تحریک عدم اعتماد: جب بےنظیر بھٹو کو وزراتِ عظمیٰ سے ہٹانے کے لیے ’بھاؤ تاؤ کا بازار گرم‘ ہوا

بینظیر بھٹو، 1988

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ظفر ملک
    • عہدہ, صحافی

یکم نومبر 1989 کی خنک صبح تھی جب پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 40 کلومیٹر دور مری کی پہاڑیوں میں واقع پنجاب ہاؤس کے لان میں مسلم لیگ اور اُس کی اتحادی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی جمع تھے۔

پنجاب ہاؤس کے بڑے ہال میں اجلاس چل رہا تھا اور اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کی قیادت نشستوں پر براجمان تھی اور اِس دوران مسلسل رابطے ہو رہے تھے۔ اس اجلاس میں توجہ کا مرکز پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں نواز شریف تھے جو بظاہر سب سے زیادہ بااختیار اور اچھے رابطہ کار نظر آ رہے تھے۔

اُن کے چہرے پر اُن کی اس اہمیت اور اختیار کی واضح جھلک نظر آ رہی تھی۔

ہال کے باہر برآمدے میں وفاقی دارالحکومت سے آئے صحافیوں کا بڑا گروہ موجود تھا جبکہ لاہور سے آئے چند سینیئر اخبار نویس اور ایڈیٹرز بھی وہاں موجود تھے جنھیں میاں نواز شریف ایسے مواقع پر صلاح مشورے کے لیے بلا لیتے تھے۔

میاں نواز شریف کی میڈیا ٹیم کے ایک رُکن سراج منیر بھی لاہور سے آئے تھے جو خالص لکھنوی انداز میں منھ میں پان چباتے، چہرے پر شرارتی مسکراہٹ سجائے صحافیوں کو بتاتے ہیں کہ ’منڈی لگی ہے، سودے ہو رہے ہیں، بھاؤ تاؤ کا بازار گرم ہے۔‘

ان کے اس حسب حال تبصرے پر وہاں موجود اخبار نویس داد دیتے ہیں۔

اس ساری گفتگو کا پس منظر یہ تھا کہ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کی طرف سے عدم اعتماد کی تحریک قومی اسمبلی میں جمع کروا رکھی تھی اور اب حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے حامی اراکین اسمبلی کی ’حفاظت‘ کر رہی تھی تاکہ مخالف گروپ انھیں قابو نہ کر لیں۔

اسلام آباد میں بھی ماحول اس سے ملتا جلتا تھا۔

بے نظیر بھٹو اپنی وزارت عظمیٰ بچانے کے لیے سرگرم تھیں۔ پیپلز پارٹی اور اس کی حامی جماعتوں کے ارکان کو صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ آفتاب شیرپاؤ پہلے پشاور کے فائیو سٹار ہوٹل اور پھر وہاں سے سوات منتقل کر کے ’محفوظ‘ کر چکے تھے۔

ان کی یہ کارروائی حزب اختلاف کے لیے کچھ ’سرپرائز‘ کی حیثیت رکھتی تھی کیونکہ حکومتی ارکان کو اپوزیشن کی پہنچ سے اس قدر دور کر دیا جائے گا جہاں پہنچ آسان نہ ہو، اس حوالے سے اپوزیشن نے سوچا نہیں تھا۔

سینیئر صحافی اظہر سہیل اپنی کتاب ’سازشوں کا دور‘ میں بے نظیر بھٹو کے خلاف آئی جے آئی کی تحریک عدم اعتماد کی منظر کشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’23 اکتوبر سے یکم نومبر تک کا عرصہ پیپلز پارٹی اور آئی جے آئی دونوں کے لیے گویا انتہائی سخت پیغمبری وقت تھا۔‘

