کرک مندر پر مشتعل افراد کا دھاوا: ’سمادھی کی بحالی کے لیے رقم اس واقعے میں نامزد مرکزی ملزم اور ان کے گینگ سے وصول کی جائے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کرک میں ہندو سمادھی جلانے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ سمادھی کی بحالی کی رقم اس واقعے میں ملوث ملزم مولوی شریف اور اُن کے ’گینگ‘ سے وصول کی جائے۔
اُنھوں نے کہا کہ ذمہ داروں کی جیب سے پیسہ نکالیں گے تو انھیں احساس ہو گا کہ اُنھوں نے یہ غلط کام کیا ہے۔
یاد رہے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کی تحصیل بانڈہ داؤد شاہ کے علاقے ٹیری میں مشتعل افراد نے ہندوؤں کے مقدس مقام کی توسیع کے خلاف احتجاج کے دوران ہلہ بول کر مندر کی توسیع کو روکنے کے ساتھ ساتھ وہاں توڑ پھوڑ بھی کی تھی۔
پولیس نے اس واقعے کی ایف آئی آر درج کر کے 28 افراد کو گرفتار کیا تھا جبکہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس معاملے کا از خود نوٹس لے رکھا ہے۔
منگل کو دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ سمادھی کو جلانے کی ویڈیو دنیا بھر میں وائرل ہوئی اور اس واقعے سے دنیا بھر میں پاکستان کا اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے بارے میں کیا تاثر گیا ہو گا، یہ سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ہندو سمادھی جلانے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی تو صوبہ خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ فی الوقت حکومت ہی اس سمادھی کی دوبارہ تعمیر کرے گی لیکن تعمیر مکمل ہونے کے بعد اس پر اٹھنے والے اخراجات مولوی شریف سمیت ان تمام افراد سے وصول کیے جائیں گے جو اس واقعے میں ملوث ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'بدقسمتی ہے کہ پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی‘
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ حملہ آور ہر چیز کو تباہ کرتے رہے اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔
چیف جسٹس نے صوبہ خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ سے استفسار کیا کہ پولیس نے مظاہرین کو اندر جانے کی اجازت کیسے دی؟ اُنھوں نے کہا کہ پولیس کا کام تو قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ یہ بڑی بدقمستی ہے کہ پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔
کے پی کے پولیس کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پولیس اہلکاروں کی معطلی سے کیا ہو گا، انھیں تنخواہ تو ملتی رہے گی۔
خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ ایس پی اور ڈی ایس پی سمیت ڈیوٹی پر مامور 92 اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث 109 افراد گرفتار ہیں۔

مندر کی جگہ اجتماع کے سپانسر مولانا فضل الرحمان تھے: پولیس
خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ جمعیت علما پاکستان کا اس جگہ پر اجتماع تھا اور مولانا فضل الرحمان نے اس اجتماع کو سپانسر کیا تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ وہاں پر موجود چھ علما میں سے صرف مولوی شریف نے لوگوں کو اس عمل پر اکسایا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملزم مولوی شریف کچھ دن میں ضمانت لے کر باہر آ جائیں گے۔
اقلیتوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے کمیشن کے سربراہ شیب سڈل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کی ضمانتیں نہیں ہونی چاہییں تاہم عدالت نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے صوبے کے پولیس سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی صاحب جائے وقوعہ کے ساتھ پولیس چوکی ہے یہ واقعہ کیسے ہو گیا؟
جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ کی انٹیلیجنس ایجنسیاں کیا کر رہی تھیں جب اتنے لوگ جمع ہوئے۔ صوبے کی پولیس ان سوالات کے بارے میں عدالت کو مطمئن نہ کر سکی۔ انھوں نے کہا کہ پولیس کا مؤقف ہے کہ خون خرابے کی وجہ سے پولیس خاموش کھڑی رہی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس واقعے کا مرکزی کردار مولوی شریف ہے۔
ہندو برادری کے رہنما رمیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ سمادھی پر ہمارے دو بڑے میلے لگتے ہیں اور ایک ماہ میں سمادھی پر تقریباً 400 لوگ آتے ہیں۔
اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ ملزم مولوی شریف نے سنہ 1997 میں بھی سمادھی کو توڑا تھا اور عدالتی حکم کے باوجود متروکہ وقف املاک بورڈ نے سمادھی کو بحال نہیں کیا تھا۔ رمیش کمار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں متروکہ املاک کے محکمے کا چیئرمین ہندو نہیں مسلمان ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس انڈیا میں اس محکمے کا سربراہ مسلمان ہے۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ سنہ 1947 میں لیاقت علی خان اور جواہر لال نہرو نے چیئرمین متروکہ وقف املاک کے بارے میں معاہدہ کیا تھا اور اس معاہدے کے تحت پاکستان میں ہندو جبکہ انڈیا میں متروکہ وقف املاک کا چیئرمین مسلمان ہو گا۔
اُنھوں نے کہا کہ 73 سال سے پاکستان میں کسی ہندو کو متروکہ وقف املاک کا چیئرمین نہیں بنایا گیا جبکہ اس عرصے کے دوران انڈیا میں متروکہ وقف املاک کا چیئرمین مسلمان ہی ہے۔
اس پر بینچ کے سربراہ نے رمیش کمار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمیں دستاویزات دیں کہ یہ معاہدہ کب ہوا، صرف باتوں سے کام نہیں چلے گا۔
رمیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ متروکہ وقف املاک کے انکار کے بعد پاکستان ہندو کونسل نے اپنے فنڈز سے مندر کے لیے پیسے دیے تھے۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کے پاس اپنی عمارتیں بنانے کا پیسہ تو ہے لیکن اپنے اصل کام کے لیے پیسہ نہیں ہے۔
متروکہ وقف املاک کے ایک افسر نے عدالت کو بتایا کہ کرک میں واقع یہ سمادھی ہندو کمیونٹی خود چلاتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ مندر فعال نہیں تھا اس لیے متروکہ وقف املاک کا عملہ یہاں نہیں ہوتا۔
عدالت نے متروکہ وقف املاک بورڈ سے ملک بھر کے مندروں اور گردواروں سے متعلق رپورٹ طلب کر لی اور حکم دیا کہ فعال اور غیرفعال مندروں کی تفصیل فراہم کی جائے۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے متروکہ وقف املاک کی زمینوں پر قبضے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے چئیرمین متروکہ وقف املاک سے اس ضمن میں رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔
دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج
ضلع کرک میں پولیس نے ہندوؤں کے مندر پر حملے کی ایف آئی آر درج کر کے اس میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی ہیں۔ اس واقعے میں ملوث 28 افراد حراست میں ہیں جبکہ مندر کے پاس پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
اس ایف آئی آر میں کرک کے علاقے ارمڑ کے رہائشی مولانا محمد شریف اور کرک کے قریب واقع علاقہ ٹیری کے مولانا حافظ فیض اللہ کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 300 سے 400 نا معلوم افراد شامل ہیں۔
پولیس رپورٹ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات اور دیگر دفعات درج ہیں۔ اس رپورٹ میں جمعیت علمائے اسلام کے دیگر رہنماؤں کا ذکر ہے جن میں کچھ عرصہ قبل پاکستان مسلم لیگ نواز کو چھوڑ کو جمعیت علمائے اسلام میں شمولیت اختیار کرنے والے رہنما رحمت سلام خٹک بھی شامل ہیں۔
