پنجگور، نوشکی میں ایف سی پر حملے: کیا بلوچ شدت پسندوں کی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے؟

پنجگور حملہ
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقوں نوشکی اور پنجگور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حالیہ حملے ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنگین اور منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے حملے تھے جنھوں نے پاکستان میں سکیورٹی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

بلوچستان میں حالیہ حملے میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی اس مربوط کوشش کا آغاز یکم فروری کو ہوا تھا اور پاکستانی فوج کے مطابق جہاں نوشکی میں کارروائی چند گھنٹے بعد ہی ختم ہو گئی وہیں پنجگور میں 48 گھنٹے گزر جانے کے باوجود آپریشن کے خاتمے کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز فرار ہو کر علاقے میں ہی پناہ لینے والے چند حملہ آوروں کی تلاش میں ہیں۔

اب تک سرکاری طور پر ایک افسر سمیت کم از کم سات فوجیوں کی ہلاکت اور چار کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ جوابی کارروائی میں 13 حملہ آوروں کو بھی ہلاک کرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

ان حملوں کے باعث یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں، ایسی تربیت اور اہلیت حاصل کر چکی ہیں کہ وہ اس قسم کے مربوط اور سلسلہ وار حملے کر سکیں اور پھر کئی گھنٹوں تک سکیورٹی فورسز کے جوانوں کا مقابلہ بھی کر سکیں۔

نوشکی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

غیر معمولی تربیت یافتہ حملہ آور

ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ کی جانب سے قبول کی گئی اور حکومت اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ آور غیر معمولی تربیت یافتہ تھے۔

نوشکی اور پنجگور میں حملوں سے قبل دالبندین میں چینی انجنیئروں کی بس، کراچی میں چینی قونصلیٹ اور کراچی سٹاک ایکسیچینج پر بلوچ شدت پسندوں کے حملوں میں حملہ آور جانی نقصان نہیں پہنچا پائے تھے اور اس سے پہلے ہی ہلاک کر دیے گئے تھے۔

ان حملوں کے مقابلے میں حالیہ حملوں کی جہاں شدت زیادہ تھی، وہیں ہلاکتیں بھی زیادہ ہوئی ہیں۔

ان حملوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ان میں وہ طریقۂ کار بھی استعمال کیا گیا جو ماضی میں پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والی سب سے بڑی شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان استعمال (ٹی ٹی پی) کرتی رہی ہے۔

نوشکی میں ایف سی کے کیمپ پر حملے کا آغاز بارود سے بھری گاڑی کے کیمپ کے داخلی دروازے پر دھماکے سے کیا گیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر نعیم گچکی کے مطابق بدھ دو فروری کی شام ساڑھے سات بجے کے قریب گاڑی داخلی دروازے سے ٹکرائی جس کے بعد دھماکہ ہوا اور اس کے بعد دیگر حملہ آور اندر داخل ہوئے۔

حکام کا اندازہ ہے کہ اس خودکش حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی میں 30 کلوگرام کے قریب بارودی مواد موجود تھا۔

برطانیہ میں موجود اسلامک تھیالوجی آف کاؤنٹر ٹیررازم کے ڈائریکٹر فاران جعفری کہتے ہیں کہ ’اس خودکش حملے کے لیے گاڑی کا استعمال کیا گیا۔ یہ طریقۂ کار تو جہادی گروہ استعمال کرتے آئے ہیں جبکہ بی ایل اے نے جو تصاویر جاری کی ہیں وہ سارے بلوچ ہی ہیں۔‘

بلوچستان

فاران جعفری کا خیال ہے ایسی کارروائی کی تربیت کے لیے تحریک طالبان جیسی تنظیم کی مدد کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلوچ شدت پسندوں کے سکیورٹی فورسز سے دو روز تک مقابلے کی نظیر بھی ماضی میں نہیں ملتی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’بلوچ عسکریت پسندی کی ساری تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ایسے حملے کی مثال نہیں ملتی یعنی ایک ساتھ دو مقامات حملے۔ یہ غیر روایتی تھا۔ حملہ آوروں نے دو روز لڑائی کی ہے اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ وہ بہت ہی اعلیٰ سطح کے تربیت یافتہ تھے اور انھیں تربیت اور لاجسٹک کے حوالے سے کہیں نہ کہیں سے مدد حاصل تھی۔‘

فاران جعفری کے مطابق یہ عین ممکن ہے کہ بلوچ شدت پسند افغانستان میں غیر ملکی افواج سے برسرِپیکار رہنے والے شدت پسندوں سے بھی تربیت لے رہے ہوں۔

انھوں نے کہا کہ ’افغانستان میں شدت پسند جنگ سے فارغ ہو چکے ہیں۔ اب ایسا تو نہیں ہے کہ امریکی اور نیٹو افواج چلی گئیں تو وہ اسلحہ چھوڑ کر اپنے گھروں کو جائیں گے اور کوئی وائٹ کالر ملازمت کریں گے۔ انھیں تو صرف لڑائی آتی ہے۔ اب وہ اپنی صلاحیتیں پھیلا رہے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

