مری میں سیاحوں کی ہلاکتیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کا وزیراعظم کو کوتاہی کے مرتکب افراد کی نشاندہی کا حکم

کلڈنہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم عمران خان کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک ہفتے میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کا اجلاس طلب کر کے پنجاب کے تفریحی مقام مری میں 22 سیاحوں کی ہلاکت کے واقعے میں کوتاہی کے مرتکب افراد کی نشاندہی کریں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن وزیراعظم پاکستان کی زیرِ سربراہی کام کرنے والا وہ پالیسی ساز ادارہ ہے جو قدرتی آفات سے نمٹنے کے سلسلے میں حکمتِ عملی تیار کرنے کا ذمہ دار ہے۔ پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کا قومی ادارہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اسی ادارے کے تحت کام کرتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے این ڈی ایم سی کا اجلاس بلانے کا حکم جمعرات کو مری میں برف باری کے دوران 22 افراد کی ہلاکت سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران دیا گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ تشکیل کے بعد سے اس کمیشن کے صرف دو اجلاس ہی منعقد ہوئے ہیں جن میں سے پہلا 2013 اور دوسرا 2018 میں ہوا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پوری ریاست ان ہلاکتوں کی ذمہ دار ہے۔ انھوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے نے اس واقعے میں اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے سے متعلق بنایا گیا قانون موجود تو ہے لیکن بدقسمتی سے اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا اور اس قانون کے تحت ضلعے کی سطح پر بھی ذمہ داروں کا تعین ہوتا ہے۔

ایڈشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس بارے میں قانون کا جائزہ لینا پڑے گا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی کے لیے قانون سنہ 2010 میں بنا تھا اور وہ سنہ 2022 میں عدالت کو بتا رہے ہیں کہ انھیں اس بارے میں چیک کرنا پڑے گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر اس قانون پر عمل ہوا ہوتا تو ایک شہری کی بھی ہلاکت نہ ہوتی۔ سماعت کے دوران انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سب کہہ رہے ہیں کہ مری کے لوگ اچھے نہیں ہیں۔ اس میں ان کا کیا قصور ہے؟

انھوں نے کہا کہ اگر ڈسٹرکٹ پلان بنا ہوتا تو کوئی بھی ہوٹل والا لوگوں سے اضافی پیسے لینے کی جرات نہ کرتا۔

اس درخواست کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ حکومتِ پنجاب نے بھی مری میں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمیٹی قائم کی تھی جس نے بدھ کو مری پہنچ کر کام شروع کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کمیٹی کے ارکان چار دن مری میں ہی قیام کریں گے اور سیاحوں کی ہلاکت کی وجوہات اور انتظامی سطح پر ہونے والی کوتاہیوں اور غفلت کے حوالے سے تحقیقات کریں گے۔

یاد رہے کہ پنجاب کے پہاڑی تفریحی مقام مری میں گذشتہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب شدید برف باری کے دوران گاڑیوں میں پھنسے 20 سے زائد سیاح ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پنجاب حکومت نے اس سلسلے میں آٹھ جنوری کو تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ یہ کمیٹی سات دن کے اندر تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

پنجاب حکومت کی جانب سے قائم تحقیقاتی کمیٹی ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب ظفر نصراللہ کی سربراہی میں کام کرے گی، جبکہ دیگر اراکین میں سیکریٹری حکومت پنجاب علی سرفراز، سیکریٹری حکومت پنجاب اسد گیلانی، اے آئی جی پولیس فاروق مظہر شامل ہیں جب کہ پانچویں رکن کی نامزدگی بعد میں کی جائے گی۔

تحقیقات کے دوران کمیٹی کے ارکان پنجاب کے مختلف محکموں کے افسران جن میں محکمہ سیاحت، ہائی وے ڈویژن مری، ضلعی انتظامیہ کے عہدیداروں یعنی کمشنر، ڈی سی، اے سی، سٹی پولیس کے علاوہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ (این ڈی ایم اے ) اور صوبائی محکمہ قدرتی آفات (پی ڈی ایم اے) کے ارکان سے بھی تحقیقات کرے گی۔

تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان جائے وقوعہ کا جائزہ لینے کے علاوہ سیاحوں کے بیانات ریکارڈ کر کے رواں ہفتے کے آخر میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو رپورٹ پیش کریں گے۔

تحقیقاتی کمیٹی کن سوالات کے جواب جاننے کی کوشش کرے گی؟

کمیٹی یہ تحقیقات کرے گی کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس سمیت متعلقہ محکموں نے محکمہ موسمیات کی جانب سے خراب موسم کی پیشگوئی کے باوجود کوئی مشترکہ ایکشن پلان بنایا تھا یا نہیں۔

کمیٹی اس بات پر بھی تحقیقات کرے گی کہ جب مری میں گاڑیاں گنجائش سے زیادہ ہو رہی تھیں تو گلیات اور اسلام آباد سے انٹری پوائنٹس پر سیاحوں کو کیوں نہ روکا گیا۔

اس کے علاوہ کمیٹی اس حادثے کی وجوہات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ریسکیو آپریشن کے مؤثر ہونے یا نہ ہونے کا بھی جائزہ لے گی۔

مری میں برف باری

،تصویر کا ذریعہSania Dawood

یہ تحقیقاتی کمیٹی ان آٹھ سوالوں کے ممکنہ جوابات کے حوالے سے تحقیقات کرے گی:

  • محکمہ موسمیات نے مری کے حوالے سے کئی وارننگز جاری کیں، اس کے باوجود کیا متعلقہ محکموں نے جوائنٹ ایکشن پلان ترتیب دیا؟
  • کیا الیکٹرانک، پرنٹ یا سوشل میڈیا کے ذریعے سفری تجاویز جاری کی گئی؟
  • کیا اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں اور سیاحوں کو سنبھالنے کے لیے کوئی پالیسی ترتیب دی گئی؟
  • جب مری میں رش ایک حد سے بڑھ گیا تو اسلام آباد اور مری کے داخلی راستوں پر گاڑیوں کو کیوں نہیں روکا گیا؟
  • کیا ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے کوئی منصوبہ بندی کی گئی تھی؟
  • کیا پھنسے ہوئے لوگوں کو پناہ دینے کے لیے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز کو ہدایات جاری ہوئیں؟
  • جب برف کا طوفان آیا تو ریکسیو آپریشن کی تفصیلات کیا تھیں؟ کیا لوگوں کو گاڑیوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر بروقت منتقل کیا گیا؟
  • وہ کون سی وجوہات تھیں جو اس سانحے کا باعث بنیں؟

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے مری میں سیاحوں کی ہلاکتوں پر تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کڑے قواعد لاگو کرنے کے احکامات صادر کر چکے ہیں۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ’مری کے راستے میں سیاحوں کی المناک اموات پر نہایت مضطرب اور دلگرفتہ ہوں۔ ضلعی انتظامیہ خاطرخواہ حد تک تیار نہ تھی کہ غیر معمولی برفباری اور موسمی حالات کو ملحوظِ خاطر رکھے بغیر لوگوں کی بڑی تعداد میں آمد نے آ لیا۔‘

برفباری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مری کو ضلعے کا درجہ دینے کا فیصلہ

وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی صدارت میں گذشتہ اتوار کو منعقدہ ایک اجلاس کے بعد جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق مری کو ضلع کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ مری فی الحال ضلع راولپنڈی کی تحصیل ہے۔

اجلاس میں مری کی سڑکوں کی تعمیرِ نو، پارکنگ کی سہولیات اور غیر قانونی تعمیرات سے متعلق بھی فیصلے لیے گئے جبکہ مری جانے والی گاڑیوں اور لوگوں کی تعداد کو بھی محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

دوسری جانب مری میں ایک مقامی ہوٹل کو برف میں پھنسے افراد کے لیے کمروں کے کرائے بڑھانے پر سِیل کر دیا گیا ہے۔ کرایوں میں اضافے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر 'بائیکاٹ مری' کی مہم بھی چل رہی ہے۔