کرک: مندر کی توسیع کے خلاف مشتعل افراد کی مندر میں توڑ پھوڑ

- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع کرک کی پولیس کے مطابق تحصیل بانڈہ داؤد شاہ کے علاقے ٹیری میں مشتعل مظاہرین نے ہندوؤں کے مقدس مقام میں ایک سمادھی کی توسیع کے خلاف ہلہ بول کر مندر کی توسیع کو روک دیا ہے۔ اس موقع پر مظاہرین نے مندر میں توڑ پھوڑ بھی کی۔
ڈی ایس پی کرک فیصل شیخ نے شام گئے بی بی سی کو بتایا کہ واقعے کی ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے اعلیٰ افسران کی میٹنگ جاری ہے۔ جس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ کن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔
فیصل شیخ نے کہا کہ پولیس تھوڑی دیر میں مقدمہ درج کر لے گی اور اس واقعے میں ملوث تمام لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا۔
موقع پر موجود ایک عینی شاہد کے مطابق واقعہ بدھ کی صبح تقریباً دس بجے پیش آیا تھا۔ مقامی آبادی اور ہندوؤں کے درمیاں طویل عرصے سے مندر کی توسیع کے معاملے پر اختلاف چلا آ رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عینی شاہد کے مطابق بدھ کو ایک سیاسی مذہبی جماعت کے مقامی رہنماؤں کی قیادت میں مظاہرین کی ایک بڑی تعداد ٹیری کے علاقے میں اکھٹی ہوئی جہاں پر مشتعل مظاہرین اور قائدین نے تقاریر کیں۔
عینی شاہد کے مطابق ’جلسہ اور احتجاج کافی دیر تک پر امن تھا۔ مگر مظاہرین میں سے کسی نے آوازیں لگانا شروع کر دیں کہ حکومت اور انتظامیہ کبھی بھی مندر کی توسیع کو نہیں روکیں گے۔ اس لیے آج ہمیں خود ہی اس پر کچھ کر گزرنا چاہیے۔ جس پر مظاہرین کی بڑی تعداد نے مندر پر ہلہ بول دیا۔ اس موقع پر ڈنڈوں سے لیس مظاہرین نے سمادھی کی توسیع والے حصے کو نقصاں پہنچایا جبکہ سمادھی والے حصے کو بھی نقصاں پہنچایا گیا۔‘

ایک اور عینی شاہد کے مطابق ’مظاہرین مشتعل تھے۔ موقع پر پولیس نہ ہونے کے برابر تھی۔ مظاہرین کافی دیر تک توڑ پھوڑ کرتے رہے۔ جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی اور اس نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کیا۔‘
کرک پولیس کے مطابق اس موقع پر کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
سمادھی کی تاریخ
پشاور میں موجودہ ہندو سکالر اور فیتھ ٹورازم انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہارون سرب دیال نے بتایا کہ یہ سمادھی ’ہمارے یوگی بزرگوں کی یاد میں قیامِ پاکستان سے پہلے سے یہاں ہے‘۔
انھوں نے بتایا کہ کرک کے اس علاقے میں ’ہمارے یوگی تارکِ دنیا ہو کر یہاں یوگ ابیساس یعنی جوگ لینا اور مراقبہ کرتے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’قیام پاکستان سے پہلے ہی ہمارے کئی یوگی بزرگ اس مقام پر اپنی عبادت اور ہندو مذہب کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ جس میں سندھ کے ایک بزرگ کرشن دوارا بھی ریاضت اور جوگ کیا کرتے تھے‘۔
ان کے مطابق ’قیامِ پاکستان کے بعد اس علاقے سے آہستہ آہستہ تمام ہندو برادری منتقل ہو گئی۔ لیکن سندھ سے ہمارے کرشن دوارا کو چاہنے والے ہندو بھائی ہر جمعرات کو عبادات و زیارت کے لیے اس مقام پر حاضری دیتے ہیں۔‘

ہارون سرب دیال کے مطابق یہ علاقہ ایک مذہبی ٹورازم کی حیثیت بھی اختیار کرتا جا رہا تھا۔
ان کے مطابق ’جب بڑی تعداد میں ہندوؤں نے آنا شروع کیا تو ہماری برادری نے حکومت کی اجازت کے ساتھ سمادھی کی توسیع کا منصوبہ بنایا تھا۔‘
ڈیری کے علاقے کے ایک مقامی صحافی ڈاکٹر اسحاق کے مطابق ہندوؤں کے مذکورہ مذہبی مقام پر طویل عرصے سے تنازع چل رہا تھا۔ اس سے پہلے یہ معاملہ عدالتوں میں بھی گیا۔ جہاں سے چار مرلہ کے حوالے سے ہندوؤں کے حق میں فیصلہ ہوا تھا۔
صحافی ڈاکٹر اسحاق کے مطابق کچھ عرصے سے ہندوؤں نے اپنے مذہبی مقام کے اردگرد مالکان سے بات چیت کر کے جائیداد کو خریدنا شروع کیا اور مندر کی توسیع شروع کر دی تھی۔ جس سے مقامی لوگ ناراض تھے اور اس پر کچھ عرصے سے احتجاج بھی ہو رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی طور پر اس علاقے میں کوئی بھی ہندو موجود نہیں ہے۔ اس مقام پر ہفتے دس دن بعد ان کے وفود آتے رہتے ہیں ’جن کا مقامی لوگ بہت خیال رکھتے تھے‘۔
ہارون سرب دیال کا کہنا ہے کہ مذکورہ مقام کی اپنی ایک اہمیت ہے۔
’یہاں پر سندھ سے لوگ تو آتے ہی تھے مگر دوسرے ممالک سے بھی ہندو لوگ یہاں آتے ہیں جس سے مذہبی سیاحت کو فروغ مل رہا تھا۔‘
پاکستان ہندو کونسل کے مطابق یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ اس سمادھی میں توڑ پھوڑ ہوئی ہے۔ ہندو مذہب سے مسلمان ہونے والے ایک مقامی عالم دین نے اس سے قبل سنہ 1997 میں بھی اس مندر میں توڑ پھوڑ کی تھی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس سمادھی کی دوبارہ تعمیر شروع کی گئی تھی۔
پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین کے مطابق سپریم کورٹ نے سنہ 2014 میں مندر کی تعمیر سے متعلق فیصلہ دیا تھا اور اس کی تعمیر کا آغاز سنہ 2016 میں ہوا تھا۔ ہندو کونسل کے مطابق قیام پاکستان سے قبل اس علاقے میں ہندوؤں کی اکثریت ہوتی تھی۔










