پنجاب کی سیاست: اب ’زخموں سے چُور‘ چوہدری پرویز الہٰی کی سیاست کا مستقبل کیا ہے؟

پرویز الہیٰ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

پاکستان کے صوبے پنجاب کی اسمبلی میں سپیکر چوہدری پرویز الہٰی پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی دوڑ سے باہر ہوئے تو ان کی سیاسی حکمت عملی اور سیاسی مستقبل کے بارے میں کئی سوالات نے جنم لیا ہے۔

بظاہر پرویز الہٰی نے تمام سیاسی جماعتوں کو نظر انداز کر کے اپنا پورا سیاسی وزن تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈال دیا ہے مگر پھر بھی تحریک انصاف کی حکومت کو سنہ 2018 کے برعکس یہاں چوہدری پرویز الہٰی کی اس حمایت کے کوئی خاطر خواہ نتائج نہیں ملے۔

جنرل ضیاالحق اور پرویز مشرف کے فوجی دور سمیت مختلف حکومتوں کا حصہ رہنے والے گجرات کے چوہدری خود بھی حکومت اور وزارتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

جو مناظر سنیچر کو پنجاب اسمبلی میں نئے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کے لیے بلائے گئے اجلاس کے دوران دیکھنے کو ملے یہ سب گجرات کے چوہدری برادران کی رواداری، سیاسی روایات اور سماجی اقدار سمیت خود چوہدری پرویز الہٰی کے مستقبل کے سیاسی منظر نامے سے متعلق بھی اہمیت کے حامل ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چوہدری پرویز الہٰی کے اس ’ایڈونچر‘ نے چوہدریوں کی سیاست کو نیا رخ دیا ہے یا پھر بند گلی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ چوہدری پرویز الہٰی اور ق لیگ کے سیاسی مستقبل پر بحث سے قبل ان کی حالیہ سیاسی بحران پر اہمیت اور کردار پر نظر دوڑانا بھی ضروری ہے کہ کیسے انھوں نے اتار چڑھاؤ اور بھاؤ تاؤ کے بعد بظاہر قدرے مشکل سیاسی سفر کا انتخاب کیا ہے۔

جب اپوزیشن جماعتیں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے کر آئیں تو اس سلسلے میں انھوں نے سب سے پہلے حکومتی اتحادیوں میں سے گجرات کے چوہدریوں کے پاس جانا مناسب سمجھا، جس کے بعد ملاقاتوں کا ایک دور شروع ہو گیا۔

آئے روز میڈیا میں یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ اپنے مستقبل کے سیاسی فیصلے سے متعلق ق لیگ یعنی چوہدری براداران نے مشاورت شروع کر دی ہے۔ مشاورت کا یہ عمل طویل تر ہوتا ہو گیا۔ اس دوران پرویز الہٰی نے عمران خان کی طرز سیاست پر ایک ٹی وی انٹرویو میں متعدد سوالات بھی اٹھائے اور انھیں حاصل اسٹیبلشمنٹ کی مدد پر خوب جملے کسے۔

اس انٹرویو کے بعد چوہدری پرویز الہٰی اچانک اسلام آباد سے لاہور کے لیے روانہ ہو گئے مگر ان کا یہ بیان بھی میڈیا کی زینت بنا کہ ابھی انھوں نے حکومتی اتحاد کو چھوڑا ہے اور نہ وہ اپوزیشن کا حصہ بنے ہیں۔

اس بیان سے جو عمران خان کی حکومت میں اہم اتحادی جماعت سے متعلق جو شکوک و شبہات اور بے چینی پائی جاتی تھی وہ وقتی طور پر تھم گئی۔ عمران خان کے ایک قریبی وزیر شیخ رشید کے ق لیگ کی سیاست پر براہ راست اور بلاواسطہ تنقید کے بعد پرویز الہیٰ کے فرزند اور عمران خان کی کابینہ کے رکن چوہدری مونس الہٰی میدان میں کود پڑے اور کہا کہ شیخ رشید وہ وقت یاد کریں جب وہ ان کے بزرگوں سے زمانہ طالبعلمی میں پیسے لیا کرتے تھے۔

