جب نواز شریف نے اپنی ہی پارٹی کی مرکزی قیادت کے خلاف بغاوت کی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ظفر ملک
- عہدہ, صحافی
راجہ نادر پرویز اور رانا نعیم محمود اسلام آباد ہوٹل کے تہہ خانے کے راستے کے سامنے ایسے ڈٹ کر کھڑے تھے کہ ہال میں کوئی غیر مدعو شخص اُن کے اوپر سے ہی گزر کر جا سکتا تھا۔
بہاولنگر سے سینیئر مسلم لیگی لیڈر عبدالستار لالیکا کے کزن سینیٹر عالم علی لالیکا نے جب ’دیوارِ چین‘ جیسی اِس رکاوٹ کو عبور کرنے کی کوشش کی تو دونوں راجپوت سورماؤں نے بھاری بھرکم عالم علی لالیکا کو سر سے اوپر تک اٹھا کر ایسے فرش پر پٹخا، جیسے ویٹ لفٹر ویٹ کو پھینکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں زوردار آواز پیدا ہوئی اور عالم علی لالیکا جو کلف لگے سفید کرتے شلوار میں ملبوس تھے، شور مچاتے اور لڑھکتے ہوئے ہوٹل کے تہہ خانے کی طرف بھاگ نکلے۔
یہ 13 اگست 1988 کی صبح کا واقعہ ہے جب مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کے انتخاب کا فیصلہ کرنے کے لیے جنرل کونسل کا اجلاس سیکریٹری جنرل اقبال احمد خان نے اسلام آباد ہوٹل کے تہہ خانے میں واقع ہال میں طلب کر رکھا تھا۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے جونیجو کابینہ میں داخلہ اُمور کے وزیر مملکت رہنے والے راجہ نادر پرویز بتاتے ہیں کہ اجلاس سے پہلے ہی حامد ناصر چٹھہ صاحب کو اندازہ ہو گیا تھا کہ دوسرے دھڑے کی طرف سے کچھ گڑبڑ کی تیاری کی جا رہی ہے اس لیے اُنھوں نے اُنھیں اور رانا نعیم محمود کو یہ ذمہ داری دی تھی۔
’ہم نے صبح اجلاس کے مقام پر پہنچتے ہی واضح کر دیا تھا کہ اجلاس میں صرف دعوت نامہ رکھنے والے افراد ہی شریک ہو سکیں گے۔ لیکن جب مہمان آنا شروع ہوئے تو صورتحال تبدیل ہوتی نظر آنے لگی۔‘
راجہ نادر پرویز کو عالم علی لالیکا کو اٹھا کر پھینکنے والے واقعے پر اب افسوس ہوتا ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ تب صورتحال ہی ایسی بن چکی تھی کہ یہ سب کرنا پڑا۔
مسلم لیگ کی قیادت کا تنازع
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
29 مئی 1988 کو جب صدر مملکت جنرل محمد ضیا الحق نے وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو آئین کے آرٹیکل 58 (2) بی کے تحت حاصل شدہ صوابدیدی اختیار کے تحت وزارت عظمیٰ سے برطرف کر دیا تو حکمران مسلم لیگ کی قیادت بدستور محمد خان جونیجو کے پاس تھی جس کے سیکریٹری جنرل سابق وزیر قانون اقبال احمد خان تھے۔
اس دوران مسلم لیگ کے پنجاب کے صدر اور اس وقت کے نگران وزیر اعلیٰ محمد نواز شریف کی طرف سے یہ کوشش کی گئی کہ کسی طرح محمد خان جونیجو کو دستبردار کروا کے پارٹی کی صدارت پر کسی دوسری شخصیت کو فائز کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس مقصد کے لیے ابتدا میں پیغام رسانی کی گئی لیکن محمد خان جونیجو کی طرف سے مثبت جواب نہ ملنے پر پارٹی کی صوبائی صدر محمد نواز شریف نے 12 اگست کو لاہور میں مسلم لیگ کی چاروں صوبائی کونسلوں کا اجلاس طلب کر لیا۔
