شہداد بلوچ نے عسکریت پسندی کا انتخاب کیوں کیا؟

شہداد بلوچ

،تصویر کا ذریعہFacebook

،تصویر کا کیپشنشہداد بلوچ سنہ 2015 میں تربت سے لاپتہ ہو گئے تھے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی ادارے قائد اعظم یونیورسٹی میں ایم فل کا طالب علم، انسانی حقوق کا سرگرم کارکن اور طلبہ سیاست میں متحرک نوجوان شہداد بلوچ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔

گذشتہ ہفتے کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی کے اعلامیے میں شہداد بلوچ اور احسان بلوچ کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی اور بتایا تھا کہ قلات اور خاران کے درمیانی علاقے شور پارود میں یہ جھڑپ ہوئی جس میں ان کے ’جانباز سرمچار شاہ داد بلوچ عرف درا اور احسان بلوچ ہلاک ہوئے۔‘

شہداد بلوچ ولد ممتاز کا تعلق بلوچستان کے علاقے تربت سے تھا۔ انھوں نے بنیادی تعلیم عطا شاد ڈگری کالج سے حاصل کی تھی اس کے بعد سنہ 2012 میں کیچ گرامر سکول تربت میں ٹیچنگ کے فرائض سر انجام دینے لگے۔

شہداد انسانی حقوق کمیشن سے بھی وابستہ رہے، ان دنوں میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری تھا جس سے وہ اپنے دفتر کو آگاہ کرتے اور ان واقعات کی مذمت بھی کرتے۔

یہ بھی پڑھیے

مارچ 2015 میں وہ خود تربت سے لاپتہ ہو گئے۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے اس کی مذمت کی اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ اگر ان کے کارکن کے خلاف مقدمات ہیں یا وہ مطلوب ہیں تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے تاہم چند ماہ کے بعد وہ بازیاب ہو گئے۔

انھوں نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ڈیفینس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی اور حال ہی میں ایم فل کی ڈگری کے لیے شعبہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پاکستان سٹڈیز میں داخلہ لیا تھا۔ ان کے ساتھ ہلاک ہونے والے احسان بلوچ اسی یونیورسٹی کے شعبہ جینڈر سٹڈیز کے طالب علم تھے۔

احتجاج

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشہداد بلوچ انسانی حقوق کمیشن سے بھی وابستہ رہے، ان دنوں میں جبری گمشدگیاں کا سلسلہ جاری تھا جس سے وہ اپنے دفتر کو آگاہ کرتے اور ان واقعات کی مذمت بھی کرتے تھے۔

اسلام آباد میں بھی انھوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو جاری رکھا، ذہن میں مارکسی فلسفہ، سر پر چی گویرا کیپ اور جسم پر روایتی بلوچی لباس یہ ان کی پہچان تھی۔ وہ اپنی بلوچ شناخت اور بلوچستان کے مسائل پر کھل کر بولتے تھے۔

قائد اعظم یونیورسٹی میں بلوچ سٹوڈنٹس کونسل کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے، پچھلے دنوں یونیورسٹی میں طلبہ تصادم میں وہ زخمی بھی ہوئے۔

سوشل میڈیا پر وہ قائد اعظم یونیورسٹی کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی اور بلوچستان یونیورسٹی میں بھی بلوچ طلبہ کے حقوق اور سہولیات کے لیے سرگرم رہے۔ جب بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ مبینہ طور پر ہراسگی کا معاملہ پیش آیا تو وہ جلوس لیکر نیشنل پریس کلب اسلام آباد پہنچے۔

وہاں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ واش رومز میں بھی کیمرے لگائے گئے ہیں اور ان کیمروں کے ذریعے طلبہ کو ہراساں اور بلیک میل کیا جارہا ہے۔

یہ اطلاع شہداد بلوچ کے دوستوں اور اساتذہ دونوں کے لیے باعث حیرانگی ہے کہ کیسے سی ایس پی افسر بننے کا خواہش مند یہ نوجوان عسکریت پسندی کے سائے میں چلا گیا۔

