پاکستانی فوج دوران سروس ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے اہلخانہ کو کیا مراعات دیتی ہے؟

آرمی

،تصویر کا ذریعہTWITTER

    • مصنف, فرحت جاوید
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

کچھ لمحے قبل میجر سعید کی تدفین ہوئی تھی اور اس کے بعد ملٹری پروٹوکول کے مطابق فوجی دستے نے انھیں سلامی پیش کی۔ پھر ایک بریگیڈیئر میجر سعید کے رینکس، کیپ، کین اور پاکستان کا پرچم اٹھائے ان کے والد کی جانب بڑھے۔

یہ ویڈیو آپ نے بھی دیکھی ہو گی۔

میجر سعید نے رواں ہفتے بلوچستان میں ہیلی کاپٹر حادثے میں اپنی جان گنوائی۔ ان کی تدفین ان کے آبائی گاؤں میں ہوئی اور تدفین کے بعد یہ تمام مناظر ملٹری پروٹوکول کا حصہ ہیں جن کی پابندی کسی بھی فوجی کے دوران ڈیوٹی موت کے بعد تدفین کے موقع پر کی جاتی ہے۔

مگر میجر سعید کی نماز جنازہ کے بعد وائرل ہونے والے اس ویڈیو میں خاص بات پرچم پیش کرنے والے بریگیڈیئر اویس کا رویہ ہے۔

میجر سعید کے ضعیف والد وہیل چیئر سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور سامنے موجود بریگیڈیئر کے ہاتھوں سے پرچم لیتے وقت جھنڈے اور اپنے بیٹے کی کیپ کو چوما۔ لیکن لمحہ بھر وقفے کے بعد انھوں نے بریگیڈیئر کے ہاتھ چومے۔

یہ مناظر بھی اکثر نظر آتے ہیں جب ضعیف والدین سامنے موجود فوجی یا پولیس افسر کو یونیفارم میں دیکھ کر جذباتی ہو جاتے ہیں۔

لیکن اس کے بعد نظر آنے والے منظر نے گذشتہ روز سے ہی ان کی ویڈیو کو وائرل کیا ہے۔ بریگیڈیئر اویس نے میجر سعید کے والد کے دونوں ہاتھ اور ماتھا چوما اور پھر انھیں سلیوٹ پیش کیا۔

ان کی اس ویڈیو کو سوشل میڈیا صارفین نے بہت شیئر کیا اور ان کے اس رویے کو سراہا۔

بریگیڈئیر ریٹائرڈ مسعود احمد خان نے لکھا کہ 'یہ دل کو چھو لینے والا لمحہ ہے۔ شہید میجر سعید کے والد نے ملک کا جھنڈا لیا، جو کہ مشکل ترین مرحلہ تھا۔ اور اس افسر کو دیکھیں جنھوں نے یہ پرچم پیش کیا۔'

اسی طرح محمد خان کاکڑ نامی ایک ٹویٹر صارف نے اسے 'باہمی عزت و تکریم اور خلوص کا اظہار ' قرار دیا۔

طارق زمان ملک نے لکھا کہ 'غم کی تصویر مگر عزم و حوصلے کے پیکر باپ کو دیکھ کر پاکستانی فوج کے حاضر سروس بریگیڈیئر صاحب نے بے ساختہ محبت اور والہانہ پن کا اظہار' کیا ہے۔

خیال رہے کہ میجر سعید کا تعلق بتیس میڈیم آرٹلری اور آرمی ایوی ایشن کے سیون سکوارڈن سے تھا اور وہ حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ تھے۔ وہ شادی شدہ تھے اور ان کے سوگواران میں بیوہ اور دو بچے شامل ہیں۔

دوران ڈیوٹی ہلاک ہونے والے فوجی افسران کے لیے مراعات کا نظام

پاکستانی فوج میں سرکاری سطح پر ان افسران اور جوانوں کے لیے بینیفٹس یعنی مراعات کا مکمل نظام موجود ہے جو دوران ڈیوٹی کسی آپریشن کے دوران ہلاک ہو جاتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ غیر روایتی طور پر بھی سوگوار خاندانوں کی مدد کے لیے کئی طریقے اختیار کرنا فوجی کلچر کا خاصہ ہے۔