’23 اکتوبر کو پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک قومی اسمبلی کے سپیکر کو جمع کروائی گئی تو کسی کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ ہفتہ بھر میں معاملات کہاں سے کہاں جا پہنچیں گے۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ ’بہت سے حکومتی اراکین اسمبلی نے عدم اعتماد لانے والوں کو یقین دلا رکھا تھا کہ وہ بے نظیر حکومت کا تختہ الٹنے میں اپوزیشن کی پوری پوری مدد کریں گے۔ اس حوالے سے سندھ کے بعض ناراض اراکین پر بھروسہ کیا جا رہا تھا اور واقعہ یہ ہے کہ آئی جے آئی والوں نے انھیں راولپنڈی کے انٹر کانٹینینٹل میں جو ’مراعات‘ فراہم کر رکھی تھیں، وہ اگر کہیں پیپلز پارٹی والے فراہم کر دیتے تو یوں کہیے کہ ملک میں طوفان آ جاتا۔‘

'لاتعداد اراکین اسمبلی کو مری میں موجود پنجاب حکومت کے ریسٹ ہاؤسز اور ہوٹلوں میں لے جا کر رکھا گیا تھا۔ اُدھر پیپلز پارٹی والے آخر وقت تک بے خبری اور بے یقینی میں مبتلا رہے اور ان کے انٹیلیجنس ادارے انھیں سب اچھا کی رپورٹیں دیتے رہے، اس لیے انھیں یقین ہی نہیں تھا کہ ایسی کوئی تحریک آئے گی یا ایسے حالات پیدا ہوں گے۔ مگر تحریک آئی اور وہ حالات بھی پیدا ہوئے کہ ایک بار تو پیپلز پارٹی والوں کو بھی چھٹی کا دودھ یاد آ گیا۔‘

23 اکتوبر 1989 سے یکم نومبر تک کے دس دن پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا عشرہ تھا جو ملکی سیاسی تاریخ پر اپنے گہرے اثرات چھوڑ گیا۔

میں نے ایک نوجوان پولیٹیکل رپورٹر کے طور پر اس کے قدم بمقدم مراحل کو قریب سے دیکھا۔ اس کے باوجود کہ بے نظیر بھٹو سازشوں میں گھری ایک ایسی حکمران تھیں جن کے بہت قریبی لوگوں میں سے بھی چند ہی دل سے اُن کے ساتھ تھے لیکن بروقت فیصلہ سازی کی قوت اور سیاسی تدبر نے انھیں اس آزمائش میں سرخرو کیا۔

شیخ رشید

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناپوزیشن کی جانب سے راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے رکن اور عدم اعتماد شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا تھا کہ ’ہم نے بازی جیت لی ہے‘

23 اکتوبر کو جب سرپرائز دیتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے اکٹھ 'اسلامی جمہوری اتحاد' نے 237 کے ایوان میں 86 ارکان کے دستخطوں کے ساتھ عدم اعتماد کی تحریک قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائی تو اُسی روز حکومت کی بڑی اتحادی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے حکومت سے علیحدگی اور اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔

تب بھی ایم کیو ایم کا یہی دعویٰ تھا کہ گیارہ مہینے میں ’معاہدہ کراچی‘ کی کسی شق پر عمل نہیں کیا گیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کی پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر عمران فاروق اور ڈپٹی پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر امین الحق (موجودہ وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی) موجود تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط کرنے والے 86 ارکان میں ایم کیو ایم کے ارکان شامل نہیں تھے۔

پارلیمانی امور کے وزیر خواجہ احمد طارق رحیم نے جب ایم کیو ایم کے ارکان قومی اسمبلی سے ایم این اے ہاسٹل میں ملاقات کی تو اُن کا مؤقف تھا کہ اُن کے فیصلے پارٹی کی ہائی کمان کرتی ہے اور ان دنوں ہائی کمان ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور چیئرمین عظم احمد طارق کی شکل میں متحرک اور مؤثر تھی۔

پیپلز پارٹی کے ساتھ ایم کیو ایم ایم کا معاہدہ ٹوٹنے پر کراچی کے بعض علاقوں میں مٹھائی تقسیم کرنے کی خبریں بھی اخبارات میں شائع ہوئیں۔ جس روز عدم اعتماد کی تحریک اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائی گئی اسی روز راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے رکن شیخ رشید احمد نے دعویٰ کیا ’ہم نے بازی جیت لی ہے۔‘

