پاکستانی اور انڈین جیلوں میں قید ماہی گیروں کے اہلخانہ کا درد

    • مصنف, شمائلہ جعفری اور روکسی گگڈیکر
    • عہدہ, بی بی سی انڈین لینگوئجز

لیلیٰ ابراہیم اور امروت سولنکی کے درمیان بحیرۂ عرب حائل ہے۔

وہ رہتی تو پاکستان اور انڈیا میں ہیں لیکن ان دونوں میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔

ان دونوں کے شوہر ماہی گیر ہیں۔ لیلیٰ پانچ بچوں کی والدہ ہیں جبکہ امروت کے چار بچے ہیں۔

لیلیٰ کے شوہر انڈیا کی جیل میں قید ہیں تو امروت کے شوہر کا ٹھکانہ ایک پاکستانی جیل ہے۔

ان دونوں کو بحری حدود کی خلاف ورزی کے الزام میں پکڑا گیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور غلطی سے غیرملکی پانیوں میں چلے گئے تھے۔

لیلیٰ کے خاندان کے 16 ارکان کو دسمبر 2016 میں انڈین حکومت نے حراست میں لیا تھا جبکہ امروت کے شوہر اور ان کے چھ ساتھی جنوری 2017 میں پکڑے گئے تھے۔جب بھی دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوتے ہیں اس کا اثر ان مچھیروں پر سب سے پہلے پڑتا ہے۔

لیلیٰ اور امروت دونوں کی بیٹیاں اپنی ماؤں سے اب بس ایک ہی سوال کرتی ہیں کہ ان کے والد سمندر سے کب واپس آئیں گے؟

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں اپنے گاؤں جھنگیسر میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لیلیٰ کا کہنا تھا کہ 'میرے بچے اسے بہت یاد کرتے ہیں، خصوصاً میری چھوٹی بیٹی۔ وہ ہر وقت اسے یاد کرتی رہتی ہے اور اس کی واپسی کے خواب دیکھتی ہے۔'

یہ قیدی ماہی گیر اپنے گھروں کے واحد کفیل تھے۔ اب ان کی بیویوں اور ماؤں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ یا تو سمندر میں جا کر مچھلیاں پکڑیں یا گلیوں میں جا کر بھیک مانگیں۔

سمندر پار مغربی انڈیا کے گاؤں دامان اور دیو میں امروت سولنکی بھی اپنی چھوٹی بیٹی سے جھوٹ بولتی ہیں۔

وہ نمرتا سے کہتی ہیں کہ ان کے والد جلد ہی آ جائیں گے تاکہ وہ کھانا کھا لے۔

امروت نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں گھر چلانے کے لیے سود پر قرض لینا پڑا۔

وہ کہتی ہیں کہ 'میں نے ساہوکار سے وعدہ کیا ہے کہ جیسے ہی میرے شوہر پاکستانی جیل سے واپس آئیں گے میں پیسے واپس کر دوں گی۔' مگر کوئی نہیں جانتا کہ وہ شخص کب واپس آئے گا۔

گلاب شاہ پاکستان میں فشر فوک فورم میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سمندر میں کوئی سرحد نہیں ہونی چاہیے اور سرکریک کا مسئلہ حل ہونا چاہیے کیونکہ یہی ان ماہی گیروں کی اس قید کی بنیادی وجہ ہے۔

'یہ ماہی گیر چھوٹی چھوٹی کھاڑیوں سے گزرتے ہیں اور کبھی کبھی کھلے سمندر میں بھٹک کر سرحد پار کر لیتے ہیں اور جیل جا پہنچتے ہیں اور کبھی کبھی عمر قید ہوتی ہے۔'

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ'اگر سرحد غیر قانونی طور پر پار کرنا جرم ہے تو انھیں قانون کے مطابق صرف تین ماہ تک قید کی سزا ملنی چاہیے۔'

سرحد کے اس پار جانے والے ماہی گیروں کے ساتھ بھی یہی برتاؤ ہوتا ہے۔

منیش لودھری پوربندر فشنگ بوٹ ایسوسی ایشن کے سابقہ صدر ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب بھی پاکستان میں سمندری حدود کی نگران ایجنسی پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی ماہی گیروں کو گرفتار کرتی ہے تو ان کا ادارہ اس سے رابطہ کرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 'یہ ایک طویل عمل ہوتا ہے اور اگر یہ تیزی سے بھی کیا جائے تو ماہی گیروں کو پاکستان میں گرفتار ہونے کے بعد گھر لوٹنے میں کم ازکم ایک سال لگتا ہے۔'

ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ اصل مسئلہ سرکریک کا ہے اور اگر دونوں حکومتیں 'ماہی گیروں کے لیے 50، 50 بحری میل کا فری زون بنا دیں تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ دیگر ممالک نے بھی ایسا کیا ہے۔'

سرکریک انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک تنگ متنازع پٹی ہے اور 96 کلومیٹر طویل یہ علاقہ انڈین ریاست گجرات اور پاکستانی صوبہ سندھ کے درمیان ہے۔

پاکستان اور انڈیا نے ماہی گیروں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے۔

تجویز دی گئی ہے کہ اس کمیشن کے ارکان کو سال میں ایک مرتبہ ان جیلوں کا دورہ کرنا چاہیے جن ماہی گیر قید ہوتے ہیں۔ انھیں ان کی معاونت کرنے کے لیے ان تک رسائی ملنی چاہیے۔ ماہی گیروں کو بہتر خوراک، علاج معالجے کی سہولت اور جیل میں رہنے کی بہتر سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔

ان میں سے کسی بھی تجویز پر کبھی بھی عمل نہیں کیا گیا۔

دونوں ممالک نے اس بین الاقوامی معاہدے پر بھی دستخط کر رکھے ہیں جس کی رو سے ماہی گیروں کو گرفتار کرنا ممنوع ہے تاہم یہ دونوں ملک اسے نظر انداز کرتے ہیں۔

ہر چھ ماہ بعد قیدی ماہی گیروں کے معاملے کے حل کے لیے مذاکرات ہوتے ہیں تاہم پیش رفت بہت سست روی سے ہوتی ہے۔

وہ پاکستان کی سلمیٰ ہوں یا انڈیا کی شانتا کوللپیت جیلوں میں مقید ماہی گیروں کی رشتہ دار خواتین اکثر ناخواندہ ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ گرفتار ہونے والے مردوں کے لیے دوڑ دھوپ کر سکیں۔

شانتا کے شوہر کنجی بھائی کو بھی پاکستانی حکام نے رواں سال کے آغاز میں حراست میں لیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ 'کشتی کے مالک بھی ہمیں اپنے شوہر کا مقدمہ چلانے کے لیے کوئی معاشی یا قانونی مدد نہیں دیتے۔'

جھنگیسر کی سلمیٰ کا دکھ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ انھیں تو میڈیا کے ذریعے پتہ چلا کہ ان کے بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ 'میں نے اپنے بیٹے کی تصویر انٹرنیٹ پر دیکھی تو مجھے اس کی گرفتاری کا پتہ چلا۔'

وہ کہتی ہیں کہ اس واقعے کے ایک ماہ بعد اسی دکھ کے نتیجے میں ان کے شوہر کی وفات ہو گئی۔

سلمیٰ نے دریا پر نظریں جمائے ہوئے کہا کہ 'حکومت کو ہماری مدد کرنی چاہیے اور ان کے ماہی گیر رہا کر دینے چاہییں تاکہ وہ ہمارے بچے رہا کر دیں۔'