مری میں برفباری سے ہلاکتیں: ’ہم برف میں پھنسے ہوئے ہیں‘ نوید کا اہلیہ کو آخری پیغام

نوید

،تصویر کا ذریعہاسلام آباد پولیس

،تصویر کا کیپشناپنے خاندان کے سات افراد سمیت گاڑی میں ہلاک ہونے والے نوید اقبال
    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

اے ایس آئی نوید اقبال نے اپنی اہلیہ کو جمعے کی شب گیارہ بجے بتایا کہ وہ مری کے قریب برف میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن صبح سات بجے جب ان کی اہلیہ نے خیریت کے لیے کال کی تو معلوم ہوا کہ نوید اقبال اور بچوں سمیت خاندان کے آٹھ افراد اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

مری کے نواحی علاقے گلڈنہ میں پھنسی متعدد گاڑیوں میں سے ایک نوید اقبال کی گاڑی سوزوکی مارگلہ تھی جس کی تکلیف دہ ویڈیو شاید آپ نے بھی سوشل میڈیا پر دیکھی ہو لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

سیر کے لیے مری جانے والے یہ سیاح جن میں بچے اور بڑے شامل تھے ممکنہ طور پر دم گھٹنے سے جانیں گنوا بیٹھے لیکن ایسا نہیں کہ نوید اقبال نے موت سے بچنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی۔

وہ رات گیارہ بجے اپنی اہلیہ سے پہلے اپنے ایک دوست سے درخواست کرتے رہے کہ مہربانی کریں کوئی بات کریں یہاں ہر گاڑی میں بچے ہیں، بچے رو رہے ہیں۔

ان کے آڈیو میسج کی تصدیق ان کی اہلیہ کے بھائی ماجد نے کی جس میں نوید کو اپنے دوست سے کہتے سنا جا سکتا ہے کہ 'جہاں پر برف باری زیادہ ہوئی ہے روڈ بلاک ہوا ہوا ہے، 12 بجے سے لے کر ابھی تک آٹھ نو ہونے والے ہیں۔ ان کی گاڑی آتی ہے برف ہٹانے والی وہ صبح سے نہیں آئی، بچے بہت تنگ ہو رہے ہیں، نہ کھانے کے لیے کچھ ہے اور نہ پینے کے لیے کچھ ہے۔ کم سے کم آپ مہربانی کر کے کوئی خبر تو چلائیں۔ دیکھیں ناں کچھ ہو سکتا ہے۔ '

انھوں نے بتایا کہ ہم مری سے نتھیا گلی جانے والے روڈ پر کھڑے ہیں یہاں گاڑیاں آدھی آدھی برف میں ہیں۔

’ہر گاڑی میں بچے بیٹھے ہوئے ہیں نہ صبح سے کچھ کھانے کے لیے کچھ ہے، بچوں کی حالت بری ہے۔ ان کی ایک گاڑی آتی ہے برف ہٹانے والی وہ ایسے نواب ہیں نہ صبح سے کوئی پولیس والا آیا ہے نہ ٹریفک والا آیا ہے کہ وہ گاڑی آگے سے ہٹواتا، نہ کوئی گاڑی آئی ہے برف ہٹانے والی۔‘

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

نوید کے کزن طیب گوندل نے بی بی سی کو بتایا کہ نوید نے ان کے ذریعے حکام اور انتظامیہ سے درخواست کی تھی جس پر تسلی تو دی گئی تاہم مدد کو کوئی نہیں آیا۔

طیب کہتے ہیں کہ ’نوید نے میرا آخری پیغام صبح چار بجے پڑھا لیکن اس کے بعد کوئی جواب آیا اور نہ ہی انھوں نے میرا پیغام پڑھا۔ میرا خیال ہے کہ وہ سو گئے تھے۔‘

مری کے مکین کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی زندگی میں سرد موسم میں ایسے حالات میں اتنی اموات نہیں دیکھیں۔

یہ بھی پڑھیے

اس وقت نوید کے گاؤں اور یہاں اسلام آباد میں ان کے گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ ان کی اہلیہ اپنے خاندان اور زندہ بچ جانے والے ایک بیٹے کے ہمراہ میتوں کے اسلام آباد پنچنے کی منتظر ہیں۔

