پاکستان میں سیلاب: ’میں نے پانی میں سے 15 لاشیں نکالیں‘

A woman displaced by floods who appears to about to burst into tears, standing in front of floodwaters

،تصویر کا ذریعہMuhammad Awais Tariq

    • مصنف, سوامینتھن نترنجن اور ایمن خواجہ
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

پاکستان میں بین الاقوامی امداد تو پہنچنا شروع ہو چکی ہے لیکن اب بھی سیلاب سے متاثرہ لاکھوں بے گھر افراد مشکل میں ہیں۔

پاکستان کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے حالیہ سیلاب سے پیدا ہونے والی صورت حال کو تباہ کن بحران قرار دیا ہے۔ ’اس موسمیاتی بحران کا شکار ایسے انتہائی غریب افراد ہوئے ہیں جنھوں نے اس کو پیدا کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔‘

اس وقت پاکستان کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے۔ 1200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ تقریبا 10 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

بی بی سی نے ایسے افراد سے بات کی ہے جو سیلاب میں اپنا سب کچھ گنوا بیٹھے ہیں۔ ایسے لوگوں سے بھی ہم نے بات کی جو سب سے زیادہ متاثرہ لوگوں تک مدد پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Villagers holding on to a safety rope wade across a river that has burst its banks

،تصویر کا ذریعہMuhammad Awais Tariq

’رضاکاروں کی مدد سے سیلابی پانی میں سے 15 لاشیں نکالیں‘

محمد اویس طارق نے بتایا کہ ’میرے علاقے میں بہت لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ میں نے دیگر رضاکاروں کی مدد سے سیلابی پانی میں سے 15 لاشیں نکالیں۔‘

20 سالہ اویس طب کے طالب علم ہیں اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 490 کلومیٹر دور تونسہ شریف کے رہائشی ہیں۔

ان کے علاقے کا بیشتر حصہ زیر آب آ چکا ہے جس میں قبرستان بھی شامل ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’قبرستان میں کوئی خشک جگہ باقی نہیں رہی۔ ہر جگہ پانی تھا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہلاک ہونے والوں کو ان کے گھروں میں ہی دفن کر دیا جائے۔‘

People covering themselves with plastic sheets

،تصویر کا ذریعہMuhammad Awais Tariq.

سیلابی پانی میں ڈوب کر ہلاک ہونے والوں میں سے اکثر ایسے بھی ہیں جن کی لاشیں نہیں مل سکیں۔ ایک ریسکیو مشن کے دوران طارق کو پتہ چلا کہ سیلابی پانی کی آمد کی پیشگی اطلاع نہ ہو تو کتنے افسوس ناک نتائج ہو سکتے ہیں۔

’میں نے اپنے شہر کے قریب ایک گاؤں میں کیچڑ میں لت پت پانچ سالہ بچے کو دیکھا۔ مجھے چند گھنٹے پہلے ہی مقامی افراد سے معلوم ہوا تھا کہ یہاں سیلابی ریلے نے تباہی مچائی ہے اور ایک بچہ اپنے باپ کے ساتھ پانی میں پھنسا ہوا ہے۔‘

’اس شخص نے اپنے بچے کو تو کسی طرح محفوظ مقام تک پہنچا دیا لیکن وہ خود ڈوب گیا۔‘

An old man sitting amidst a home destroyed by floods

،تصویر کا ذریعہMuhammad Awais Tariq

لوگ اس شخص کی لاش نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ انھوں نے طارق کو بتایا کہ وہ بچہ اب اپنی ماں کے ساتھ محفوظ مقام پر پہنچ چکا ہے۔

طارق بتاتے ہیں کہ 10 سے 22 اگست کے دوران ان کے علاقے میں سیلاب آیا۔ ’لیکن اب بارش تھم چکی ہے اور پانی کم ہو رہا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ قریب کے دیہات سے لوگ پناہ کی خاطر شہروں اور قصبوں کا رُخ کر رہے ہیں جس سے ان علاقوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے جو سیلاب سے متاثر نہیں ہوئے۔

طارق کا گھر اب بھی گھٹنوں تک پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کئی لوگ ایسے ہی گھروں میں رہ رہے ہیں۔ سات دن تک کی لوڈشیڈنگ کے بعد اب ان کے علاقے میں بجلی بحال ہو چکی ہے۔

Tariq standing in front of a swollen river

،تصویر کا ذریعہMuhammad Awais Tariq

،تصویر کا کیپشنمحمد اویس طارق

یہ بھی پڑھیے

’جھیل کا پانی کئی گھر ساتھ بہا کر لے گیا‘

34 سالہ پیرزادہ چترال کے ضلع بونی کے رہائشی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’کم از کم چھ گاؤں سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے گھر تباہ ہو گئے۔ 100 سے زیادہ مکانات مکمل طور پر پانی میں بہہ گئے۔‘

’بونی میں سیلاب کا پانی نہیں آیا لیکن آس پاس کے گاؤں تباہ ہو گئے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ بہت زیادہ بارش اور گلیشیئل جھیلوں کے پھٹنے سے سیلابی ریلا آیا۔

Badly damaged home

،تصویر کا ذریعہPeerzada

ان کی معلومات کے مطابق ان کے علاقے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ لیکن سینکڑوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جو اب خیموں میں رہائش پزیر ہیں۔

پیرزادہ کے مطابق بہت سے مکانات کیچڑ سے بھرے ہوئے ہیں اور لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور دیگر ضروری اشیا کی قلت کا سامنا ہے۔

’لوگوں کو کمبل اور سویٹر درکار ہیں تاکہ وہ سرد ہوتے ہوئے موسم میں خود کو گرم رکھ سکیں۔ ستمر کے آخر تک درجہ حرارت صفر سے بھی نیچے چلا جائے گا۔ لوگ خیموں میں نہیں رہ سکیں گے۔‘

Home covered in thick layer of mud and debris

،تصویر کا ذریعہPeerzada

’ہم متاثر نہیں ہوئے اسی لیے مدد کر رہے ہیں‘

مبین انصر پنجاب کے ضلع گجرات کے رہائشی ہیں جو سیلاب سے متاثر نہیں ہوا لیکن وہ ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے علاقے میں زیادہ بارش نہیں ہوئی اور سیلاب نہیں آیا۔ ’اب ہم اپنے لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ ان لوگوں کی مدد کریں جو مشکل میں ہیں۔‘

مبین نے اپنے گاؤں گمٹی کے تین سو لوگوں سے چندہ اکٹھا کیا ہے۔

Bundles of clothes, blankets and other materials donated by Gumti residents

،تصویر کا ذریعہMubeen Ansar

’ہم سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے گاؤں کے ان لوگوں سے مدد مانگ رہے ہیں جو بیرون ملک کام کرتے ہیں۔ ہم اپنی مسجد میں امدادی سامان بھی اکٹھا کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ کپڑوں، کمبلوں اور خوارک سے بھرا ایک ٹرک پہلے ہی روانہ کیا جا چکا ہے۔ ’اب ہم بچوں کے کھانے پینے کی چیزیں اور خواتین کے لیے سینیٹری پروڈکٹس خریدنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔‘

سیلاب زدگان کی مدد کے لیے وہ تقریباً دو ہزار ڈالر چندہ جمع کر چکے ہیں۔ رضاکاروں کے گروہ کی مدد سے اب وہ اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح سے یہ امداد سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں تک پہنچائی جائے۔