شہداد بلوچ کے والد ممتاز بلوچ انتقال کرچکے ہیں، جبکہ ان کے لواحقین سے رابطے کی کوشش کی تاہم انھوں نے تبصرے سے انکار کر دیا۔

بلوچستان میں حالیہ شورش کو رواں سال دو دہائیاں مکمل ہو رہی ہیں۔ حکومت پاکستان بلوچستان میں کسی فوجی آپریشن سے انکار کرتی رہی ہے تاہم اس کا مؤقف رہا ہے کہ مبینہ تخریب کاروں اور شدت پسندوں کے خلاف خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

بلوچستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا یہ بھی الزام رہا ہے کہ پاکستان مخالف ممالک کی ایما پر عسکریت پسند تنظیمیں کارروائیاں کرتی ہیں اور لوگوں کو ورغلانے کی کوشش کرتی ہیں۔

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کا دعویٰ ہے کہ شہداد اور احسان بلوچ گذشتہ ایک سال سے ان کے ساتھ وابستہ تھے لیکن ان کے قریبی ساتھی اس سے لاعلم رہے۔

عسکریت پسند

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

شہداد بلوچ کے دوست ولید لال بلوچ کہتے ہیں کہ شہداد نے چند سال قبل ان کے ساتھ سکول میں جوائن کیا اور اپنی صلاحیتوں اور رویے کی وجہ سے طلبہ کے پسندیدہ استاد بن گئے۔

’ہماری دوستی ہو گئی ہم کتابوں کا تبادلہ بھی کرتے تھے۔ شہداد کو مارکسزم سے دلچسپی تھی، میں اس سے اتفاق نہیں کرتا تھا اور دلائل دیتا تھا۔‘

’شہداد کو اپنی اور دوسروں کی تعلیم کی پریشانی رہتی تھی وہ ہمیشہ تعلیم کا پرچار کرتا، اب وہ موجود نہیں لیکن میرے لیے وہ سب سے پہلے ایک تعلیم دان تھا وہ بہت کچھ دے سکتا تھا۔‘

ایک اور دوست بتاتے ہیں کہ مارکسی مفکر گرامچی کی کتاب The Prison Note Book ان کی پسندیدہ کتابوں میں سے ایک تھی۔ وہ مارکسزم میں قومی سوال پر بہت زیادہ بحث کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اس عہد میں قومی سوال بنیادی اور اہم ہے اس پر دو رائے نہیں ہونی چاہیے۔ اس وجہ سے شہداد اُن مارکسٹوں سے بہت زیادہ اختلاف رکھتے تھے جو مارکسزم میں قومی سوال سے انکاری تھے۔

شہداد بلوچ کی ہلاکت پر ان کے دوست ساجد عزیز کہتے ہیں کہ انھیں شہداد کے ساتھ آخری ملاقات یاد ہے۔

’اس کے چہرے پر مخصوص شرمانے والی مسکراہٹ تھی اور اس نے بتایا کہ وہ اسلام آباد چھوڑ کر لاہور جا رہے ہیں جہاں سول سروس امتحانات کی تیاری کریں گے۔‘

’اس نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا تھا کہ وہ غیر ملکی سکالرشپ حاصل کرنا چاہتا ہے، میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ میں اس کے ساتھ کچھ سکالرشپس کے لنک شیئر کروں گا۔ اس کو اس جوانی میں نہیں مرنا چاہیے تھا۔‘

شعبہ ڈیفنس اینڈ سٹریٹجک سٹڈیز میں شہداد بلوچ کی ایک استاد نے فیس بک پر ایک تفصیلی نوٹ لکھا ہے۔

خان پور کے ایک مطالعاتی دورے کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں: ’میں ایک فروٹ سٹال پر موجود تھی۔ دو نوجوانوں نے قریب بیٹھنے کی اجازت طلب کی، ان میں سے ایک شہداد بلوچ تھا جس کو میں نے ایک کورس پڑھایا تھا، اس روز اس نے اپنے کالج کے زمانے کے کچھ واقعات بتانا شروع کیے جن کا بطور طالب علم اور ایکٹوٹسٹ اس نے سامنا کیا تھا۔‘