49 سالہ اے ایس آئی نوید اقبال کے ایک ساتھی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمارا ساتھی بہت ہنس مکھ تھا۔ ہمیں اس کی موت کی تصدیق ایک ویڈیو کے ذریعے ہوئی جو صبح سے گردش کر رہی تھی ایک ساتھی نے دیکھا اور بتایا کہ یہ تو نوید ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ نوید گذشتہ چار ماہ سے تھانہ کوہسار میں تعینات تھے۔ وہ کچھ دن سے ذکر کر رہے تھے کہ مری جانا چاہیے اور پھر وہ تین روز کی چھٹی پر چلا گئے۔

نوید کی اہلیہ کے بھائی ماجد نے بی بی سی کو بتایا کہ میری بہن کہتی ہیں کہ رات گیارہ بجے نوید نے انھیں آخری فون کال کی اور بتایا تھا کہ ہم برف میں پھنس گئے ہیں اس کے بعد ہم سو گئے اور صبح سات بجے فون پر ان کی موت کی اطلاع ملی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ نوید بچوں کو سیرو تفریح کرواتے تھے اور گھومنا پھرنا بہت پسند کرتے تھے اور اس ٹرپ کا بھی انھوں نے ہی پلان کیا تھا۔

ماجد نے بتایا کہ نوید مری جانے کے لیے تین روز پہلے اپنے بچوں کو تلہ گنگ میں موجود گاؤں سے لے کر آئے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ بچوں کی چھٹیاں تھیں تو پانچ میں سے تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ان کے ساتھ مری کی سیر کے لیے اسلام آباد آ گئے جبکہ بڑا بیٹا اپنی امی کے پاس گاؤں میں ہی رہا۔

مری جانے کے لیے نوید کے ہمراہ ان کی اسلام آباد میں مقیم ایک بہن، ان کا ایک بیٹا اور ان کے بھائی آصف کا بیٹا بھی شامل تھا۔

اے ایس آئی نوید اقبال کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انھیں اطلاع موصول ہوئی ہے کہ ایمبولینسز میں جاں بحق ہونے والے خاندان کے افراد کے جسد خاکی ہسپتال سے بھجوا دیے گئے ہیں اور چند گھنٹوں میں وہ اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔

ماجد نے بی بی سی کو بتایا کہ اے ایس آئی نوید اقبال ان کی بہن اور ہلاک ہونے والے چھ بچوں کی نماز جنازہ کل تلہ گنگ کے علاقے دودیال میں دن ڈھائی بجے ادا کی جائے گی۔

نوید کے دفتر کے ساتھی بتاتے ہیں کہ ان کی میت کو لانے کے لیے ہمارے افسران بھی مری جانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ پولیس لائنز میں ادا کیا جائے گا۔

پولیس

،تصویر کا ذریعہاسلام آباد پولیس

مقامی نجی ٹی وی چینل پر چلنے والی نوید اقبال کی آڈیو کلپ جو انھوں نے اپنے کزن کو بھجوائی سن کر یہ تو اندازہ ہوتا ہے کہ شاید خراب صورتحال کے باوجود انھیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ موت ان تک آ پہنچے گئی۔

20 گھنٹوں تک محصور رہنے کی وجہ سے وہ تھک چکے تھے لیکن مدد کی امید رکھتے تھے جو انھیں نہیں مل سکی۔

وہ کہتے ہیں کہ مزہ تو تب آئے جب کوئی سسٹم بن جائے۔ وہ اس کرین کے منتظر تھے جو ان کے لیے اور دیگر محصور افراد کے لیے راستہ صاف کرتی یا ان ٹریفک اور انتظامی اہلکاروں کے جو ان کو یہاں سے کسی محفوظ مقام پر جانے میں مدد دیتے۔

لیکن بے بسی کے عالم میں ان سمیت گاڑی میں موت کی نیند سونے والے بچے اور ان کی بہن کی ویڈیو سمیت دیگر لوگوں کی ویڈیو دیکھنے کے بعد ہر ایک سوال کر رہا ہے کہ کیا موسم کی پیشگی اطلاع کے باوجود سیاحوں کو روکا نہیں جا سکتا تھا اور کیا مری کے مرکزی مقامات پر اتنی ناکافی سہولیات اور پلاننگ تھی کہ ایک سیاحتی مقام پر ایک دن میں 21 قیمتی جانیں گنوا دی گئیں۔