اس اجلاس کے حوالے سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس میں مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کو یکجا کیا جائے گا جس میں مسلم لیگ فنکشنل (پیر پگارا گروپ) اور مسلم لیگ (جونیجو) بھی شامل تھے۔
’صدر پر اتنا بوجھ ڈالیں جتنا اُن کی ٹانگیں برداشت کر سکیں‘
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پیر پگارا نے اس اجلاس سے قبل ہی اس کے انعقاد کو ’غیر قانونی‘ قرار دے دیا اور کہا کہ وہ اس اجلاس کے فیصلوں کے پابند نہیں ہوں گے کیونکہ اُن کے مطابق ایک صوبائی تنظیم کو چاروں صوبائی کونسلوں کا اجلاس طلب کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔
اُنھوں نے اس حوالے سے واضح کیا کہ 13 اگست کو اسلام آباد میں محمد خان جونیجو کی صدارت میں سیکریٹری جنرل اقبال احمد خان کا بلایا گیا اجلاس ہی قانونی ہے اور اسی میں مسلم لیگ کی مستقبل کی قیادت کا فیصلہ ہو گا۔
پیر پگارا نے اپنے حسب معمول دلچسپ پیرائے میں پارٹی قیادت کی تبدیلی کی کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ذاتی اجتماع ہو گا جس میں لوگوں کو افسران کے ذریعے فون کر کے بلایا جا رہا ہے۔ اس اجلاس میں لوگوں کو پکڑ کر لایا جا رہا ہے۔ اس لیے اس کے فیصلے بھی زبردستی کے ہوں گے۔‘
’یہ لوگ بعض فیصلوں اور اقدامات کو جنرل ضیا الحق سے منسوب کر رہے ہیں۔ اس طرح اس احمقانہ حرکت کا بوجھ صدر پر ڈالا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں گالی گلوچ کا بوجھ بھی ان پر پڑ رہا ہے۔‘
پیر پگارا نے کہا کہ صدر پر اتنا بوجھ ڈالیں کہ وہ سنبھال سکیں اور ان کی ٹانگیں برداشت کر سکیں۔
جونیجو کو صدارت کا امیدوار نہ بننے کا مشورہ
روزنامہ جنگ نے اس برس 11 اگست کی اشاعت میں خبر شائع کی جس میں کہا گیا کہ ’فنکشنل مسلم لیگ اور جونیجو مسلم لیگ کو متحد کرنے کے لیے مسلم لیگ کی جنرل کونسلوں کے اجلاس سے قبل 12 اگست کو لاہور میں جو اجلاس طلب کیا گیا ہے اس کے لیے پنجاب کے چار وزرا عبدالستار لالیکا، ملک نعیم خان، ملک سلیم اقبال اور بیگم نجمہ حمید نے وزرا کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔‘
اس خبر میں مسلم لیگ کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ لاہور میں صدر مملکت سے پیر پگارا کی ملاقات میں یہ بات تقریباً طے ہو گئی ہے کہ محمد خان جونیجو یا پیر پگارا میں سے کوئی بھی مسلم لیگ کا سربراہ نہیں ہو گا۔ اس سلسلے میں صوبہ سرحد کے سابق گورنر فدا محمد خان کو مسلم لیگ کا صدر بنانے کا معاملہ قریب قریب طے پا چکا ہے۔
ذرائع کے حوالے سے خبر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ صدر مملکت سے ملاقات کے بعد محمد خان جونیجو کو فون پر رابطہ کر کے اس بات پر آمادہ کر لیا گیا ہے کہ وہ مسلم لیگ کی صدارت کے امیدوار نہیں ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہJang Newspaper
قومی اخبارات نے 13 اگست 1988 کے واقعے پر سنسنی خیز رپورٹنگ کی۔ روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق جنرل کونسل کے اجلاس کی سنجیدہ کارروائی صرف 30 منٹ تک جاری رہی۔
