کاون: دنیا کا ’تنہا ترین‘ ہاتھی پاکستان سے اپنے نئے گھر کمبوڈیا پہنچ گیا

،تصویر کا ذریعہ@fourpawsint
پاکستان میں کسمپرسی کی زندگی سے نجات پانے کے بعد وہ معمول سے زیادہ وزنی ہاتھی جسے دنیا کا تنہا ترین ہاتھی کا نام دیا گیا، اپنے نئے گھر کمبوڈیا پہنچ گیا ہے۔
کمبوڈیا میں کاون کا استقبال کرنے والوں میں دیگر افراد کے علاوہ امریکہ کی مشہور گلوکارہ شیر بھی شامل تھیں جنہوں نے اس ٹیم کے تمام اخراجات اٹھائے ہیں جو ایک قانونی جنگ کے بعد کاون کو پاکستان سے نکالنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہFOUR PAWS International
کاون نے اپنی زندگی کے 35 برس اسلام آباد کے چڑیا گھر میں گزارے جہاں انتظامات غیرمعیاری تھے اور سنہ 2012 میں اپنی دوست ہتھنی کے مرنے کے بعد سے کاون شدید اکیلے پن کا شکار رہا۔
کمبودڈیا میں اسے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مختص علاقے میں رکھا جائے گا جہاں وہ کھلی فضا میں دوسرے ہاتھیوں کے ساتھ آزادانہ گھوم پھر سکے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
کمبوڈیا کے شمال میں سیم ریپ کے ہوائی اڈے پر خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے اداکارہ شیر کا کہنا تھا کہ 'میں بہت خوش ہوں اور مجھے بہت فخر ہے کہ وہ یہاں پہنچ گیا ہے۔ کاون واقعی ایک زبردست جانور ہے۔'
اس بارے میں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنگلی حیات کی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایف پی آئی سے منسلک ڈاکٹر عامر خلیل کا کہنا تھا کہ پاکستان سے کمبوڈیا کے ہوائی سفر کے دوران کاون کا رویہ ایسا تھا جیسے وہ ہوائی سفر کا عادی ہو۔ انہوں نے بتایا کہ پرواز کے دوران ہاتھی پریشان نہیں ہوا بلکہ اس نے کھایا بھی اور کچھ دیر کے لیے سویا بھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کاون کے کمبوڈیا پہنچنے پر ملک کے نائب وزیر برائے ماحولیات نیتھ پھیکترا نے کہا کہ ان کا ملک کاون کو اپنے ہاں خوش آمدید کہتا ہے۔ ’آج کے بعد کاون دنیا کا سب سے اکیلا ہاتھی نہیں رہے گا۔ ہم مقامی ہتھنیوں کے ملاپ سے کاون کی افزائش نسل کریں گے۔ اس کا مقصد کاون کی جینز کو محفوظ کرنا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنگل کی جانب اپنے سفر کے آخری مرحلے پر روانہ ہونے سے پہلے بعض سادھوؤں نے کیلوں اور تربوزوں سے کاون کی تواضع کی۔ اس موقع پر انہوں نے کاون کی صحت و سلامتی کے لیے منتر پڑھے اور اس کے جسم پر اپنا مقدس پانی چھڑکا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images












