آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’سرحد پار سے کشمیری نوجوانوں کو بھڑکایا جاتا ہے‘
- مصنف, زبیر احمد
- عہدہ, بی بی سی نیوز، سرینگر
وادی کشمیر بظاہر پر امن نظرآ رہا ہے لیکن عام خیال یہ ہے کہ یہ امن سطحی ہے۔ اندر ہی اندر سکیورٹی اہلکاروں اور علیحدگی پسند طاقتوں کے درمیان ایک کشمکش جاری ہے۔
حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی پہلی برسی کے موقعے پر خوف یہ تھا کہ گذشتہ سال کی طرح بڑے پیمانے پر پرتشدد واقعات رونما ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا اور اکا دکا واقع ہی پیش آیا۔
اس کی بنیادی وجوہات میں گذشتہ کئی ہفتوں سے شدت پسندوں پر سکیورٹی اہلکاروں کے مسلسل حملے شامل ہیں۔ سی آر پی ایف یعنی مرکزی ریزرو پولیس فورس کے ایک اعلی افسر اجے کمار کے مطابق گذشتہ ایک ماہ میں دو درجن شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔
لیکن اس کے باوجود ایک سال پہلے برہان وانی کے مارے جانے کے بعد کشمیری نوجوان انتہا پسندوں کے ساتھ کیوں شامل ہو رہے ہیں؟
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے پولیس کے سربراہ ایس پی وید کے مطابق سرحد پار سے سوشل میڈیا کے ذریعے اشتعال دلانے کے سبب کشمیری نوجوان بہک رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: 'کچھ عناصر ہیں جنھیں سرحد پار سے بھڑکایا جاتا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایس پی وید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں واقع کچھ ایجنسیاں وہی حربے استعمال کر رہی ہیں جو نام نہاد دولت اسلامیہ استعمال کرتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ 'دولت اسلامیہ کا کشمیر میں اثر نہیں ہے لیکن پڑوس کی کچھ ایجنسیاں ان کے طریقہ کار کا استعمال کر رہی ہیں اور اسی سے مشتعل ہو کر یہ بچے ہتھیار اٹھا رہے ہیں۔
کیا ہندوستانی حکومت کے پاس سرحد پار سے سوشل میڈیا سے بھیجے جانے والے اشتعال انگیز ویڈیو اور میسجز کا کوئی جواب ہے؟
وید کہتے ہیں کہ انتظامیہ اس ضمن میں بعض ٹھوس اقدام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ کشیدگی کے وقت انٹرنیٹ کی سہولیات بند کرنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ پاکستان کی طرف سے سوشل میڈیا کے ذریعے اکسانے کی کوششوں کو روکا جائے۔
ریاستی پولیس کے سربراہ نے ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بھی بات کہی جو اس پروپگینڈے کو وادی میں فروغ دیتے ہیں یا جو اس سے متاثر ہوتے ہیں۔
پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ 90 کی دہائی کے مقابلے میں آج کشمیر میں انتہا پسندی میں بہت زیادہ تبدیلیاں نہیں آئی ہیں۔ اس زمانے میں پاکستان کشمیر کے شدت پسندوں کی کھل کر مدد کرتا تھا۔ 'لیکن آج وہ ایجنسیوں کے ذریعے اور دوسرے اداروں کے ذریعے ایسا کرتا ہے جنھیں نان سٹیٹ ایکٹر کہتے ہیں۔ لیکن سب کچھ وہیں سے ہوتا ہے۔
پاکستان شدت پسندوں کی براہ راست مدد سے انکار کرتا ہے۔ مگر پاکستان کشمیر کی تحریک کی حمایت کو قبول ضرور کرتا ہے۔
بہت سے ممالک میں شدت پسندوں کو انتہا پسندی کے راستے سے ہٹا کر معاشرے کے مرکزی دھارے میں لانے کے پروگرام چلائے جاتے ہیں جن میں برطانیہ، امریکہ، سعودی عرب اور مصر جیسے ممالک شامل ہیں۔ کیا کشمیر میں ایسا کوئی پروگرام شروع کیا گیا ہے؟
پولیس کے سربراہ کہتے ہیں کہ جس سطح پر ہونا چاہیے ویسا نہیں ہو رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں: 'جس لیول یعنی سرکاری سطح پر ایسا ہونا چاہیے میں سمجھتا ہوں ابھی ویسا یہاں نہیں ہے۔ چھوٹی چھوٹی کوششیں ہو رہی ہیں۔ کچھ این جی اوز سرگرم ہیں۔ کچھ سرکاری ادارے کر رہے ہیں، لیکن جس سطح کا ہونا چاہیے تسلی بخش طور پر ویسا نہیں ہے۔'
ایس پی وید کہتے ہیں کہ اگر شدت پسند نوجوان شدت پسندی کا راستہ چھوڑ دیں اور مرکزی دھارے میں شامل ہونا چاہیں تو وہ ان کا استقبال کریں گے۔
لیکن نوجوان شدت پسند اور ان کے حامی اس تجویز کو نظرانداز کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ سال برہان کی موت کے بعد بھڑکنے والے پرتشدد واقعات میں سکیورٹی فورسز نے معصوم شہریوں کا قتل کیا ہے اور وہ اس زیادتی کو بھول نہیں سکتے ہیں۔
سنیچر کو جنوبی کشمیر کے پلوامہ علاقے میں مشتعل بھیڑ نے سکیورٹی پر پتھر کرتے ہوئے انڈیا کے خلاف اور پاکستان کے حق میں نعرے لگائے۔ انھوں نے ’کشمیر کی آزادی‘ کی جنگ جاری رکھنے پر پورا زور لگانے کی باتیں کہیں۔