راقم الحرف بھی اس میٹننگ کے موقع پر وہاں رپورٹنگ کے لیے موجود تھا۔
اسلام آباد ہوٹل کے صدر دروازے پر کھڑے مقامی مسلم لیگی کارکنوں نے بینر اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا، ’خدا کے لیے مسلم لیگ کو بچاؤ۔‘
جونہی وزرائے اعلیٰ کی قیادت میں مسلم لیگی رہنما ہوٹل پہنچے تو لیگی کارکن نعرے لگاتے ہوئے ہوٹل کے اندر داخل ہو گئے۔
اس دوران رانا نعیم محمود اور میر ظفر اللہ جمالی میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ درمیان میں ایک صاحب نے رانا نعیم محمود کو پکڑنا چاہا تو بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی جس سے ہوٹل کی لابی میں افراتفری پھیل گئی اور وزرا اور سابق ارکان اسمبلی پناہ کی تلاش میں بھاگنے لگے۔
ہنگامہ بڑھا تو وزرا ہال سے باہر چلے گئے جبکہ سابق ارکان اسمبلی بھی ایک طرف ہو گئے۔ جب کچھ امن قائم ہوا تو مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنوں کو سٹیج پر بلایا گیا جس کے بعد پھر مقابلے پر نعرے بازی شروع ہو گئی۔
اس موقع پر ایک سابق رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ ’باہر چلو، مسلم لیگ کا جنازہ پڑھایا جا چکا ہے۔‘
ہال میں ہنگامہ آرائی بڑھی تو ملک مرتضیٰ کھر نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالمجید ملک سے کہا کہ ’آپ نے کئی جنگیں دیکھی ہوں گی، کیا آپ نے کبھی ایسی جنگ دیکھی؟‘ عبدالمجید نے جواب میں کہا کہ ’یہ میری زندگی کی انوکھی لڑائی ہے۔‘
اس دوران ہال میں ہاتھا پائی، مار دھاڑ اور کرسیاں چلنے لگیں تو بزرگ مسلم لیگی رہنما امیر عبداللہ روکھڑی، کنور قطب الدین کے گلے لگ کر رونے لگے اور نواب یامین کی آنکھوں سے بھی آنسو گرنے لگے۔
پونے بارہ بجے ایک طرف سے مسلم لیگ بچاؤ کے نعرے لگے تو دوسری جانب سے مکاؤ مکاؤ کے نعرے لگنے لگے۔
ہنگامہ آرائی کی وجہ سے اسلام آباد ہوٹل کی قیمتی کراکری ٹوٹ گئی۔ ہال میں پڑی آرائشی اشیا تباہ ہو گئیں۔ پُرجوش کارکن ظہرانے کے لیے رکھے گئے برتنوں میں سے بڑے چمچے اٹھا کر اُنھیں بجاتے ہوئے میزوں پر چڑھ کر ’چمچہ لیگ مردہ باد‘ کے نعروں پر لڈی ڈال رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
ہوٹل کا سٹیج اور ہال میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ صوفے اور کرسیاں الٹی پڑی تھیں۔ پلیٹیں، جگ اور گلاس ٹوٹے پڑے تھے۔ سابق رکن صوبائی اسمبلی پیر علی گوہر چشتی نے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا، ’ہائے مسلم لیگیو، تمہیں موت ہی آئی ہوتی۔‘
اس ہنگامہ آرائی کے دوران محمد خان جونیجو خاموشی سے سارا منظر دیکھتے رہے۔ مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل اقبال احمد خان ان کے ہمراہ تھے۔ راقم الحروف اس بات کا عینی شاہد ہے کہ ایک سے زائد بار میاں نواز شریف نے ان کے پاس بیٹھ کر کہا کہ ’لوگ سخت غصے میں ہیں، ان کو ٹھنڈا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ استعفیٰ دے دیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس دوران محمد خان جونیجو کسی تاثر کے بغیر ان کو دیکھتے رہے اور اقبال احمد خان انکار میں سر ہلاتے رہے اور کہتے رہے، ’استعفیٰ تو نہیں دیں گے۔‘
