چوہدری پرویز الٰہی: حکومت کے پندرہ سولہ اراکین ٹوٹ گئے ہیں، چند اپوزیشن کی ’کسٹڈی‘ میں ہیں

پرویز الہیٰ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ حکومت کے پندرہ سولہ ارکان قومی اسمبلی ٹوٹ گئے ہیں اور ان میں سے بیشتر اپوزیشن کے پاس ہیں۔

انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی کوشش کر لیں اور اپنے ناراض ارکان کی بات سنے اور انھیں منانے کی کوشش کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کسٹڈی 10،12 ارکان کی ہو گی، باقی تو سب باہر گھوم رہے ہیں۔'

پاکستان کے نجی ٹی وی چینل سما کے پروگرام 'ندیم ملک لائیو' میں گفتگو کرتے ہوئے پرویز الہی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو جلسوں کے بجائے اپنے لاپتہ اراکین اسمبلی کو تلاش کرنا چاہیے 10 لاکھ لوگ کس لیے اکٹھے کرنے ہیں۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب ملک کی اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا چکی ہیں اور سیاسی ہلچل کے دوران حکومتی وزرا، اتحادیوں اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ان کے رکن کیوں نہیں ملتے چند کی ملاقات تو مجھ سے ہوئی ہے اور کچھ مجھے لاہور میں بھی ملے ہیں۔ ’یہ سب اپوزیشن کے پاس ہیں اور وہ ووٹنگ والے دن اسمبلی میں ہی آئیں گے۔ انھوں نے حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے ڈی چوک پر جلسہ کرنے پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت جلسوں کا کام کرے تو اس کا نقصان خود حکومت کو ہوتا ہے۔

چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ تاریخ کے اندر ہمارے لیے سبق ہوتے ہیں کہ جن چیزوں سے پچھلی حکومتوں کو نقصان ہوا تھا موجودہ حکومتیں اس سے خود کو دور کر لیں۔

انھوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 'ہم نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں بے شمار جلوس نکالے تھے مگر انہوں نے جواباً کبھی جلوس نہیں نکالے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'شیخ رشید کہتے ہیں کہ 25 مارچ کے بعد سب کچھ تبدیل ہو جائے گا پتہ نہیں ان کے پاس کیا ہے؟'

ایک سوال کے جواب میں چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ حکومت نے یہ پیغام نہیں دیا کہ آپ کو وزیر اعلیٰ بنا رہے ہیں۔ یہ 100فیصد غلط خبر ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’حکومت کو ساڑھے تین سال بعد سمجھ آجانی چاہیے جو چیز دینی نہیں اس کا ذکر نہ کریں۔‘

پرویز الہیٰ، عمران خان

،تصویر کا ذریعہTWITER/@chparvezelahi

حکومت ووٹنگ کے عمل میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی

پروگرام کے میزبان کی جانب سے حکومتی ارکان پارلیمان کو مخالف ووٹ دینے کی صورت میں نااہل قرار دینے کے سوال پر صدر مسلم لگ ق کا مزید کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی ووٹنگ کے عمل میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے۔

'پی ٹی آئی اپنے ارکان کو ڈس کوالیفائی نہیں کر سکتی، ووٹ ڈالنے کے بعد 63 اے شق کا اطلاق ہو گا اس سے پہلے پی ٹی آئی ان کو نہ ڈس کوالیفائی کر سکتی ہے اور نہ ہی ووٹنگ کے عمل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔'

’اتحادی جماعتوں نے مشترکہ ووٹ کا فیصلہ کر لیا ہے‘

چوہدری پرویز الہی کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں جن میں مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی شامل ہے کہ مجموعی طور پر 17 ارکان قومی اسمبلی ہیں جو اکٹھے ووٹ دیں گے اور یہ بات حکومت کو بتادی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'ہمارے17 ایم این ایز کا گروپ فیصلہ کرے گا کہ ووٹ کس کو دینا ہے۔ مزید ارکان آئیں گے تو انھیں بھی دیکھیں گے، سپیکر کسی کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روک سکتا۔'