آصف زرداری نے کہا ’شرط لگا سکتا ہوں معاملہ الٹ ہو گا‘

اپوزیشن جماعتوں نے ایوان میں 129 ارکان کی حمایت کا دعویٰ کیا۔ فاٹا سے قومی اسمبلی کے آٹھ ارکان میں سے چار اپوزیشن کے ساتھ اور چار نے پیپلز پارٹی کی حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ بے نظیر بھٹو نے اعلان کیا کہ پارٹی سے ’بے وفائی کرنے والوں کا سختی سے محاسبہ‘ کیا جائے گا لیکن انھوں نے عدم اعتماد کی تحریک کو جمہوری عمل کا حصہ اور اپوزیشن کا جمہوری حق قرار دیا۔ انھوں نے ایم کیو ایم کے رویے کو ’افسوسناک‘ بھی قرار دیا۔

میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظم کے شوہر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ ’شرط لگا سکتا ہوں معاملہ الٹ ہو گا۔‘

پیپلز پارٹی کے ذرائع پُراعتماد تھے کہ اپوزیشن کو عدم اعتماد کی تحریک میں زیادہ سے زیادہ 102 ووٹ مل پائیں گے۔

جوڑ توڑ کے حوالے سے یہ نہایت ہی دلچسپ سرگرمیاں تھیں کہ ایک طرف اپوزیشن پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کو توڑنے کی کوششوں میں مصروف تھی تو دوسری جانب خود اسلامی جمہوری اتحاد کے تین ارکان قومی اسمبلی مخدوم احمد عالم انور، غلام محمد احمد مانیکا اور رئیس شبیر احمد نے عدم اعتماد کی تحریک پر دستخطوں سے لاتعلقی کا تحریری بیان جاری کر دیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایوان کا اجلاس طلب کرنے کی تحریک پر دستخط کیے تھے جسے ان کے علم میں لائے بغیر عدم اعتماد کی تحریک میں بدل دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسلامی جمہوری اتحاد کے چوہدری انور عزیز بھی کھلم کھلا حکومت کے ساتھ کھڑے تھے، انھوں نے ایوان میں عدم اعتماد کی قرارداد پیش ہونے کی حمایت میں کھڑے ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

ایسا نہیں تھا کہ حکومتی کیمپوں میں سب شانتی تھی، وہاں بھی تھی آگ برابر لگی ہوئی۔ حکومت کی جانب سب سے دلچسپ معاملہ وزیر مملکت برائے افرادی قوت طارق مگسی کا تھا جنھوں نے عین بحران کے دوران عدم اعتماد کی قرارداد سامنے آنے سے اگلے روز حکومت کو آگاہ کیا کہ انھیں اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی حمایت کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔

’ایک پجیرو، دو کروڑ نقد اور بنک کا لائسنس‘

سرکاری طور پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں بتایا گیا کہ وزیر مملکت طارق مگسی نے حکومت کی حمایت جاری رکھنے کے لیے مکمل وفاقی وزیر بنائے جانے، ایک پجیرو گاڑی اور دو کروڑ روپے نقد دیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ انھوں نے سرمایہ کاری بنک کا لائسنس دینے کی فرمائش بھی کی ہے اور حکومت کو اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے وزیر مملکت طارق مگسی کو فوری طور پر ان کے منصب سے برطرف کر دیا۔ جس کے فوری بعد طارق مگسی نے پارٹی کی بنیادی رکنیت چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کی کھلی حمایت کا اعلان کر دیا۔

ووٹنگ کے روز ’جئے بھٹو‘ کے نعرے

بے نظیر بھٹو کی حکومت نے اپنے ارکان قومی اسمبلی کو ہدایت کی وہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کے دوران ایوان میں نہ آئیں، البتہ تحریک ناکام ہونے پر فوری ایوان میں آ جائیں اور وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ دیں۔ بے نظیر بھٹو نے عدم اعتماد کی قرارداد کو اپنی حکومت کے خلاف سازش قرار دیا لیکن انھوں نے اس میں بیرونی ہاتھ کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس دوران حکومتی نمائندوں اور اپوزیشن نمائندوں کے درمیان باضابطہ ملاقاتیں اور مذاکرات ہوتے رہے۔ جن میں رولز آف گیم طے کیے گئے۔ سپیکر قومی اسمبلی ملک معراج خالد کی صدارت میں حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے افتخار گیلانی، اعتزاز احسن، طارق رحیم اور اپوزیشن کی جانب سے غلام حید وائیں، چوہدری عبدالغفور اور شیخ رشید نے مذاکرات میں حصہ لیا۔