کئی گھنٹے جاری رہنے والی اس ہنگامہ ارائی کے دوران محمد خان جونیجو کو ان کے ساتھیوں نے ہال سے جانے کا مشورہ دیا۔ وہ باہر جانے لگے تو صوبہ سرحد سے لیفٹیننٹ جنرل (ر) فضل حق کے ہمراہ آنے والے جوشیلے جوانوں نے اُنھیں دھکے دیے اور ان کے سامنے کھڑے ہو کر مخالفانہ نعرے بازی کی، اسی کیفیت میں وہ ہال سے چلے گئے۔
اسی شام چاروں نگراں وزرائے اعلیٰ، میاں نواز شریف، میر ظفر اللہ جمالی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) فضل حق اور اختر علی قاضی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں محمد خان جونیجو کے حامیوں ہر ہنگامہ آرائی کا الزام عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ 80 فیصد کونسل ارکان ہمارے ساتھ تھے لیکن ہم نے مرضی کے عہدیدار منتخب نہیں کیے کیونکہ ہم پارٹی کو متحد رکھنا چاہتے ہیں۔
’یہ سب صدر ضیا کی ایما پر ہو رہا تھا‘
قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اور محمد خان جونیجو کے انتہائی قریبی ساتھی حامد ناصر چٹھہ بتاتے ہیں کہ 29 مئی 1988 کو محمد خان جونیجو کی حکومت کو جن الزامات کی بنیاد پر برطرف کیا گیا انہی الزامات کی بنیاد پر میاں نواز شریف کی پنجاب میں حکومت کو بھی گورنر کے احکامات پر برطرف کیا گیا۔
’لیکن اسی شام نواز شریف نے نگراں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا اور اس کے بعد وہ کوشش میں لگ گئے کہ کسی طرح محمد خان جونیجو سے مسلم لیگ کی صدارت کا منصب چھین لیں، مگر پارٹی کے صدر کے خلاف عدم اعتماد کیے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ نواز شریف یہ سب کچھ کس کے اشارے پر کر رہے تھے؟ حامد ناصر چٹھہ نے دعویٰ کیا کہ ’اس میں کوئی ایک فیصد بھی شک نہیں ہونا چاہیے کہ یہ سب کچھ صدر ضیا کی ایما پر ہو رہا تھا۔‘
جونیجو کابینہ میں داخلہ امور کے وزیر مملکت راجہ نادر پرویز کہتے ہیں کہ ’مسلم لیگ یوتھ ونگ کا میں سارے پاکستان کا صدر تھا تو ان کو ساتھ ملا کر ہم نے یہ ذمہ داری سنبھالی، ان میں بہت سارے لوگ صوبہ سرحد سے لیفٹیننٹ جنرل (ر) فضل حق کے ساتھ آئے تھے اور ان میں سے چھ کے پاس اسلحہ بھی تھا۔ میں فوجی آدمی ہوں، اتنا تو پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ شخص مسلح ہے۔‘
’اس طرح قاضی صاحب نگراں وزیر اعلیٰ سندھ اور جمالی صاحب نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان، یہ شریف آدمی تھے۔ اصل میں جو ہنگامہ آرائی کرنے آئے تھے وہ فرنٹیئر اور پنجاب سے تھے۔ جب ہم نے یہ حالت دیکھی تو سب سے پہلے وہاں عالم علی لالیکا سے ٹاکرا ہوا۔‘
’اس کے بعد جو واقعہ ہوا مجھے اس پر افسوس بھی ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھے۔ عالم علی لالیکا بضد تھے کہ میں بھی اندر جاؤں گا اور میرے ساتھ یہ لوگ بھی جائیں گے۔ ان کے ساتھ جو آٹھ دس آدمی تھے وہ جنرل کونسل کے ممبر نہیں تھے۔ پھر اس کے بعد جو ہوا وہ افسوسناک تھا لیکن جب یہ لوگ اور اس طرح کے کئی لوگ ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں اندر چلے گئے تو شور شرابہ مچ گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہCourtesy Dawn
