مریم کو دھمکی دی گئی ہے کہ انھیں ’SMASH‘ کر دیا جائے گا: نواز شریف

،تصویر کا ذریعہTwitter/@NawazSharifMNS
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد، میاں محمد نواز شریف نے جمعرات کو ٹوئٹر پر اپنی جاری کردہ ویڈیو میں کہا ہے کہ ان کی بیٹی مریم نواز کو دھمکی دی گئی ہے کہ انھیں 'سمیش' SMASH کر دیا جائے گا۔
مریم نواز نے اپنے والد کی ٹویٹ کے بعد ایک صارف کو جواب دیتے ہوئے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ انھیں ’صرف دھمکیاں نہیں، گندی گالیاں بھی دی گئیں۔‘
نواز شریف کی جانب سے پاکستانی وقت کے مطابق رات 8.45 پر کی گئی ٹویٹ میں انھوں نے ویڈیو نشر کی اور پیغام لکھا کہ 'پاکستان کے جمہوری نظام اور اخلاقیات کو پاؤں تلے روندتے ہوئے آپ اس حد تک گر چکے ہیں کہ پہلے آپ نے کراچی میں چادر اور چار دیواری کو پامال کیا، رات کے وقت مریم نواز کے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑا اور اب انھیں دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر وه باز نہ آئیں تو انھیں SMASH کر دیا جائے گا۔'
اسی حوالے سے مزید پڑھیے

،تصویر کا ذریعہTwitter/@NawazSharifMNS
نواز شریف کا بیان
ویڈیو میں محمد نواز شریف نے کہا کہ ’مریم جس جرات اور ایمان کے ساتھ عوام کے حق حکمرانی اور ووٹ کو عزت دو کی جنگ لڑ رہی ہیں انشا اللہ ان کی حفاظت اللہ کرے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نواز شریف نے کہا کہ 'میں خدائی لہجے میں دھمکیاں دینے والوں کو تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی نے کوئی مذموم حرکت کی تو اس کے ذمہ دار عمران خان کے علاوہ جنرل قمر جاوید باجوہ، جنرل فیض حمید اور جنرل عرفان ملک ہوں گے۔'
اپنی ویڈیو کے اختتام پر نواز شریف نے کہا کہ 'جو کچھ آپ نے کیا ہے اور کرتے چلے آ رہے ہیں، یہ سنگین جرم ہے، اس کا آپ کو بہت جلد حساب دینا پڑے گا۔'
انھوں نے ویڈیو بیان میں الزام عائد کیا کہ 'آپ' نے سینیٹ انتخاب میں شکست کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں بھی مدد کی اور مزید دعوی کیا کہ 'ڈسکہ کا الیکشن 2018 کے عام انتخابات کا ری پلے تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ'پھر کہتے ہیں کہ ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔'
تاہم واضح رہے کہ حکومت وزیر اعظم کے اعتماد کے ووٹ اور ڈسکہ انتخابات میں اپوزیشن کے الزامات کو متسرد کرتی رہی ہے۔ حکومت کا الزام ہے کہ دراصل اپوزیشن نے سینیٹ کے انتخاب میں پیسے کے زور پر کامیابی حاصل کی۔
اس کے علاوہ پاکستانی فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر بھی حالیہ عرصے میں مسلم لیگ ن کی قیادت کی فوجی قیادت پر سیاست میں مداخلت کی تنقید کو مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کا سیاستدانوں سے کہنا ہے کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹا جائے۔
کراچی میں کیا ہوا تھا؟

،تصویر کا ذریعہPML-N
یاد رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں اپوزیشن کی حکومت مخالف پی ڈی ایم کے جلسے کے سلسلے میں مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر اعوان سندھ کے شہر کراچی میں موجود تھیں جہاں انھوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دی تھی۔
ان کے شوہر کیپٹن صفدر پر جناح کے مزار پر نعرے بازی کرنے اور دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور بعد میں سندھ پولیس نے پیر کی صبح انھیں مقامی ہوٹل سے گرفتار کر لیا تھا۔
مریم نواز نے واقعہ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ صبح فجر کے بعد چھ بجے کے بعد کسی نے زور زور سے ہوٹل میں ان کے کمرے کا دروازہ پیٹنا شروع کر دیا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ابھی صفدر کپڑے ہی تبدیل کر رہے تھے کہ پولیس زبردستی حفاظتی لاک توڑ کر اندر آ گئی اور انھیں گرفتار کر کے لے گئی۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ 'ووٹ کو عزت دو سے، مادرِ ملت زندہ باد کے نعروں سے کسے ڈر لگتا ہے۔'
انھوں نے مزید کہا تھا کہ نواز شریف نے اور پی ڈی ایم نے جو سوالات اٹھائے ہیں، کیا ان کا جواب یہی ہے کہ غداری اور دہشتگردی کے مقدمات درج کیے جائیں؟











