سیلاب ڈائری: ’میری بیٹیوں کا جہیز بھی بہہ گیا‘

پاکستان میں غیرمعمولی طویل مون سون کے دوران شدید بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ حکام کے مطابق اس سیلاب سے سوا تین کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
بی بی سی اردو کے نمائندے ملک کے مختلف علاقوں میں جا کر سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور امدادی کارروائیوں کے بارے میں رپورٹ کر رہے ہیں جنھیں ایک ڈائری کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔اس سلسلے کی اگلی قسط میں جانیے کہ سحر بلوچ اور ریاض سہیل نے سندھ میں کیا دیکھا جبکہ عزیز اللہ خان کو سوات کے بحرین بازار میں کیا نظر آیا۔

سحر بلوچ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، جھڈو
’وہ دور ڈِش انٹینا نظر آرہا ہے؟ وہاں میرا گھر ہوتا تھا جو اب ڈوب گیا ہے۔‘ سیما خاصخیلی نے اپنے کیمپ سے دور اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔ آس پاس پانی کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا، لیکن سیما کے لیے یہ ڈِش انٹینا وہ واحد نشانی ہے جس سے وہ اپنا مٹی کا گھر، جو اب ڈوب چکا ہے، پہچان سکتی ہیں۔"
وہ ان خواتین میں سے ایک ہیں جن کو سندھ میں ضلع بدین کے علاقے جھڈو سے پندرہ دن پہلے آدھی رات کو اپنے خاندان کے ساتھ سیلابی پانی سے بچنے کے لیے نکلنا پڑا تھا۔
بدین سے ٹنڈو بھاگو اور پھر جھڈو کا علاقہ صرف 12 سے 15 کلومیٹر دور ہے۔ لیکن خستہ حال سڑکیں مسافت بڑھا دیتی ہیں۔

سیما نے مجھے دور کھڑا دیکھ کر اپنی بیٹی کو بھیجا اور اپنے ٹینٹ میں بیٹھنے کو کہا۔ ’باہر بہت دھوپ ہے آپ اندر آجاؤ۔ چائے چاہیے آپ کو؟‘
یہ سن کر خاصی حیرانی بھی ہوئی اور شرم بھی محسوس ہوئی لیکن میں نے انھیں کہا کہ میں ٹینٹ کے باہر ہی بیٹھ جاتی ہوں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اچانک بے بسی سے میری طرف دیکھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میری بیٹیوں کا جہیز بہہ گیا۔ اب کچھ بھی نہیں بچا۔‘

’میرے آٹھ بچے ہیں اور آدھی رات میں جب پانی آیا تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ پہلے کیا اٹھاؤں؟ بچوں کے سکول کے سرٹیفیکیٹ، ان کے سکول کا بستہ، میرا اور شوہر کا شناختی کارڈ یا پھر زمین کے کاغذات؟ میں نے سب سے پہلے زمین کے کاغذات اٹھائے اور دوسرے دن شوہر کو باقی سامان لانے کا کہا۔‘
سیما اور ان جیسے تقریباً 20 خاندان ان خود ساختہ کیمپوں میں اپنے گاؤں کے سامنے والی سڑک پر رہ رہے ہیں۔ یہاں سے بہت کم لوگ نزدیکی علاقے مکلانی یا کراچی شہر گئے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں نے یہاں رہنے کی بنیادی وجہ اپنے جانوروں کے پاس رہنے اور پیسے نہ ہونا بتائی۔
سیما بات کرتے کرتے رونا شروع ہوئیں۔ ’میں ناشکری نہیں کر رہی۔ ہمیں کھانا مل رہا ہے۔ لیکن چاول کی ایک تھیلی گھر کے 10 افراد کیسے کھائیں گے۔ میں اپنا زیادہ تر کھانا بچوں کو دے دیتی ہوں اور چائے پی لیتی ہوں۔‘

بدین، سانگھڑ اور میر پور خاص میں بارشوں کے بعد پانی کی نکاسی کا مسئلہ موجود ہے۔ فصلوں سے بہتا پانی لوگوں کے گھروں کی طرف لوٹ رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ جب تک لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (ایل بی او ڈی) سے پانی زیرو پوائنٹ میں نہیں جائے گا تب تک ٹاؤن اور گاؤں میں پانی کھڑا رہے گا۔
’ہمیں پتا ہے کہ قدرتی آفت کیا ہوتی ہے‘ سیما نے کہا۔ ’اور انسانوں کی طرف سے بھیجی گئی آفت کا بھی اندازہ ہوچکا ہے۔ اس لیے میں یہ ٹینٹ نہیں پھینکوں گی، کیونکہ آج سے 10 سال بعد پھر اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ہمارے برباد ہونے پر ویسے بھی کسے افسوس ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock
یہ بھی پڑھیے
ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، خیرپور