جنرل کونسل کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی کے حوالے سے حامد ناصر چٹھہ کہتے ہیں کہ ’یہ بھی نواز شریف کا سٹائل ہے جیسے بعد میں اُنھوں نے وزارت عظمیٰ کے دوران سپریم کورٹ پر ہلہ بول دیا تھا، تو اُنھوں نے جنرل کونسل کے اجلاس میں ’رف ایلیمنٹس‘ کو لاہور سے بلا لیا اور کوشش کی کہ میٹنگ پر وہ حاوی ہو جائیں لیکن پاکستان مسلم لیگ کے کارکنوں نے یہ نہیں ہونے دیا اور غیر متعلقہ لوگوں کو ہوٹل سے باہر روکا گیا۔‘
’اس اجلاس میں چاروں صوبوں کے نگران وزرائے اعلیٰ اور وفاق میں سینیئر وزیر اسلم خٹک بھی موجود تھے۔ اس طرح آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس روز پارٹی کے پلیٹ فارم سے پانچ حکومتوں کو شکست ہوئی تھی۔ یہ تو 17 اگست کو جب جہاز کریش ہوا تو پھر ساری گیم تبدیل ہو گئی۔‘
’نواز شریف اجلاس میں آئی جی کو بھی لائے تھے‘
راجہ نادر پرویز کہتے ہیں کہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نواز شریف اپنے ساتھ پنجاب کے آئی جی پولیس کو بھی لائے ہوئے تھے مگر اُنھیں رانا نعیم محمود نے پکڑ کر باہر نکال دیا کہ تمہارا اس سیاسی معاملے سے کیا تعلق ہے، تم یہاں سے جاؤ۔
’لاہور سے نواز شریف کے ساتھ سہیل ضیا بٹ جو لاہور میں ’بلو بٹ‘ کی عرفیت سے جانے جاتے تھے، وہ بھی اپنے لوگوں کے ساتھ موجود تھے اور ہنگامہ آرائی میں متحرک تھے۔ ایک موقع پر جب بلو بٹ تھک کر بیٹھ گئے تو میں نے بلو بٹ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بلو یہ راستہ جاتا ہے گوجر خان سے اور گوجر خان میں سارا میرا قبیلہ بیٹھا ہوا ہے، میں تمہیں اتنی آسانی سے جانے نہیں دوں گا۔‘
’اتنی دیر میں کچھ ایسے لوگ آ گئے جنہوں نے نواز شریف کے ساتھ اپنی وفاداری ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ اُنھوں نے کچھ ایسے الفاظ استعمال کیے کہ میں غصے میں آ گیا۔ مجھے یاد ہے کہ چارسدہ سے لالہ نثار خان بھی وہاں تھے، حامد ناصر چٹھہ بھی تھے، پھر غصے میں جو میرے منھ میں آیا میں نے بولا۔‘
راجہ نادر پرویز کہتے ہیں کہ ’ہنگامے کے دوران میر ظفر اللہ جمالی صاحب نے سٹیج پر کھڑے ہو کر کہا کہ میں اعلان کرتا ہوں۔۔۔ تو میں نے کہا کہ جمالی صاحب آپ کے جس اعلان میں محمد خان جونیجو کا نام نہیں ہے آپ کا وہ اعلان ہم سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ آپ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ہیں آپ جائیں وہاں جا کر جو اعلان کرنا ہے کریں، یہاں ہم آپ کو ایسا نہیں کرنے دیں گے۔‘
میر ظفر اللہ جمالی کے حوالے سے حامد ناصر چٹھہ کا کہنا ہے کہ رسمی طور پر کوئی نام تجویز نہیں ہوا کیونکہ صدر کو پہلے ہٹاتے تو پھر کوئی نام تجویز کرتے نہ۔
جونیجو کو لیگی قیادت سے ہٹانا کیوں ضروری تھا؟