اس سے قبل سپیکر پنجاب اسمبلی اور عمران خان کی حکومت کی اہم اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے سینیئر رہنما پرویز الہی نے وزیر اعظم کو ’سو فیصد مشکل میں‘ قرار دینے کے بعد بدھ کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کی جماعت نے 'حکومت چھوڑی ہے نہ ہی اپوزیشن جوائن کی ہے۔‘

یاد رہے کہ انھوں نے اس سے قبل یہ بیان بھی دیا تھا کہ’ اپوزیشن کے پاس تحریک عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ تعداد سے زیادہ نمبر ہیں اور اس وقت تمام اتحادی جماعتوں کا جھکاؤ بھی اپوزیشن کی جانب ہے۔‘

بدھ کو اپنے بیان میں پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ’ہم (حکومت کے) اتحادی ہیں اور الگ جماعت ہیں۔ ’جماعتوں کے اندر مختلف آرا ہوتی ہیں لیکن فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان ایماندار اور ان کی نیت بھی اچھی ہے۔‘

چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے حکومت چھوڑی ہے نہ ہی اپوزیشن جوائن کی ہے جبکہ ’حکومت کا حصہ ہیں ہر مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’عوامی مسائل کی نشاندہی آج نہیں کی پہلے دن سے کر رہے ہیں۔ اتحادیوں کے ساتھ مشاورت سے چلا جائے تو حکومت کا اپنا فائدہ ہے۔‘

’مونس الہی کو کل کسی نے دھمکی نہیں دی‘

پروگرام کے میزبان ندیم ملک کی جانب سے مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہی کو دھمکی دیے جانے کے متعلق سوال کے جواب میں چوہدری پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ مونس الہٰی کو کل کسی نے فون نہیں کیا اور نہ ہی دھمکی دی۔ حکومت قانونی طور پر ووٹ ڈالنے والوں کو دھمکی نہیں دے سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب مونس الہی نے وزیر اعظم سے کہا تھا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور آپ اپنی جماعت کو کہیں کہ یہ سب آپ کے لوگ ہیں شاید ان کو یہ بات پسند نہیں آئی تو ان کے کسی مشیر، وزیر نے یہ کام دکھایا تھا۔

چوہدری پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ ہم اگر بلیک میلنگ کرتے تو یہ پارٹی ساڑھے تین سال نہ گزارتی۔ پی ٹی آئی جب کہیں پھنستی تھی تو ہمیں کہا جاتا تھا کہ آپ تو نیب کے چھوٹے افسر کی مار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم پر اب نیب کی تلوار نہیں لٹک رہی۔ نیب کے چیرمین نے تردید کر دی ہے کہ ہمارے پر کوئی کیس نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں پرویز الہی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی 'تحریک عدم اعتماد کے بعد دیکھ لوں گا' کی دھمکی سب کے لیے تھی۔

عمران خان

،تصویر کا ذریعہAPP

’نواز شریف اور عمران خان کے فوج سے خراب تعلقات کی وجہ ایک جیسی ہے‘

پروگرام کے میزبان کی جانب سے حکومت اور فوج کے 'ایک صفحے پر ہونے' سے لے کر تعلقات میں کشیدگی کی وجہ کے سوال پر پرویز الہی نے فوج کا نام لیے بنا کہا کہ موجودہ حکومت میں اداروں کے تعلقات میں جو خرابی ہوئی ہے وہ نوازشریف دور سے ملتی جلتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ 'ڈی جی آئی ایس آئی کی تعيناتی ميں تاخير سے ادارے ميں مداخلت ہوئی۔' انھوں نے فوج کا نام لیے بنا کہا کہ 'انھوں نے حکومت کا بہت خیال رکھا لیکن حکومت نے احسان فراموشی کی۔ انھوں نے حکومت کی مدد کے دوران خود کچھ نہیں سیکھا۔'

