پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ: 'دفاعی بجٹ میں کٹوتی قوم پر احسان نہیں، کیوں کہ ہم ہر قسم کے حالات میں اکٹھے ہیں'

آرمی چیف

،تصویر کا ذریعہTwitter/@PTIofficial

،تصویر کا کیپشنوزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے حوالے سے اجلاس منگل کو ہوا

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دفاعی بجٹ میں رضاکارانہ طور پر کمی کے فیصلے کے بارے میں کہا ہے کہ 'یہ اقدام قوم پر احسان نہیں کیوں کہ ہم ہر قسم کے حالات میں اکٹھے ہیں۔'

انھوں نے یہ بات عید کے موقع پر لائن آف کنٹرول پر جوانوں سے خطاب میں کہی۔

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ’آنے والے مالی سال میں دفاعی بجٹ میں رضاکارانہ کٹوتی کا اثر ہر قسم کے خطرے کے خلاف دفاعی صلاحیت اور جوانوں کے معیارِ زندگی پر نہیں پڑے گا۔'

ان کا مزید کہنا تھا ’تنخواہوں میں اضافہ نہ لینے کے فیصلے کا اطلاق بھی صرف آفیسرز پر ہوگا اور اس کا جوانوں پر اطلاق نہیں ہو گا۔‘

اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے افواجِ پاکستان کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں رضاکارانہ طور پر کمی کے اعلان کا خیر مقدم کیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ مالی سال کے بجٹ میں دفاع کے لیے 11 سو ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ اس بچت کے نتیجے میں میسر آنے والا سرمایہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والی قبائلی اضلاع اور بلوچستان کی تعمیر و ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔

مزید پڑھیے

imran khan

،تصویر کا ذریعہTwitter

اس سے قبل فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہی اس بات کا اعلان کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ رضاکارانہ طور پر دفاعی بجٹ میں کمی کا اثر ملک کی سکیورٹی اور دفاع پر نہیں پڑے گا۔ ’ہم تمام ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی اہلیت کو برقرار رکھیں گے۔ تنیوں سروسز اس کٹوتی کو اندرونی طور پر موزوں اقدامات کے ذریعے سنبھالیں گے۔ قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں ترقی میں حصہ ڈالنا ضروری تھا۔‘

دفاعی بجٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

گلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق پاکستان میں فوج سے منسلک تمام افراد کی کل تعداد تعداد نو لاکھ 19 ہزار ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ بجٹ ’کفایت شعاری کا بجٹ ہو گا اور اس میں ہم سب ساتھ کھڑے ہیں چاہے سویلین ہوں، فوج ہو یا نجی کاروباری ادارے۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ ’تمام ادارے، بشمول سویلین اور فوج، اس بات پر متفق ہیں کہ سنجیدہ اور پائیدار ادارہ جاتی اصلاحات ہونی چاہییں اور اس کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑے تو کیے جائیں گے۔‘