مرغزار چڑیا گھر سے کاون کی منتقلی: کیا کاون کو 35 برس بعد اسلام آباد سے کمبوڈیا منتقل کرنے کا عمل محفوظ ہے؟

کاون

،تصویر کا ذریعہUzma Khan

    • مصنف, شبینہ فراز
    • عہدہ, صحافی

وہ 1985 کا سال تھا جب سری لنکا کی حکومت نے سابق صدر پاکستان ضیا الحق کے دورہ سری لنکا میں جذبہ خیرسگالی اور دونوں ممالک کے بہترین تعلقات کی علامت کے طور پر صدر پاکستان کی صاحبزادی کو ہاتھی کا ایک بچہ پیش کیا۔

اس ہاتھی کا نام کاون تھا اور اس کی عمر صرف ایک برس تھی۔

35 برس سے یہ ہاتھی اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں آنے والوں کی تفریح طبع کا سبب بنا رہا تاہم اب یہ بدلنے والا ہے۔ کاون بہت جلد چڑیا گھر کی قید و بند سے سے نکل کر آزاد فضاؤں میں سانس لینے والا ہے کیونکہ حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کاون کی رہائی اور اسے ایک بہترین قدرتی مسکن میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

حکومت کے پاس اس حوالے سے دو آپشن زیر غور تھے۔ ایک یہ کہ کاون کو اپنے آبائی گھر سری لنکا واپس بھیج دیا جائے یا پھر اسے کمبوڈیا منتقل کیا جائے۔ بالآخر حکومت نے کاون کو کمبوڈیا بھیجنے کا فیصلہ کیا اور آج کل متعلقہ ادارے اس حوالے سے تیاریوں میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم یہاں یہ سوال اٹھتے ہیں کہ کیا جس گھر میں کاون 35 برس موجود رہا وہاں سے اچانک اسے سینکڑوں میل دور کسی اور ملک منتقل کرنا خطرے سے خالی ہے؟ کیا ایسا کرنے سے کاون کو سکون مل پائے گا؟ اور کیا کاون کو پاکستان میں ہی بہتر سہولیات نہیں دی جا سکتی تھیں؟

ان تمام سوالوں کے جواب ڈھونڈنے سے پہلے جانوروں سے محبت کرنے والوں کی کاون کے لیے کی جانے والی پانچ سالہ جدوجہد پر نظر ڈال لیتے ہیں۔

کاون کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی کہانی

یہ سنہ 2015 کی بات ہے جب ایک دن اسلام آباد کے پر فضا مرغزار چڑیا گھر سے کاون کی کچھ تصاویر اور ویڈیوز منظر عام پر آئیں جن میں وہ کبھی کسی دیوار سے سر ٹکریں مارتا دکھائی دیتا ہے تو کبھی زنجیروں میں جکڑا کھڑا ہوتا ہے۔

یہ تصاویر اور ویڈیوز جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو جانوروں سے محبت کرنے والوں کو بے قرار کر گئیں اور وہ اس بے زبان کی رہائی کے لیے بے چین ہو گئے۔

کچھ طلبا و طالبات نے دنیا بھر کی توجہ کاون کی حالت زار پر مرکوز کرنے کے لیے باقاعدہ ایک مہم شروع کی اور سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا۔

انھوں نے فیس بک پر ’فری کاون دی ایلیفنٹ‘ پیج بنایا جس پر دس ہزار سے زائد فیس بک صارفین کاون کی سپورٹ اور تازہ صورت حال سے باخبر رہنے کے لیے موجود ہیں۔

کاون

،تصویر کا ذریعہUzma Khan

،تصویر کا کیپشنعالمی سطح پر اس مہم میں تیزی اس وقت آئی جب امریکی پاپ گلوکارہ شیر اس مہم میں شامل ہوئیں اور باقاعدگی سے ٹویٹ کرتی رہیں

اس کے علاوہ بھی کاون کی رہائی کے حوالے سے کئی پیج سرگرم ہیں جن پر ہزاروں لوگ روزانہ تبصرہ کرتے ہیں اور کاون کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں مثلاً ’دی آئی آف دی سٹارم، فری کاون‘، ’ایلیفنٹ فریڈم فائٹر‘ وغیرہ۔

