مری میں برفباری میں پھنسے سیاح: ’برف کی قبر میں دھنس گیا تھا، خوش قسمت تھا بچ گیا‘

مری

،تصویر کا ذریعہUmair Abbasi

پاکستان کے تفریحی مقام مری اور اس کے گردونواح میں جمعے کی شب برف ہونے والی شدید برفباری دو درجن کے قریب افراد کے لیے پیغامِ اجل ثابت ہوئی اور سنیچر کو دن بھر گلڈنہ اور باڑیاں کے علاقے میں امدادی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

شدید برفباری کے نتیجے میں سڑکوں پر درخت اور بجلی کے کھمبے گرے اور امدادی اداروں کے کارکنوں کے پہنچنے تک مقامی لوگ جگہ جگہ کھڑی گاڑیوں کے شیشوں پر دستک دے کر ان کی خیریت پوچھنے کی کوشش کرتے اور اندر موجود افراد کو طبی امداد دینے کی کوشش بھی کی جاتی رہی۔

ایسی گاڑیوں میں طویل وقت تک بیٹھے رہنے، شیشوں کو بند کرنے اور ہیٹر آن ہونے کی وجہ سے آکسیجن کی کمی سے اب تک 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ درجنوں سیاحوں کو امدادی کارکنوں کی جانب سے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔

ثانیہ داؤد بھی ان سیاحوں میں شامل تھیں جو مری میں برفباری کے بعد وہاں پھنس گئیں۔ بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ سے گفتگو میں ثانیہ داؤد نے بتایا کہ وہ اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ جمعے کی شب مری کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔

سنیچر کی صبح ان کا کہنا تھا ’ہم لوگ اس وقت جھیکا چوک سے دو سو میٹر کے فاصلے پر ہیں۔ یہاں واش روم کے لیے لائن لگی ہوئی ہے اور سڑک پر دور دور تک صرف گاڑیاں پھنسی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ ہم صبح بچوں کو تھوڑی سی واک کر کے ناشتہ کرانے لے گئے لیکن اب پتا چلا ہے کہ گیس بھی کم ہو چکی ہے۔ راستے میں پھسلن کی وجہ سے نہ گاڑی نکل سکتی ہے اور نہ ہی اب ہم لوگ کہیں نکل سکتے ہیں۔‘

ریحان عباسی جو جمعے کی شب اپنے آبائی علاقے بیروٹ جا رہے تھے، کا کہنا ہے کہ وہ جمعے کی شام چھ بجے سے برف میں پھنسے ہوئے ہیں۔

سنیچر کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’میں ابھی تک برف میں پھنسا ہوا ہوں۔ لوگوں کی گاڑیوں میں ایندھن ختم ہو چکا ہے۔ انتہائی سردی ہے۔ میں نے اپنی گاڑی میں اس طرح وقت گزارا ہے۔ جیسے بس یہ سمجھ لیں کہ میں برف کی قبر میں دھنسا ہوا ہوں۔ قسمت تھی کہ بچ گیا ہوں۔‘

مری کے رہائشی مہتاب عباسی نے نامہ نگار بی بی سی حمیرا کنول سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں برفباری کے دوران ایسی صورتحال نہیں دیکھی۔

انھوں نے بتایا کہ وہ سنی بینک میں مرکزی شاہراہ پر موجود ہیں جبکہ ان گاڑی گذشتہ روز سے گلڈنہ سے دو کلومیٹر پیچھے پھنسی ہوئی ہے۔

،ویڈیو کیپشنمری میں شدید برفباری کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں

انھوں نے بتایا کہ وہ گذشتہ روز صبح ساڑھے گیارہ بجے باڑیاں سے نکلے تو اس وقت برفباری شروع ہو چکی تھی۔ ’جمعے کے دن دوپہر بارہ بجے برفباری کا آغاز ہوا۔ میں ٹریفک میں پھنس گیا تو گلڈنہ سے دو کلومیٹر پیچھے ہی گاڑی سے اترا اور پیدل چلنے لگا۔ برفباری کا سلسلہ صبح چھ بجے کے بعد تھم گیا ہے اور اب ہلکی ہلکی دھوپ نکل آئی ہے۔‘

