کراچی میں مندر پر حملہ: مندر میں توڑ پھوڑ کرنے پر نامعلوم افراد کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج

کراچی

،تصویر کا ذریعہTwitter/Lalmalhi

،تصویر کا کیپشنسیتل داس مندر کے کمپاؤنڈ میں جمع ہونے والے مقامی افراد کا مشتعل ہجوم
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مقامی ہندو آبادی اور ایک مندر پر مشتعل افراد کی جانب سے کیے جانے والے حملے کے بعد خواتین اور بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس نے ہنگامہ آرائی کرنے والے نامعلوم افراد کے خلاف سرکار کی مدعیت میں توہین مذہب کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

دوسری جانب پولیس نے مبیبنہ طور پر لوگوں میں اشتعال اور مندر پر حملے کی وجہ بننے والے واقعے میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔ اس شخص کو توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ مندر میں پیش آنے والے واقعے کے بعد کہا گیا تھا کہ مبینبہ طور پر وجہ تنازع ہندو برادری کے رہائشی کمپاؤنڈ سے نکلنے والا ایک جانور بنا جس پر کچھ قابل اعتراض الفاظ لکھے ہوئے تھے اور ایک پولیس کانسٹیبل کی مدعیت میں تھانہ نیپیئر میں نامعلوم افراد کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد اب یہ گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

ایس پی سٹی سمیر چنا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملزم کو ہندو کمیونیٹی کے تعاون سے گرفتار کیا گیا ہے۔

ایس پی کے مطابق ہندو کمیونٹی کی جانب سے مندر میں توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج نہیں کرایا گیا ہے لیکن مندر میں ہنگامہ آرائی کرنے والے نامعلوم افراد کے خلاف بھی سرکار کی مدعیت میں توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔

مندر میں توڑ پھوڑ کا واقعہ

مقامی ہندو آبادی اور ایک مندر پر مشتعل افراد کی جانب سے کیے جانے والے حملے کے بعد خواتین اور بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا جبکہ پولیس نے ہنگامہ آرائی کرنے والے نامعلوم افراد کے خلاف سرکار کی مدعیت میں توہین مذہب کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

کراچی کی لی مارکیٹ کے نزدیک واقع سیتل داس کمپاؤنڈ کا انتظام و انصرام متروکہ وقف املاک بورڈ کے تحت کیا جاتا ہے۔ متروکہ وقف املاک بورڈ نامی ادارہ اُن پراپرٹیز کی دیکھ بھال کرتا ہے جن کی ملکیت تقسیم برصغیر سے قبل ہندؤوں یا سکھوں کے پاس تھی۔

اس وقت اس کمپاؤنڈ میں دو سو کے قریب ہندو خاندان آباد ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کمپاؤنڈ کے ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی شام سات بجے کے لگ بھگ چند افراد کمپاؤنڈ کے قریب جمع ہوئے اور بتدریج اُن کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا، رات گئے تک قریباً چار سو کے قریب لوگ کمپاؤنڈ کے پاس جمع ہو چکے تھے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ بعدازاں اِن افراد نے کمپاؤنڈ میں داخل ہو کر ’مہیشوری کمیونٹی‘ کے مندر میں توڑ پھوڑ کی اور کھڑکیوں اور دروازوں کو بھی نقصان پہنچایا اور اسی اثنا میں پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔

سوشل میڈیا پر بھی اس واقعہ سے متعلق کافی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگوں کا ایک ہجوم کمپاؤنڈ کے قریب جمع ہے، جن میں مختلف عمروں کے لوگ موجود ہیں۔

کراچی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@LalMalhi

ایک ویڈیو میں ساڑھی میں ملبوس ایک خاتون مشتعل افراد کے ہجوم سے ہاتھ جوڑ کر التجا کر رہی ہیں کہ اب ڈھول نہیں بجے گا۔ اُن کے عقب میں ایک تنبو گرا ہوا نظر آ رہا ہے۔

ایک اور ویڈیو میں بھگوان شری گنیش کی مورتی ٹوٹی ہوئی پڑی ہے جبکہ ساتھ میں کچھ دیوی دیوتاؤں کی تصاویر زمین پر پڑی ہیں۔

ایک اور ویڈیو میں ایک شخص سندھی زبان میں کہہ رہا ہے کہ ’دیکھیں وہ ہمارا مندر توڑ کر گئے ہیں، ہم ہندوں کا یہ حال ہے یہاں۔‘

کمپاؤنڈ کے رہائشی افراد نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد ہندو برادری نے اپنی خواتین اور بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے، جبکہ کچھ مرد حضرات ابھی بھی کمپاؤنڈ میں موجود ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی اس مندر پر حملے کا معاملہ زیر بحث رہا۔

ریکھا مہیشوری نے لکھا کہ ایک ماہ میں یہ مندر پر تیسرا حملہ تھا۔ انھوں نے مزید لکھا کہ لیاری کے سیتل ماتا کے مندر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک مسلسل بڑھ رہا ہے لیکن حکومت اس کی روک تھام میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔

کراچی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@DrRekha99

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال ملہی لکھتے ہیں سندھ میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک بڑھ رہا ہے۔ سیتل مندر کی بیحرمتی کی گئی ہے اور ایک دوسرے واقعے میں پی ایس او کے قریب ہندو کمیونٹی کو کھانا (بھنڈارا) تقسیم کرنے نہیں دیا گیا۔

کپل دیو لکھتے ہیں ’ایک اور دن، اور ایک اور مندر کی مشتعل افراد نے توہین کی۔ ایک اور دن جب وزیراعظم اور صدر حملے کی مذمت کریں گے اور کہیں گے اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔‘

اس حوالے سے موقف جاننے کے لیے حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