جدید اسلحے کا حصول

نوشکی اور پنجگور میں ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کی جاری کی گئی تصاویر میں ان کے پاس آر پی جی راکٹ لانچر اور دیگر جدید اسلحہ دیکھا جا سکتا ہے۔

بلوچستان میں سنہ 1970 کی دہائی کی عسکریت پسند تحریک میں شامل ایک سابق مزاحمت کار کا کہنا ہے کہ اس وقت ایم ون، سیون ایم ایم، تھری ناٹ تھری جیسی رائفلز تھیں یا جھڑپ میں جو اسلحہ فورسز سے چھینا جاتا تھا وہ دستیاب تھا تاہم لانگ رینج ہتھیار نہیں تھے لیکن حالیہ جھڑپوں میں نظر آتا ہے کہ فریقین کے پاس تقریباً یکساں اسلحہ ہے۔

دنیا میں اسلحے پر تجزیے اور تحقیقی ادارے کلیبر ابسکیورا کی رپورٹ کے مطابق بلوچ عسکریت پسند ڈریگنوف سنائپر رائفل اور رومانیہ کی بنی ہوئی ایس ایل ڈی ایم آر رائفل استعمال کر رہے ہیں جو کہ دونوں لانگ رینج رائفلز ہیں۔

اسلامک تھیالوجی آف کاؤنٹر ٹیررازم کے ڈائریکٹر فاران جعفری کہتے ہیں کہ ’نوشکی اور پنجگور میں جو حملہ ہوا اس میں حملہ آور جدید اسلحے و سازو سامان بشمول نائٹ ویژن آلات سے مسلح تھے۔

’حکام نے فون سروس نیٹ ورک جام کیا ہوا تھا اس کے باوجود وہ اپنے ساتھیوں سے رابطے میں تھے اس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس سیٹلائیٹ فون بھی تھے۔‘

پنجگور حملہ
،تصویر کا کیپشنفاران جعفری کہتے ہیں کہ نوشکی اور پنجگور میں جو حملہ ہوا اس میں حملہ آور جدید اسلحے و سازو سامان بشمول نائٹ ویژن آلات سے مسلح تھے

پاکستانی حکام جدید اسلحے اور ایسی کارروائیوں کی فنڈنگ کے لیے پاکستان کے روایتی حریف انڈیا کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حملہ آور بیرونِ ملک اپنے ہینڈلرز سے رابطے میں تھے۔

واشنگٹن میں موجود صحافی اور تجزیہ نگار ملک سراج اکبر کہتے ہیں کہ ’پانچ سے دس برسوں میں بلوچ عسکریت پسندوں کی کارروائیاں زیادہ منظم اور موثر ہو گئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب ان کے پاس جدید ہتھیار آ گئے ہیں کیونکہ اس خطے میں گذشتہ دو دہائیوں سے افغانستان کی جنگ کی وجہ سے اسلحے کا بول بالا رہا ہے۔

فاران جعفری بھی جدید اسلحے کے حصول کے لیے افغانستان کو ہی بڑی منڈی سمجھتے ہیں لیکن ان کے خیال میں ضروری نہیں کہ شدت پسندوں کو اسلحہ کوئی ملک یا گروپ ہی فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا افغانستان سے بڑے پیمانے پر اسلحہ فراہم ہوا ہے اور ہر گروپ کو ملا ہے۔

’اس وقت بھی بڑے پیمانے پر اسلحے کی اسمگلنگ جاری ہے۔ اسلحہ امریکی ساختہ ہے، روسی، چینی یا انڈین اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ جتنا اسلحے کا فروغ ہوا ہے اس سے ہر طرح کا اسلحہ بلیک مارکیٹ میں مل جائے گا۔ ضروری نہیں ہے کہ کوئی ملک یا گروپ فراہم کرے بلیک مارکیٹ اتنی بڑی ہے اسے باآسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘

کیا ٹی ٹی پی اور بی ایل اے میں اتحاد ہے؟

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا دعویٰ ہے کہ نوشکی اور پنجگور میں ہونے والے حملوں میں بلوچ شدت پسندوں کو تحریک طالبان پاکستان کی حمایت حاصل رہی ورنہ بی ایل اے اور اس جیسی دیگر جماعتوں میں ایسی قابلیت و صلاحیت نہیں۔

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان نے بی بی سی کی جانب سے تحریری طور پر بھیجے گئے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر شیخ رشید کے تحریکِ طالبان سے مدد لینے کے الزام کو مسترد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بی ایل اے اس وقت محض ایک اتحاد بلوچ راجی آجوئی سنگر ( براس) کا حصہ ہے، جس میں بی ایل اے، بی ایل ایف ، بی این اے، بی آر جی اور ایس آر اے شامل ہیں۔

’ان میں سے تین بلوچ آزادی پسند سیکولر مسلح تنظیمیں ہیں اور ایک سندھی آزادی پسند سیکولر مسلح تنظیم ہے، اس کے علاوہ بی ایل اے کسی بھی اتحاد کا حصہ نہیں۔‘

