نوشکی اور پنجگور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے: پنجگور میں آپریشن جاری، ایک افسر سمیت سات فوجیوں اور 13 حملہ آوروں کی ہلاکت کی تصدیق

- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو مختلف علاقوں، نوشکی اور پنجگور، میں ایف سی کے ہیڈکوارٹرز پر شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کے نتیجے میں اب تک سات فوجیوں کی ہلاکت اور چار کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 13 حملہ آور مارے جا چکے جبکہ پنجگور میں آپریشن تاحال جاری ہے جہاں چار سے پانچ شدت پسندوں کو سکیورٹی فورسز نے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ تاہم جمرات کی دوپہر بلوچستان کے مشیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کے حوالے سے متضاد تعداد بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک نوشکی میں پانچ اور پنجگور میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق گذشتہ روز شروع ہونے والے حملوں کے بعد اب سکیورٹی فورسز کلیئرنس آپریشن میں مصروف ہیں تاکہ علاقے میں چھپے شدت پسندوں کو پکڑا جا سکے۔
شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق نوشکی میں اب تک مارے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد نو ہے جبکہ ان کے خلاف آپریشن کے دوران ایک فوجی افسر سمیت چار فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
جبکہ پنجگور میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی تعداد چار ہے جبکہ ان سے مقابلے میں تین فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ چار فوجی زخمی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بھاگنے والے شدت پسندوں کو پکڑنے کے لیے اب بھی آپریشن جاری ہے اور چار سے پانچ شدت پسند سکیورٹی فورسز کے گھیرے میں ہیں۔
آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے ان کارروائیوں میں ملوث شدت پسندوں اور افغانستان اور انڈیا میں موجود ان کے ہینڈلرز کے درمیان کمیونیکیشن پکڑی گئی ہے۔
اس سے قبل جمعرات کی صبح وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ان حملوں کے نتیجے میں چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔اپنے ایک ویڈیو بیان میں وزیر داخلہ نے بتایا تھا کہ گذشتہ رات دیر گئے دہشت گردوں نے نوشکی اور پنجگور میں بڑا حملہ کیا جسے سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔
شیخ رشید کے مطابق پنجگور اور نوشکی، دونوں جگہ سے دہشت گردوں کو باہر دھکیل دیا گیا اور فوج نے اپنی روایات زندہ رکھیں۔ ’تھوڑے سے چار یا پانچ دہشت گرد، پنجگور میں سکیورٹی فورسز کے گھیرے میں ہیں جس کو فوج شکست فاش دے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم بلوچستان کے علاقوں، پنجگور اور نوشکی میں قائم فوجی کیمپوں پر دہشتگردوں کے حملے پسپا کرنے والے اپنے جری جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔‘
ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے پیغام میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پوری قوم اپنی افواج کی پشت پر متحد اور یکجا کھڑی ہے جو ہمارے حفظ و دفاع کے لیے پیہم عظیم قربانیاں پیش کر رہی ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے گذشتہ شب جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا تھا کہ پنجگور میں دہشت گردوں نے دو مقامات سے ایف سی کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن بروقت کارروائی سے انھیں ناکام بنا دیا گیا تھا۔
حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے جاری کیے گئے پیغام کے مطابق تنظیم کے مجید بریگیڈ کی جانب سے دعوی کیا گیا کہ پنجگور اور نوشکی میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں ان کے دو حملہ آوروں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے میں سکیورٹی فورسز کے عزم اور حوصلہ ناقابل شکست ہے اور دہشت گرد اپنے عزائم میں کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتے۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بدھ کی شب بی بی سی کو بتایا کہ پنجگور میں دھماکہ فرنٹیئر کور کے کیمپ کے قریب ہوا تھا، جس میں چھ اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نوشکی میں دھماکے کے بعد آپریشن کلین اپ کا سلسلہ جاری ہے جس کے مکمل ہونے کے بعد جانی نقصانات کے بارے میں بتایا جا سکے گا۔
میر ضیا اللہ نے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے سکیورٹی فورسز کے اہلکار دہشت گردی کے سامنے سینہ سپر ہیں اور دہشت گردوں کے تمام عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy: Shah Nazar Badini
یاد رہے کہ محض چند روز قبل بلوچستان کے علاقے کیچ میں 25 اور 26 جنوری کی درمیانی شب شدت پسندوں کے حملے میں 10 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
آئی ایس پی آر نے حملے کے دو روز بعد اپنی بیان میں تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان فوج کے 10 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جوابی کارروائی میں ایک شدت پسند ہلاک ہوا ہے۔
اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔
عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟
نوشکی میں ایف سی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کی فرحت جاوید کو بتایا کہ ’دہشت گرد کیمپ کے اندر داخل نہیں ہو سکے اور گیٹ پر موجود گارڈز نے متعدد حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا تھا جن کی لاشیں ایف سی گیٹ پر بکھری پڑی ہیں۔‘
نوشکی میں پولیس کے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ کلی شریف خان روڈ کی جانب سے فرنٹیئر کور کے مین گیٹ پر زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس نے قریب میں واقع پولیس سٹیشن، سول ہسپتال اور ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی عمارتوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
پولیس اہلکار نے بتایا تھا کہ دھماکے کے بعد شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو دیر تک جاری رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف سی کے ہیڈ کوارٹر سے فائرنگ کی آوازیں بھی آنے لگیں اور یوں محسوس ہوا کہ زوردار دھماکے کے بعد ایف سی کے ہیڈ کوارٹر پر کوئی حملہ ہوا ہے یا پھر ایف سی کے اہلکاروں نے اپنے دفاع کے لیے فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

نوشکی میں عینی شاہدین کے مطابق بڑے دھماکے کے بعد انھوں نے ایف سی کے ہیڈکوارٹر کے اندر ایک چھوٹے دھماکے کی آواز بھی سُنی گئیں اور اس کے ساتھ شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ دیر تک جاری رہا۔
عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کی آوازیں ایف سی ہیڈکوارٹر کے اندر سے آتی رہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکوں اور فائرنگ کے باعث ایف سی کے ہیڈکوارٹر کے گردونواح کے علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ دھماکے کے بعد شہر میں تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہو گئے ہیں۔
بعض عینی شاہدین نے بتایا کہ بم دھماکے اور فائرنگ کے چند گھنٹے بعد انھوں نے شہر کی فضا میں دو ہیلی کاپٹروں کو بھی پرواز کرتے دیکھا۔
ایف سی ہیڈکوارٹر میں دھماکے کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر سے جو تصاویر سوشل میڈیا پر آئیں ان میں نظر آرہا ہے کہ قرب و جوار کے دفاتر اور گھروں کو دھماکے سے نقصان پہنچا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ بھی پڑھیے
نوشکی اور پنجگور کہاں واقع ہیں؟
نوشکی کوئٹہ شہر سے تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر مغرب میں واقع ہے اور ضلع نوشکی کی سرحد شمال میں افغانستان سے لگتی ہے۔
نوشکی میں ماضی میں بھی بم دھماکوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں تاہم منگل کی شب جو واقعہ پیش آیا وہ نوشکی شہر کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔
دوسری جانب پنجگور صوبے کے جنوبی حصے میں واقع ہے جہاں سے ایران کی سرحد سو کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر موجود ہے جبکہ یہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے پانچ سو کلومیٹر دور ہے۔ یں؟