ان نوجوانوں نے کاون کی رہائی کے حوالے سے دنیا بھر کے ہم خیال لوگوں کو اکھٹا کرنے اور متعلقہ اداروں پر دباﺅ بڑھانے کے لیے ایک آن لائن پٹیشن بھی شروع کی تھی۔

دنیا بھر سے بلامبالغہ چار لاکھ سے زیادہ افراد نے اس پٹیشن کو سائن کیا اور کاون کے حوالے سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں ایک ٹیمپلیٹ ای میل بنایا گیا اور سینکڑوں افراد کے ذریعے روزانہ سرکاری عہدیداروں کو خطوط بھیجنے کے لیے اس کا استعمال کیا گیا۔

پاکستان اور پاکستان سے باہر تمام طبقہ فکر کے افراد اس مہم میں شامل ہو گئے۔ یونیورسٹی، کالجز کے طلبہ و طالبات کے ساتھ سکولوں کے ننھے منے بچوں نے بھی بینر پکڑ کر اپنے ’پسندیدہ ہاتھی‘ کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

عالمی سطح پر اس مہم میں تیزی اس وقت آئی جب امریکی پاپ گلوکارہ شیر اس مہم میں شامل ہوئیں اور باقاعدگی سے ٹویٹ کرتی رہیں۔

دریں اثنا اسلام آباد کے اویس اعوان ایڈووکیٹ نے مارچ 2019 میں عدالت میں پٹیشن داخل کرتے ہوئے کاون کی چڑیا گھر سے منتقلی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ کاون چڑیا گھر میں بہت خراب حالت میں زندگی گزار رہا ہے، اس کا رہائشی رقبہ اس کی جسمانی ضرورت سے بہت چھوٹا ہے لہٰذا اسے کسی اور موزوں جگہ رکھا جائے کیونکہ یہاں یہ جسمانی اور ذہنی دونوں اعتبار سے دباﺅ میں ہے۔

اویس اعوان نے اس حوالے سے بتایا کہ اسلام آباد میں چڑیا گھر کے حوالے سے قوانین میں کافی سقم ہیں یہی واضح نہیں ہو پا رہا تھا کہ آخر یہ چڑیا گھر کس کے زیر انتظام ہے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی یا اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ میں سے آخر کون ذمے دار ہے۔

’ہماری خوش قسمتی ہے کہ جج صاحب جانوروں کے مسائل اور ان کی تکلیف کو سمجھنے والے ہیں۔ ان ڈیڑھ سالوں میں انھوں نے ہر ادارے کو موقع دیا کہ وہ آگے آئے اور کچھ کر دکھائے لیکن کچھ نہیں ہوا اور بالآخر عدالت کو یہ حکم دینا پڑا کہ مرغزار چڑیا گھر سے کاون سمیت دیگر جانوروں کو محفوظ پناہ گاہوں میں منقتل کیا جائے۔

کاون کی رہائی کے عدالتی فیصلے سے شیر بہت خوش ہوئیں اور انھوں نے حکومت پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ کاون کی کمبوڈیا منتقلی کے حوالے سے شیر کی تنظیم نے مالی تعاون کی بھی پیش کش کر رکھی ہے۔

کاون

،تصویر کا ذریعہUzma Khan

،تصویر کا کیپشنایک بین الاقوامی تنظیم کے نمائندے مصری ڈاکٹر عامر خلیل نے اگرچہ کاون کا معائنہ کر کے اسے سفر کے لیے صحت مند اور فٹ قرار دیا ہے لیکن ملکی سطح پر اس حوالے سے تحفظات موجود ہیں

کاون کی رہائی کس حد تک محفوظ؟

ایک بین الاقوامی تنظیم کے نمائندے مصری ڈاکٹر عامر خلیل نے اگرچہ کاون کا معائنہ کر کے اسے سفر کے لیے صحت مند اور فٹ قرار دیا ہے لیکن ملکی سطح پر اس حوالے سے تحفظات موجود ہیں۔