اس موقع پر مذاکراتی ٹیموں نے عوام کو پُرامن اور پُرسکون رہنے کا پیغام بھی جاری کیا جس میں پارلیمنٹ ہاؤس سے ان کو دور رہنے، کوئی پوسٹر نہ لگانے اور جذبات میں نہ آنے کی اپیل کی گئی۔

ایسا نہیں تھا کہ اس وقت امریکہ کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ امریکی انتظامیہ نے بھی ایک بیان جاری کیا کہ پاکستان کا منتخب ایوان جس پر اعتماد کا اظہار کرے گا، امریکی انتظامیہ اس کے ساتھ پوری خوشدلی سے کام کرنے کو تیار ہو گی۔

دو نومبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا، دونوں طرف سے دو دو ارکان نے تقریریں کیں اور پھر ووٹنگ ہوئی۔ اپوزیشن کو 107 اور حکومت کو 124 ووٹ ملے۔ ایوان میں 'جئے بھٹو' کے نعرے لگے۔

وہ لمحہ جب بینظیر بھٹو تحریک عدم اعتماد میں سرخرو ہوئیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوہ لمحہ جب بینظیر بھٹو تحریک عدم اعتماد میں سرخرو ہوئیں

’مسٹر پریزیڈنٹ، آئی ایم ناٹ بیٹا‘

سینیئر صحافی و تجزیہ کار عظیم چوہدری بے نظیر بھٹو حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’جنرل ضیا الحق کے طیارے کے حادثے کے فوری بعد عام انتخابات جو آئین کے تحت فوری منعقد ہو جانے چاہیں تھے لیکن یہ مؤخر ہو گئے تھے، غلام اسحاق خان قائم مقام صدر بن چکے تھے اور مستقل صدرکا انتخاب بھی ہونا باقی تھا۔‘

’ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی حکومت تھی اور اس اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عہدیداروں نے بعد ازاں اس بات کا اظہار کیا کہ آئی جے آئی ہم نے بنائی ہے، جن لوگوں نے آئی جے آئی بنائی تھی ان کا خیال یہ تھا کہ اینٹی پیپلز پارٹی، پرو ضیا الحق ووٹ کو ایک جگہ اکٹھا کرنا تھا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ 'اس سب کے باوجود جب عام انتخابات کے بعد قومی اسمبلی کے نتائج سامنے آئے تو پیپلز پارٹی کی نشستیں آئی جے آئی کے مقابلے میں کچھ زیادہ تھیں لیکن پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی اتنی نشستیں حاصل نہیں کر پائی کہ وہ حکومت بنا سکے۔

’اس وقت کی آئینی صورتحال کے مطابق صدر مملکت کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ قومی اسمبلی کے کسی بھی رُکن کو وزیر اعظم نامزد کر سکتے تھے۔ اس نامزد وزیر اعظم کے لیے ضروری تھا کہ وہ ساٹھ دن کے اندر ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرے۔'

عظیم چوہدری کہتے ہیں کہ عین انھی دنوں تین امریکی سینیٹر پاکستان کے دورے پر آئے اور انھوں نے صدر غلام اسحاق خان، آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ سے بھی ملاقات کی اور پھر چند ہی روز بعد غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو کو وزیر اعظم نامزد کر دیا۔

بے نظیر بھٹو کو تین معاملات پر واضح کر دیا گیا کہ ان کی ٹیم میں غلام اسحاق خان، دوسرے وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب خان موجود رہیں گے اور تیسرے یہ کہ وہ نیوکلیئر پروگرام کے معاملات سے کوئی سروکار نہیں رکھیں گی۔

'تھوڑے عرصے کے بعد ہی غلام اسحاق خان نے اس بات کا اظہار شروع کر دیا کہ بے نظیر بھٹو ناتجربہ کار ثابت ہو رہی ہیں اور پاکستان کے اہم معاملات میں فیصلہ سازی کو میں صدر مملکت کا تجربہ ان سے کہیں زیادہ ہے تو غلام اسحاق خان نے انھیں بعض امور پر غیر سرکاری سطح پر مشورہ دینے کا سلسلہ شروع کیا۔'