کیا اب حکومت اور فوج کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے کہ جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'وزيراعظم کو پہلے اپنا ہاؤس ان آرڈر کرنا چاہيے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کو اصول بنا لینا چاہیے کہ اداروں میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ 'زرداری صاحب نے بہت کچھ سیکھا، انھوں نے مشکل حکومت میں بھی اداروں کے ساتھ اپنے تعلقات ٹھیک رکھے۔'

اپوزیشن

،تصویر کا ذریعہPMLN Media

’مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے وزرات اعلٰی پر اتفاق ہے‘

صدر ق لیگ کا کہنا تھا کہ یہ بات آصف زرداری روز اول سے کہہ رہے ہیں کہ اگر پنجاب میں ن لیگ پرویز الہیٰ کو سپورٹ کریں گے تو ہی پیپلزپارٹی مرکز میں ن لیگ کو سپورٹ کریں گے اور فی الحال تک یہ ارینجمنٹ ہے جب تک کچھ فائنل نہیں ہوتا۔

انھوں نے مزید کہا کہ جب شہبازشریف گھر آئے تھے تو انھوں نے اس بات کا تذکرہ کیا تھا کہ مرکز میں تبدیلی کے بعد پنجاب میں پرویزالہیٰ وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہوں گے مگر مرکز میں آپ کے ووٹ ہمیں ملنے چاہیے جس پر چوہدری شجاعت نے کہا کہ ٹھیک ہے۔

چوہدری پرویزالہٰی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں صورتحال بہت زیادہ خراب ہے،اس کے بعد پولنگ پنجاب میں متوقع ہے، چھوٹے چھوٹے کئی گروپ بن گئے ہیں۔

تمام جماعتیں وقت پر الیکشن چاہتی ہیں

سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ تمام جماعتیں وقت پر الیکشن چاہتی ہیں، کسی نے یہ بات نہیں کی کہ تین ماہ میں اسمبلی تحلیل ہو گی۔ مسلم لیگ ن کی خواہش تھی کہ سب کچھ وہ ہی لے جائیں گے مگر ن لیگ کی ہر خواہش پوری نہیں ہو سکتی۔

مہر بخاری کو انٹرویو: تمام اتحادی جماعتوں کا جھکاؤ بھی اپوزیشن کی جانب ہے

پرویز الہی، جو پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں، منگل کو پاکستانی ٹی وی چینل ہم نیوز پر مہر بخاری کو انٹرویو دے رہے تھے جس میں انھوں نے یہ تو واضح نہیں کیا کہ ق لیگ کس کا ساتھ دے گی لیکن انھوں نے تحریک انصاف پر کھل کر تنقید کی اور یہ بھی کہا کہ 'ابھی بہت سے سرپرائز آنے ہیں۔‘

’اس وقت کوئی تحریک انصاف کے ساتھ نہیں‘

منگل کی شب نشر ہونے والے انٹرویو میں تحریک عدم اعتماد پر چوہدری پرویز الہی نے کہا تھا کہ ’ان کو (تحریک انصاف) یہ بھی نہیں پتہ کہ کون اُن کے ساتھ ہے اور کون نہیں۔‘

عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس وقت حکومت کا کوئی اتحادی بھی سو فیصد حکومت کے ساتھ نہیں۔‘

اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں سوال پر انھوں نے کہا کہ ’اس وقت اسٹیبلشمنٹ نے خود کو باہر رکھا ہوا ہے اور جو بھی آ جائے ان کے لیے قابل قبول ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ اس وقت حکومت کا کوئی ساتھ نہیں دے رہا۔

’اس وقت صرف ہمارا نہیں، بلکہ تمام اتحادی جماعتوں کا جھکاؤ اپوزیشن کی طرف ہے۔ یہ خان صاحب کا کام ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں۔ وہ اُن (جماعتوں) کے پاس اب جا رہے ہیں جن کا ایک ووٹ ہے۔ یہ پہلے کر لینا چاہیے تھا۔‘

