نوشکی، پنجگور میں ایف سی پر حملے: ’ابتدائی دھماکے کے بعد فائرنگ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو صبح تک جاری رہا‘

بلوچستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بلوچستان کے اضلاع نوشکی اور پنجگور میں فرنٹیئر کور پر ہونے والے حملوں کے دوران ہونے دوالے ھماکوں کے بارے میں دونوں شہروں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقوں میں پہلے بھی دھماکے ہوتے رہے ہیں مگر بدھ کو ہونے والے دھماکوں کی شدت ماضی کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔

نوشکی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے لگ بھگ 150 کلومیٹر کے فاصلے پر جانبِ مغرب واقع ہے اور اس ضلع کی شمال میں طویل سرحد افغانستان سے لگتی ہے۔ فرنٹیئر کور کا ہیڈ کوارٹر نوشکی شہر کے مغرب میں واقع پہاڑی کے دامن میں ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ان حملوں میں اب تک ایک افسر سمیت سات فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 13 حملہ آور مارے گئے ہیں اور پنجگور میں چار سے پانچ حملہ آوروں کو محاصرے میں لے لیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر نوشکی نعیم جان گچکی نے بتایا کہ نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹر کے مین گیٹ پر دھماکہ کلی شریف خان روڈ والی طرف سے ہوا۔ اُنھوں نے بتایا کہ اس دھماکے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا۔

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ فائرنگ کا سلسلہ فی الوقت تھم گیا ہے اور اب کلیئرینس کا عمل جاری ہے جو کہ تھوڑی دیر تک مکمل ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی نوعیت کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔

مقامی صحافیوں اور شہریوں نے بتایا کہ ابتدائی دھماکہ اندازاً بدھ کی شام ساڑھے سات بجے کے قریب ہوا اور اس کے چند منٹ بعد فائرنگ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔

’ہر کسی کو لگا دھماکہ اُن کے پڑوس میں ہوا ہے‘

بی بی سی
،تصویر کا کیپشندھماکے سے متاثرہ بولان ہال کی چھت

نوشکی میں مقامی صحافیوں اور ایف سی ہیڈکوارٹر کے قرب و جوار میں بسنے والے شہریوں نے بتایا کہ بدھ کی شام سات بجے سے فائرنگ کی جو آوازیں آنا شروع ہوئی تھیں وہ صبح نو بجے تک جاری رہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ فائرنگ کی آوازیں اگرچہ صبح نو بجے تک آتی رہیں لیکن ان میں شدت دھماکے کے چار، پانچ گھنٹے بعد تک بہت زیادہ تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے ہیڈکوارٹر کے اندر سے متعدد چھوٹے اور بڑے دھماکوں کی آوازیں سُنیں۔

ایک صحافی نے بتایا کہ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے نوشکی میں اب تک بم دھماکوں کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں لیکن بدھ کی شب جو پہلا دھماکہ ہوا اس شدت کے دھماکے کی آواز پہلے کبھی نہیں سنی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ہیڈکوارٹر سے دور کے علاقوں میں ہر شخص نے یہ محسوس کیا کہ دھماکہ ان کے گھر کے بالکل ساتھ ہوا ہے جس کے باعث بعض علاقوں میں لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔

بلوچستان

اُنھوں نے بتایا کہ دھماکے اور فائرنگ کے باعث رات کو شہر میں جو دکانیں اور کاروباری مراکز کھلے تھے وہ تمام خوف کے باعث بند ہو گئے۔

نوشکی ہی کے ایک اور مقامی صحافی، جن کا گھر شہر کے اندر موجود ہے نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کے ساتھ قرب و جوار کے علاقے میں دھول چھا گئی اور ایک سے ڈیڑھ کلومیٹر کی حدود میں لوگوں کے گھروں، دکانوں اور دفاتر کے شیشے وغیرہ ٹوٹ گئے۔

ایف سی ہیڈکوارٹر کے قرب و جوار میں کیا نقصانات ہوئے؟

ایف سی ہیڈکوارٹر کے قریب متعدد سویلین محکموں کے دفاتر موجود ہیں جن میں سب سے قریب ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال، ڈپٹی کمشنر کا دفتر اور پولیس سٹیشن ہے۔

ڈپٹی کمشنر نوشکی نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر، آفیسرز کلب اور ہسپتال سمیت دیگر عمارتوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ظفر مینگل نے بتایا کہ ہسپتال میں کافی نقصان ہوا ہے اور سب سے زیادہ نقصان شعبہ امراضِ نسواں، آپریشن تھیٹر، لیبارٹری اور شعبہ امراض چشم کو پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ شام تک اپنی مدد آپ کے تحت وہ ایمرجنسی سیکشن اور گائنی کے شعبے کو بحال کریں لیکن باقی ان کے بس سے باہر ہے، جن کے لیے اُنھیں مدد کی ضرورت پڑے گی۔

بی بی سی
،تصویر کا کیپشندھماکے سے متاثرہ آفیسرز کلب

ڈاکٹر ظفر نے بتایا کہ دھماکے اور فائرنگ کی وجہ سے زخمی یا ہلاک ہونے والے کسی شخص کو رات کے اوقات میں ہسپتال نہیں لایا گیا لیکن صبح ایک شخص کی لاش لائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

پنجگور میں کیا ہوا؟

پنجگور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً ساڑھے پانچ سو کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس ضلع کی سرحد مغرب میں ایران سے لگتی ہے۔

پنجگور انتظامی لحاظ سے مکران ڈویژن کا حصہ ہے اور پنجگور سمیت مکران ڈویژن کے دیگر علاقے طویل عرصے سے جاری شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔

بی بی سی نے پنجگور کے ڈپٹی کمشنر سے موجودہ صورتحال پر بات کرنے کے لیے رابطے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہوا۔

پنجگور میں آج کاروباری مراکز بند رہے
،تصویر کا کیپشنپنجگور میں آج کاروباری مراکز بند رہے

پنجگور سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی برکت مری نے بتایا کہ یہ دھماکہ رات کو آٹھ بجے کے قریب ہوا اور قرب و جوار کے لوگوں نے اس کے بعد شعلے بلند ہوتے دیکھے۔

پنجگور سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی برکت مری نے بتایا کہ پنجگور میں بھی طویل عرصے سے بم دھماکوں کے واقعات پیش آ رہے ہیں لیکن جو دھماکہ گذشتہ شب ہوا اس جیسا دھماکہ پہلے پنجگور میں نہیں ہوا۔

اُنھوں نے بتایا کہ اس دھماکے کے بعد ایف سی کے ہیڈکوارٹر اور قرب و جوار کے علاقوں میں چھوٹے اور بڑے دھماکوں کی بھی آوازیں سُنائی دیں۔

اُنھوں نے کہا کہ شدید فائرنگ کا سلسلہ نہ صرف رات گئے تک جاری رہا بلکہ صبح کو بھی لوگوں نے فائرنگ کی آوازیں سُنیں۔

برکت مری نے بتایا کہ شہر میں غریب آباد کے علاقے میں کوئی گولہ گرا ہے جسے اٹھانے کے لیے کوئی نہیں آیا جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ اس واقعے کے باعث نہ صرف شہر بند ہے بلکہ جائے وقوعہ کے قریب جو سرکاری دفاتر ہیں سرکاری اہلکار ان میں کام کے لیے بھی نہیں جا سکے۔

بعض ایسی اطلاعات ہیں کہ پنجگور میں سرکاری حکام نے لوگوں کو معاملہ واضح ہونے تک شہر کی جانب آنے سے منع کیا اور ان کو کہا گیا کہ وہ اپنے گھروں سے نہیں نکلیں۔

برکت مری کے مطابق جائے وقوعہ کے قریب دھماکے کی وجہ سے لوگوں کے گھروں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا ہے۔