'اسی دوران انھوں نے ایک گفتگو میں بے نظیر بھٹو کو بات کرتے ہوئے بیٹا کہہ کر بلایا۔ اس کے رد عمل میں بے نظیر بھٹو نے کہا 'مسٹر پریزیڈنٹ، آئی ایم دی پرائم منسٹر، آئی ایم ناٹ بیٹا (جناب صدر، میں وزیر اعظم ہوں، میں بیٹا نہیں)۔‘

یہ بھی پڑھیے

’اس کے بعد صدر غلام اسحاق خان نے غیر سرکاری مشوروں کی بجائے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو مختلف امور پر غلطیوں کی نشاندہی کے لیے خط لکھنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔‘

عظیم چوہدری کہتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کے حوالے سے انہی دنوں میں 'مسٹر ٹین پرسنٹ' کی اصطلاح منظر عام پر آئی۔ انھی دنوں میں بیگم عابدہ حسین کے گھر پر ایک وائٹ پیپر تیار کیا گیا جس میں حکومت کی بدعنوانیوں کی تفصیل بیان کی گئی۔ ’پھر میاں نواز شریف کے اس وقت کے قریبی صحافتی مشیروں میں شامل حسین حقانی اور مصطفیٰ صادق نے وفاقی حکومت پر کرپشن کے الزامات کی ایک مہم شروع کی اور پھر میلوڈی میں واقع ہوٹل میں حکومت کی کرپشن کے خلاف مہم کے حوالے سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں یہ وائٹ پیپر تقسیم کیا گیا۔‘

پارلیمان، پاکستان، 1989، تحریک عدم اعتماد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبھٹو حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے روز پارلیمنٹ کے اطراف میں فوج ڈیوٹی پر موجود تھی

رقم سے بھرے تھیلے اور آپریشن مڈنائٹ جیکل

سینیئر صحافی اور کالم نگار عبداللہ طارق سہیل کہتے ہیں کہ کسی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے اور اسے کامیاب بنانے کے لیے جو فضا درکار ہوتی ہے وہ اس وقت موجود نہیں تھی جب بے نظیر بھٹو حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی۔

ان کے مطابق ’عدم اعتماد کی تحریک کی بنیادی وجہ وہ تلخی تھی جو 70 کی دہائی سے بھٹو اور اینٹی بھٹو جماعتوں کے اندر موجود تھی۔ جو ضیا الحق کے مارشل لا کے دور میں مزید عروج پر پہنچی، اسلامی جمہوری اتحاد بنیادی طور پر اینٹی بھٹو ووٹ تھا اور 1988 کے عام انتخابات کے بعد سیاسی فضا یہ تھی کہ بھٹوز کی حکومت نہیں چاہیے۔ اسٹیبلشمنٹ کا ایک غالب دھڑا آئی جے آئی کی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کر رہا تھا۔‘

عظیم چوہدری کا کہنا ہے کہ ’یہ بات اہم ہے کہ جن دنوں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی اس وقت میاں نواز شریف پنجاب مسلم لیگ کے صدر اور ان کے جنرل سیکریٹری غلام حیدر وائیں قومی اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر تھے۔ عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے جانے سے قبل اسٹیبلشمنٹ کی ایجنسی کے افسران نے بعض حکومتی ارکان کو یقین دلایا کہ بے نظیر حکومت اب رخصت ہونے والی ہے اس لیے وہ اپنے حلقے کے مفادات کے بہتر تحفظ کے لیے اس سے الگ ہو جائیں اور نئی حکومت کی حمایت کریں۔‘

’ان دنوں اس وقت کے صوبہ سرحد میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور آفتاب شیرپاؤ وزیر اعلیٰ تھے۔ اس لیے آفتاب شیر پاؤ کی نگرانی میں کچھ حکومتی ارکان اسمبلی کو رابطے سے بچانے کے لیے سوات لے جایا گیا۔ اس دوران سینیٹ کے ایک رکن جو سابق بیوروکریٹ تھے، رقم سے بھرے تھیلے لے کر سوات جا رہے تھے کہ راستے میں شیرپاؤ حکومت نے انھیں دھر لیا اور ان سے رقم بھی برآمد کر لی گئی۔ اس طرح یہ معاملہ کافی خراب ہو گیا۔‘

