جنوبی پنجاب میں سیلاب: تونسہ اور راجن پور میں خیموں کی کمی اور صحت کے مسائل

- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، راجن پور
’باجی تم یہاں آئی ہو تو مجھے کھانا نہیں ایک خیمہ لے دو۔ میری چار جوان بیٹیاں بغیر چھت کے بے پردہ بیٹھی ہیں۔ ہم بلوچ لوگ ہیں، ہمیں شرم آتی ہے۔‘
جنوبی پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ شہر ڈیرہ غازی خان میں تونسہ اور راجن پور کے علاقوں میں ایسی کئی کہانیاں سننے اور دیکھنے کو ملیں جہاں حکومتی سطح پر امداد کی کمی کی وجہ سے لوگوں میں مقامی اراکن اسمبلی کے خلاف غصہ پایا جاتا ہے۔
میں لاہور سے نکلی اور تونسہ سے ہوتے ہوئے کوہ سلیمان کی پہاڑیوں تک جا پہنچی۔ ضلعی انتظامیہ مجھ سمیت کئی صحافیوں کو حکومت کے امدادی اقدامات دکھانے لے کر گئی تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا کہ سیلاب کے بعد منقطع ہونے والا راستہ کھول دیا گیا ہے اور حکومت کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن اس کے باوجود ریسکیو کا کام واضح طور پر ناکافی نظر آیا۔
کوہ سلیمان جاتے ہوئے سابق وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے آبائی علاقے تونسہ میں رُکے تو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کو خیمے بھی دیے گئے ہیں لیکن وہاں صرف چار پانچ خیمے تھے۔
میں نے انتظامیہ سے سوال کیا کہ صرف یہ پانچ خیمے ہی سیلاب متاثرین کی خیمہ بستی ہیں، تو مجھے جواب ملا کہ ’یہ کچھ لوگ ہیں۔ ہم نے ڈی جی خان میں پورا کیمپ بنایا ہوا ہے۔‘
ان خیمہ بستیوں کے پاس گئی تو وہاں موجود خواتین اپنے بچوں کو لیے بیٹھی تھیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا کوئی امداد ملی ہے؟ جواب ملا یہ خیمہ جس میں ہم بیٹھے ہیں۔
شکایت کرنے والی خاتون کے پیچھے اس کی بیٹی چارپائی پر سو رہی تھی۔ اس خاتون نے کہا کہ ’بچے بیمار ہیں اور کوئی ڈاکٹر نہیں آیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

تونسہ سے گزرتے ہوئے سیلابی پانی جگہ جگہ نظر آیا۔ کوہ سلیمان پہنچے تو وہاں پہلے سے ایک ٹینٹ لگا ہوا تھا۔ آس پاس متاثرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وہاں تین سے چار متاثرین میں چیک تقسیم کیے گئے۔
جس شخص کو پہلا چیک ملا، اس کے تین بچے سیلاب میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ان سے بات چیت کے دوران اور لوگ بھی جمع ہو گئے۔
وہاں موجود ہر چہرے پر تکلیف اور کرب کی کیفیت تھی۔ تمام متاثرین اس امید پر اپنی تکلیف بیان کر رہے تھے کہ شاید ان کی کوئی مدد ہو جائے گی۔
یہ لوگ کوہ سلیمان کی پہاڑیوں میں چار سے پانچ گھنٹے کا پیدل سفر کر کے پہنچے تھے جن میں سے اکثر کے پاؤں زخمی ہو چکے تھے۔
وہاں موجود ایک شخص نے ماچس کی ڈبی دکھاتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ لینے کے لیے پہاڑوں سے تونسہ پیدل گیا۔‘
ایسے ہی ایک شخص نے بتایا کہ ’ہم ان پہاڑوں میں پچھلے ایک ماہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس کھانے کو نمک تک نہیں تھا۔ میرے خاندان کے 25 لوگ چارپائی کے نیچے آسمان تلے بیٹھے رہے اور اوپر سے شدید بارش ہوتی رہی۔‘

