مسلم لیگ ق میں اندرونی اختلافات: ’ایسا نہیں ہو سکتا کہ جس کا جو دل کرے وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کرے‘، پرویز الہی

- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان مسلم لیگ ق کے سینیئر رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں، جو پارٹی فیصلہ کرے گی ویسا ہی ہو گا اور ہم آپس میں بیٹھ کر معاملات حل کر لیں گے۔
بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں مسلم لیگ ق میں اختلافات کے سوال کے جواب میں چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ ’ہم کسی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کر رہے اور نہ ہی کوئی کہیں جا رہا ہے۔‘
’میری شجاعت حسین سے بات ہوئی ہے اور انھوں نے یہ کہا ہے کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں گے جو مناسب نہ ہو۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایسا نہیں ہو سکتا کہ جس کا جو دل کرے وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کرے۔‘
پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر جوڑ توڑ کی سیاست میں اہم سمجھی جانے والی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق میں اندرونی اختلافات اور پارٹی میں تقسیم کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
ان خبروں کو تقویت اس وقت ملی جب دو روز قبل پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہی اور چوہدری شجاعت حسین کے بھائی وجاہت حسین کے بیٹے حسین الٰہی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرتے ہوئے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کیا جبکہ اس سے قبل مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے بیٹے سالک حسین اور پارٹی کے جنرل سیکرٹری طارق بشیر چیمہ موجودہ اتحادی حکومت کی حمایت کر چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/ @EllahiHussain
اس بارے میں چوہدری پرویز الہی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ ’شہباز شریف نے شجاعت حسین کے چھوٹے بیٹے شافع کو مشیر برائے وزیر اعظم لگانے کی جھوٹی امید دلوائی ہوئی ہے اسی لیے یہ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ انھیں یہ نہیں معلوم کہ وہاں سے انھیں کچھ نہیں ملنا۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے پارٹی صدر شجاعت حسین کے بیٹے سالک حسین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اسے چکوال سے میں نے سیٹ نکلوا کر دی جبکہ اب ان کے حلقے والے انھیں ڈھونڈتے ہیں کہ وہ جیتنے کے بعد کہاں گئے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
البتہ ان تمام تر باتوں کے باوجود بھی ان کا یہ کہنا کہ مسلم لیگ ق متحد ہے اور ہم مل کر ہی تمام تر فیصلے کریں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
مسلم لیگ ق کا مستقبل کیا ہوگا اور کس پلڑے کا فیصلہصحیح ثابت ہوگا؟
اس معاملے پر صحافی ماجد نظامی نے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو چوہدری پرویز الہی کے بیٹے سیاست میں خاصے سرگرام ہیں اور اپنے علاقے کے لوگوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ’جبکہ دوسری جانب چوہدری شجاعت حسین کے بیٹےعملی طور پر سیاست کرتے دیکھائی نہیں دیکھتے۔ تاہم خاندان اور معاشی طور پر بھی مونس الہیٰ زیادہ اثر و روسوخ رکھتے ہیں۔ اس لیے اگر سیاسی مستقبل کی بات کریں تو اس میں مونس اور حسین الہیٰ کا پلڑا زیادہ بھاری ہے۔‘
ماجد نظامی نے مزید کہا کہ اس تمام تر صورتحال سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپس میں ان کے راہیں جدا ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ کسی اور پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔
مگر ملک میں موجودہ سیاسی رجحان کے پس منظر میں کیا مسلم لیگ ن کے الحاق گجرات کے چوہدریوں کے لیے سود مند ثابت ہو سکتا ہے؟
ماجد نظامی کا کہنا تھا کہ تاریخ کو اگر دیکھیں تو گجرات کے حلقوں میں آپس کی لڑایاں اس چیز کی اجازت نہیں دیتی ہیں کہ مسلم لیگ ق کے اراکین ن لیگ کی طرف جائیں۔
’کیونکہ دھڑے کی سیاست کے پیچھے انھوں نے سالوں سے دشمنیاں پال رکھی ہیں۔ اس لیے میرے نزدیک اگر مسلم لیگ ق مسلم لیگ ن کی طرف جاتی ہے تو یہ سیاسی خودکشی کرنے کے مترادف ہوگا۔‘
’میری اطلاع کے مطابق پرویز الہیٰ ہی سپیکر رہیں گے‘
اس معاملے پر بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا تھا کہ پہلے اپوزیشن جماعتیں اتحاد کیا کرتی تھیں لیکن یہ پہلی مرتبہ دیکھنے تو ملا کہ حکومت سیاسی جماعتوں کے اتحاد کر رہی ہے۔
پنجاب کی سیاست اور مسلم لیگ ق کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں کزنز اور رشتے داروں میں سیاسی رقابت ہونا عام ہے لیکن خاندان کے بڑے جب تک سر پر ہوتے ہیں تو وہی ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں۔
’چوہدری شجاعت حسین کا سیاست میں اہم کردار رہا ہے اور میری اطلاع کے مطابق زردای صاحب اور ان کے معاملات طے پا گئے ہیں جس کے بعد اب پرویز الہی ہی سپیکر پنجاب اسمبلی رہیں گے۔ اس لیے مسلم لیگ ق متحدد ہی رہے گی۔‘