پرویز الہی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خود وزیر اعظم عمران خان نے اتحادی جماعتوں ق لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی کو تحریک انصاف میں ضم ہونے کی پیشکش کی جس کو ق لیگ نے رد کر دیا تھا۔

’خان صاحب نے چار دن پہلے مونس کو کہا کہ تحریک انصاف میں ضم ہو جائیں۔ ہم نے انکار کر دیا۔ انھوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کو بھی کہا۔ یہ اُن کی ناسمجھی ہے۔‘

پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا سوال

عثمان بزدار

،تصویر کا ذریعہPUNJAB GOVT

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہی کی گفتگو کے دوران پنجاب کی وزارت اعلی کا تذکرہ کئی بار آیا اور انھوں نے برملا اس بات کا اظہار کیا کہ ان کی جماعت اس عہدے کی خواہش مند ہے۔

’ہم سے دو اتحادی پارٹیوں نے کہا کہ پہلے عدم اعتماد کا معاملہ ہو جائے پھر اس کو دیکھتے ہیں، لیکن چوہدری شجاعت نے کہا کہ نہیں، یہ کام پہلے ہونا چاہیے۔‘

جب ان سے سوال ہوا کہ کیا تحریک انصاف کی جانب سے ان کی جماعت کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہوئی تو انھوں نے کہا کہ ’وہ کچھ بولیں تب ہے نہ، اس وقت تو تحریک انصاف سکتے کی کیفیت میں ہے۔‘

’ہم نے کہا تھا کہ پنجاب میں وزارت اعلیٰ دیں، پھر ہم آپ کے لیے بھی ووٹ کر لیں گے۔ اگر وزارت اعلیٰ ہمارے پاس آئی تو ہم اتحادیوں کی کمیاں خامیاں بھی پوری کریں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس وقت ان کا جہانگیر ترین گروپ سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ دو جماعتوں نے کہا تھا کہ پہلے عدم اعتماد کامیاب کروا دیں پھر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو ’تبدیل کر دیں گے۔‘

ان کے مطابق شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری اور ن لیگ نے انھیں ’پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی ہے۔‘

’(اب) ہو سکتا ہے کہ حکومت خود ہی وزارت اعلیٰ کی آفر کر دے۔ اس کے بعد تمام اتحادیوں سے مشاورت کریں گے۔ ایم کیو ایم کے مسائل ہیں، زرداری صاحب کے ساتھ۔ ان میں 70 فیصد پیشرفت ہو گئی ہے، کچھ رہ گئی ہے۔ وہ بھی چند دنوں تک ہو جائے گی۔ اس طرح باپ پارٹی (بلوچستان عوامی پارٹی) کے کچھ تحفظات ہیں۔‘

مزید پڑھیے

چوہدری پرویز الہی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’اکیلے فیصلہ نہیں کر سکتے‘

اس تمام گفتگو کے باوجود چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا کہ اب تک ان کی جماعت نے حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ کہ ’ہم اکیلے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے، باقی اتحادیوں کے ساتھ مل کر حتمی فیصلہ کریں گے۔‘

’ہم تمام معاملات اتحادیوں کے سامنے رکھیں گے۔ فیصلہ جماعت بھی نہیں کر سکتی، ہمارے ساتھ زرداری صاحب ہیں، ایم کیو ایم ہے، باپ پارٹی ہے، ان سے مل کر فیصلہ کریں گے۔‘

چوہدری پرویز الہی نے تحریک انصاف اور وزیر اعظم عمران خان پر کُھل کر تنقید کی اور حکومت کے دعوؤں کے برعکس کارکردگی کو بھی نشانہ بنایا۔

جب اُن سے سوال کیا گیا کہ ایسا کیا ہوا جس پر معاملات خراب ہوئے تو انھوں نے کہا کہ ہماری طرف سے وفاداری کی گئی، ان کی طرف سے دھمکیاں آ رہی ہیں۔ ’نیب کو کہا گیا کہ مونس کو پکڑو۔‘