ان مراعات پر نظر ڈالنے سے پہلے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ملٹری پروٹوکول ہے کیا۔

پاکستان آرمی میں کسی بھی افسر یا جوان، جونیئر کمشنڈ، نان کمشنڈ آفیسرز کی موت دو کیٹیگریز میں تقسیم کی گئی ہے: ایک 'ڈیتھ ان سروس' جبکہ دوسری ’شہادت‘ ہے۔

ان دونوں صورتوں میں سوگوار خاندان کو ملنے والی مراعات مختلف ہیں۔ یہاں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ملک بھر میں بعض ایسے علاقے ضرور واضح کر دیے گئے ہیں، جنھیں آپریشنل قرار دیا گیا ہے اور یہاں طبعی موت بھی ’شہادت‘ تصور کی جاتی ہے۔

ان میں بلوچستان کے کچھ علاقے، سابقہ فاٹا کے بعض حصے اور سیاچن کے کچھ ایریاز شامل ہیں۔ اسی طرح دوران پرواز حادثہ پیش آنے کی صورت میں ہلاک ہونے والا فوجی ’شہید‘ تصور کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں حتمی فیصلہ فوج ہی کرتی ہے۔

جب کوئی افسر فوجی قواعد و ضوابط میں 'شہید' تصور کر لیا جائے تو اس کا معاملہ جی ایچ کیو میں قائم ایجوٹنٹ جنرل یا اے جی برانچ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔

یہاں ایک ذیلی ادارہ ویلفیئر اینڈ ری ہیبیلیٹیشن ڈائریکٹوریٹ قائم ہے جس کے ماتحت ’شہدا سیل‘ کام کر رہا ہے جس کی سربراہی ایک بریگیڈیئر افسر کرتا ہے۔ یہ سیل کسی بھی آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے افسران اور جوانوں کے اہلخانہ کے لیے مختص مراعات کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔

جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کے دور میں دوران ڈیوٹی یا آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں کے لیے مراعات سے متعلق متعدد سقم ختم کرنے کی کوشش کی گئی اور فوج میں ایک مربوط نظام طے کیا گیا۔

یہ مراعات کیا ہیں، ان کا ذکر کچھ دیر میں کیا جائے گا۔ فوجی پروٹوکول کا آغاز جنازے اور تدفین سے ہوتا ہے جسے سیریمونیئل بریل کہا جاتا ہے۔

سیریمونیئل برئیل کیا ہے؟

جب بھی کسی فوجی افسر یا جوان کی آپریشن کے دوران یا افسر کی دوران ڈیوٹی بھی ہلاکت ہو جائے تو ان کو مکمل اعزاز کے ساتھ دفنایا جاتا ہے۔ تاہم 'اعزازی فائر' صرف 'شہادت' کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ گارڈ آف آنر کے بعد ان فوجی اہلکاروں کے یونیفارم کے کچھ حصے پیش کیے جاتے ہیں۔

فوجی جرنل

،تصویر کا ذریعہJohn Moore

،تصویر کا کیپشننماز جنازہ کے وقت افسر کے کفن پر وہ اشیا رکھی جاتی ہیں جو عام طور پر ان کے یونیفارم کا بنیادی حصہ ہوتی ہیں، جیسے قومی پرچم، رینکس، ٹوپی، شولڈر بیجز یا کالر ڈاٹ اور کمانڈ کین وغیرہ

ایس او پی کے مطابق نماز جنازہ کے وقت افسر کے کفن پر وہ اشیا رکھی جاتی ہیں جو عام طور پر ان کے یونیفارم کا بنیادی حصہ ہوتی ہیں۔ ان میں قومی پرچم، رینکس، ٹوپی، شولڈر بیجز یا کالر ڈاٹ اور رجمنٹل یا کمانڈ کین شامل ہیں۔

اس کے علاوہ تدفین ہونے کے بعد قبر پر چار ریتھ یا پھول چڑھائے جاتے ہیں جو کہ لازمی ہیں۔ یہ آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، کور کمانڈر اور متعلقہ رجمنٹ کرنل کمانڈنٹ کی جانب سے پیش کی جاتی ہیں۔

