کرک مندر حملہ: وزیر اعظم عمران خان پر تنقید،’ کیا ہندو برابر کے پاکستانی نہیں‘، ہندو کمیونٹی کا سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

مندر حملہ

بدھ کے روز پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کی تحصیل بانڈہ داؤد شاہ کے علاقے ٹیری میں مشتعل مظاہرین نے ہندوؤں کے مقدس مقام میں ایک سمادھی کی توسیع کے خلاف ہلہ بول کر مندر کی توسیع کو روک دیا تھا۔ اس موقع پر مظاہرین نے مندر کو شدید نقصان بھی پہنچایا۔

پاکستان میں کسی مذہبی اقلیت کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران ہندو اور مسیحی برادری کی عبادت گاہوں پر حملے بھی کیے گئے، جن میں کئی افراد ہلاک بھی ہوئے۔

اس حالیہ واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ برتے جانے والے تعصب کے بارے میں بحث چھیڑ دی ہے اور ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے صارفین اس پر کھل کر بات کرتے نظر آ رہے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ونود مہیش وری نے اس واقعے پر دکھ کا اظہار کچھ ایسے الفاظ میں کیا: ’تم نے مندر نہیں، ہمارا اندر جلایا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@viniii112

پریانکا نامی ایک صارف نے لکھا: ’کل پورے معاملے میں خاموش رہنے والا بندا، آج ٹویٹ کرے گا، نیا سال مبارک ہو۔ بس اس کے نیچے لکھ دینا، صرف اکثریت کو کیونکہ اقلیت نا آپ کے لئے معنی رکھتی ہے اور نا ہی ان کا نیا سال مبارک رہا۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@PriyankaDeviiii

پریم رتھی نامی صارف نے اس واقعے کی ایف آئی آر درج ہونے اور 28 افراد کی گرفتاری کی خبر پر سوال اٹھایا اور لکھا: ’کیا یہ اس بات کی بھی ضمانت ہے کہ دوبارہ کسی بھی مندر پر حملہ نہیں کیا جائے گا؟‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@PremRathee

ریکھا مہیش وری نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’جناب وزیراعظم مندر حملے پر کوئی ٹویٹ نہیں، کیا ہندو برابر کے پاکستانی نہیں ہیں۔‘

ریکھا مہیش وری کے اس ٹویٹ کے جواب میں رمیش کمار نے لکھا: ’بلاول، مریم اور نواز شریف کی جانب سے بھی کوئی ٹویٹ نہیں کی گئی۔ یہ سب اقتدار کے بھوکے اشرافیہ ہیں اور عوام کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس سے بے نیاز ہیں۔‘

ریکھا مہیش وری نے مزید لکھا: ’میں ہندو پیدا ہوئی تھی اور ہندو ہی مروں گی۔‘

سماجی کارکن کپل دیو نے بھی وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’خان صاحب اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم یہاں محفوظ محسوس کریں تو اس وحشیانہ واقعے کا نوٹس لیں ورنہ کبھی یہ دعویٰ نہ کریں کہ یہاں اقلیتیں محفوظ ہیں اور ان کے حقوق محفوظ ہیں۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

واضح رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس واقعے کو نوٹس لے لیا ہے جس کی سماعت آئندہ منگل پانچ جنوری کو ہو گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی رمیش کمار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ کے نوٹس لینے کے بعد وزیراعظم نے ان سے رابطہ کیا اور کہا کہ ہم اس معاملے پر ’سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کریں گے۔‘

واضح رہے کہ پاکستان کی انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری اور وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری ٹوئٹر پر اس واقعے کی مذمت کر چکے ہیں۔

شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور انسانی حقوق کی وزارت بھی اس پر کارروائی کر رہی ہے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ShireenMazari1

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے لکھا: ’کرک میں ہندو سمادھی کو آگ لگانا اقلیتوں کے خلاف ذہن سازی کاشاخسانہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ دہشتگردی سے تو فوج لڑ سکتی ہے لیکن شدت پسندی سے لڑنا سول سوسائٹی کا کام ہے ہمارے سکولوں سے لے کر معاشرتی محفلوں تک شدت پسندی کے خلاف کچھ نہیں کیا جا رہا اور ہم اس دلدل میں مزید دھنستے جا رہے ہیں۔‘