چیئرمین سینیٹ کا انتخاب: مقدمات میں پھنسانے کی دھمکی دے کر کہا گیا کہ یوسف رضا گیلانی کے خلاف ووٹ دوں، سینیٹر حافظ عبدالکریم کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہCourtesy PMLN
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی طرف سے ان الزامات کے بعد کہ حکومتی اداروں کو سینیٹ کے چیئرمین کے الیکشن میں مداخلت کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، اب ایک سینیٹر نے میڈیا کے سامنے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں مقدمات میں پھنسانے کی دھمکی دی گئی اور کہا گیا کہ وہ اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو ووٹ نہ دیں۔
اسلام آباد میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب اور احسن اقبال نے اپنے اتحاد کے سینیٹر حافظ عبدالکریم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ارکان نے بتایا ہے کہ ٹیلی فون پر ووٹ بدلنے کو کہا گیا ہے اور ہمارے سینیٹروں کو فون آتے ہیں کہ ایوان میں نہ آئیں۔
'آج پھر چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کو متنازع کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لگا تھا جو 2018 میں ہوا پھر نہیں ہوگا لیکن آج پھر بہت سے شہادتیں سامنے آئی ہیں۔'
تاہم اپوزیشن کے امیدوار یوسف رضا گیلانی نے جمعرات کو میڈیا کی طرف سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’اب تک تو اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل نظر آ رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف کی طرف سےان کے ارکان کو فون کالیں آنے کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا یہ ان کے علم میں ہے تو یوسف رضا گیلانی نے جواب دیا کہ ’ابھی نہیں ہے، اس لیے تو میں کہہ رہا ہوں کہ نیوٹرل ہے۔‘
سینیٹر حافظ عبدالکریم نے اپنی پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس دو افراد نے متعدد بار فون کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ چھ مارچ اور سات مارچ کو واٹس ایپ پر آنے والی کال وہ وہ موصول نہیں کر سکے لیکن نو مارچ کو کال پر انھوں نے بات کی جس میں ان سے 'درخواست' کی گئی کہ وہ حکومتی امیدوار کی حمایت کریں اور پی ڈی ایم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی حمایت نہ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ میڈیا کے سامنے یے بتانا چاہتے ہیں کہ سینیٹ کے انتخاب کے شیڈول کا اعلان ہونے کے بعد سے ان کے خلاف اینٹی کرپشن کے بھی پرچے دائر کیے گئے۔
’ایک 2016 کی پرانی ایف آئی آر جس میں میرا نام بھی نہیں تھا، اب اس میں بھی میرا نام ڈال دیا گیا ہے تاکہ صرف دباؤ میں ڈالا جائے تاکہ اپنی مرضی کا ووٹ لیا جا سکے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ اس پریس کانفرنس کا مقصد کسی پر الزام تراشی نہی ہے اور نہ ہی کسی کا نام لینا مقصود ہے لیکن ان کی جماعت اس سوچ کی بات کرتی ہے جو آج پاکستان میں استعمال کی جا رہی ہے دھاندلی کرنے کے لیے۔
’وہ ادارے جن کا مقصد ملک کو استحکام دینا ہوتا ہے، جن کا مقصد ملک کے آئین کا حفاظت کرنا ہوتا ہے، وہ خود آئین کی پاسداری کرنا، اور اپنا حلف توڑنا شروع کر دیں تو ملک کہاں جائے گا۔ آئی ایس آئی کے افسر خود سینیٹرز کو فون کر رہے ہیں۔
دوسری جانب لیگی رہنماؤں کی پریس کانفرنس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے رد عمل دیتے ہوئے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ مسلم لیگ ن کی پریس کانفرنس سے 'ڈر لگا کہ کہیں یہ رونے نہ لگ جائیں۔'