سیاسی مبصرین نے مونس الہٰی کے اس بیان کو گجرات کے چوہدریوں کی سیاسی روایات اور اخلاقی اقدار سے منافی قرار دیا۔

اس سے قبل مونس الہٰی ایک تقریب میں خود عمران خان کو یہ کہہ کر نہ گھبرانے کا یقین کروا چکے تھے کہ سیاسی ملاقاتوں کا تسلسل ان کی خاندانی روایات کا حصہ ہے مگر وہ کہیں نہیں جا رہے ہیں اور آخر تک ان کی حکومت کا ساتھ نبھائیں گے۔

ملک میں جاری اس سیاسی جوڑ توڑ کے دوران آصف علی زرداری کی حکمت عملی نے کام کیا اور مسلم لیگ (ن) کے ایک اعلیٰ وفد نے چوہدریوں کے گھر جا کر چوہدری پرویز الہٰی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیشکش کر دی۔

میڈیا پر اس ملاقات کے چرچے ہوئے اور شرکا کے ردعمل سے ہر کسی نے یہ اندازہ لگایا کہ بات بن گئی ہے، معاملات طے پا گئے ہیں اور اب چوہدری پرویز الہٰی نئے وزیراعلیٰ پنجاب ہوں گے۔

اس تاثر کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ن لیگ کے وفد سے ملاقات کے بعد چوہدری پرویز الہٰی ایک وفد کی صورت میں رات گئے سابق صدر آصف علی زرداری کے گھر تشریف لے گئے۔

تاہم اگلی صبح چوہدری پرویز الہٰی بنی گالہ پہنچ گئے اور یوں ان کی اس وقت کی متحدہ اپوزیشن سے دوری پیدا ہو گئی۔ چوہدری پرویز الہٰی نے عمران خان کی طرف سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی آفر قبول کر لی۔ بنی گالا میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ق لیگ کے سینیئر رہنما کے حق میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

مسلم لیگ ن

،تصویر کا ذریعہPML-N

کیا ن لیگ نے پرویز الہٰی کو وزارت اعلیٰ کی آفر کی تھی؟

ق لیگ یا چوہدری پرویز الہٰی نے اس بارے میں میڈیا پر آ کر کوئی بات نہیں کی ہے مگر سابق صدر آصف زرداری نے سب سے پہلے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پرویز الہٰی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ آفر کی گئی تھی مگر انھوں نے بنی گالہ کو اپنی نئی سیاسی منزل بنا لیا۔

جیو ٹی وی کو اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں آصف زرداری نے کہا کہ رات کو چوہدری پرویز الہٰی انھیں مٹھائی پیش کر کے گئے کہ ن لیگ سے وزارت اعلیٰ سے متعلق معاملات طے پا گئے ہیں مگر صبح پھر وہ بنی گالہ پہنچ گئے۔ اس کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ’پرویز بھائی ان سے سینیئر ہیں، ان کا اپنا یہ سیاسی فیصلہ تھا، شاید جب اولاد بڑی ہو جاتی ہے تو مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔‘

آصف زرداری کا اشارہ شاید مونس الہٰی کی طرف تھا کہ انھوں نے پرویز الہٰی کو یہ فیصلہ بدلنے پر مبجور کیا۔ مونس الہٰی نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

خیال رہے کہ آصف زرداری نے ق لیگ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ حکومتی اتحاد چھوڑنے کی صورت میں وہ ن لیگ کو چوہدری پرویز الہٰی کی وزارت اعلیٰ پر آمادہ کریں گے، جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی اپنے منصب کا حلف اٹھانے کے بعد سینیئر صحافیوں سے ملاقات میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پرویز الہٰی کو ان کی جماعت نے وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی تھی جو انھوں نے تسلیم کر لی تھی مگر پھر پتا نہیں ایسا کیا ہوا کہ وہ دوسرے رستے پر چل پڑے۔

