بلوچستان: کیچ، مکران میں ڈکیتی کی وارداتوں کے خلاف احتجاج، کیا جرائم پیشہ افراد کو کسی کی پشت پناہی حاصل ہے؟

احتجاج

،تصویر کا ذریعہHaleem Baloch

،تصویر کا کیپشناحتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ڈکیتی، راہزنی سمیت متعدد دیگر واقعات کے پیچھے عام جرائم پیشہ لوگ نہیں بلکہ مسلح گروہوں کے لوگ ہیں
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دور دراز سرحدی علاقے کیچ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والی چار سالہ بچی برمیش کے ایک ڈکیتی کی واردات میں زخمی ہونے کے واقعے نے صوبے میں منظم جرائم پیشہ گروہوں اور ان کی سیاسی طاقت کے بارے میں ایک ایسی بحث شروع کر دی ہے جس پر طویل عرصے سے دبے لفظوں میں بات تو ہو رہی تھی لیکن عوامی سطح پر اس بارے میں پہلی بار سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔

گذشتہ چند روز سے صوبے کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چل رہے ہیں اور سیاسی اور سماجی رہنما اس بارے میں بیانات جاری کر رہے ہیں اور ان سب سرگرمیوں کا محور ہے، چار سالہ بچی برمش۔

فائرنگ سے زخمی ہونے والی چار برس کی برمش اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور وہ صحتیاب بھی ہو رہی ہیں لیکن اسی ڈکیتی کی واردات جس میں برمش زخمی ہوئیں، ان کی والدہ ہلاک ہو گئی تھیں۔

برمش اور ان کی والدہ کے ساتھ رونما ہونے والے واقعہ کے خلاف نہ صرف بلوچستان کے بلوچ آبادی والے علاقوں میں احتجاج ہو رہا ہے بلکہ گزشتہ کئی روز سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ’جسٹس فار برمش‘ ٹرینڈ بھی کرتا رہا۔

یہ بھی پڑھیے

برمش کون ہیں اور ان کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟

برمش کا تعلق ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت کے قریب 20 سے 25 کلومیٹر دور ایک دیہی علاقے ڈھننوک سے ہے۔

جس واقعے نے ننھی برمش سے ان کی والدہ کو ہمیشہ کے لیے جدا کیا وہ 25 اور 26 مئی کی درمیانی شب پیش آیا جسے مقامی پولیس نے ڈکیتی کا واقعہ قرار دیا۔

اس واقعے کے حوالے سے سٹی پولیس سٹیشن تربت میں جاسم نامی شخص کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق وہ اور ان کے خاندان کے دیگر افراد گھر کے احاطے میں سو رہے تھے کہ رات کے سوا دو بجے کے قریب انھوں نے گھر کے اندر لوگوں کی آنے کی آواز سنی۔

ایف آئی آر

،تصویر کا ذریعہHaleem Baloch

،تصویر کا کیپشنجس واقعے نے ننھی برمش سے ان کی والدہ کو ہمیشہ کے لیے جدا کیا وہ 25 اور 26 مئی کی درمیانی شب پیش آیا جسے مقامی پولیس نے ڈکیتی کا واقعہ قرار دیا

جاسم کے مطابق انھوں نے دیکھا کہ دو افراد ان کی طرف آ رہے ہیں جن میں سے ایک کے ہاتھ میں کلاشنکوف اور دوسرے کے ہاتھ میں پستول تھا۔ ان کے پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ وہ حکومتی داروں کے لوگ ہیں اور گھر کی تلاشی لینے آئے ہیں۔

جاسم کا کہنا ہے کہ انھوں نے گھر والوں کو ایک کمرے میں بند کیا لیکن انھیں اس دوران گھر سے باہر نکلنے کا موقع ملا اور انھوں نے جا کر اپنے رشتہ داروں کو جگایا۔ جب وہ رشتہ داروں کو اپنے گھر کی طرف لا رہے تھے تو انھیں گھر سے فائرنگ کی آواز سنائی دی۔

انھوں نے بتایا کہ جب وہ قریب پہنچے تو گھر میں داخل ہونے والوں میں سے ایک شخص باہر کھڑی موٹر سائیکل کی جانب بھاگ کر جارہا تھا جس کو انھوں نے پکڑ لیا اور ان کے ساتھ آنے والے دوسرے لوگوں نے آ کر اسے قابو کیا۔

ان کے استفسار پر پکڑے جانے والے شخص نے اپنا نام الطاف بتایا جبکہ کلاشنکوف سے لیس دوسرا شخص فرار ہو گیا۔

جاسم کے مطابق جب وہ گھر میں داخل ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ مزاحمت پر ان کی خالہ زاد بہن ملک ناز کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا جبکہ ان کی بیٹی برمش زخمی تھی۔

بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ فرار ہونے والے شخص نے بعض گھروں میں پناہ لینے کی کوشش کی لیکن پناہ نہ ملنے پر اس نے کسی کوفون کیا اور ایک گاڑی آ کر اسے لے گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ انتظامی طور پر پولیس کا تھا جس پر لوگوں نے پولیس کو فون کیا اور جب پولیس وہاں پہنچی تو پکڑے جانے والے شخص کو پولیس کے حوالے کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ چونکہ یہ جانے پہچانے لوگ تھے اس لیے پولیس نے اس کے فرار ہونے والے ساتھی کی گرفتاری میں دیر نہیں لگائی۔

احتجاج

،تصویر کا ذریعہHaleem Baloch

،تصویر کا کیپشناس واقعے نے بلوچستان میں منظم جرائم پیشہ گروہوں اور ان کی سیاسی طاقت کے بارے میں بحث شروع کر دی ہے

پولیس کا موقف کیا ہے؟

کیچ پولیس کے ایس ایس پی نجیب اللہ پندرانی نے بتایا کہ گھر میں ڈکیتی کی غرض سے داخل ہونے والے الطاف کو پولیس نے گرفتار کیا جن کا تعلق تربت سے ہے۔

ایس ایس پی نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے فرار ہونے والے اس کے ساتھی باسط کو بھی گرفتار کیا گیا جن کا تعلق بنیادی طور پر پنجگور سے ہے لیکن فی الحال وہ تربت میں رہائش پزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تربت سے تعلق رکھنے والے سیف نامی شخص جس نے سہولت کار کی حیثیت سے گاڑی لا کر باسط کو فرار ہونے میں مدد دی تھی، وہ بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ملزمان سے ایک کلاشنکوف اور ایک پستول برآمد کرنے کے علاوہ گھر سے چھینے گئے موبائل فون اور گھڑی وغیرہ بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس واقعے کے جو اصل ملزمان ہیں وہ سب گرفتار ہیں اور ان سے تفتیش جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف تمام قانونی تقاضے بھی پورے کیے جا رہے ہیں۔

ملزمان کی گرفتاری کے باوجود بڑے پیمانے پر احتجاج کیوں کیے جارہے ہیں؟

جرائم کے دیگر واقعات میں احتجاج ملزمان کی گرفتاری کے لیے کیا جاتا ہے لیکن یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کے اصل ملزمان گرفتار ہونے کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس میں خواتین کی شرکت بھی نمایاں ہے۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بعض ایسی تصاویر سامنے آئیں جن میں ملزمان میں سے بعض بلوچستان کی حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما اور وزیر خزانہ میر ظہوربلیدی کے ساتھ بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں۔

اس واقعے کے حوالے سے ضلع کیچ میں آل پارٹیز کے نام پر احتجاج کیا جارہا ہے جن میں زیادہ تر سیاسی اور مذہبی جماعتیں شامل ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے زیراہتمام احتجاج کیا جارہا ہے۔

ڈاکٹر مالک بلوچ

،تصویر کا ذریعہHaleem Baloch

،تصویر کا کیپشنسابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا ہے کہ ان وارداتوں کے پیچھے منظم گروہ ہیں جن کو پشت پناہی حاصل ہے

احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کا یہ مؤقف ہے کہ کیچ سمیت مکران کے بعض دیگر علاقوں میں ڈکیتی، راہزنی سمیت متعدد دیگر واقعات رونما ہو رہے ہیں جن کے پیچھے عام جرائم پیشہ لوگ نہیں ہیں بلکہ مسلح گروہوں کے لوگ ہیں۔

سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا ہے کہ ان وارداتوں کے پیچھے منظم گروہ ہیں جن کو پشت پناہی حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ مکران کے علاقے میں ان واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے لوگ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں اور خوف کی ایک فضا ہے۔

ان کا کہنا تھا نیشنل پارٹی سمیت آل پارٹیز کا یہ مطالبہ ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث لوگوں کی پشت پناہی کرنے کی بجائے ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

نیشنل پارٹی کیچ کے جنرل سیکریٹری حلیم بلوچ نے بتایا کہ ان کارروائیوں میں ایک نہیں بلکہ کئی مسلح گروہ شامل ہیں جو لوگوں کے گھروں میں ڈکیتی کی واردات کرنے کے علاوہ دکانوں پر جا کر بغیر رقم کی ادائیگی کے مختلف اشیا اٹھاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اگر کوئی دکاندار ان سے پیسوں کا مطالبہ کرے تو یہ اسے اسلحہ دکھا کر بے عزت کرتے ہیں اور بعض کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اور تشدد بھی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے کیچ سمیت مکران ڈویژن میں لوگ ایک پریشان کن صورتحال سے دوچار ہیں اور آل پارٹیز کا یہ مطالبہ ہے کہ اس صورتحال کا خاتمہ کیا جائے۔