پنجگور حملہ

تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی میں رابطہ ضرور موجود ہے۔

برطانیہ میں موجود اسلامک تھیالوجی آف کاؤنٹر ٹیرر ازم کے ڈائریکٹر فاران جعفری کہتے ہیں کہ ’ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کا کوئی اعلانیہ اتحاد تو نہیں ہوا تاہم ٹی ٹی پی کا میڈیا سیل مسنگ پرسنز کے معاملات، بلوچستان میں مبینہ ظلم، بی ایل اے کے جھنڈوں کے ہمراہ لوگوں کو دکھاتا رہا ہے جبکہ ایک علیحدگی پسند گروپ کے حامی میڈیا آؤٹ لیٹ نے ٹی ٹی پی کے ترجمان خراسانی کا انٹرویو بھی چلایا تھا۔‘

ان کے مطابق ’گذشتہ دو ڈھائی برسوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ دونوں گروپ افغانستان میں موجود تھے اور امکان یہی ہے کہ وہاں ان کے رابطے ہوئے ہیں۔‘

اس سلسلے میں تحریک طالبان پاکستان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تاہم ان کا جواب سامنے نہیں آ سکا۔

بی ایل اے سردار سے نوجوان قیادت

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جدید اسلحے کے حصول اور تربیت کے علاوہ نوجوان خون کی شمولیت نے بھی بی ایل اے کو قوت بخشی ہے۔

واشنگٹن میں موجود صحافی اور تجزیہ نگار ملک سراج اکبر کہتے ہیں کہ بی ایل اے کی قیادت بھی روایتی سرداروں کے بجائے نوجوانوں کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔

ان نوجوانوں کا طلبہ سیاست میں بڑا تجربہ ہے اب یہ تنظیم (بی ایل اے) ان نوجوانوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے۔

’اس وقت بلوچستان سے باہر یعنی لاہور، اسلام آباد میں جو نوجوان یونیورسٹیز میں پڑھنے جاتے ہیں، ان میں سے جب کچھ واپس آتے ہیں تو کئی ریڈیکلائزڈ ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلے چند برسوں میں بلوچستان کی سیاست کافی پیچیدہ ہو گئی ہے۔

نوشکی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’بلوچستان عوامی پارٹی کا مسلط کرنا ہو یا چین پاکستان اقتصادی راہداری ہو یا گوادر میں باڑ لگانے کا معاملہ۔ ان تمام معاملات کے حوالے سے ان نوجوانوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ان کی شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ انھیں سنا نہیں جا رہا ہے۔ نتیجتاً نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی جدجہد کے بجائے کہیں اور ہے۔‘

ملک سراج اکبر نے الزام عائد کیا کہ ’پاکستان کا مین سٹریم میڈیا بلوچستان کے بارے میں سچ چھپاتا ہے‘ اور ان کے مطابق اس صورتحال میں ’عسکریت پسند تنظیموں نے اپنے پیغام کی تشریح کے لیے سوشل میڈیا کا اچھا خاصا استعمال کیا ہے۔

’وہ ان پلیٹ فارمز کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ ان تنظیموں نے نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے سے لے کر انھیں بھرتی کرنے کے سلسلے میں سوشل میڈیا کو موثر انداز میں استعمال کیا ہے۔‘

افغان طالبان کا کردار

پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے جمعے کو کہا کہ نوشکی اور پنجگور میں حملہ آوروں کی ’جو کمیونیکیشن پکڑی گئی ہے اس میں یہ لوگ افغانستان اور انڈیا کے ساتھ رابطے میں تھے۔‘پاکستان افغانستان سے مسلسل یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے اور برسراقتدار آنے کے بعد افغان طالبان کی جانب سے بھی بارہا اس مطالبے کو تسلیم کرنے کی بات کی گئی ہے۔

امارات افغانستان کے نائب ترجمان بلال کریمی نے شیخ رشید کے موقف کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔

’ہمارا یہ اصولی موقف ہے اور خواہش ہے کہ افغانستان کی زمین پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہاں امن ہوگا تو یہاں بھی امن ہو گا۔‘

تاہم فاران جعفری کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے ابھی تک کسی بلوچ علیحدگی پسند کو پاکستان کے حوالے نہیں کیا۔ ’ٹی ٹی پی کے ساتھ تو ان کی نظریاتی وابستگی ہے یہ بات تو سمجھ میں آ سکتی ہے تاہم بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ تو کوئی مشترکہ نظریات نہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ افغان طالبان نے نمروز میں کچھ بلوچ عسکریت پسند گرفتار کیے تھے لیکن انھیں پاکستان کے حوالے نہیں کیا گیا اور بعد میں وہ ایران میں نظر آئے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انھیں ایران کے حوالے کیا یا وہ رہا ہونے کے بعد خود وہاں چلے گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسندوں اور شدت پسندوں کے لیے اس صورتحال میں تحریک آسان ہو گئی ہے جبکہ پہلے وہ کچھ محدود تھی۔