شبلی فراز نے کہا کہ ن لیگ کی پریس کانفرنس شکست تسلیم کرنا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت نے پوری کوشش کی ہے کہ سینیٹ الیکشن شو آف ہینڈ سے ہوں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہمارے سینیٹرز کو فون آئے کہ پی ڈی ایم امیدوار کو ووٹ نہ دیں: مریم نواز کی ٹویٹ
پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز نے الزام عائد کیا ہے کہ سینیٹ میں چیئرمین کے انتخاب کے لیے ان کے سینیٹروں کو اپوزیشن کے امیدوار کو ووٹ نہ ڈالنے کا کہا گیا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مریم نواز نے لکھا: ’ہمارے کچھ سینیٹرز کو فون کر کے کہا گیا کہ وہ پی ڈی ایم کے امیدوار کو ووٹ نہ دیں۔ اس میں سے کچھ کالز بطور شواہد ریکارڈ کی گئی ہیں۔‘
مریم نواز نے اپنی ٹویٹ میں یہ تو واضح نہیں کیا کہ یہ کالز کس کی جانب سے کی گئیں تاہم حال ہی میں ان کے دو سینیٹرز کو اغوا کیے جانے والے الزامات کے تناظر میں سوشل میڈیا صارفین ریکارڈ کی جانے والی مبینہ کالز کو نشر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مریم نواز کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کل جمعرات کو سینیٹ کے چیئرمین کا انتخاب ہونے والا ہے اور وزیر اطلاعات شبلی فراز نے سینیٹ میں حکومت کے حمایتی سینیٹرز کی اقلیت کے ساتھ جیت کو ممکن بنانے سے متعلق سوال پر ایک نجی ٹیلی وژن پر کہا تھا کہ وہ جیت کے لیے ہر ہتھکنڈہ استمعال کریں گے اور پی ڈی ایم کو جیتنے نہیں دیں گے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہTwitter
نئے چیئرمین سینیٹ کی دوڑ
اس وقت سب سے اہم سیاسی سرگرمی نئے چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہے۔
حکومت نے 12 مارچ کو ہونے والے اس انتخاب کے لیے تین سال سے چیئرمین سینیٹ رہنے والے بلوچستان عوامی پارٹی کے صادق سنجرانی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔
صادق سنجرانی کے خلاف بطور چیئرمین سینیٹ اپوزیشن نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تھی جو ناکام رہی تھی۔ اس وقت بھی سینیٹ میں اپوزیشن کو اکثریت حاصل تھی اور یہ بات اب تک معلوم نہیں ہو سکی کہ صادق سنجرانی اکثریت نہ رکھنے کے باوجود کن ارکان سے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
اس وقت سینیٹ میں اپوزیشن اتحاد کو اکثریت حاصل ہے مگر یہ انتخابات اس قدر دلچسپ ہوتے ہیں کہ یہاں اکثریت رکھنے کے باوجود شکست بھی مقدر بن جاتی ہے۔ شاید اس کی بڑی وجہ سینیٹ میں خفیہ رائے شماری کا طریقہ ہے۔
اس وقت اسلام آباد سے سینیٹ کی جنرل نشست پر وزیر اعظم عمران خان کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو شکست دینے کے بعد یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کے مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم اس وقت یوسف رضا گیلانی کو نہ صرف اپوزیشن کا مکمل اعتماد حاصل ہے بلکہ ان کی جیت پر اپوزشین کی تمام جماعتیں جشن بھی مناتی نظر آ رہی ہیں۔
سینیٹ چیئرمین کا انتخاب کس کے جیتنے کے امکانات روشن
اگر حکومت اور اس کے اتحادیوں کی پارلیمان کے ایوان بالا میں ووٹوں پر نظر دوڑائی جائے تو اس وقت تحریک انصاف کی سربراہی میں حکومتی اتحاد کو کل 48 سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے۔
اس وقت 100 کے ایوان میں چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے کے لیے 51 ووٹ درکار ہیں۔ بظاہر نمبرز گیم میں اس وقت حکومتی اتحاد اپوزیشن سے پیچھے ہے مگر اپوزیشن اتحاد کے لیے جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