تدفین، گارڈ آف آنر اور فائر سیلوٹ کے بعد ہلاک ہونے والے جوان یا افسر کے یونیفارم سے جڑی اشیا قومی پرچم پر رکھ کر یا ایک باکس میں بند کر کے ان کے بیٹے، والد یا بھائی کے حوالے کی جاتی ہیں۔

سرکاری و غیر روایتی مراعات اور امداد

پاکستان کی تینوں مسلح افواج میں دوران آپریشن یا ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہونے کی صورت میں مراعات کا نظام موجود ہے تاہم سب سے مضبوط اور مربوط نظام خود بری فوج میں ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ فوجیوں کی تعداد اور براہ راست آپریشنز اور جنگوں میں حصہ لینا ہے۔ خاص طور پر دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران ہزاروں ہلاکتیں پاکستان آرمی کے جوانوں اور افسران کی ہوئیں۔ تاہم سرکاری مراعات کے علاوہ یونٹ اور کورس کی سطح پر بھی ہلاک ہونے والے افسران اور جوانوں کی اہلخانہ سے رابطہ قائم رکھا جاتا ہے۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ سرگرم افسران کے گروپس ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک فوجی اہلکار نے بتایا کہ ’آرمی میں کئی ایسے لانگ کورسز ہیں جو اپنے کورس کے شہدا کے اہلخانہ کے لیے رضاکارانہ طور پر فنڈز جمع کرتے ہیں۔ ان فیمیلیز کے مسائل ذاتی دلچسپی لے کر حل کیے جاتے ہیں۔ اور یہ سب فوج کے کلچر کا حصہ ہے۔ ان کے بچوں کو یہ احساس نہیں ہونے دیا جاتا کہ وہ تنہا ہیں۔'

اسی طرح ایک اور فوجی اہلکار نے بتایا کہ ان کے کم از کم چھ کورس میٹس ہیں جن کی مختلف آپریشنز کے دوران جان چلی گئی۔ جس کے بعد ان کی 'امیڈیٹ فیملی ممبرز کے ساتھ مستقل رابطہ رکھا گیا ہے تاکہ انھیں یہ یقین رہے کہ ہم ان کے دکھ میں شریک ہیں اور فوجی بھائی کے چلے جانے کے بعد بھی وہ ہمارے خاندان کا حصہ ہیں۔

’ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ ہمیں اپنے کسی شہید کورس میٹ کی فیملی میں کسی مسئلے کا علم ہو جائے اور ہم اسے حل نہ کریں۔ ہر کورس اور ہر یونٹ اپنے شہید ہونے والے افسران اور جوانوں کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے اور اسی لیے ہم ان کے اہلخانہ کو اہم ترین مقام دیتے ہیں۔‘

فوج میں کسی بھی جوان یا افسر جن کی دوران آپریشن ہلاکت ہوئی، کی برسی کے موقع پر ان کے یونٹ کی جانب سے تعزیت کے لیے فوجی اہلکار ان کے گھر بھیجے جاتے ہیں جبکہ متعلقہ یونٹ میں ہونے والے تمام ایونٹس اور فنکشنز پر انھیں خصوصی طور پر مدعو کیا جاتا ہے۔

کورس اور یونٹ کی حد تک ایسے فنڈز رکھے جاتے ہیں جو ہلاک ہونے والے افسر یا جوان کے بچوں کی تعلیمی ضروریات یا شادی کے اخراجات میں کام آ سکیں۔

اس بارے میں اکثر سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف اور حوالدار لالک جان کی مثال بھی دی جاتی ہے۔ حوالدار لالک جان کی بیٹی کی تعلیم کی مکمل ذمہ داری فوج نے لی اور ان کی آرمی میڈیکل کالج میں تعلیم کی ذمہ داری اس وقت کے آرمی چیف نے لی تھی۔

اسی طرح جنرل (ر) پرویز مشرف 1971 کی جنگ میں ایک آپریشن کے دوران اپنے قریبی دوست میجر نصیب اللہ کے ہمراہ تھے۔ ایک موقع پر جب انھیں یقین ہو گیا کہ ان میں سے کسی ایک کی جان چلی جائے گی تو انھوں نے ایک دوسرے کے ساتھ یہ عہد کیا کہ دونوں میں سے جو بھی بچ گیا وہ ہلاک ہونے والے کے بچوں کا خیال رکھے گا۔