قومی شاہراہ پر کراچی کے بعد سکھر اس علاقے کا ایک بڑا شہر ہے۔ بلوچستان اور پنجاب کے علاوہ شمالی سندھ کے دیگر شہروں کی طرف جانے کے لیے سڑکیں یہاں سے ہی نکلتی ہیں۔ یہاں کا روہڑی ریلوے سٹیشن جنکشن کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ شمالی سندھ کا واحد فعال ایئرپورٹ بھی بحال ہو چکا ہے۔
2010 کے سیلاب میں متاثرین کی ایک بہت بڑی تعداد نے اسی شہر میں ڈیرے ڈالے تھے۔ سکھر بائی پاس پر حالیہ بارشوں سے متاثرہ افراد موجود ہیں لیکن ان کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔
حالیہ بارشوں سے یہ شہر خود بھی متاثر ہوا۔ بعض علاقوں میں کشتیاں چلانے تک کی نوبت آئی۔ اب شہر میں تو صورتحال معمول پر آ چکی ہے تاہم صالح پٹ، پنو عاقل اور روہڑی تحصیلوں کے گاؤں میں پانی موجود ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اور بلاول بھٹو بدھ کے روز 20 کے قریب غیر ملکی سفیروں کے ساتھ یہاں پہنچے جن کو آس پاس کے اضلاع کا فضائی معائنہ بھی کرایا گیا اور ایئرپورٹ پر بریفنگ بھی دی گئی۔
سکھر کی غلام قادر مارکیٹ اس علاقے میں کھجور کی ایک بڑی منڈی ہے جہاں سے ایکسپورٹ بھی کی جاتی تھی لیکن سیلاب کے بعد کئی روز تک زیر آب رہی۔
سیٹھ شنکر لال کا دعویٰ ہے کہ اسی کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے کیونکہ ’یہاں جتنا بھی مال تھا وہ خراب ہو گیا ہے۔‘
’مارکیٹ میں 100 گودام ہیں جن میں سے 10-12 ایسے ہوں گے جن کا مال بچ گیا ورنہ سب متاثر ہوئے ہیں۔‘
سکھر سے ہم نے خیرپور کا رخ کیا۔ قومی شاہراہ پر کھجور کے باغات میں تو پانی نہیں تھا تاہم قریبی زیر آب علاقوں کے لوگ گھر چھوڑ کر سڑک پر آ گئے تھے۔

غلام شبیر پھلپوٹو کا کہنا تھا کہ ان کے گھروں سے پانی نکل سکتا ہے لیکن پھر وہ زمینوں میں داخل ہو گا اور وہ اس کی اجازت نہیں دے رہے کیونکہ اس سے ان کی زمین اور گھر دونوں ہی متاثر ہوں گے۔
اس قسم کی صورتحال کا سامنا صرف غلام شبیر کو ہی نہیں ہے۔ کئی آبادیاں ہیں جن سے پانی نکلا تو اگلی زمین سے ہی گذرے گا لیکن کوئی یہ نقصان اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ہم پیر جو گوٹھ شہر میں داخل ہوئے تو بازار کے قریب گھٹنے تک پانی موجود تھا۔ یہاں پیر پگاڑہ کی درگاہ کے دروازے سیلاب متاثرین کے لیے کھولے گئے ہیں جہاں سندھ اور بلوچستان کے کئی لوگ یہاں موجود تھے۔
پیر جو گوٹھ سے خیرپور شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچہری روڈ اور پنج گولا چوک، جو مرکزی اور تجارتی علاقے ہیں، سے تاحال پانی کی نکاسی نہیں ہو سکی تھی۔

سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کا تعلق اسی شہر سے تھا۔ ان کے دور میں بڑی تعداد میں یہاں ترقیاتی منصوبے بنے جن میں سیوریج اور ڈرینیج کے منصوبے بھی شامل تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے فوکل پرسن منظور وسان کا تعلق بھی اسی ضلع سے ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی وائرل ہونے والی ویڈیوز میں سے ایک میں وہ کشتی پر سوار کہہ رہے ہیں کہ دیکھیں یہ وینس کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ایک دوسری ویڈیو میں وہ کشتی میں سوار مد مانگنے والے لوگوں کو جھڑکتے دکھائی دیے۔
خیرپور میں ٹھری میر واہ اور کوٹ ڈیجی کے کئی علاقے اب بھی مکمل طور پر زیر آب ہیں۔ کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں اگر کوئی فوت ہو جائے تو میت پانی سے گزار کر ابھن شاہ کے مزار کے قریب دفنائی جاتی ہے جو ایک پہاڑی پر واقعہ ہے۔
خیرپور ہر سال ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے علاقوں سے لوگ یہاں کھجور کے سیزن میں آتے ہیں اور مقامی لوگوں کے ساتھ کھجور اتارنے، لکڑیوں کی پیٹیاں بنانے، چھوہارے بنانے کے علاوہ صفائی سے پیسے کماتے ہیں۔ حالیہ بارشوں سے کھجور کی فصل تو متاثر ہوئی ساتھ میں کئی لوگوں کا روزگار بھی چھن گیا۔

بحرین بازار پر دریا کا قبضہ
عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، سوات

بحرین کا بازار دریا برد ہو چکا ہے۔ دریا میں طغیانی آئی تو کوئی دکان اور دیوار اس کا راستہ نہ روک سکی۔ دریائے سوات یہاں بازار کے شروع میں دو حصوں میں تقسیم ہے جس کے ایک بڑے حصے نے اب تک بحرین بازار پر قبضہ جما رکھا ہے۔
ہم صبح 11 بجے سوات سے تین دنوں میں دوسری مرتبہ بحرین کے لیے روانہ ہوئے۔ دوپہر کے وقت بحرین پہنچے تو گزشتہ روز کی نسبت لوگوں کا رش زیادہ تھا۔
سیلاب سے پہلے بحرین کا مرکزی بازار بارونق ہوا کرتا تھا جہاں ٹراؤٹ فش بھی ملتی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
سوموار کے روز ہم بازار میں داخل نہیں ہو سکے تھے کیونکہ دو دریاؤں کے سنگم پر واقع پل پانی میں بہہ چکا تھا ۔ آج صبح اس مقام پر رش تھا۔ قریب جا کر معلوم ہوا کہ بازار جانے کے لیے پیدل راستہ کھول دیا گیا ہے۔
ہم لکڑی کے تختوں سے بنے پل سے بمشکل گزر کر جب بازار میں داخل ہوئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ بازار کی اکثر دکانوں اور ہوٹلز کے دیواریں گر چکی تھیں۔ ان کے شٹر دریا نے اکھاڑ پھینکے تھے اور اب ان کے آر پار بہہ رہا تھا۔
جس دن سیلاب آیا، پانی اس بازار میں قائم اونچی عمارتوں کی تیسری منزل کو چھو رہا تھا۔

مقامی لوگوں کے مطابق بحرین کا یہ بازار سوات کے والی نے 70 سے 80 سال پہلے قائم کیا تھا۔ اس وقت یہاں کچی دکانیں تھیں۔ دریا اس مقام سے کافی دور سے گزرتا تھا۔
تاجروں نے بتایا کہ 1980 کے بعد یہاں پکی تعمیرات شروع ہوئیں۔ 2010 کے سیلاب میں بھی اس بازار کی ان دکانوں اور ہوٹلوں کو نقصان پہنچا تھا جو دریا کے کنارے کے ساتھ تھیں۔
اس کے بعد توقع تھی کہ اب یہ دوکانیں دریا سے دور تعمیر کی جائیں گی لیکن سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات شروع ہوئے تو اونچی اونچی عمارتیں تعمیر ہوئیں اور ہر ہوٹل مالک کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ دریا کے اندر بھی کچھ جگہ پر قبضہ کر لے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ دریائے درال پہلے بازار کے اندر داخل ہوا جس کے بعد دوسری جانب سے آنے والے دریا سوات کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ دو دریا ایسے ٹکرائے کہ دکانوں کو توڑتے ہوئے نکل گئے۔

،تصویر کا ذریعہAFTAB AHMAD
یہاں کے تاجر اپنی دکانوں تک پہنچنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ بیشتر دکانوں تک رسائی انتہائی مشکل ہے۔
ہینڈی کرافٹس اور فاسٹ فوڈ کے دکانداروں نے بتایا کہ سیلاب نے ان کا سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔
یہاں پشمینہ شال کی بھی کافی دکانیں ہیں۔ اس کاروبار سے وابستہ مالکان کے مطابق ان کی دکانوں میں لاکھوں روپے کا سامان تباہ ہو چکا ہے۔ جو سامان بچ گیا ہے، اسے صاف کیا جا رہا ہے۔













