آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کنٹرول لائن عبور کرنے والی لائبہ اور ثنا: ’اسلحہ تانے انڈین فوجیوں کو دیکھ کر احساس ہوا ہم اپنے علاقے میں نہیں‘
- مصنف, ایم اے جرال
- عہدہ, صحافی
’گھریلو معاشی حالات کی وجہ سے ہمارا اپنے بھائی کے ساتھ جھگڑا روز کا معمول تھا۔ اس لیے تنگ آ کر پانچ دسمبر کو شام کے وقت ہم دونوں گھر سے نکل گئیں اور غصے میں نالہ رنگڑ عباس پور کی طرف نکل گئیں۔‘
پانچ دسمبر کو غلطی سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان عارضی سرحد لائن آف کنٹرول عبور کر جانے والی دو بہنیں اب واپس لوٹ چکی ہیں جہاں انھوں نے ایل او سی عبور کرنے کی روداد سنائی ہے۔
لائبہ نے بتایا کہ انھوں نے اندھیرے میں نالے کے ساتھ چلنا شروع کر دیا اور کچھ فاصلے پر پانی زیادہ دیکھ ہم نے ایک طرف چلنا شروع کیا جہاں گھاس زیادہ تھی۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی دو بہنوں کو لائن آف کنٹرول عبور کرنے پر انڈین حکام نے اپنی حراست میں لے لیا تھا تاہم پیر کو تیتری کراسنگ پوائنٹ پر پاکستان کے حکام کے حوالے کر دیا ہے۔
لائبہ نے بتایا کہ ’اسی دوران جھوٹی بہن ڈر کر مارے رونے لگ گی تو ہم وہاں ہی رُک گئے۔ میں نے اسے چپ کروایا، پھر وہ وہاں ہی سو گئی، پھر میں بھی سو گئی۔ مجھے معلوم نہیں اس مقام پر ہم اپنے علاقے میں تھے یا پھر لائن آف کنٹرول عبور کر چکے تھے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید بتایا کہ صبح سویرے وہ وہاں سے تھوڑا آگے پیدل نکلے اور جوں ہی ایک پتھر کے پاس پہنچے تو چھوٹی بہن نے انڈین آرمی کے دو اہلکاروں کو دیکھ لیا جو کچھ فاصلے پر جھاڑیوں میں چھپے ہوئے تھے۔
’انھوں نے ہمیں دیکھ کر اپنی رائفل سمیت پوزیشن سنبھال لی۔ اس کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ ہم اپنے علاقے میں نہیں، مگر میں نے خوفزدہ ہونے کے بجائے آرمی اہلکاروں کو آواز دی کہ ہم سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، ہم غلطی سے ادھر آ گئے ہیں۔ جس کے بعد وہ ہمارے پاس آئے اور ہمیں ساتھ چلنے کو کہا۔‘
’وہ ہمیں اپنی پوسٹ پر لے گئے، جہاں سے وہ ہمیں اپنے فوجی کیمپ میں لے گئے، جہاں انھوں نے پوچھ گچھ کی اور کورونا سمیت میڈیکل ٹیسٹ لیا۔ رات دس بجے انھوں نے ہمیں خواتین اہلکاروں کے ذریعے پونچھ پولیس کے حوالے کر دیا جنھوں نے ہمیں رات کو ایک گیسٹ ہاوئس میں رکھا، اور صبح واپس بھیجنے کے انتظامات کیے، اور ہم خیریت سے اپنے وطن واپس آ گئے ہیں۔‘
’بہنوں کی گرفتاری پر گھر میں کہرام مچ گیا‘
لڑکیوں کے بھائی محمد حمزہ کا کہنا تھا کہ ان کی بہنیں ناراض ہو کر گھر سے گئی تھیں اور جب انھیں معلوم ہوا کہ ان کی بہنوں کو انڈین آرمی نے گرفتار کر لیا ہے تو ان کے گھر میں کہرام مچ گیا۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ دونوں بہنیں ناراض ہونے کے بنا پر سنیچر کی شام کو گھر سے نکل گئیں اور جب رات تک واپس نہیں آئیں تو متعلقہ تھانے میں ان کی درخواست دی گئی۔
انھوں نے بتایا کہ 'اگلے روز ہمیں سوشل میڈیا سے معلوم ہوا کہ دونوں بہنوں کو انڈین آرمی نے گرفتار کر لیا ہے جس پر گھر میں ایک کہرام مچ گیا جس کے بعد ہم نے پولیس سے رابطہ کیا۔'
محمد حمزہ کا کہنا تھا کہ 'بہنوں کے ملنے کے باوجود والدہ ابھی تک اس غم کی وجہ سے اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ کسی سے بات کر سکیں۔‘
لڑکیوں کی پاکستان فوج کو حوالگی