’اس میں جو درد تھا اس کا میں اندازہ لگا سکتی تھی مجھے خوف تھا کہ وہ بریک ڈاؤن نہ ہو جائے اس کی آنکھوں میں آنسو آئے لیکن اس نے اس ان کو قابو کر لیا۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’گذشتہ کئی برسوں سے ریاست نے نرم دل اور حساس نوجوان لڑکے لڑکیوں کا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے جو بدقسمتی سے خوشگوار ماحول میں پیدا نہیں ہوئے۔ بجائے ان کی تکلیفوں کا مداوا کرنے کے ریاست نے اس کو دوسرے انداز میں دیکھنا شروع کردیا۔ جب یہ نوجوان دیوار سے سر مار کر توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرے تو ریاست اس کو گناہ کے طور پر دیکھتی ہے اور اس کا بھرپور انداز میں جواب دیا جاتا ہے۔‘

’ایک ذہین نوجوان اگر بی ایل اے کی طرف چلاجاتا ہے (یہ جاننے کے باوجود کہ ریاست کے پاس جو اختیار ہیں اس سے جیتنا ممکن نہیں)۔ ہم سب نے جو مرکزی دھارے کا حصہ ہیں اسے فیل کر دیا۔ ہم اس کے لیے گنجائش پیدا کرنے میں ناکام رہے، ہم اس کو یہ بھی یقینی دہانی کرانے میں ناکام رہے کہ اس ملک میں بطور بلوچ اس کی پروقار زندگی ہے۔‘

شہداد بلوچ کے طالب عملی کے ایک دوست کا کہنا ہے کہ شہداد نے کبھی بھی اس چیز کا اظہار نہیں کیا کہ وہ مسلح جدوجہد میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

البتہ جب بھی بلوچستان میں کبھی کسی کارکن کو لاپتہ کیا جاتا تھا یا اُس کی مسخ شدہ لاش ملتی تھا یا کسی صحافی یا ٹیچر کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا تھا تو وہ جذباتی ہو کر کہتے کہ یار یہ ریاست صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے، یہاں ہمارے جیسے عدم تشدد والے اسی طرح ہر روز بے موت مارے جائیں گے۔

یہ دوست شہداد اور اپنے مشترکہ دوست رسول جان کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کی جبری گمشدگی ہوئی اس کے بعد تشدد شدہ لاش ملی، اس کے علاوہ بھی کئی جاننے والے لاپتہ ہوئے اور ان کی لاشیں ملیں میں۔ سمجھتا ہوں کہ ان واقعات نے شہداد کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑے اور شاید اسی سبب اُس نے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔

شہداد بلوچ کی ہلاکت کے بعد ایک ویڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتا رہا ہے، جس میں وہ پاکستان کے نامور صحافی حامد میر کے پروگرام میں سنہ 2018 میں چین پاکستان اقتصادری راہدری پروگرام کے سربراہ احسن اقبال سے سوال کر رہے ہیں کہ ریکوڈک بھی تھا، سیندک بھی تھا اور سوئی گیس بھی نکلی لیکن یہ سارے منصوبے بلوچستان اور بلوچستان کے لوگوں کی زندگیاں تبدل نہیں کر پائے تو پھر سی پیک کس طرح ہمارا مستقبل تبدیل کر سکتا ہے، دوسرا جو بھی حکومت آتی ہے وہ دینے کی بجائے کچھ نہ کچھ لے جاتی ہے تو کچھ ملے گا بھی سی پیک سے؟

احسن اقبال اس نوجوان (شہداد بلوچ) کے سوال پر حامد میر کو مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اس نوجوان نے جو بات کی وہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ ماضی میں اس کو نظر انداز کر کے بہت زیادتی کی گئی ہے، وزیراعظم کا ایک ویژن ہے کہ ان تمام سیاسی شکایت کا ازالہ ترقی کے ساتھ کر سکتے ہیں۔

فیس بک پر اسی ویڈیو کے ساتھ ایک سطر موجود ہے کہ سنہ 2018 میں نہیں سنہ 2020 میں شہداد کو سوال کا جواب مل گیا۔