تحفظ حیوانات کے ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان سے وابستہ عظمیٰ خان نے بی بی سی سے تفصیلی بات چیت کرتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ کاون کی رہائی بلاشبہ اچھا فیصلہ ہے اور پاکستان کی جانب سے دنیا بھر کے جانوروں سے محبت کرنے والوں کو اس سے ایک اچھا پیغام ملا۔ مگر اس حوالے سے خطرات بہت زیادہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اسے یقیناً کسی پنجرے میں ہی رکھ کر لے جایا جائے گا جس کے لیے باقاعدہ کاوان کو ٹریننگ دینی ہو گی جس کے لیے خاصا وقت درکار ہے۔‘

خیال رہے کہ کاون کی روانگی کے لیے عدالت نے 30 ستمبر تک کا وقت دیا ہے تاہم عظمیٰ سمیت دیگر ماہرین کے نزدیک یہ وقت بہت کم ہے کیونکہ جس پنجرے میں کاوان کو لے جایا جائے گا اس پنجرے سے اسے مانوس اور عادی ہونے میں وقت لگے گا۔

ماہرین کے مطابق اس کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کاون کو ٹریننگ دینی ہو گی۔ پنجرے میں رہنے کا وقت بتدریج بڑھایا جائے گا تاکہ اچانک اقدام سے جانور ذہنی تناﺅ میں نہ آ جائے۔

عظمیٰ بتاتی ہیں کہ ’عمر رسیدہ ہونے کے باعث کاون کو بے ہوش بھی نہیں کیا جا سکتا لہٰذا اس منتقلی میں خاصے خطرات ہوں گے اور اگر یہ تجربہ ناکام ہو جاتا ہے تو اس کا کون ذمے دار ہو گا؟‘

عظمیٰ خان چڑیا گھر کے جانوروں کے حوالے سے باقاعدہ تربیت یافتہ ہیں اور انھیں کئی سال بین الاقوامی چڑیا گھروں میں کام کرنے کا تجربہ بھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نقل و حمل جانوروں کے لیے ہمیشہ ایک خوف اور ذہنی دباﺅ کا باعث بنتا ہے اور شدید ذہنی تناﺅ انھیں جسمانی طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ کاون ایشیائی ہاتھی ایلیفس میکسیمس نامی نسل سے ہے جسے ایشیاٹک ایلی فینٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے قدرتی مسکن ایشیا کے کئی ممالک میں ہیں لیکن تاریخی طور پر اس کے پاکستان میں پائے جانے کے حوالے سے کوئی شواہد نہیں ملتے۔

انٹرنیشنل یونین فار کنزویشن آف نیچر آئی یو سی این نامی ادارے نے اپنی مرتب کردہ خطرے سے دوچار جان داروں کی فہرست ’ریڈ لسٹ‘ میں اس نسل کو معدومیت سے دوچار قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایشیائی ہاتھیوں کی اوسط عمر اسیری میں 45 سے 50 سال کے درمیان ہے جبکہ جنگل میں یہ 60 سال زندہ رہ سکتے ہیں۔

عظمیٰ کہتی ہیں کہ ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ کاون نے اپنی زندگی کا ایک بڑاحصہ گزار دیا ہے اس لیے یہ بھی امکان ہے کہ وہ نئی زندگی اور نئے ماحول میں خود کو نہ ڈھال سکے لہٰذا بہتر ہے کہ اس کے لیے یہیں بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مرغزار چڑیا گھر میں کاون کے انکلوژر کے پیچھے بہت بڑا رقبہ موجود ہے جسے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

’اس کے لیے ملکی اور غیر ملکی ماہرین سے مدد لی جاسکتی ہے کہ کاون کی رہائش کی جگہ کو کیسے بہتر طریقے سے ڈیزائن کیا جا سکتا ہے۔‘

چڑیا گھروں کے بین الاقوامی معیارات اور قوانین پر نظر ڈالی جائے تو ورلڈ اسوسی ایشن آف زوز اینڈ ایکوریم کے 2019 میں جاری کیے گئے معیار کے مطابق ہر چڑیا گھر میں کم از کم تین ہاتھی رکھے جا سکتے ہیں جن میں نر اور مادہ دونوں شامل ہونے چاہییں۔ تاہم کاون کی ساتھی ’سہیلی کی سنہ 2012 میں ہلاکت کے بعد سے کاون چڑیا گھر میں اکیلا ہے۔