اپوزیشن کے پاس اس وقت سینیٹ میں 52 ووٹ ہیں جن میں سے 20 سینیٹرز کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے جبکہ 18 پاکستان مسلم لیگ ن کے اراکین ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ سینیٹرز کا تعلق جے یو آئی (ف) سے ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی کے پاس دو، دو جبکہ جماعت اسلامی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور ایک آزاد امیدوار کے پاس ایک، ایک ووٹ موجود ہے۔
مسلم لیگ ن کے سینیٹر اسحاق ڈار آج کل لندن میں مقیم ہیں۔ اگر ان کا ووٹ نہ گنا جائے تو اپوزیشن کے پاس کل نشستیں 51 رہ جاتی ہیں۔
ابھی جماعت اسلامی نے اعلان نہیں کیا ہے کہ وہ سینیٹ میں حکومت کا ساتھ دے گی یا اپوزیشن میں رہتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دے گی۔
اگر جماعت اسلامی ووٹنگ کے عمل سے اجتناب کرے تو اپوزیشن کی تعداد 50 بنتی ہے اور یوں یوسف رضا گیلانی اس وقت تک چیئرمین سینیٹ نہیں بن سکتے جب تک جماعت اسلامی یا حکومتی اتحاد میں سے کوئی انھیں ووٹ نہیں ڈالتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر کوئی امیدوار اکثریت حاصل نہ کر سکا تو؟
صدر مملکت عارف علوی 12 مارچ کے اجلاس کے لیے کسی ایک سینیٹر کو صدر نشین مقرر کریں گے وہ اس اجلاس کی صدارت کریں گے۔
حروف تہجی کے حساب سے ہر سینیٹر آ کر اپنا ووٹ کاسٹ کرے گا۔ نو منتخب چیئرمین سینیٹ سے صدر نشین حلف لیں گے جس کے بعد نو منتخب چیئرمین سینیٹ ایوان بالا کے اجلاس کی صدارت کریں اور اسی ترتیب سے پھر ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔
خیال رہے کہ اگر یوسف رضا گیلانی اور صادق سنجرانی میں سے کوئی بھی 51 ووٹ حاصل نہ کر سکا تو پھر یہ چناؤ از سر نو اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ کوئی امیدوار واضح اکثریت (کم از کم 51 فیصد) حاصل نہ کر لے۔
سینیٹرز کو دھماکنے سے متعلق کالز کے الزام پر سوشل میڈیا رد عمل
سوشل میڈیا صارفین مریم نواز کی ٹویٹ کے جواب میں ایک طرف تو اس الزام کو رد کر کے اسے ایک اور سیاسی حربہ قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسے عناصر کو بے نقاب کیا جانا چاہیے ’اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے‘۔
ایک ٹوئٹر صارف ندیا اطہر کا کہنا تھا کہ ’ان ریکارڈنگز کو الیکشن سے پہلے پبلک کرنا چاہیے تاکہ پتہ چلے کہ وہ جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور جو کہتے ہیں کہ ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے؛ ان کا اصل چہرہ اور کردار کیا ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER
غلام عظیم نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’ہر بار مسلم لیگ ن کے ہی سینیٹرز کو کال کیوں آتی ہے ، پیپلز پارٹی کے سینیٹرز کو کیوں نہیں آتی۔ پارٹی کو خود سے وفادار لوگوں کو ٹکٹ دینا چاہیے نہ کہ اسٹیبلشمنٹ کے وفاداروں کو۔ یہ بات میٹنگ میں زیر بحث لانی چاہیے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے سلمان عمر کا کہنا تھا ’ریٹائرڈ جنرل، بیورو کریٹس اسٹیبلشمنٹ کے ہی نمائندہ ہوتے ہیں اگر انھیں ٹکٹ دیں گے تو وہ دباؤ کے سامنے مزاحمت نہیں کر پائیں گے جیسے پرویز رشید اور مشاہداللہ نے کیا۔‘
ایک سوشل میڈیا صارف نے مریم نواز کی ٹویٹ کے جواب میں یوسف رضا گیلانی کے انتخاب کے موقع پر ان کے مؤقف کی یاد دلائی۔
عثمان ہادی کا کہنا تھا ’یہ ثبوت علی گیلانی کی ویڈیو کے معاملے میں الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلے کی رو سے ثبوت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ ووٹ کا ٹائم ہے ووٹرز کو رابطہ کرنا قانونی حق ہے‘، یہی فرمایا تھا آپ سب نے۔ اب کیوں خفا ہو رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter












