاری افسران کو بھی اس کا حصہ دیا جانے لگا۔
یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور جنرل مشرف کے دور کی زمینوں کی الاٹمنٹ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سابق فوجی صدر پرویزمشرف کے دور میں ان پلاٹوں کی تقسیم تاریخ میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
سابق صدر پر اپنے ساتھیوں کو قوانین سے ہٹ کر خصوصی طور پر پلاٹ تقسیم کرنے کا الزام بھی رہا اور اس سلسلے میں ایک سینئر افسر کو تو 80 سے زائد پلاٹ بھی ملے جس کے بارے میں سینئر وکیل اور پاکستانی فوج کے شعبہ ایڈجوٹنٹ جنرل سے ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم نے نیب سے بھی رجوع کیا تھا تاہم تاحال اس پر کوئی پیشرفت سامنے نہیں آ سکی۔
جنرل پرویز مشرف کے بعد آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بھی پالیسی کے مطابق زمین الاٹ کی گئی تاہم اس حوالے سے کوئی سکینڈل منظر عام پر نہ آیا لیکن جنرل راحیل شریف کو لاہور کے نواح میں 808 کنال قطعہ اراضی 16 دسمبر سنہ 2016 کو الاٹ کیا گیا۔
حیران کن بات یہ تھی کہ جنرل راحیل شریف کو انتہائی قیمتی قطعہ زمین کی الاٹمنٹ ریٹائرمنٹ سے قبل عمل میں آئی۔ یہ بات ابھی سامنے نہیں آئی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انھیں الگ سے زمین الاٹ کی گئی یا نہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کن سول افسروں کو زمینیں الاٹ کی گئیں اور کیوں؟
پنجاب حکومت کی طرف سے حالیہ فیصلے کی روشنی میں یہ زمینیں فوج کو الاٹ کی گئیں اور فوج کی طرف سے یہ فوجی افسران یا شہدا کے اہلخانہ کے بجائے سول افسران کو الاٹ کی گئی ہیں جو اپنی نوعیت کی منفرد الاٹمنٹس ہیں۔
سرکاری طور پر پنجاب حکومت کی طرف سے جن افسران و اہلکاروں کو زمینوں کی الاٹمنٹ کی منظوری دی گئی ہے ان کا بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کا اعلیٰ شخصیات سے براہ راست تو کوئی رابطہ نہیں تھا مگر وہ صوبائی حکومت کی طرف سے اپنے اپنے ضلعے اور محکمے کی طرف سے خالی زمینوں کی نشاندہی یا ان کی الاٹمنٹ کے مراحل میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
بظاہر اس دور میں فوج میں جرنیلوں کی تعداد میں اضافے کے باعث زیادہ بڑی تعداد میں زمینوں کی ضرورت تھی اور ان سول افسران و اہلکاروں نے اپنے شب وروز خالی زمینوں کی نشاندہی میں صرف کیے اور جواب میں انھیں بھی زمینیں الاٹ کر کے خدمات کا صلہ دیا گیا۔
ایسے افراد میں گورنر کے پرنسپل سیکرٹری اور محکمہ کالونیز کے کلرکوں سے لے کر ضلع کی سطح پر چھوٹے پٹواریوں تک کو نوازا گیا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پنجاب میں سابق حکومت کے اعتراض پر یہ معاملہ سامنے آ گیا تاہم باقی صوبوں میں اس حوالے سے شہدا کی زمینیں غیر متعلقہ افراد کو الاٹ کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ تاحال منظرعام پر نہیں آیا۔
زمینوں کی الاٹمنٹ کا انعام پانے والوں میں سب سے اہم وفاقی سیکرٹری کابینہ احمد نواز سکھیرا اور موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے پرسنل سٹاف آفیسر عامر کریم خان کے ساتھ پرویز مشرف کے باورچی محمد سکندر، نائب قاصد محمود حسین، سابق قاصد نور حسین اور مالی غلام رسول بھی شامل ہیں۔
حال ہی میں تعینات ہونے والے سیکرٹری کابینہ سردار احمد نواز سکھیرا کسی زمانے میں گورنر پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری تعینات تھے۔
احمد نواز سکھیرا سے ان کا مؤقف معلوم کرنے کے لیے بی بی سی نے متعدد رابطے کیے، ان کے دفتر میں کال بھی کی گئی اور ان کے واٹس ایپ پر پیغام بھی ارسال کیے مگر کوئی جواب نہیں آیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے پرسنل سٹاف آفیسر عامر کریم خان کو سابق دور میں حاصل پور ضلع بہاولپور میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ریونیو کے طور پر دی جانے والی خدمات کے انعام میں حاصل پور، ضلع بہاولپورمیں چک نمبر 83 اور 84 ایف میں 200 کنال قطعہ اراضی الاٹ کیا گیا ہے۔
جن افراد کو روایتی قیمتوں کے یہ پلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں ان میں پرویز مشرف دور حکومت میں ایوان صدر و آرمی ہاوس میں خدمات سرانجام دینے والے باورچی محمد سکندر کو ہارون آباد کے چک نمبر 295/اے، 11/ آر میں 100 کنال اراضی الاٹ کی گئی ہے۔
فوج کے لیے مختص زمینوں کا سیاسی استعمال
اس فہرست میں بعض نام ایسے پٹواریوں اور دیگر افسران کے بھی ہیں جن کے بارے میں بعض انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف کی حامی سیاسی جماعت مسلم لیگ قاف سے تھا اور انھیں زمینیں الاٹ کرنے کا مقصد سنہ 2008 کے عام انتخابات میں ان کی سیاسی حمایت اور اس کے ذریعے دیہی علاقوں سے ووٹ حاصل کرنا تھا۔
زمینوں کی الاٹمنٹ کے حامل خوش قسمتوں کی فہرست کو غور سے دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ زمینوں کی الاٹمنٹ سے متعلق پنجاب کے محکمہ کالونیز میں کلرکوں، ریونیو بورڈ میں تعینات چھوٹے افسران اور ضلعے کی سطح پر زمینوں کی الاٹمنٹ سے براہ راست منسلک ریونیو افسران اور پٹواریوں تک کو یہ قیمتی زمینیں الاٹ کی گئی ہیں۔