کمشنر پونچھ ڈویژن مسعود الرحمن نے بتایا کہ انڈین حکام نے ان دونوں لڑکیوں کو پیر کی دوپہر تیتری کراسنگ پوائنٹ کے راستے پاکستان کی فوج اور سول حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔
پیر کو تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر جب ان بچیوں کو پاکستان فوج کے حوالے کیا گیا تو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سول انتظامیہ کی جانب سے اعجاز احمد وہاں موجود تھے۔
ضلع راولاکوٹ کی تحصیل عباس پور میں قائم پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او اعجاز احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ سترہ برس کی لائبہ اور بارہ برس کی ثنا کا تعلق عباس پور سے ہے جن میں سے ایک کالج میں فرسٹ ایئر جبکہ دوسری سکول میں ساتویں جماعت کی طالبہ ہے۔
انھوں نے بتایا کہ یہ دونوں بہنیں گھریلو ناچاقی کے باعث پانچ دسمبر یعنی سنیچر کو شام پانچ بجکر تیس منٹ پر غائب ہوئیں اور غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کر گئیں۔
انھوں نے بتایا کہ اتوار کے روز ان کو سوشل میڈیا سمیت دیگر میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ عباس پور سے لاپتہ ہونے والی بہنیں غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کر گئیں تھیں اور وہ انڈین حکام کے پاس ہیں جس کے بعد پاکستانی حکام نے انڈین حکام سے اس سلسلے میں رابطہ کیا۔
اعجاز احمد کے مطابق لڑکیوں کے بھائی حمزہ بھی موقع پر موجود تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر عباس پور سید تصور شاہ نے بتایا کہ یہ انتہائی غریب خاندان ہے جو مشکل سے دو کمروں کے مکان میں گزارہ کرتا ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان بچیوں کے والد، جو قصاب کا کام کرتے تھے، ایک سال قبل دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے تھے جبکہ اب ان کا بھائی حمزہ ایک قصاب کے ساتھ کام کر کے اپنے خاندان کا خیال رکھتا ہے۔
انڈیا کی نیوز ایجنسی اے این آئی نے بھی ان بچیوں کی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ایک لڑکی بتا رہی ہے کہ وہ غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کر گئی تھی۔
ویڈیو بیان میں لائبہ کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے گھر سے بھٹک کر ادھر آ گئیں، بارڈر کراس کر لیا اور انڈین آرمی نے ہمیں پکڑ لیا اور ہماری تھوڑی بہت پوچھ گچھ کی۔‘
لائبہ نے بتایا کہ ’ہم نے سوچا تھا کہ آرمی والے ہمیں ماریں گے مگر انھوں نے اچھا سلوک کیا، ہمیں ادھر لائے اور کھانا کھلایا۔ ہم نے سوچا تھا کہ یہ ہمیں واپس نہیں بھیجیں گے مگر یہ اب ہمیں واپس بھیج رہے ہیں۔‘
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ایک مقامی صحافی امیرالدین مغل نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے دونوں بہنوں کی واپسی کی مہم ہیش ٹیگ #KashmiriSistersReturnToHome کے ساتھ چلائی جس کو پاکستان کے صحافی حامد میر اور وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے بھی شئیر کیا۔
واضح رہے کہ سنہ 90 سے اب تک درجنوں افراد نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی طرف ایل او سی کو غلطی سے عبور کیا یا مبینہ طور پر ایل او سی سے لاپتہ ہوئے، جن میں سے کچھ مارے گئے، چند کو رہا کر دیا گیا جبکہ کچھ ابھی تک انڈین جیلوں میں قید ہیں۔ کئی کے بارے میں کوئی معلومات نہیں کہ وہ کہاں گئے۔
مگر ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے حکام نے ان لڑکیوں کو فوری طور پر واپس کیا ہے۔