کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت منظور، مریم نواز کا الزام کہ آئی جی سے زبردستی گرفتاری کے احکامات پر دستخط کروائے گئے

،تصویر کا ذریعہPML-N
کراچی کی ایک مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت منظور کر کے انھیں رہا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
یاد رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انھیں پیر کی صبح کراچی کے ایک مقامی ہوٹل سے گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف بانی پاکستان محمد علی جناح کے مزار پر نعرے بازی کرنے اور دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کیپٹن (ر) صفدر کو بکتر بند گاڑی میں سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایتی وکلا اور کارکن پہنچ گئے اور کمرہ عدالت میں شور شرابے کے باعث جج اٹھ کر چلے گئے۔
بعدازاں انھوں نے فریقین کو اپنے چیمبر میں طلب کیا، جس کے بعد کیپٹن صفدر کی ضمانت منظور کرلی گئی۔
اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے الزام عائد کیا تھا کہ سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل کو کراچی میں ’سیکٹر کمانڈر‘ کے دفتر لے جایا گیا جہاں اُن سے زبردستی کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے احکامات پر دستخط کروائے گئے۔
کراچی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما راجہ پرویز اشرف کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’آئی جی سندھ سے پہلے کہا گیا کہ آپ وارنٹس پر دستخط کریں، گرفتاری رینجرز والے کر لیں گے۔ مگر دستخط کے بعد کہا گیا گرفتاری بھی پولیس ہی کرے گی۔‘
مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ آئی جی سندھ سے ان کے فون بھی لے لیے گئے تھے۔
دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے بحری اُمور علی حیدر زیدی نے ٹوئٹر پر کہا کہ سندھ حکومت خود کو ایف آئی آر اور کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے دور کرنا چاہ رہی ہے جبکہ محمد زبیر 'نامعقول' بیانیہ پھیلا رہے ہیں کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے انھیں بتایا کہ آئی جی کو اغوا کیا گیا اور ایف آئی آر درج کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ اگر یہ درست ہے تو یا تو وزیرِ اعلیٰ سندھ کو چاہیے کہ وہ آئی جی سندھ کو برطرف کر دیں یا خود استعفیٰ دے دیں کیونکہ اُن کے احکامات کی پیروی کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/AliHZaidiPTI
’جانتی ہوں ’ووٹ کو عزت دو‘ سے کسے ڈر لگتا ہے‘
انھوں نے کہا کہ انھیں ایک لمحے کے لیے بھی نہیں لگا کہ آج کیپٹن صفدر کی گرفتاری میں سندھ حکومت ملوث ہے، تاہم ’سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ اقدام کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ حزب مخالف اتحاد میں دراڑ ڈالی جائے مگر ’ہم بچے نہیں ہیں۔‘
یاد رہے کہ اتوار کو اپوزیشن کی حکومت مخالف پی ڈی ایم کے جلسے کے سلسلے میں مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر اعوان سندھ کے شہر کراچی میں موجود ہیں جہاں انھوں نے بانی پاکستان محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دی تھی۔
کیپٹن صفدر پر جناح کے مزار پر نعرے بازی کرنے اور دھمکیاں دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور بعد میں سندھ پولیس نے پیر کی صبح انھیں مقامی ہوٹل سے گرفتار کر لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