بظاہر یہ دوسرا رستہ چوہدری پرویز الہٰی کے لیے زیادہ کٹھن ثابت ہوا ہے۔

پرویز الہیٰ، عمران خان

،تصویر کا ذریعہTWITER/@chparvezelahi

بطور سپیکر پنجاب اسمبلی اس وقت لاہور ہائی کورٹ نے ان کے اختیارات محدود کر دیے جب وہ وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں شامل ہو کر اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا اور ووٹنگ نہیں ہوئی۔ عدالت نے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کو وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب کروانے کے اختیارات تفویض کر دیے۔ پرویز الہٰی اسمبلی ارکان کی اکثریت کو بھی اپنی حمایت میں راضی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

سنیچر کو اسمبلی اجلاس کے دوران تحریک انصاف اور ق لیگ کے ارکان صوبائی اسمبلی نے ڈپٹی سپیکر پر حملہ کیا، لوٹے پھینکے اور ان پر تشدد بھی کیا۔ چوہدری پرویز الہٰی اس اسمبلی اجلاس میں موجود رہے اور پھر وہ خود بھی مبینہ طور پر تشدد کا شکار بنے۔

ان کی ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں، جس میں انھوں نے اپنے ایک بازو پر پلستر کروا رکھا ہے اور کہہ رہے ہیں کہ وہ شدید تشدد کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ کے سینیئر رہنما خواجہ محمد آصف نے اس بارے میں ٹوئٹر پر لکھا کہ انھوں نے پرویز الہیٰ کو گھر جا کر پنجاب کی وزارت اعلیٰ آفر کی جسے انھوں نے نہ صرف تسلیم کیا بلکہ دعائے خیر بھی ہوئی۔ مگر پھر اگلے ہی دن وہ عمران خان کے پاس چلے گئے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

سیاسی مبصرین کے خیال میں پرویز الہٰی کو شاید اس وقت یہ امید بھی تھی کہ ان کے ماضی کے اتحادی عبدالعلیم خان اور جہانگیر ترین ان کی حمایت کریں گے، جس کے بعد وہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے سب سے بڑے منصب پر فائز ہو جائیں گے۔

مبصرین کے مطابق چوہدری پرویز الہٰی کو یہ بھی اعتماد تھا کہ وہ جوڑ توڑ کر کے اپنے نمبرز پورے کر لیں گے اور جہاں تک بات ہے ناراض اراکین کی تو انھیں یا تو وہ منا لیں گے یا سپیکر کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کی پاداش میں انھیں ووٹ کے حق سے ہی محروم کر دیں گے۔

مگر پرویز الہٰی یہ سب حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور بظاہر سیاسی کریئر کے ایک مشکل دوراہے پر آ کھڑے ہوئے ہیں، جہاں ان کی صحت اور سیاست کی تیمارداری کرنے والوں کی ایک قطار بنی نظر آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پرویز الہٰی اب اپنے سیاسی زخموں پر مرہم رکھ سکیں گے؟

صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے مطابق اس وقت پرویز الہٰی اپنی سیاسی زندگی کے مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ابھی تک یہ بات سیاسی مبصرین کی سمجھ میں نہیں آ رہی کہ چوہدری پرویز الہٰی نے یہ فیصلہ (عمران خان کا ساتھ دینے کا) کس طرح کیا اور کیا سوچ کر کیا۔ بظاہر دعائے خیر بھی ہوئی مگر پھر انھوں نے اپنی رائے بدل لی۔

مجیب الرحمان شامی کے مطابق ابھی اس کا تعیّن ہونا ہے کہ ق لیگ کا پنجاب اسمبلی میں کیا کردار ہو گا۔ ان کے خیال میں ق لیگ کو ابھی طویل عرصے تحریک انصاف کے ساتھ چلنا پڑے گا۔ ان کے مطابق ابھی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ تحریک انصاف پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن میں بیٹھتی ہے یا پھر یہاں بھی استعفوں کی بات ہوتی ہے۔

مجیب الرحمان شامی کے مطابق ابھی یہ دیکھنا ہے کہ ق لیگ اور تحریک انصاف آگے چل کر الیکشن اتحاد بناتے ہیں یا پھر اپنے رستے جدا کرتے ہیں۔

ان کے خیال میں جس طرح وزارتِ اعلیٰ کی دوڑ اپنے اختتام کو پہنچی اس سے خود چوہدری برادران کی مروت، مِلنساری اور تعلقات بنا کر رکھنے جیسی روایات کو بھی ٹھیس پہنچی ہے اور اس پیشرفت کا خود ان کی اہم بنیادی اقدار سے بھی انحراف لگتا ہے۔

مجیب الرحمان شامی کے مطابق اس وقت ق لیگ میں بھی کچھ یکسوئی نظر نہیں آتی۔ ق لیگ کے ارکان قومی اسمبلی طارق بشیر چیمہ اور چوہدری شجاعت حسین کے فرزند ایم این اے چوہدری سالک حسین نے قومی اسمبلی میں شہباز شریف کے حق میں ووٹ دیا۔’اب دیکھنا ہوگا کہ تحریک انصاف ان کے ساتھ آگے کیسے چلتی ہے اور یہ اتحاد کیسے مضبوط اتحاد کی صورت اختیار کرتا ہے۔‘

چوہدری پرویز الہی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’گجرات کے چوہدری کٹ کر رہ گئے ہیں‘

مجیب الرحمان شامی کے خیال میں اس وقت گجرات کے چوہدری کٹ کر رہ گئے ہیں۔

ان کے مطابق جہاں ایک طرف ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے چوہدری پرویز الہٰی نے دوریاں پیدا کیں تو دوسری طرف خود سنیچر کو کراچی میں منعقدہ جلسے میں عمران خان نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے واقعات اور پرویز الہٰی کے زخمی ہونے سے متعلق ایک لفظ بھی نہیں بولا، جو معنی خیز ہے۔

سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کے مطابق پرویز الہٰی اب تحریک انصاف کے ساتھ جڑ گئے ہیں کیونکہ انھوں نے یہی بہتر سمجھا کہ اب وہ پنجاب میں اینٹی ن لیگ چلیں گے۔ تاہم یہ بات اب واضح ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی سیاست اور وزارت کی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں۔

ان کے مطابق مشہور یہی ہے کہ چوہدری مونس الہٰی کے مشورے پر پرویز الہٰی نے ن لیگ اور پی پی پی سے اپنی سیاسی راہیں جدا کی ہیں، جس کا اعتراف خود مونس الہٰی نے جیو ٹی وی کے میزبان منیب فاروق کے ساتھ ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا ہے۔ انھوں نے اپنے اس مشورے کی وجہ یہ بتائی کہ ن لیگ نے ماضی میں بھی وعدے پورے نہیں کیے۔

آصف زرداری کی طرف سے پرویز الہیٰ کو حکومت میں شمولیت کی دعوت کی پیشکش سے متعلق مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کا تحریک عدم اعتماد میں بنیادی کردار رہا ہے۔ ان کے مطابق آصف زرداری ابھی بھی اگر پرویز الہٰی کو یہ پیشکش کر رہے ہیں تو اس کی ایک وجہ خود گجرات کے چوہدریوں کی سیاست میں ایک تاریخ ہے۔

پرویز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کے مطابق تحریک انصاف کی پنجاب میں حکومت کے باوجود چوہدری پرویز الہیٰ نے تمام اپوزیشن کا بہت خیال رکھا اور گرفتار ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کرتے رہے۔

چوہدریوں کے خاندانی پس منظر پر بات کرتے ہوئے مجیب الرحمان شامی کے مطابق چوہدری پرویز الہیٰ اور چوہدری شجاعت حسین ایک دوسرے کے بہنوئی اور سالے بھی ہیں۔ چوہدری پرویز الہٰی کے سسر چوہدری ظہور الہٰی اپوزیشن کی مشکل سیاسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے شہرت رکھتے تھے جبکہ پرویز الہٰی کے والد خاندان کے کاروباری معاملات کو دیکھتے تھے۔

مجیب الرحمان شامی کے مطابق چوہدری پرویز الہٰی کی اپنی سیاست ق لیگ تک محدود ہے۔ تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ ان کی حمایت سے ہی تحریک انصاف کی پنجاب میں حکومت بن سکی تھی۔

انھوں نے بطور سپیکر پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت کو تعمیر کو یقینی بنایا۔ اس عرصے میں وہ اپوزیشن کو بھی سپورٹ کرتے رہے، جس کی وجہ سے ان کے سیاسی حریف بھی ان کا احترام کرتے ہیں۔