مہتاب نے بتایا کہ رات کو تو انتظامیہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی لیکن اب امدادی اداروں کے اہلکار پیدل جا کر گاڑیوں میں محصور سیاحوں کی مدد کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مہتاب کہتے ہیں کہ مرکزی علاقوں میں ہوٹل تو کھل گئے ہیں لیکن شدید ٹریفک کی وجہ سے سیاح ایسی جگہوں پر ہیں جہاں سے ان کے لیے یہاں تک پہنچنا مشکل ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’اس وقت مشینری کو آگے پیچھے لے جانے میں بھی مشکلات دکھائی دے رہی ہیں۔ ہائی وے کی ایک گاڑی سنی بینک پر پھنسی ہوئی ہے اور دو مشینیں اس سے آگے پھنسی ہوئی ہیں۔‘

مہتاب عباسی کے مطابق اس وقت مری میں بجلی نہیں اور جگہ جگہ بجلی کی تاریں گری ہوئی ہیں۔

مری برفباری

،تصویر کا ذریعہSania Dawood

’کچھ گاڑیوں پر دستک دے رہے ہیں تو وہاں سے کوئی جواب نہیں ملتا‘

امدادی سرگرمیوں میں شریک ایک مقامی شخص نے بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کو بتایا کہ مقامی لوگوں نے اپنے گھروں میں سیاحوں کو جگہ دی ہے جبکہ ہوٹلوں میں بھی لوگوں کو رہائش دی جا رہی ہے اس کے علاوہ دختران اسلام نامی اکیڈمی میں بھی سیاحوں کو رہائش دی گئی ہے۔

’رات کو انتظامیہ کا فوکس مرکزی سیاحتی مقام پر رہا۔ کلڈنہ کا زیادہ علاقہ جنگل میں ہے انتظامیہ صبح وہاں پہنچی میں خود وہیں موجود ہوں۔ رضاکارانہ طور پر مقامی لوگ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام میں مدد کر رہے ہیں۔‘

صحافی زبیر خان کے مطابق مری روڈ کی نواحی بستی اور امدادی کاموں میں اس وقت شریک ایک شخص گل حسن کے مطابق کچھ گاڑیاں ایسی ہیں جن پر دستک دے رہے ہیں تو وہاں سے کوئی جواب نہیں ملتا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے دو ایسی گاڑیوں کی نشاندہی کی ہے۔ جن کے بارے میں حکام کو آگاہ کیا گیا ہے، ان گاڑیوں پر دستک دی تو کوئی جواب نہیں ملا۔

امدادی کاموں میں شریک اور ایک شخص محمد محسن کا کہنا ہے کہ ہمیں تو لگتا ہے کہ جو صورتحال بتائی جا رہی ہے، حقیقت اس سے زیادہ بری ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صبح سے امدادی کارکناں مصروف عمل ہیں اور مقامی لوگ بھی مصروف ہیں مگر ہمارے خیال میں یہ سرگرمیاں بہت کم ہیں۔ ہمیں امدادی سرگرمیوں میں انتہائی تیزی پیدا کرنا ہو گی۔

مری برفباری

،تصویر کا ذریعہRescue 1122

’پہلی بار سن رہے ہیں کہ مری میں اتنے لوگ ہلاک ہو گئے‘

مری میں ایک ہوٹل کے مالک کاظم عباسی نے بی بی سی کی حمیرا کنول کو بتایا کہ انھوں نے گذشتہ روز دس خاندانوں کو رہائش فراہم کی لیکن صبح روکے جانے کے باوجود وہ ہوٹل سے چلے گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ شام پانچ بجے برفباری کا پھر سے آغاز ہو جائے گا جبکہ پانچ فٹ تک برف پہلے ہی پڑ چکی ہے اور جو مسافت پیدل 10 منٹ کی تھی اب وہ دو گھنٹے کی ہو چکی ہے اور گاڑی چلنے کا تو سوال ہی نہیں۔