اس کارروائی میں میجر نصیب اللہ ہلاک ہو ئے۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے نہ صرف ان کے بچوں کی تعلیم میں مدد جاری رکھی بلکہ ان کی شادیاں ہونے تک یہ ذمہ داری نبھائی۔ صدر بننے کے بعد بھی کھاریاں میں وہ میجر نصیب اللہ کے گھر جاتے اور اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے تھے کہ 'یہ ان کے خاندان کا حصہ ہیں۔'

اسی طرح جب بھوجا ایئر کا طیارہ 2012 میں گرا تو اس میں سٹیشن کمانڈر حیدر آباد بریگیڈیئر جاوید اور ان کی اہلیہ شامل تھے۔ ان کی شہادت کے بعد ان کے دونوں بچوں کی ذمہ داری فوج نے لی اور ان کی شادیوں تک ان کا خیال رکھا گیا۔

عام طور پر ایسی ذمہ داری غیر سرکاری طور پر متعلقہ یونٹ اپنے ذمہ لے لیتی ہے۔ جبکہ کورس میٹس مسلسل رابطوں میں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ فوج میں شہدا سیل کی بدولت اہلخانہ کو براہ راست آرمی چیف تک رسائی حاصل ہے اور ان سیلز میں جمع ہونے والی ان کی درخواستیں تین سے چار روز میں آرمی چیف سیکرٹریٹ تک پہنچا دی جاتی ہے۔

راحیل شریف

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنغیر روایتی طور پر بھی سوگوار خاندانوں کی مدد کے لیے کئی طریقے اختیار کرنا فوجی کلچر کا خاصہ ہے

اسی بارے میں بات کرتے ہوئے ایک فوجی اہلکار نے بتایا کہ 'ایک دوسرے کے لیے فیملی بننے کا تصور ملٹری اکیڈمی میں تربیت کے دوران ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔

’ایک پلٹون میں پچیس سے تیس کیڈٹس دو سال اکٹھے تربیت حاصل کرتے ہیں اور ہمہ وقت ساتھ رہتے ہیں۔ اس لیے وہ ایک خاندان کی طرح بن جاتے ہیں جبکہ پاس آوٹ ہونے کے بعد پورا لانگ کورس یا دیگر کورسز پورے کیریئر کے دوران رینک سے قطع نظر ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں۔ یوں بالخصوص پلٹون اور بالعموم لانگ کورس کی سطح پر ان خاندانوں سے رابطہ رکھا جاتا ہے۔'

فوج میں سرکاری طور پر کیا مراعات دی جاتی ہیں؟

فوج میں 'شہید' ہونے کی صورت میں رینک سٹرکچر یعنی افسر، سولجر یا جونیئر کمیشنڈ آفیسر کے تحت ایک مخصوص رقم کیش کی صورت میں دی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ ڈی ایچ اے میں ایک پلاٹ اور پھر ہاؤسنگ ڈائریکٹوریٹ کا گھر مفت دیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ وہ گھر ہے جس کے لیے افسر اپنی سروس کے دوران ہر ماہ تنخواہ سے ایک قسط ادا کرتا ہے تاہم دوران آپریشن ہلاک ہونے کی صورت میں یہ گھر مفت دیا جاتا ہے اور اس وقت تک جمع کرائی گئی رقم بھی اہلخانہ کو واپس کر دی جاتی ہے۔

ہر دو سال بعد فوج میں ایگریکلچر لینڈ کی سکیم آتی ہے جس میں ان افسران کے اہلخانہ کو ترجیح دی جاتی ہے۔

ان افسران اور جوانوں کے بچوں کو آرمی کے تمام تعلیمی اداروں میں ترجیحی بنیادوں پر داخلہ دیا جاتا ہے۔

ان کے والدین، اہلیہ اور بچوں کو طبی سہولت ویسے ہی جاری رکھی جاتی ہے جیسے ہلاک ہونے والے افسر یا جوان کی زندگی میں ان کے لیے موجود تھی۔

