ٹرمپ کا ’گولڈن ڈوم‘ دفاعی نظام جو 12 کھرب ڈالر کی لاگت کے باوجود شاید تمام میزائل حملے نہ روک سکے

ٹرمپ، گولڈن ڈوم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, برنڈ ڈیبسمین جونیئر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، وائٹ ہاؤس
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ’گولڈن ڈوم‘ دفاعی نظام کی تعمیر، تعیناتی اور دو دہائیوں تک آپریشن پر تقریباً 12 کھرب ڈالر لاگت آئے گی۔ یہ تخمینہ غیرجانبدار کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) کی طرف سے لگایا گیا ہے۔

یہ رقم اس ابتدائی تخمینے سے خاصی زیادہ ہے جس میں 175 ارب ڈالر مختص کیے گئے تھے۔ یہ اعتراض بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ امریکہ کو بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے بچانے کے لیے تیار کیا جانے والا یہ نظام شاید مکمل طور پر کارآمد بھی ثابت نہ ہو۔

سی بی او کی رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ ’گولڈن ڈوم‘ روس یا چین کے مکمل پیمانے کے حملے کے سامنے کمزور پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صرف حصولی لاگت ہی 10 کھرب ڈالر سے زیادہ ہو گی جس میں انٹرسیپٹر پرتیں اور خلا میں قائم میزائل وارننگ اور ٹریکنگ نظام شامل ہوں گے۔

جنوری میں وائٹ ہاؤس واپسی کے چند روز بعد ہی ٹرمپ نے اس منصوبے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد ’نئی نسل‘ کے فضائی خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔

انھوں نے گذشتہ سال کہا تھا کہ اس پروگرام کے لیے ابتدائی طور پر 25 ارب ڈالر درکار ہوں گے جبکہ مجموعی لاگت وقت کے ساتھ 175 ارب ڈالر تک پہنچے گی۔

ڈیموکریٹ سینیٹر جیف مرکلی، جنھوں نے اس تخمینے کی درخواست کی تھی، نے منگل کو کہا ’صدر کا نام نہاد گولڈن ڈوم دراصل دفاعی ٹھیکیداروں کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے جس کی قیمت مکمل طور پر محنت کش امریکی ادا کریں گے۔‘

بی بی سی نے تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون سے رابطہ کیا ہے۔

یہ خدشات پہلے ہی موجود تھے کہ آیا امریکہ اتنے وسیع رقبے کے لیے ایک جامع دفاعی نظام فراہم کر سکے گا یا نہیں۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ نظام ایسے جدید ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے میں پیچھے رہ گئے ہیں جو ممکنہ حریف ممالک کے پاس موجود ہیں۔

سی بی او کے مطابق متوقع لاگت کے باوجود ’یہ نظام کسی ہم پلہ حریف کے مکمل حملے سے مغلوب ہو سکتا ہے۔‘

ایک صدارتی حکم نامے میں، جس میں ابتدائی طور پر ’آئرن ڈوم فار امریکہ‘ کے قیام کی بات کی گئی تھی، کہا گیا کہ نئی نسل کے ہتھیاروں کا خطرہ وقت کے ساتھ زیادہ شدید اور پیچیدہ ہو گیا ہے جو امریکہ کے لیے ممکنہ طور پر ’تباہ کن‘ صورتحال ہو سکتی ہے۔

 ’گولڈن ڈوم‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اپنی دوسری مدت کے پہلے ہی ہفتے میں ٹرمپ نے محکمہ دفاع کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایسے نظام کے منصوبے پیش کرے جو فضائی حملوں کے خلاف دفاع اور بازدار قوت فراہم کر سکے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ خطرہ اب بھی امریکہ کو درپیش ’سب سے زیادہ تباہ کن‘ خطرہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے امریکہ کو جدید میزائلوں اور دیگر فضائی خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے ’گولڈن ڈوم‘ میزائل ڈیفنس سسٹم کے ڈیزائن کی منظوری دے دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ جدید دفاعی نظام ان کے دورِ صدارت کے ختم ہونے سے پہلے ہی تیار ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ دوسری بار عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسا جدید فضائی دفاعی نظام بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا جس سے امریکہ کو بیلسٹک اور کروز میزائلوں سمیت دیگر فضائی خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر اس منصوبے کے لیے 25 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں جبکہ اس کی کل لاگت 175 ارب ڈالرز آئے گی تاہم سرکاری اندازاوں کے مطابق آنے والی دہائیوں میں اس کی لاگت بڑھ کر کہیں زیادہ ہو جائے گی۔

پینٹاگون حکام خبردار کرتے آئے ہیں کہ امریکہ کا موجودہ دفاعی نظام چین اور روس کے جدید میزائلوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

منگل کے روز اوول آفس میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دراصل یہاں کوئی اس طرز کا جامع سسٹم ہے ہی نہیں۔