سینیئر صحافی عظیم چوہدری کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ یہ تھا کہ سیاسی جماعتوں کا ںظام جنرل ضیا الحق کو راس نہیں تھا اور اُنھوں نے محمد خان جونیجو کے وزیر اعظم بننے اور مسلم لیگ کو بطور سیاسی جماعت سامنے لائے جانے کے بعد اس مسئلے پر قانون سازی کی جب قومی اسمبلی کے ایوان میں حاجی سیف اللہ نے سپیکر فخر امام کو محمد خان جونیجو کے خلاف ریفرنس بھی بھجوا دیا۔
اس ریفرنس کے نتیجے میں محمد خان جونیجو نااہل ہو سکتے تھے اور اس ریفرنس کا فیصلہ ہی دراصل بعد میں فخر امام کی سپیکر کے منصب سے رخصتی کا باعث بنا۔

،تصویر کا ذریعہHULTON ARCHIVE
جنرل ضیا الحق کو اس ریفرنس کو غیر مؤثر بنانے کے لیے سابقہ تاریخ میں پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترمیم کرنی پڑی جو کہ اُن کے ذہن میں موجود اپنے پلان سے ہٹ کر تھی۔
جنرل ضیا کے ذہن میں کیا چل رہا تھا؟
عظیم چوہدری کہتے ہیں کہ اب چونکہ جنرل ضیا الحق وقتی یا سیاسی ضرورت کے تحت پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترمیم کر کے سیاسی جماعت کا قیام قانونی بنا چکے تھے اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ اقتدار سے رخصتی کے بعد محمد خان جونیجو سے پارٹی کی سربراہی چھین لی جائے۔
لیکن 13 اگست کو محمد خان جونیجو کے ساتھیوں نے جنرل ضیا الحق کی یہ منصوبہ بندی کامیاب نہیں ہونے دی۔
ان کے مطابق اسی شام اُنھوں نے ایک پریس کانفرنس میں ایک نئی مسلم لیگ فدا محمد خان گروپ کے قیام کا اعلان کر دیا تھا جس کے صدر سابق گورنر صوبہ سرحد فدا محمد خان اور سیکریٹری جنرل خود نواز شریف تھے۔
یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ جنرل ضیا الحق نے جیسے محمد خان جونیجو کو رخصت کیا اسی طرح وہ اس کے بعد سیاسی جماعتوں کو برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے۔
اُنھوں نے اپنے 13 اگست کے منصوبے میں ناکامی کے بعد 14 اگست کو پرچم کشائی کی تقریب کے بعد اپنی بائیں جانب بیٹھے حامد ناصر چٹھہ کو کچھ دنوں کے لیے شہر سے باہر جانے سے یہ کہہ کر روک دیا تھا کہ آپ اگلے کچھ دن اسلام آباد میں ہی رکیں۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ جنرل ضیا الحق کے ذہن میں کچھ چل رہا تھا وہ الگ بات ہے کہ اس کے تین دن بعد وہ طیارے کے حادثے میں چل بسے اور منظر مکمل طور پر تبدیل ہو گیا۔
نواز شریف اور محمد خان جونیجو میں مفاہمت کیسے ہوئی؟
حامد ناصر چٹھہ کہتے ہیں کہ ’1990 کا الیکشن اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کے پلیٹ فارم سے لڑا گیا تھا اور اس کے سربراہ نواز شریف تھے اس لیے ان کا نام وزارت عظمیٰ کے لیے تجویز کیا گیا۔ اس دوران 17 اگست کو ضیا الحق کے جہاز کے کریش کے بعد محمد خان جونیجو اور نواز شریف کے درمیان ایک طرح کی مفاہمت بھی طے پا گئی تھی اور لڑائی ختم ہو چکی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
عظیم چوہدری کہتے ہیں کہ جنرل ضیا الحق کی موت کے بعد جب مقتدر ادارے اس نتیجے پر پہنچے کہ پیپلز پارٹی کو اقتدار میں آنے سے روکنا ممکن نہیں ہے تو اُنھوں نے آئی جے آئی کے قیام سے قبل مسلم لیگ کو یکجا کرنے کا منصوبہ پیش کر دیا۔