آرمی کا گھر اور بیٹمین تین سال کے لیے دیا جاتا ہے جس میں پانچ سال تک کی توسیع کی جا سکتی ہے تاکہ اس خاندان کی فوج سے باہر منتقلی سہل ہو سکے۔

جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی نے اہم قانون سازی کی جس کا تعلق کسی بھی فوجی کی بیوہ اور خاندان کے دیگر افراد سے متعلق تھا۔ چونکہ مراعات اہلیہ کو دی جاتی ہیں اس لیے یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ اگر فوجی افسر کی اہلیہ دوسری شادی کریں تو یہ پلاٹ اور گھر بکنے کی صورت میں افسر کے بچوں کا کیا بنے گا۔

اس کے لیے قانون سازی کی گئی کہ جب تک ہلاک ہونے والے افسر یا جوان کی سب سے چھوٹی اولاد کی عمر اٹھارہ سال نہیں ہو جاتی، فوج کی جانب سے دی گئی کوئی بھی پراپرٹی نہیں بیچی جا سکتی۔

اس طرح یتیم ہونے والے بچوں کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ جبکہ دوسری شادی کی صورت میں یہ پراپرٹی بچوں کے نام منتقل ہو جاتی ہے۔ بیوہ کو ہر سال جی ایچ کیو کو اپنی شادی کے سٹیٹس سے متعلق آگاہ کرنا ہوتا ہے۔

ان افسران اور جوانوں کے اہلخانہ کے مسائل کے لیے تمام بڑے شہروں میں سہولت مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں وہ اپنے مسائل لے جاتے ہیں۔

ایسے جوان جن کی فیمیلیز معاشرتی اقدار یا اپنی خاندانی روایات کے باعث شہروں میں منتقل نہیں ہو سکتے ان کے بیٹوں کے لیے ہوسٹل قائم کیے گئے ہیں جہاں رہ کر وہ آرمی پبلک سکولز اور کالجز میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ فوج کے تمام ہسپتالوں اور دیگر مراکز میں 'شہدا خصوصی ڈیسک' بنائے جاتے ہیں تاکہ ان کے اہلخانہ کو طویل قطاروں میں انتظار نہ کرنا پڑے۔

اس کے علاوہ گیلنٹری ایوارڈز کی صورت میں بھی اہلخانہ کو بعض دیگر مراعات حکومت پاکستان کی جانب سے فراہم کی جاتی ہیں۔

یہ وہ مراعات ہیں جو فوجی نظام میں 'شہید' کہلائے جانے والے افسران اور جوانوں کو دی جاتی ہیں۔ تاہم وہ افسران جن کی دوران ڈیوٹی تو موت واقع ہوئی مگر وہ کسی آپریشنل ایریاز میں نہیں تھے، ان کے اہلخانہ کو کیش رقم نصف ملتی ہے جبکہ زرعی اراضی نہیں دی جاتی، ان کے لیے طبی سہولت ریٹائرڈ افسران کے برابر ہو جاتی ہے۔

مسلح افواج میں خاص طور پر دوران ڈیوٹی ہلاک ہونے والے اہلکاروں اور ان کے اہلخانہ کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ فوج میں شامل دستوں کا مورال بلند رکھنا بھی ہے۔

ایسے افسران اور جوانوں کے اہلخانہ کا قیادت کی سطح پر بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ مثلاً جب سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے کچھ ماہ قبل ان کے آخری ’یوم شہدا‘ منعقد کیا گیا۔ اس تقریب کے ختم ہونے کے بعد جنرل (ر) راحیل شریف نے اپنے ماتحت عملے کو کہا کہ وہ اس وقت تک وہاں موجود رہیں گے جب تک وہاں موجود اہلخانہ کے مسائل حل نہ ہو جائیں۔ ان کی کرسی وہیں میدان میں لگا دی گئی۔

میڈیا کے نمائندوں سمیت تمام مہمان ایک ایک کر کے واپس چلے گئے۔ درجنوں خاندان جنرل راحیل سے ملے اور جی ایچ کیو میں ملاقاتوں کا سلسلہ صبح چار بجے تک جاری رہا۔