مریم نواز نے کہا کہ آج صبح فجر کے بعد چھ بجے کے بعد کسی نے زور زور سے ہوٹل میں ان کے کمرے کا دروازہ پیٹنا شروع کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ جب کیپٹن (ر) صفدر نے دروازہ کھولا تو پولیس نے انھیں گرفتار کرنے کی بات کی، جس پر کیپٹن (ر) صفدر نے انھیں کہا کہ وہ کپڑے تبدیل کر کے چلنے کے لیے تیار ہیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ابھی صفدر کپڑے ہی تبدیل کر رہے تھے کہ پولیس زبردستی حفاظتی لاک توڑ کر اندر آ گئی اور انھیں گرفتار کر کے لے گئی۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ انھیں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا فون آیا اور انھوں نے بتایا کہ وہ اس واقعے پر شرمندہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ قائد کے مزار پر اگر کسی نے بانی پاکستان کے ہی قواعد کہے تو اس سے کسی کی بے حرمتی نہیں ہوتی۔ ’میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ ووٹ کو عزت دو سے، مادرِ ملت زندہ باد کے نعروں سے کسے ڈر لگتا ہے۔‘
'وہاں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا، اور اس نعرے سے کس کو اعتراض ہے یہ آپ بھی جانتے ہیں میں بھی جانتی ہوں، اس نعرے سے اس کو اعتراض ہے جو ووٹ چوری کر کے آئے ہیں، جو عوام کا مینڈیٹ چوری کر کے آئے ہیں، جنھوں نے فاطمہ جناح سے لے کر آج نواز شریف تک اور [پاکستان کے عوام کے] سارے منتخب نمائندوں کو غدار ڈکلیئر کیا گیا۔'
انھوں نے کہا کہ نواز شریف نے اور پی ڈی ایم نے جو سوالات اٹھائے ہیں، کیا ان کا جواب یہی ہے کہ غداری اور دہشتگردی کے مقدمات درج کیے جائیں؟
مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ 'اعلیٰ ترین سطح' سے کیپٹن (ر) کو دھمکیاں آ رہی تھیں کہ 'ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔'
مریم نواز نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمے میں قتل کی دھمکی کی دفعات بھی ڈالی گئی ہیں جبکہ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس ایف آئی آر کا مدعی وقاص احمد انسداد دہشت گردی کورٹ کا مفرور ہے۔

،تصویر کا ذریعہPML-N
پی ڈی ایم میں تفریق کی سازش ناکام: فضل الرحمان
حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن کا کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے متعلق کہنا تھا کہ 'سندھ کی صوبائی حکومت اپنا مؤقف دے چکی ہے۔ (گرفتاری کے بارے میں) وزیر اعلیٰ کو نہیں بتایا گیا، سندھ کے آئی جی کو اغوا کیا گیا اور اپنے دفتر میں یرغمال بنا کر رکھا گیا، آپ اب بتائیں ملک پر کس کی حکومت ہے؟'
مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی بات کا خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ [ملک پر] 'جبر اور ظلم کی حکومت ہے جو [خود کو] آئین اور قانون کے پابند نہیں سمجھتے۔'
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ کراچی میں سازش کے تحت یہ حرکت کی گئی تاکہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی میں تنازع پیدا ہو، لیکن ہم میں کوئی تنازع نہیں پیدا ہوا۔
انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اس پر افسوس کا ظاہر کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا کہ 'پی ڈی ایم میں تفریق پیدا کرنے کی سازش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔'
اس سے قبل پاکستان کے صوبہ سندھ کی پولیس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر کی گرفتاری اور ان کے خلاف مزارِ قائد کی ’بیحرمتی‘ کا مقدمہ قانون کے مطابق بنایا گیا ہے اور اس پر شفاف انداز میں تفتیش جاری رہے گی۔
ایک ٹویٹ میں سندھ پولیس کا کہنا تھا کہ ’کیپٹن صفدر کی گرفتاری قانون کے مطابق کی گئی اور اس کی تحقیقات غیر جانبدار اور میرٹ پر ہو گی۔‘
دوسری جانب سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ’سارا کھیل وفاقی حکومت کی ایما پر ہوا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
سندھ حکومت کا مؤقف: ہمیں آگاہ نہیں کیا گیا
سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لیگی رہنماؤں نے مزار قائد پر حاضری دی اور وہاں پر یہ واقعہ پیش آیا۔ ’مزار پر جو واقعہ پیش آیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وفاق میں حکمراں جماعت پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے کیس داخل کرنے کے لیے الگ الگ پولیس کو درخواستیں دیں۔ ’پولیس نے درخواستوں کو غیرقانونی قرار دے کر خارج کردیا۔ بعد میں قائد اعظم بورڈ نے پولیس کو درخواست دی۔ پولیس نے قائد اعظم بورڈ کو مجسٹریٹ کے سامنے درخواست دینے کا مشورہ دیا۔
’اس دوران ایک شخص نے پولیس کو درخواست دی کہ کیپٹن صفدر نے اس کو جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کردی۔ تفتیش سے پہلے چار دیواری کا تقدس پامال کرکے کیپٹن صفدر کو گرفتار کرنا قابل مذمت ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت سندھ نے کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا سخت نوٹس لیا ہے۔ ’حکومت سندھ اس معاملے پر اعلیٰ سطحی انکوائری کرے گی۔
’یہ سارا کھیل وفاقی حکومت کی ایما پر ہوا ہے۔ اس تمام کارروائی سے پہلے حکومت سندھ کو کسی بھی سطح پر آگاہ نہیں کیا گیا۔‘

سندھ پولیس پر ’دباؤ‘ کا دعویٰ
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ترجمان اور سندھ کے سابق گورنر محمد زبیر نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ پولیس پر وفاق کی جانب سے مبینہ دباؤ ڈال کر نہ صرف مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا بلکہ اُن (کیپٹن صفدر) کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’ایک سٹرنگ آپریشن کیا گیا ہے۔ ریاست کی جانب سے سندھ پولیس پر دباؤ ڈال کر یہ آپریشن کرایا گیا ہے، اس کا سیاسی پس منظر بھی ہے کیونکہ گوجرانولہ کے بعد پی ڈی ایم اے کا دوسرا بڑا جلسہ ہوا ہے۔ کراچی میں گرفتاری کر کے یہ تاثر دیا جائے کہ پولیس سندھ حکومت کے زیر اثر ہے۔‘
محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ان کی وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ سے بات ہوئی ہے اور وہ جلد حقائق سامنے لائیں گے۔
گرفتاری کی اطلاع اور مقدمہ
ٹوئٹر پر کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی اطلاع دیتے ہوئے مریم نواز نے ایک ویڈیو بھی ری ٹویٹ کی ہے جس میں کمرے کا لاک ٹوٹا ہوا زمین پر نظر آ سکتا ہے۔
گرفتاری سے قبل کراچی کے تھانہ بریگیڈ میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر سمیت 200 افراد کے خلاف مزارِ قائد کی مبینہ بے حرمتی اور وہاں توڑ پھوڑ کے الزامات کے تحت ایف آئی آر کا اندارج کیا گیا تھا۔
وقاص احمد خان نامی شہری کی مدعیت میں درج کیے گئے اس مقدمے میں یہ الزام میں عائد کیا گیا ہے کہ مریم نواز، کیپٹن صفدر اور دیگر افراد نے بانی پاکستان محمد علی جناح کی قبر کی بے حرمتی بھی کی۔
گذشتہ روز کراچی پہنچنے پر مریم نواز نے کیپٹن صفدر اور پارٹی کارکنان کے ہمراہ مزارِ قائد کا دورہ کیا تھا اور وہاں فاتحہ خوانی کی تھی جس دوران کیپٹن صفدر احاطہ مزار میں نعرے بلند کرتے نظر آئے تھے۔
وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہنا ہے کہ ’سندھ پولیس کا کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا عمل قانون کے احترام کا بیانیہ ہے۔‘
ایف آئی آر کے مطابق یہ مقدمہ مزارِ قائد پروٹیکشن اینڈ مینٹینینس آرڈر 1971 کے تحت درج کی گئی ہے۔
گرفتاری کے موقع پر بنائی گئی کیپٹن صفدر کی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انھیں پولیس وین میں بٹھایا جا رہا ہے جس سے قبل وہ وہی نعرے دہرا رہے ہیں جو انھوں نے مزار قائد میں بلند کیے تھے۔ ’ووٹ کو عزت دو‘ ’مادرِ ملت زندہ باد‘ اور ’ایوبی مارشل لا مردہ باد۔‘
تھانے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ترجمان اور سندھ کے سابق گورنر محمد زبیر نے کیپٹن صفدر سے ملاقات کی کوشش کی لیکن انھیں ملنے نہیں دیا گیا۔