پیپلز پارٹی کے مقابلے میں عام انتخابات سے قبل آئی جے آئی کے سربراہ کے طور پر جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا سمیع الحق منتخب کیے گئے لیکن بعدازاں وہ نواز شریف کے حق میں دستبردار ہو گئے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب نواز شریف کو چند لوگ تصادم کی پالسیی کی تربیت دے رہے تھے، اور محمد خان جونیجو پارٹی سربراہ ہونے کے باوجود اپنی پارٹی کے صوبائی صدر کی صدارت میں آئی جے آئی کے سربراہ اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جونیجو صاحب نے حامد ناصر چٹھہ کو مجبور کیا کہ وہ نواز شریف کی کابینہ میں شامل ہوں۔ خود جونیجو صاحب 1990 کی اس اسمبلی کے رکن تھے جس میں قائد ایوان نواز شریف اور وزیر اعظم تھے۔
نواز شریف کی ن لیگ کیسے وجود میں آئی؟
حامد ناصر چٹھہ کہتے ہیں کہ محمد خان جونیجو کی وفات کے بعد پارٹی قیادت سنبھالنے کے لیے جھگڑا اس بات پر ہوا کہ مسلم لیگ کا آئین کہتا ہے کہ پارٹی صدر کی وفات کی صورت میں 40 دن کے اندر نیا صدر چن لیں لیکن ان لوگوں کو چار پانچ دن کے بعد ہی پارٹی صدر بننے کی جلدی پڑ گئی کہ جرمنی جانا ہے اور پارٹی کا صدر بن کر جانا ہے۔
مزید پڑھیے
’تو میں نے کہا کہ جلدی کس بات کی ہے، آپ نے جرمنی جانا ہے جائیں، آپ وزیرِ اعظم ہیں، واپس آئیں گے تو سارے صوبائی سربراہوں سے بات کر لیں اور کوئی اور امیدوار بھی نہیں ہے تو آپ پارٹی کے سربراہ بن جائیں گے لیکن اُنھوں نے جلدی میں اجلاس طلب کیا اور مسلم لیگ کے صدر بن گئے۔‘
عظیم چوہدری حامد ناصر چٹھہ کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب محمد خان جونیجو امریکہ میں کینسر کا اعلاج کروا رہے تھے، اُن ہی دنوں پارٹی قیادت کی تبدیلی کی بات کی گئی۔
ان دنوں عبدالغفور ہوتی مسلم لیگ کے قائم مقام صدر تھے اور نواز شریف کو جلدی تھی کہ اُنھیں پارٹی کا سربراہ بنا دیا جائے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ شہباز شریف کو ان سے بھی زیادہ جلدی تھی۔
لیکن پارٹی کے دیگر قائدین جن میں حامد ناصر چٹھہ سر فہرست تھے اس پر مزاحمت کر رہے تھے کہ ایک شخص کی اتنی تکلیف دہ بیماری کے دوران ایسا فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہے۔
پر محمد خان جونیجو کی وفات کے چند دن بعد ہی یہ معاملہ دوبارہ اٹھا دیا گیا اور حامد ناصر چٹھہ کے مطابق انھوں نے اصرار کیا کہ کم از کم چہلم تک انتظار کر لیں لیکن نواز شریف اور ان کے ساتھیوں نے انتظار کرنا مناسب خیال نہیں کیا اور مسلم لیگ نواز قائم کر کے نواز شریف اس کے سربراہ بن گئے۔
ان کے اس اقدام کے نتیجے میں کچھ لوگوں نے مسلم لیگ جونیجو قائم کر لی جس کا سربراہ حامد ناصر چٹھہ کو، ظفر اللہ جمالی کو سینیئر نائب صدر اور منظور وٹو کو پنجاب کا صدر بنایا گیا۔
راجہ نادر پرویز 13 اگست 1988 کے دن کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت جو لوگ کہتے تھے کہ ’میاں صاحب ہمارے بچے بھی آپ پر قربان، اب ان میں سے ایک بھی نواز شریف کے ساتھ نہیں ہے۔‘













