پاک افغان سرحد: ضلع کرم میں سرحد پار سے فائرنگ میں پانچ فوجی ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستانی فوجی کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں افغان سرحد کے پار سے دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں پانچ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع کرم میں افغانستان سے دہشتگردوں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی جس کے ردِعمل میں بھرپور جوابی کارروائی کی گئی جس میں دہشتگردوں کو بھاری جانی نقصان ہوا۔
تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔
شدت پسندوں نے لوئر کرم میں تحصیل شورکو کے علاقے قمرخیل میں ایک ایف سی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ یہ مقام افغان صوبے خوست کی سرحد پر واقع ہے جہاں تحریک طالبان پاکستان سرگرم ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس نومبر اور دسمبر میں پاکستان کی حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات بھی خوست میں ہوئے تھے اور سیز فائر کا معاہدہ طے پایا تھا، جو بعد میں ختم ہو گیا تھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق اس علاقے میں سرحدی باڑ ابھی نصب نہیں جبکہ ضلع کرم کا ایک حصہ افغان صوبے ننگرہار سے بھی متصل ہے جو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں میں لانس نائیک عجب نور، سپاہی ضیا اللہ خان، سپاہی ناہید اقبال، سپاہی سمیر اللہ خان اور سپاہی ساجد علی شامل ہیں۔
اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’پاکستان دہشتگردوں کی جانب سے افغان سرزمین کے استعمال کی شدید مذمت کرتا ہے اور افغانستان میں موجود عبوری حکومت سے مستقبل میں ایسی سرگرمیاں نہ ہونے کی توقع کرتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید کی جانب سے بھی اس حوالے سے جاری کردہ بیان میں ’طالبان حکومت سے اپنے وعدوں کے مطابق سرحد پار سے دہشت گرد کارروائیاں روکنے‘ کا مطالبہ کیا ہے۔
اس سے پہلے بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ انھیں ایسا لگتا ہے کہ ٹی ٹی پی اب افغان طالبان کی نہیں سنتی۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آئندہ دو ماہ کے دوران ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہو گا تاہم اسے کنٹرول کر لیا جائے گا۔
خیال رہے کہ حال ہی میں پاکستان بھر میں دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ سکیورٹی فورسز کو نہ صرف سرحدی علاقوں بلکہ بڑے شہروں میں بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مقامی صحافی ریاض چمکنی کے مطابق فائرنگ کا سلسلہ رات نو بجے سے بارہ بجے تک جاری رہا اور علاقے میں فائرنگ کی آوازیں گونجتی رہیں۔
واضح رہے کہ ضلع کرم ماضی میں فرقہ واریت کا شکار رہا ہے اور پاڑہ چنار سمیت بعض دیگر علاقوں میں شہریوں کے خلاف تحریک طالبان پاکستان سرگرم رہی ہے تاہم حالیہ چند برسوں میں یہاں امن و امان کی صورتحال بہتر رہی تھی اور گذشتہ شب پیش آنے والا یہ واقعہ اپنی نوعیت کی بڑی کارروائی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے قبل گذشتہ برس کرم میں ہی ایک فون کمپنی کے ساتھ کام کرنے والے ملازمین کو طالبان نے اغوا کیا تھا جن میں سے ایک شخص کو ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ دیگر کو ایک فوجی آپریشن کے ذریعے بازیاب کروایا گیا تھا۔
ضلع کرم سے مقامی صحافی ریاض چمکنی کے مطابق ’ننگرہار کے ساتھ متصل علاقہ بلندی پر واقع ہے جو برف سے ڈھکا رہتا ہے اس لیے وہاں دہشتگردوں کی کارروائیاں نہیں ہوتیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پکتیا اور خوست سے اس طرح کی فائرنگ کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس سے قبل سنہ 2018 میں سرحدی باڑ کی تنصیب کی وجہ سے دوسری طرف کی مقامی آبادی اور فوج کے درمیان کچھ جھڑپیں ہوئے تھے تاہم وہ معاملہ حل کر دیا گیا تھا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
اس سے قبل جنوبی وزیرستان کے علاقے سروکئی میں بھی ایک فوجی کارروائی کے دوران ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے شدت پسند نور کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ برقعہ اوڑھے فرار کی کوشش کر رہے تھے۔
رواں ہفتے کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے صوبہ بلوچستان میں پنجگور اور نوشکی میں ایف سی کے کیمپس پر حملہ کیا تھا۔ نوشکی حملے پر اسی رات قابو پا لیا گیا تاہم پنجگور میں فوج اور شدت پسندوں کے درمیان چھڑپیں 72 گھنٹوں تک جاری رہیں تھیں جن میں مجموعی طور 20 دہشتگرد اور نو فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
گذشتہ شب سکیورٹی فورسز نے ٹانک میں انٹیلیجنس معلومات پر کارروائی کی اور فوجی حکام کے مطابق ایک خودکش بمبار کو ہلاک کیا گیا جبکہ بھاری مقدار میں بارود اور اسلحہ قبضے میں لیا گیا۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس 15 اگست کو طالبان کی جانب سے کابل پر قبضے کے بعد سے یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان افغان سرحد پر کسی تنازع نے جنم لیا ہو۔
گذشتہ برس دسمبر کے اواخر میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر پاکستانی فوج کی جانب سے نصب باڑ کو مبینہ طور پر افغان طالبان کی جانب سے اکھاڑنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔
میجر جنرل بابر افتخار نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑ لگائے جانے کے حوالے سے حالیہ تنازعے کے بارے میں کہا کہ پاکستان، افغانستان سرحد پر باڑ کو لگانے میں پاکستانی 'شہدا' کا خون شامل ہے، یہ ناصرف مکمل ہو گی بلکہ قائم بھی رہے گی۔
دوسری جانب افغان دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت مسائل کے حل کے لیے افہام و تفہیم، بات چیت اور پڑوسیوں سے اچھے تعلقات پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے اس مسئلے کو ’سفارتی طور‘ پر حل کیا جائے گا۔











