پاکستان اور انڈیا کی عسکری قوت کا تقابلی جائزہ

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر ہلاکت خیز حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے مابین کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔
22 اپریل 2025 کو ہونے والے حملے کے بعد ابتدائی طور پر تو انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی، سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور پاکستانی شہریوں کے ویزوں کی منسوخی جیسے اقدامات سامنے آئے جس کے جواب میں پاکستان نے بھی اپنی فضائی حدود انڈیا کے لیے بند کرنے اور سفارتی عملے کی ملک سے بےدخلی جیسے اقدامات کیے۔
تاہم ان اقدامات کے باوجود دونوں ممالک کے مابین ’جنگ‘ کا خطرہ روز بروز بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
منگل کو انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے اپنی مسلح افواج کو پہلگام حملے کے ردعمل کے حوالے سے طریقہ کار، اہداف اور وقت کا تعین کرنے میں 'مکمل آپریشنل آزادی' دیے جانے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔
ادھر پاکستان کے وزیرِ دفاع اور وزیرِ اطلاعات یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کے پاس مستند انٹیلیجنس اطلاعات ہیں کہ انڈیا چند دن میں پہلگام کے واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
پاکستان اور انڈیا ماضی میں تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔ آخری مرتبہ سنہ 1971 میں لڑی جانے والی جنگ کے نتیجے میں پاکستان کو اپنا ایک حصہ کھونا پڑا اور بنگلہ دیش وجود میں آیا تھا۔
محدود پیمانے پر ایک چوتھی جنگ سنہ 1999 میں کارگل کے مقام پر بھی لڑی گئی جس میں پہلی مرتبہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ کے خدشات بھی کھل کر سامنے آئے۔
دنیا میں ہتھیاروں اور عسکری طاقت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ گلوبل فائر پاور کے مطابق سب سے زیادہ طاقتور عسکری قوتوں میں امریکہ، روس اور چین کے بعد انڈیا کا نمبر آتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا اور پاکستان دونوں کے پاس جوہری ہتھیار ہیں لیکن گلوبل فائر پاور نے اپنی رپورٹ میں جوہری ہتھیاروں کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ادارے کا اس متعلق موقف ہے کہ وہ اپنے جائزوں میں جوہری صلاحیت کو زیر غور نہیں لاتے۔
اس مضمون میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہپاکستان اور انڈیا جیسی جوہری طاقتیں کیا عسکری قوت رکھتی ہیں؟
گلوبل فائر پاور کے مطابق 2025 میں دنیا کی طاقتور ترین افواج کی فہرست میں شامل 145 ملکوں میں انڈیا چوتھے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان کا نمبر 12واں ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ یہ فہرست 55 مختلف عناصر کو دیکھتے ہوئے مرتب کی گئی ہے۔ اس میں جغرافیائی، معاشی، مقامی صنعت، قدرتی وسائل، کارکردگی، اور ملک کے پہلی، دوسری اور تیسری دنیا کے ملکوں سے تعلق کو بھی مدِنظر رکھا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دفاعی بجٹ
انڈیا اور پاکستان کے دفاعی بجٹ میں بہت فرق ہے۔ 2025 میں انڈیا نے اپنے دفاع پر تقریباً 79 ارب ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ پاکستان کے دفاعی اخراجات 7 ارب ہے۔
India's military spending in 2024 was nearly nine times that of Pakistan's expenditure, news agency PTI reported, while citing a study released by a leading Swedish think tank on Monday.
