بلوچستان: سال کے آخری دنوں میں سکیورٹی فورسز پر ایک اور بڑا حملہ، سات اہلکار ہلاک

سیکورٹی فورسز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں شدت پسندوں کے ایک حملے میں فرنٹیئر کور کے کم از کم سات اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ ضلع میں شاہرگ کے علاقے جھالاوان تنگ میں فرنٹیئر کور کی ایک چیک پوسٹ پر کیا گیا۔

فوج کے تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ حملہ گزشتہ شب کیا گیا تھا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے سات اہلکار ہلاک ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن کے علاوہ ناکہ بندی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بعض دیگر اطلاعات کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہے۔ حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات بشریٰ رند نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتے۔

سکیورٹی فورسز

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہرنائی کہاں واقع ہے؟

ہرنائی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے مشرق میں واقع ہے۔ یہ علاقہ زیادہ تر دشوار گزار پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے۔

یہ علاقہ کوئلے کی ذخائر سے مالا مال ہے اور اس ضلع میں کوئلے کی کانیں بڑی تعداد میں ہیں۔ اس ضلع کا شمار بھی ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے متاثر ہیں۔

سنہ 2000 کے بعد بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے اس ضلع میں بھی سیکورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ تشدد کے دیگر واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

ہرنائی اور اس سے متصل ضلع کچھی کے علاقے بولان میں رواں سال کے دوران یہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔ اس سے قبل مئی کے مہینے میں بولان کے علاقے پیر غیب میں بھی ایک حملے میں چھ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

ان علاقوں کی طرح بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی رواں سال کے دوران سیکورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

سب سے زیادہ حملے مکراں ڈویژن اور اس سے متصل علاقوں میں ہوئے جن میں متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

24گھنٹوں کے دوران تشدد کا دوسرا واقعہ

بلوچستان کے کسی علاقے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والا یہ تشدد کا دوسرا واقعہ ہے۔ گزشتہ روز ایران سے متصل ضلع پنجگورمیں بم دھماکہ بھی ہوا تھا۔ اس دھماکے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے تھے۔