حلیم بلوچ نے بتایا کہ ایسے واقعات پہلے بھی ہو رہے تھے لیکن سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے باعث ان میں کمی واقع ہوئی لیکن گزشتہ سال سے یہ پھر رونما ہو رہے ہیں۔

اس واقعے کے بعد جو سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ آل پارٹیز کے زیر اہتمام تربت شہر میں ہوا۔

احتجاج

،تصویر کا ذریعہHaleem Baloch

،تصویر کا کیپشنبرمش اور ان کی والدہ کے ساتھ رونما ہونے والے اس واقعے کے خلاف نہ صرف بلوچستان کے بلوچ آبادی والے علاقوں میں احتجاج ہو رہا ہے بلکہ ٹوئٹر پر’جسٹس فار برمش‘ ٹرینڈ بھی کرتا رہا

اس مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے آل پارٹیز کے رہنماﺅں نے یہ کہا تھا کہ کیچ میں سیاہ شیشوں والی گاڑیوں میں لوگ گھومتے رہتے ہیں اور گاڑیوں سے اسلحہ باہر نکال کر لوگوں میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔

آل پارٹیز کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ لوگوں نے جس ملزم کو پکڑا تھا اس نے اپنے دوسرے ساتھیوں کا نام لینے کے علاوہ اپنے گروہ کے سربراہ سمیر سبزل کا نام بھی لیا تھا۔

آل پارٹیز نے مطالبہ کیا تھا کہ گینگ کے سربراہ سمیت اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کے علاوہ ڈکیتی اور دیگر جرائم میں ملوث تمام مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

آل پارٹیز کے رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ مسلح گروہوں کی پالیسی اور ان کی پشت پناہی کو ترک کیا جائے اور ان کو ختم کیا جائے۔

جب ایس ایس پی کیچ سے پوچھا گیا کہ آل پارٹیز کے مطالبے کے مطابق جن ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے ان کے گینگ کے سرغنہ کو کیوں گرفتار نہیں کیا جاتا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک پروفیشنل پولیس اہلکار کی حیثیت سے اس کیس کی تفتیش کر رہے ہیں۔ تفتیش کے دوران جن جن لوگوں کے نام سامنے آئیں گے وہ اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ سب گرفتار کیے جائیں گے۔

وزیر خزانہ ظہور بلیدی کا مؤقف کیا ہے؟

بلوچستان کے وزیر خزانہ ظہور بلیدی نے کسی مسلح گروہ کی حمایت کرنے کے الزام کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

رابطہ کرنے پر انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سیاسی کارکن اور عوامی نمائندے ہیں۔ ان سے دن میں کئی لوگ ملتے اور ساتھ میں تصاویر بھی بنواتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بعض عناصر جس تصویر کا حوالہ دے رہے ہیں وہ پی سی ہوٹل گوادر کی ہے جہاں کئی لوگوں نے ان سے ملاقات کی اور تصاویر بنوائی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا گرفتار ملزمان یا کسی مسلح گروہ یا سے کوئی تعلق نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس واقعے میں گھر کے لوگوں نے ہمت کی اور ایک ڈاکو کو پکڑ لیا جس کے بعد پولیس دو دیگر ملزمان کو گرفتار کر کے اپنام کام کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لواحقین سے وزیر داخلہ کے ہمراہ ان کی ملاقات ہوئی تھی تو وہ پولیس کی کارروائی سے مطمئن ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ حکومت نے لواحقین کو یقین دہانی کرائی کہ اس واقعے میں جو لوگ بھی ملوث ہیں ان سب کو گرفتار کیا جائے گا۔

وزیرخزانہ نے یہ بھی کہا کہ یہ خالصتاً ایک کریمنل ایکٹ ہے جو کچھ لوگوں نے کیا ہے لیکن بعض سیاسی جماعتیں اس کو غلط رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہیں جو کہ کسی بھی طرح درست نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی ان جماعتوں سے درخواست ہے کہ وہ اب لاشوں پر سیاست کرنا چھوڑ دیں بلکہ کوئی تعمیری کام کریں۔

وزیرداخلہ بلوچستان کا واقعے کے حوالے سے دورہ تربت

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے اس واقعے کے بعد تربت کا خصوصی دورہ کیا اور وہ وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی کے ہمراہ لواحقین کے گھر بھی گئے تھے۔

دورہ تربت کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس میں ہلاک ہونے والی خاتون اور زخمی بچی کے لواحقین کے ساتھ ہے۔

انھوں نے حکومت یا ریاست کی جانب سے کسی مسلح گروہ کی حمایت یا پشت پناہی کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں جو لوگ بھی ملوث ہیں ،ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ۔