مقامی تھانے کے پولیس انسپکٹر رحمت اللہ خان نے بتایا تھا کہ رحمت سلام خٹک کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ مزید افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKPK POLICE
’جمعے کے خطبے میں سمادھی کو مسمار‘ کرنے کیترغیب
پولیس رپورٹ کے مطابق گذشتہ جمعہ کے روز تقریر کے دوران مبینہ طور پر مولانا محمد شریف نے خطاب میں کہا تھا کہ وہ ٹیری کی سرزمین پر ہندوؤں کی سمادھی کو قائم رکھنا تسلیم نہیں کرتے اور ناں ہی ہندو کمیونٹی کی آمد ورفت مزید برداشت کر سکتے ہیں۔
جس وقت یہ خطبہ جاری تھا اس وقت موقع پر پولیس کے مطابق 1000 سے 1500 افراد مجمے میں موجود تھے۔
پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’مولانا شریف نے تقریر میں لوگوں سے کہا کہ جاؤ اور اس سمادھی کو مکمل طور پر مسمار کر دو اور اس میں اگر کوئی مسلمان قتل ہوا تو وہ شہید کہلائے گا۔‘
پولیس کے مطابق اس اشتعال انگیز تقریر کے بعد لوگ روانہ ہوئے اور سمادھی پر حملہ کر دیا۔
پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ چند روز پہلے مقامی سطح پر 30 دسمبر بروز جمعہ ایک احتجاج کا فیصلہ ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ احتجاج پر امن ہو گا لیکن بعد ازاں اس میں لوگوں کو مشتعل کیا گیا جس کے بعد سمادھی پر حملہ ہوا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس سمادھی کی توسیع کا منصوبہ تھا اور اس کے لیے عدالت نے اجازت دے رکھی تھی اور مقامی سطح پر اس بارے میں معاہدہ بھی طے ہو چکا تھا جس کے تحت ہندو کمیونٹی اپنے خریدے گئے مکانات اس کام کے لیے استعمال کر سکتی تھی اور راستہ بھی استعمال کر سکتی تھی بشرطیکہ سمادھی میں ان کی آواز اس عمارت کے اندر تک محدود رہے۔
مقامی سطح پر ایسی اطلاعات ہیں کہ بعض مذہبی رہنما اس معاہدے سے متفق نہیں ہوئے تھے جس وجہ سے کشیدگی بڑھ گئی تھی۔
سمادھی قیام پاکستان سے بھی پہلے قائم ہوئی تھی
پشاور میں موجودہ ہندو سکالر اور فیتھ ٹورازم انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ارون سرب دیال نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’یہ سمادھی ہمارے یوگی بزرگوں کی یاد میں قیامِ پاکستان سے پہلے سے یہاں ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ کرک کے اس علاقے میں ’ہمارے یوگی تارکِ دنیا ہو کر یہاں یوگ ابیساس یعنی جوگ لینا اور مراقبہ کرتے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’قیام پاکستان سے پہلے ہی ہمارے کئی یوگی بزرگ اس مقام پر اپنی عبادت اور ہندو مذہب کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ جس میں سندھ کے ایک بزرگ کرشن دوارا بھی ریاضت اور جوگ کیا کرتے تھے۔‘
ان کے مطابق ’قیامِ پاکستان کے بعد اس علاقے سے آہستہ آہستہ تمام ہندو برادری منتقل ہو گئی۔ لیکن سندھ سے ہمارے کرشن دوارا کو چاہنے والے ہندو بھائی ہر جمعرات کو عبادات و زیارت کے لیے اس مقام پر حاضری دیتے ہیں۔‘
ارون سرب دیال کے مطابق یہ علاقہ ایک مذہبی سیاحتی مقام کی حیثیت بھی اختیار کرتا جا رہا تھا۔
ان کے مطابق 'جب بڑی تعداد میں ہندوؤں نے آنا شروع کیا تو ہماری برادری نے حکومت کی اجازت کے ساتھ سمادھی کی توسیع کا منصوبہ بنایا تھا۔‘
پاکستان ہندو کونسل کے مطابق یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ اس سمادھی میں توڑ پھوڑ ہوئی ہے۔ ہندو مذہب سے مسلمان ہونے والے ایک مقامی عالم دین نے اس سے قبل سنہ 1997 میں بھی اس مندر میں توڑ پھوڑ کی تھی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس سمادھی کی دوبارہ تعمیر شروع کی گئی تھی۔