’پہلے سے معلوم تھا کہ شدید برفباری ہو گی اور ہم نے اپنے سوشل میڈیا پیجز پر سیاحوں سے اپیل بھی کی تھی کہ اگر مری آنا بھی ہے تو اتوار یا پیر کو آئیں لیکن اس وقت بھی ہم سن رہے ہیں کہ ٹول پلازہ سے لوگ پیدل مری کی جانب جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کاظم کہتے ہیں کہ ’ایک ہی حل ہے کہ جو بھی ادارے کام کر رہے ہیں وہ بیلچہ بردار فورس کو لے کر آئیں۔‘

کاظم کے مطابق ماضی میں جب بھی مری میں برفباری ہوئی تو ’تحصیل میونسپل کمیٹی کی بیلچہ بردار فورس ہوتی تھی۔ شہر ان بیلچہ بردار فورس کے اہلکاروں کی جانب سے کلئیر ہوتا تھا اور ان کے ساتھ ہائی وے والے کام کرتے تھے۔‘

کاظم کہتے ہیں کہ یہاں تین سال پہلے بھی ایسی صورتحال پیدا ہوئی تھی لیکن مری میں ایک بھی جان کا نقصان نہیں ہوا تھا اور اس کی وجہ اداروں کی جانب سے وقت سے پہلے موسم کا مقابلہ کرنے کے لیےمنصوبہ بندی تھی۔

’جب بھی مری میں برفباری ہوتی ہے چھیکا گلی، مال روڈ، جی پی او چوک، گلڈنہ، کارٹ روڈ (سنی بینک سے بس سٹینڈ جاتا ہے) یہاں کی اپنی مشین ہوتی تھی لیکن اس بار پہلے سے منصوبہ بندی دکھائی نہیں دی اور پہلی بار ہے کہ ہم سن رہے ہیں کہ مری میں اتنے لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

مری برفباری

،تصویر کا ذریعہKazim Abbasi

شدید برفباری میں پھنس جائیں تو کیا کریں؟

پوری دنیا میں برف پڑنے سے پہلے تنبیہ جاری کی جاتی ہے کہ اس علاقے میں موسم کبھی بھی خراب ہوسکتا ہے اس لیے گھر میں رہیں لیکن مری میں الرٹ جاری کرنے میں بہت دیر کر دی گئی۔

اس بارے میں ماہر ماحولیات توفیق پاشا معراج نے بی بی سی کی سحر بلوچ کو بتایا کہ برفباری کی صورت میں انتظامیہ کو سب سے پہلے مری جانے والی سڑکیں بند کرنی چاہیے تھیں۔

وہ اس حوالے سے چند احتیاطی تدابیر بتاتے ہیں جن پر عمل کر کے برفباری میں پھنسے سیاح مزید نقصان سے بچ سکتے ہیں:

  • جو لوگ گاڑیوں میں اپنے بچوں یا گھر والوں کے ساتھ بند ہیں وہ مدد آنے تک اپنی گاڑی کا پیٹرول یا ڈیزل بچانے کے لیے اسے بند کر دیں۔
  • گاڑی کو کسی کی مدد سے سڑک کے کنارے پر پارک کریں نہ کہ بیچ راستے میں، ٹائر پر لوہے کی زنجیر لگا دیں اور ہو سکے تو گاڑی کو گرم رکھنے کے لیے ہیٹر نہ چلائیں۔
  • لوگ بھری گاڑی میں بھی ہیٹر چلا دیتے ہیں جس سے گاڑی میں گھٹن ہونے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ اگر آپ ایک گاڑی میں دو سے تین لوگ ہیں تو ویسے ہی انسانی جان کی گرمی سے گاڑی اندر سے گرم ہی رہے گی۔
  • کسی بھی صورت اپنی گاڑی کو چھوڑ کر پیدل نہ نکلیں کیونکہ آپ جہاں کھڑے ہیں اس سے آگے موسم کی کیا صورتحال ہے اس کا اندازہ آپ نہیں لگا سکتے۔ سڑک پر تنہا پھنسے سے گاڑی کے اندر بیٹھنا قدرے بہتر ہے۔