ایک شخص میرے پاس آیا تو کہنے لگا کہ ’باجی تم یہاں آئی ہو تو مجھے کھانا نہیں ایک خیمہ لے دو کیونکہ میری چار جوان بیٹیاں بغیر چھت کے بے پردہ بیٹھی ہیں۔ ہم بلوچ لوگ ہیں، ہمیں شرم آتی ہے۔‘
کوہ سلیمان سے واپسی پر کچھ اور علاقوں کا دورہ کیا۔ اگلے دن میں سیلاب متاثرین کے کیمپ پہنچی جو ایک یونیورسٹی اور پی ٹی ڈی سی ہوٹل میں ہے۔
ریلف کیمپ میں موجود ڈاکٹر نے کہا کہ ’پہلے یہاں لوگ زیادہ تھے لیکن اب وہ آہستہ آہستہ واپس جا رہے ہیں۔‘
کیمپ کے اندر لوگوں سے بات چیت ہوئی تو میں نے سوال کیا کہ کیسا ہے کیمپ؟ دو عورتیں ایک ساتھ بولیں کہ تین وقت کھانا مل رہا ہے اور رہنے کو چھت ملی ہوئی ہے۔
ان کمروں میں ہی ان کے مویشی بھی پھر رہے تھے۔ ایک کمرے میں ٹوٹی ہوئی چارپائی کے چاروں طرف ماؤں نے دوپٹے باندھ کر بچوں کے لیے جھولا بنا رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
یہاں گندگی اور بدبو بہت زیادہ تھی۔ خواتین سے ان کے مسائل پوچھےتو کہنے لگیں کہ سیلاب نے مسئلے ہی مسئلے کھڑے کر دیے ہیں۔
ان میں سے ایک بڑا مسئلہ صحت کا ہے۔ ریلف کیمپ آنے والے زیادہ تر افراد کو جلد کی بیماریوں کے علاوہ بخار اور گیسٹرو جیسے مسائل تھے۔
اردگرد کے گاؤں گئے تو دور دور تک پانی ہی پانی دکھائی دے رہا تھا۔ ایک بزرگ سے گفتگو ہوئی تو وہ بتانے لگے کہ ’جس دن سیلاب آیا تو مویشی بھی بہہ گئے۔ ہمارے گاؤں سمیت کئی گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔‘

راجن پور کے کئی قصبوں، بستیوں اور شہروں میں زیادہ تر لوگ سامان سمیت سڑک کنارے بیٹھے نظر آئے۔ ایسے لوگ بھی تھے جو تین تین فٹ پانی موجود ہونے کے باجود بھی اپنے ٹوٹے ہوئے تباہ گھروں میں رہنے کو ترجیح دے رہے تھے۔
خیموں کی کمی اور مانگ ہر شخص کی زبان پر تھی۔
سیلاب سے ہونے والا نقصان کتنا ہے، اس کا تخمینہ تو ابھی لگایا جانا باقی ہے لیکن جو کچھ ہم نے دیکھا اس کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ یہاں ہماری سوچ سے بھی زیادہ نقصان ہوا جس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہی ہو گا۔
حکومتی سطح پر امدادی کارروائیاں انتہائی چھوٹے پیمانے پر نظر آئیں۔ لوگوں کو سیاستدانوں اور خصوصی طور پر اپنے علاقے کے ایم این ایز اور ایم پی ایز پر شدید غصہ تھا۔
لوگوں سے یہ ضرور سننے کو ملا کہ ’ان کی یہ بھی بڑی مہربانی ہے کہ انھوں نے کم از کم ہماری جان بچا کر ہمیں ریسکیو کیا لیکن اس کے بعد ہم بے یارو مددگار پڑے ہیں۔‘
’ہمیں تو اپنے سردار کا بھی انتظار رہا اور ان سیاستدانوں کا بھی جو ہم سے ووٹ مانگتے ہیں لیکن اب وہ غائب ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ بھی ہماری طرح یا ہم سے زیادہ سیلاب سے متاثر ہوں، اسی لیے وہ ہمارے دکھ اور تکلیف میں اب تک شامل نہیں ہو پائے۔‘