اظہر سہیل لکھتے ہیں کہ ’آئی جے آئی کے بعض سرکردہ افراد نے بھی تسلیم کیا کہ چونکہ ادائیگی کرنے والی شخصیت نے اس معاملے کو بھی تجارتی انداز میں چلانے کی کوشش کی اور اراکین پر مکمل اعتماد کرنے کی بجائے محض بیعانہ کے ذریعے کام چلایا۔‘

عبداللہ طارق سہیل کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا جو دھڑا آئی جے آئی کی کوششوں میں پوری طرح شامل تھا اس کو بریگیڈیئر امتیازاور میجر عامر کی معاونت اور رہنمائی حاصل تھی، بعد میں یہ معاملہ ’آپریشن مڈ نائیٹ جیکال‘ کے طور پر سامنے آیا جب بے نظیر بھٹو حکومت کے ڈائریکٹر انٹیلیجنس بیورو میجر مسعود شریف نے اس کی تفصیلات افشا کیں۔

عظیم چوہدری کا کہنا ہے کہ ’اس بات کا امکان بہرحال پھر بھی موجود تھا کہ بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی اور غلام مصطفےٰ جتوئی وزیر اعظم بن جاتے، اگر ڈپٹی لیڈر اپوزیشن غلام حید وائیں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کو یہ مشورہ نہ دیتے کہ وزرات عظمیٰ غلام مصطفیٰ جتوئی کو ملے گی، آپ تو وزیر اعلیٰ ہی رہیں گے۔‘

’اس طرح آئی جے آئی کے ساتھ شامل ہونے کے لیے آنے والے کچھ حکومتی ارکان کو واپس جانے کی اجازت دے دی گئی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جس دن قومی اسمبلی ہال میں عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ ہو رہی تھی اس دن حکومتی کیمپ کا ایک رکن وہاں روتے ہوئے کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ میں مجبور ہوں لیکن میں پھر بھی ووٹ بی بی کے حق میں دوں گا اور اس نے ووٹ عدم اعتماد کی تحریک کی مخالفت میں نہیں ڈالا۔‘

عظیم چوہدری کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود کہ اسٹیبلشمنٹ بے نظیر بھٹو کے ساتھ نہیں تھی، صدارتی محل کی تمام تر محبت لاہور اور نوابشاہ کے ساتھ تھی، لاڑکانہ کے ساتھ نہیں تھی لیکن پھر بھی بے نظیر حکومت کو گرایا نہ جا سکا۔

عبداللہ طارق سہیل کہتے ہیں کہ سب سے بڑا بلنڈر آئی جے آئی سے یہ ہوا کہ قومی اسمبلی کے ایوان میں ووٹوں کا فرق بہت زیادہ تھا، 237 کے ایوان میں پیپلز پارٹی کے پاس براہ راست 207 نشستوں پر الیکشن سے 92 اور آئی جے آئی کے 54 ارکان تھے، ایم کیو ایم کے 12 ارکان اور فاٹا سے 8 ارکان کی حمایت پیپلز پارٹی کو حاصل تھی۔ آزاد ارکان ا س کے علاوہ تھے، اقلیتوں کی 10 اور خواتین کی 20 مخصوص نشستوں میں سے بھی اکثریت پیپلز پارٹی کے پاس تھی۔

نواز شریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجن دنوں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی اس وقت میاں نواز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے

آئی جے آئی کو عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کرانے کے لیے مزید 65 ووٹ درکار تھے، ایم کیو ایم نے پیپلز پارٹی کا ساتھ چھوڑ دیا تو اس طرح 12 ووٹ یہ آئی جے آئی کی طرف آ گئے، پھر بھی 43 ووٹوں کی مزید ضرورت تھی۔