چوہدری پرویز الہی سے جب سوال کیا گیا کہ وزیر اعظم کے مطابق اپوزیشن کی تحریک بیرونی سازش ہے تو انھوں نے اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ صرف تحریک انصاف کی نالائقی ہے، اور کچھ نہیں۔‘

’خان صاحب نے سب سے ہاتھ کیا ہے۔ ساڑھے تین سال انھوں نے کوئی کارکردگی نہیں دکھائی۔ مہنگائی ہے، لوگوں کو نوکریاں نہیں ملیں، کیا سب کو احساس پروگرام میں نوکری دیں گے، صحت کارڈ سے کیا ہوتا ہے، پہلے ہسپتالوں کو تو ٹھیک کریں۔‘

انھوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں پیپلزپارٹی، ن لیگ اور جے یو آئی کا اتحاد دیرپا لگ رہا ہے کیوںکہ ’جب ایک شخص کے خلاف سب اکھٹے ہو جائیں تو تلخیاں بھلائی جاتی ہیں۔‘

عمران خان ’100 فیصد مشکل میں، یہ نوبت مشیروں کی وجہ سے آئی‘

ایک سوال پر وہ کہتے ہیں کہ حکومت کے اپنے لوگ ہی گھبرائے ہوئے ہیں۔ ’پہلے حکومت جلسے منسوخ کریں پھر اپوزیشن پر دباؤ آئے گا۔‘

وزیر داخلہ شیخ رشید کے بیانات کے ردعمل پر وہ کہتے ہیں کہ ’میں حیران ہوں یہ کیسے لوگ ہیں۔ اپنے آپ کو بیچ میں سے کیسے نکال لیں گے۔ اگر یہ نقصان ہو گا تو ان کا نقصان نہیں ہو گا۔ وہ تو حکومت میں بیٹھے ہیں، اُن کا زیادہ نقصان ہو گا۔ جو اپوزیشن میں ہیں وہ تو پہلے ہی سڑکوں پر ہیں۔‘

پرویز الہٰی کے مطابق وزیراعظم عمران خان اس وقت ’100 فیصد مشکل میں گھرے ہوئے ہیں‘ اور حکومت میں عقل، سمجھ اور دوراندیشی سے معاملات کو بھانپنے کی بالکل کوئی صلاحیت موجود نہیں ہے۔‘

ان کے خیال میں عمران خان پر ’یہ نوبت مشیروں کی وجہ سے آئی ہے‘ جو ’اپنی نالائقی دوسرے پر ڈالتے ہیں۔‘

حال ہی میں ایک جلسے میں خطاب کے دوران عمران خان نے تینوں مخالفین شہباز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کو ’ان سوئنگ یارکر سے اڑانے‘ کا بیان دیا تھا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے پرویز الہیٰ نے کہا کہ ’ہر چیز کرکٹ۔۔ یار کوئی کام کی بات کریں کرکٹ سیاست سے علیحدہ ہوتی ہے۔‘

’مجھے اعتماد ہے، جب کرکٹ کھیلتا تھا تو اعتماد سے کھیلتا تھا۔ لیکن کرکٹ میں جب لائن لگتی ہے تو پوری لگتی ہے۔‘

اسٹیبلشمنٹ کا نام لیے بغیر پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ’اس وقت کوئی کال نہیں آ رہی ہے اور اب سب نیوٹرل ہیں‘ اور کوشش ہو رہی ہے مگر ’پشاور سے کوئی مدد نہیں آ رہی۔‘

انھوں عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے اسے بچوں کا کھیل بنا دیا ہے۔ اصل میں اِن کو سیکھنے اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے سیکھنے دینا چاہیے تھا۔ ان کی طرف سے جو کام ہوتے رہے ہیں اس سے نقصان ہوا ہے۔‘

’بچہ چلے گا نہیں تو بچے کیسے سیکھے گا، نیچے اُتارو گے، تو سیکھے گا نہ، نیپیاں ہی بدلتی رہنی ہیں ساری زندگی۔۔۔ مگر اب مہنگائی کی وجہ سے نیپی بھی مہنگی ہو گئی ہے۔‘