’ہمارے پاس مخصوص میزائل ہیں، میزائلوں سے دفاع کر سکتے ہیں لیکن کوئی جامع نظام نہیں۔۔۔ ایسا کبھی بھی کچھ نہیں رہا۔‘

گولڈن ڈوم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ امریکی سپیس فورس کے جنرل مائیکل گیوٹلین اس منصوبے کی نگرانی کریں گے۔ جنرل گیوٹلین سپیس فورس کے خلائی آپریشن کے وائس چیف ہیں۔

دوسری مرتبہ صدر بننے کے سات روز بعد ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے وزارتِ دفاع کو ایک ایسا دفاعی نظام کا منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا جو امریکہ کو لاحق ’سب سے زیادہ تباہ کن‘ فضائی خطرات سے نمٹنے کے قابل ہو۔

منگل کے روز ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ نظام زمین، سمندر اور خلا میں جدید ترین ٹیکنالوجیز پر مشتمل ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نظام کے تحت خلا میں سینسرز اور انٹرسیپٹرز بھی لگائے جائں گے۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کینیڈا بھی اس منصوبے کا حصہ بننا چاہتا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال کے اوائل میں امریکہ کے دورے پر آئے اس وقت کے کینیڈا کے وزیرِ دفاع بلی بلیئر نے بھی گولڈن ڈوم منصوبے میں شرکت کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ کینیڈا کے ’قومی مفاد‘ میں ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گولڈن ڈوم منصوبہ ’دنیا کے دوسرے کونے یا خلا سے لانچ کیے جانے والے میزائل کو بھی روک سکے گا۔‘

یہ منصوبہ اسرائیل کے آئرن ڈوم منصوبے سے متاثر ہے جسے اسرائیل سنہ 2011 سے راکٹوں اور میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال کرتا آیا ہے۔

تاہم ’گولڈن ڈوم‘ اسرائیل کے آئرن ڈوم سے کئی گنا بہتر اور بڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے بنایا جائے گا۔ یہ نظام آواز کی رفتار سے تیز ہائپرسونک میزائلوں اور خلا سے بمباری کرنے والے نظام سے بھی تحفظ فراہم کر سکے گا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس نظام کی کامیابی کی شرح تقریباً 100 فیصد ہے۔

اس سے قبل امریکی حکام کہہ چکے ہیں کہ گولڈن ڈوم کی مدد سے امریکہ میزائلوں کو فضا میں یا لانچ سے پہلے ہی روک پائے گا۔

امریکی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کے بیشتر پہلو ایک مرکزی کمانڈ کے تحت ہوں گے۔

اسرائیل کا آئرن ڈوم کیا ہے؟

آئرن ڈوم وہ فضائی دفاعی نظام ہے جس کا دنیا میں جنگ کے ماحول میں سب سے زیادہ تجربہ ہے اور اس کی وجہ حالیہ برسوں میں حماس اور غزہ سے دیگر عسکریت پسند گروپوں اور لبنان سے حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل پر داغے گئے میزائل ہیں۔

اسرائیل بھر میں آئرن ڈوم بیٹریاں نصب کی گئی ہیں۔ ایسی ہر بیٹری میں تین یا چار لانچرز ہوتے ہیں، جن میں سے ہر ایک میں 20 میزائل ہوتے ہیں۔

آئرن ڈوم ریڈار کی مدد سے حملہ آور راکٹوں کی نشاندہی کرتا ہے اور حساب لگاتا ہے کہ ان میں سے کون سے آبادی والے علاقوں پر گرنے کے امکانات ہیں۔ پھر یہ نظام صرف انھی راکٹوں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل داغتا ہے جبکہ باقی راکٹوں کو کھلے غیرآباد علاقوں میں گرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

آئرن ڈوم

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ آئرن ڈوم اب تک 90 فیصد حملہ آور راکٹوں کو تباہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس پر نصب ’تامیر‘ میزائلوں میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 50 ہزار ڈالر ہے۔

اسے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 2006 کی جنگ کے بعد تیار کیا گیا تھا، جب حزب اللہ نے اسرائیل پر تقریباً چار ہزار راکٹ فائر کیے تھے، جس سے بہت زیادہ نقصان ہوا تھا اور درجنوں شہری مارے گئے تھے۔

امریکی تعاون کے نتیجے میں اسرائیلی کمپنیوں رفائل ایڈوانسڈ ڈیفینس سسٹمز اور اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹریز کا ڈیزائن کیا گیا یہ نظام 2011 سے کام کر رہا ہے اور اسی برس یہ لڑائی میں پہلی مرتبہ استعمال ہوا جب اس کی مدد سے غزہ سے داغے گئے ایک راکٹ کو روکا گیا۔

اکتوبر 2023 سے آئرن ڈوم میزائلوں نے غزہ سے حماس اور دیگر عسکریت پسند گروپوں اور جنوبی لبنان سے حزب اللہ کی طرف سے فائر کیے گئے ہزاروں راکٹوں کو روکا ہے۔