آئی جے آئی کا کافی انحصار آزاد امیدواروں پر تھا۔ ان دنوں فاٹا والے بھی 'آزاد امیدوار' ہی کہلاتے تھے اور ایوان میں کل آزاد امیدواروں کی تعداد 40 کے لگ بھگ تھی جن کی اکثریت نے آئی جے آئی کو حمایت کا زبانی یقین دلایا تھا لیکن جب ووٹنگ ہوئی تو آئی جے آئی کی عدم اعتماد کی تحریک کو شکست ہو گئی۔

’جنرل، یہ بہت قریبی معاملہ تھا‘

اظہر سہیل بھی بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی بڑی ذمہ داری میاں نواز شریف پر ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 'میاں زاہد سرفراز ابتدا میں ہی ایم کیو ایم سمیت کم و بیش بیس ارکان اسمبلی سے مکالمہ و معاملہ کر چکے تھے اور واقعہ یہ ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف اس موقع پر وہ کردار ادا نہ کرتے جو انھوں نے کیا تو عدم اعتماد کی تحریک شاید ہی ناکام ہوتی۔'

یہ بھی پڑھیے

اظہر سہیل لکھتے ہیں کہ ’اس تحریک کے دوران اپوزیشن نے حکومت کے کافی اراکین کو توڑ لیا تھا مگر جن قوتوں نے آخری فیصلہ کرنا ہوتا ہے، ان کے نزدیک ابھی بے نظیر کو رخصت کرنے کا وقت نہیں آیا تھا۔‘

عبداللہ طارق سہیل کہتے ہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک کی ناکامی کی دو بڑی وجوہات تھیں پہلی یہ کہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف اس الزام کے سوا کوئی اور قابل ذکر الزام نہ تھا کہ وزیر اعظم کے شوہر آصف علی زرداری ہر سودے میں 10 فیصد کمیشن حاصل کرتے ہیں اور اس طرح انھیں 'مسٹر ٹین پرسنٹ' کا خطاب دیا گیا تھا لیکن اس کا کبھی کوئی ثبوت نہیں ملا۔

عدم اعتماد کی تحریک کی دوسری بڑی وجہ قومی اسمبلی کے ایوان میں آئی جے آئی کو حاصل ووٹ اور کامیابی کے لیے مطلوبہ ووٹوں کا فرق اس قدر زیادہ تھا کہ اسے پورا کرنا مشکل ہو گیا۔ اس کے باوجود انھوں نے 53 ووٹ زائد حاصل کیے لیکن کامیابی نہ مل سکی۔

عبداللہ طارق سہیل کہتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ایوان صدر کی مکمل حمایت اپوزیشن کے ساتھ تھی لیکن اسٹیبلشمنٹ کے ایک دھڑے کی حمایت انھیں حاصل تھی جبکہ دوسرا دھڑا ان کی حمایت نہیں کر رہا تھا۔ یہ بات اس لیے سمجھ میں آتی ہے کہ جنرل اختر عبدالرحمان کے بیٹے ہمایوں اختر خان نے تحریک عدم حمایت کی حمایت میں ووٹ نہیں دیا تھا۔

اظہر سہیل لکھتے ہیں کہ ’جن اراکین کی ناراضگی تھی ان کی منت سماجت کی گئی، یا درمیان میں بزرگوں کو ڈال لیا گیا۔ ایک آدھ جگہ پیپلز پارٹی نے اپنا روایتی ڈنڈی مارنے والا رویہ بھی اپنایا مگر جیسے تیسے پیپلز پارٹی جیت گئی۔ اپوزیشن کو 107 اور پیپلز پارٹی کو 124 ووٹ ملے، 6 اراکین نے اجلاس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ان میں سے کچھ اپوزیشن کے بھی تھے۔ فیصلہ کن کردار ان ارکان نے ادا کیا جو آئی جے آئی سے الگ ہو کر پیپلز پارٹی سے آن ملے تھے۔‘

اظہر سہیل لکھتے ہیں کہ ’وزیر اعظم بے نظیر بھٹو جب عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہونے کے بعد اسمبلی ہال سے سپیکر چیمبر کی طرف جا رہی تھیں تو انھوں نے اپنے ساتھ آنے والے میجر جنرل امتیاز سے کہا کہ ’جنرل، اٹ واز اے مائٹی کلوز کال (جنرل، یہ بہت قریبی معاملہ تھا)۔‘