فوج کی تعداد
پاکستانی فوج کی تعداد نو لاکھ 19 ہزار ہے جبکہ انڈیا کی فوج کی تعداد 42 لاکھ ہے۔
فضائی طیاروں کی تعداد
انڈیا کے پاس 2185 فضائی طیارے ہیں اور اس کے مقابلے میں پاکستان کے پاس 1281 طیارے ہیں۔
ان میں سے پاکستان کے پاس 320 اور انڈیا کہ پاس 590 لڑاکا طیارے ہیں جبکہ 804 انڈین اور 410 پاکستانی طیارے بمبار ہیں۔
انڈیا کے پاس 708 اور پاکستان کے پاس نقل و حمل کے 296 فضائی طیارے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہیلی کاپٹر
پاکستانی فوج کے پاس 328 ہیلی کاپٹر ہیں اور انڈیا کے پاس 720 ہیں۔ ان میں سے پاکستان کے پاس 49 لڑاکا ہیلی کاپٹر ہیں جبکہ انڈیا کے پاس فقط 15 ہیں۔
انڈیا کے آپریشنل ہوائی اڈوں کی تعداد 346 جبکہ پاکستان میں یہ تعداد 151 ہے۔
ٹینک
پاکستان کے پاس کُل 2182 اور انڈیا کے پاس اس سے دو گنا زائد یعنی 4426 ٹینک موجود ہیں۔
بکتربند گاڑیاں
انڈیا کے پاس 3147 بکتربند لڑاکا گاڑیاں جبکہ پاکستان کے پاس 2604 ہیں۔
توپ خانے
پاکستان کے پاس انڈیا کے مقابلے میں زیادہ خودکار توپیں ہیں۔ انڈیا کے پاس 190 ہیں اور پاکستان کے پاس 307 ہیں۔
لیکن انڈیا کے پاس 4158 عام توپیں ہیں اور پاکستان کے پاس صرف 1240 ہیں۔

بحری قوت
انڈیا کی بحری افواج کے پاس 295 اور پاکستان کے پاس 197 بحری اثاثے ہیں۔
انڈیا کے پاس ایک بحری بیڑا ہے جبکہ پاکستان کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں۔
پاکستان کے پاس پانچ آبدوزیں ہیں اور انڈیا کے پاس 16 ہیں۔
انڈیا کے پاس 14 فریگیٹ ہیں اور پاکستان کے پاس 10۔
انڈیا کے پاس 11 بحری جنگی جہاز (ڈیسٹرائرز) ہیں لیکن پاکستان کے پاس ایسا کچھ نہیں، ویسے ہی انڈیا کے پاس 22 چھوٹی بحری جنگی جہاز (کورویٹ) ہیں اور پاکستان کے پاس یہ نہیں ہیں۔
انڈیا کے پاس 139 گشت کرنے والی کشتیاں ہیں جبکہ پاکستان کے پاس 11 ایسی کشتیاں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کے نامہ نگار شکیل اختر کے گزشتہ سال نومبر میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق بھارت اور پاکستان اپنے ڈرونز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ کر رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار راہول بیدی کے مطابق بھارت کے پاس اگلے دو چار سالوں میں تقریباً پانچ ہزار ڈرون ہوں گے۔
ان کے بقول اگرچہ پاکستان کے پاس 'بھارت سے کم ڈرونز' ہیں لیکن اس کے باوجود اس کے پاس موجود ڈرونز مختلف صلاحیتوں کے حامل ہیں اور 10 سے 11 مختلف ساخت کے ہیں۔
گزشتہ سال اکتوبر میں، بھارت نے امریکہ کے ساتھ 3.5 بلین ڈالر مالیت کے 31 پریڈیٹر ڈرون خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔
پریڈیٹر ڈرونز کو دنیا کا سب سے کامیاب اور خطرناک ڈرون مانا جاتا ہے۔
ان کے ساتھ 500 ملین ڈالر مالیت کے بم اور لیزر گائیڈڈ میزائل بھی خریدے جائیں گے جو ان ڈرونز کے ذریعے اہداف کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
راہول بیدی کے مطابق پاکستان ترکی اور چین سے ڈرون درآمد کرتا ہے۔ تاہم اس نے جرمنی اور اٹلی سے ڈرون بھی خریدے ہیں۔
پاکستان نے براق اور شاہپر جیسے ڈرون بھی بنائے ہیں۔
پاکستان کے پاس ترکی کے جدید 'بائریکٹر' ڈرون TB2 اور Akenji ہیں جبکہ اس نے چین سے 'Wang Long Two' اور 'CH4' جیسے ڈرون بھی حاصل کیے ہیں۔