مگر وہ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’وزیراعظم خود ایماندار ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ خود ان کی نیت ہوتی ہے۔ مگر ان کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے انھیں یہ نہیں پتا چلتا کہ معاملات کو کیسے ٹھیک کرنا ہے۔ اگر میں اپنے ویژن کو آگے منتقل کرنے اور اگر میں ٹیم کی سیلیکشن کا اہل نہیں تو پھر کیا فائدہ۔‘

پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ آئی ایس پی آر کے جنرل صاحب نے یہ بات کہی ہے، یہ آن ریکارڈ ہے کہ ہمارا اس سے تعلق نہیں ہے، ہم نیوٹرل ہیں اور آگے چل کر جو انھوں (عمران خان) نے نیوٹرل کا حشر کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے اور کہتے ہیں کہ نیوٹرل جانور ہوتا ہے۔

مسلم لیگ ن

،تصویر کا ذریعہPML-N

حکومتی اتحادی ق لیگ عمران خان کا ساتھ دے گی؟

چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا کہ بطور اتحادی ’ہم نے ہر مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دیا ہے۔ ابھی سینیٹ کے الیکشن میں ساتھ دیا ہے، (مگر) مشکلات حکومت کی پیدا کردہ ہیں۔‘

’ہم ساری چیزیں حل کر رہے ہیں۔ ابھی وقت ہے۔ ہم اجتماعی فیصلہ کریں گے۔ یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ سب اکھٹے فیصلہ کریں گے۔ جو فیصلہ ہم نے کرنا تھا اس کے قریب قریب پہنچے ہوئے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اگلے انتخابات میں اتحاد بننے ہیں۔ ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ ن لیگ کے ساتھ اتحاد ہوگا۔ تاہم ن لیگ کے لوگوں سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بات ہوئی ہے۔ اس پر سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے۔‘

انھوں نے حکومت کی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بارات آئی کڑی دی تے ونڑ لگے کن‘ یعنی بارات آ گئی ہے اور ایسے میں بالیوں کے لیے دلہن کے کانوں میں سوراخ کیے جا رہے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

شہباز شریف سے منسوخ شدہ ملاقات سے متعلق بات کرتے ہوئے پرویز الہٰی نے کہا کہ شہباز شریف سے ’میری بات ہوئی ہے۔ آنے والے دنوں میں ان سے میری ملاقات ہو گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ایم این ایز کو نیب اور ایف آئی اے کے حوالے کرنے کی دھمکیاں ملی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ’نیب کو کہا گیا‘ کہ ان کے بیٹے مونس الہیٰ ’کے خلاف کچھ ڈھونڈو۔‘

ایک سوال کے جواب میں پرویز الہٰی نے کہا کہ عمران خان سے پہلے دو بار ملاقات ہوئی ہے مگر انھوں نے کوئی بات ہی نہیں کی ہے۔ ’ایم کیو ایم والے بھی گلہ کر رہے تھے کہ ان سے بھی کوئی بات ہی نہیں کی ہے۔‘ ان کے مطابق عمران خان گپ شپ لگا کر چلے گئے۔ ’گھر آئے مہمان سے تو بندہ یہ نہیں کہتا کہ یہ دیں، وہ دیں۔‘

'اچھا ایک تو ان کو شوق ہے کہ میں نے بدلے لینے ہیں۔۔۔ ابھی ان سے کچھ ایم این ایز ملے ہیں اور ان سے کہتا ہے کہ سب ٹھیک ہو جائیں ورنہ ان سے یہ کردوں گا، وہ کر دوں گا۔ انھیں نیب اور ایف آئی اے کے حوالے کر دوں گا۔ یہ کوئی طور طریقہ ہے، آپ لوگوں کے دل جیتیں، آپ کو ضرورت ہی نہ پڑے اتنی بھاگ دوڑ کی۔‘