’تاہم اگر نقصان کی بات کریں تو ابھی تک سیاست میں سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ ن کا ہوا ہے۔ اور سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کا ہو رہا ہے۔ آپ یہ دیکھیں کہ پنجاب میں ان کی سیاست ن لیگ نے ہی ختم کی اور انھوں نے ہی دوبارہ زندہ بھی کر دی۔ اس لیے آنے والے دنوں میں نقصان ن لیگ کو ہی اٹھانا پڑے گا جنھوں نے اپنی غلط فیصلوں کی وجہ سے عمران خان کو بھی سیاست مین زندہ کر دیا ہے۔‘
’ان کی سیاست ہمارے گرد ہی گھومتی ہے‘
ادھر پارٹی اختلافات کی خبروں چوہدری پرویز الہی نے موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کیونکہ اس حکومت کے پاس لوگوں کو دکھانے کے لیے کچھ نہیں تو اسی لیے ہماری پارٹی کے دو بندوں کو لے کر باتیں بناتے ہیں۔
پرویز الہی نے کہا کہ ’یہ جو بھی کر لیں ان کی سیاست ہمارے گرد ہی گھومتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کہا جاتا ہے کہ دس سیٹوں کی پارٹی بلیک میل کرتی ہے جبکہ پاکستان کی سیاست ہماری پارٹی کی سیاست کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔
’عزت دینے والی ذات اللہ کی ہے۔ جن کے پاس 170 سیٹیں تھیں وہ ادھر ادھر پھر رہے ہیں جبکہ چند سیٹیں ہونے کے باوجود لوگ ہمارے پاس آتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہPML-N
’اب آصف زرداری شہباز شریف کو گھسیٹ رہے ہیں‘
وزیر اعظم شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف کہتے تھا کہ میں آصف علی زرداری کو گھسیٹوں گا جبکہ اب آصف زرداری نے ہی ان کو ایسی جگہ لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ یہ لاوارث ہو گئے ہیں۔‘
پنجاب کی حالیہ سیاسی بساط پر چوہدری پرویز الہی اب بھی اہم سمجھے جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنی اتحادی جماعت پی ٹی آئی کے نہ صرف وزیر اعلیٰ پنجاب کے امید وار تھے بلکہ اس وقت سپیکر پنجاب اسمبلی بھی ہیں۔
پنجاب کی سیاست میں ان کی جماعت کے کردار پر بات کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی نے دعویٰ کیا کہ ’حمزہ شہباز کے پاس آج بھی نمبر پورے نہیں اور جس طرح انھوں نے الیکشن کروایا وہ سب نے دیکھا۔ اسمبلی کا تقدس پامال کیا گیا۔‘
پرویز الٰہی نے مزید کہا کہ ’ابھی تو انھوں نے بجٹ بھی پیش کرنا ہے۔ جس کے لیے انھیں بندے پورے کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ جو ان کے پاس نہیں۔ اس لیے اخلاقی طور پر انھیں چاہیے کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ضمنی الیکشن میں بھی ہم لوگ ہی جیتیں گے۔‘
ایسی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ آصف علی زردای نے مسلم لیگ نون کو منا لیا ہے کہ آپ کو پنجاب میں بطور سپیکر پنجاب اسمبلی ہی کام کرنے دیا جائے؟
اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ نہیں کیونکہ یہ لوگ تو پہلے ہی میرے خلاف تحریک عدم اعتماد لا چکے ہیں جو ناکام ہوئی۔ اس لیے اس سب کا اب کوئی فائدہ نہیں۔
یاد رہے کہ سابق صدر اور فوجی آمر جنرل مشرف کے دور حکومت میں سیاست میں عروج پانے والی مسلم لیگ قاف کے پاس اس وقت مرکز اور پنجاب کی اسمبلیوں میں صرف چند نشستیں ہیں تاہم سنہ 2018 کے انتخابات میں یہ پارٹی، پاکستان تحریک انصاف کے اتحادی کے طور پر سامنے آئی اور وقتاً فوقتاً یہ خبریں بھی سامنے آتی رہیں کہ دونوں جماعتوں نے راہ جدا کر لی ہیں لیکن سابق وزیر اعظم عمران خان ان کو اپنے دور حکومت میں اپنے ساتھ بطور اتحادی رکھنے میں کامیاب رہے۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/HAMZA SHEHBAZ
یہ بھی پڑھیے
اسی بارے مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی اور جماعت میں جانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آپ کے علاقے کے لوگ اس جماعت کو قبول بھی کریں جبکہ ہمارے حلقوں میں لوگ مسلم لیگ نون کا نام تک سننا پسند نہیں کرتے۔
’ہمارا پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہمارے لوگوں میں اس جماعت کے لیے کچھ قبولیت نظر آتی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ 'جتنی دیر مسلم لیگ نون کی حکومت رہی ہمارے علاقے میں ایک بھی کام نہیں ہوا جبکہ ہمارے حکومت میں آتے ہی لوگوں نے واضع فرق دیکھا کہ ہم نے آتے ہی علاقے کے حالات درست کیے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/ChaudhryParvez
’ہم اتحادی ہیں کوئی غلام نہیں‘
جب چوہدری پرویز الہی سے پوچھا گیا کہ آپ نے عمران خان کے خلاف باتیں کی تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہم تو کھل کر کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے اسے ٹھیک کر لو۔ ہم اتحادی ہیں ان کے کوئی غلام تو نہیں کہ غلط کو بھی صحیح کہہ دیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’سنہ 2018 سے پہلے تک تو عمران خان شوقیا طور پر سیاست کر رہے تھے اور پھر تھوڑے سے مارجن سے اتحادیوں کی مدد سے انھوں نے وفاق اور پنجاب میں حکومت بنائی۔‘
’اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے‘
بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ ’ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے بغیر چیزیں آگے نہیں چل سکتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’سیاسی جماعتیں کہتی تو ہیں کہ وہ دخل نہ دیں لیکن جب تک وہ سب کو مل کر بٹھائیں گے نہیں تو چیئرمین نیب یا الیکشن کمشنر کیسے اور کون لگائے گا۔‘