عظمیٰ خان کا کہنا ہے کہ چڑیا گھرکے جانوروں کے لیے پاکستان میں کوئی قوانین یا معیارات موجود نہیں ہیں، کسی جانور کا خیال رکھنے کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا ہے کہ اسے کھلا پلا دیا جائے یا ٹہلا دیا جائے۔

کاون

،تصویر کا ذریعہUzma Khan

،تصویر کا کیپشنعظمیٰ خان: چڑیا گھرکے جانوروں کے لیے پاکستان میں کوئی قوانین یا معیارات موجود نہیں ہیں، کسی جانور کا خیال رکھنے کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا ہے کہ اسے کھلا پلا دیا جائے یا ٹہلا دیا جائے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’چڑیا گھروں میں جانوروں کی بنیادی ضروریات یعنی ان کی صحت، ان کے رہنے کی جگہ اور کھانے پینے کا انتظام معیاری اور صاف ستھرا ہونا چاہیے۔‘

اس کے علاوہ انھیں مصروف رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے جس سے یہ کنٹرول میں رہتے ہیں۔ ہاتھیوں کو مختلف کرتب سکھائے جاتے ہیں کیونکہ کھیل کود کے ذریعے ہی انھیں مصروف رکھا جا سکتا ہے اور یہ مصروفیت انھیں ذہنی تناﺅ سے دور رکھتی ہے اور وہ پُرسکون رہتے ہیں اور اس کے لیے چڑیا گھر کے عملے کی تربیت بہت ضروری ہے۔

پاکستان کے چڑیا گھروں میں ہاتھیوں کے حوالے سے اچھی مثالیں موجود نہیں ہیں۔ کاون کی ساتھی ہتھنی ’سہیلی‘ کو بنگلہ دیش سے منگوایا گیا تھا جو 2012 میں بیماری کے باعث چل بسی۔

لاہور چڑیا گھر کی ہتھنی ’سوزی‘ بھی تنہائی اور بیماری کے ہاتھوں سنہ 2017 میں مر گئی۔ اس وقت پاکستان میں کاوان سمیت پانچ ہاتھی موجود ہیں جن میں سے چار کراچی میں ہیں۔ ان چار میں سے دو کراچی چڑیا گھر میں اور دو سفاری پارک میں موجود ہیں۔

اس حوالے سے عظمیٰ خان کا موقف دو ٹوک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اب فیصلہ کر لینا چاہیے کہ آئندہ کوئی ہاتھی پاکستان نہیں لایا جائے گا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’وسائل اور تربیت کے فقدان کے باعث ہم ان کا جسمانی اور نفسیاتی خیال نہیں رکھ پاتے ہیں۔‘

’ہمارے مہاوتوں کے پاس جدید دور کا علم نہیں ہے وہ اسی دور میں زندہ ہیں جب ہاتھیوں کو ڈنڈوں سے پیٹ کر اور نیزہ چبھو کر قابو کیا جاتا تھا۔‘

اگرچہ اب کاون کی روانگی چند ہفتوں کا معاملہ لگتی ہے مگر کچھ افراد کا یہ بھی خیال ہے کہ کاون کی ملک سے باہر روانگی اتنا سادہ معاملہ نہیں ہے جتنا بظاہر نظر آتا ہے اور اس میں بہت سے سیاسی عوامل بھی شامل ہو چکے ہیں۔

جنگلی حیات کے شعبے سے وابستہ ایک ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کاون ہاتھی کی رہائی پر بھی سیاست کے سائے منڈلا رہے ہیں مثلاً کاون کا کمبوڈیا جانا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ ہمارے اس ملک سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس لیے کچھ ’بڑے لوگ‘ اس کے خلاف ہیں کیونکہ کمبوڈیا ہمارے مخالف ’کیمپ‘ میں ہے۔ البتہ سری لنکا والا آپشن استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ سری لنکا سے ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالت کو چاہیے تھا کہ ملک سے باہر بھیجنے کا حکم دینے سے پہلے صوبوں سے بھی پوچھ لیا جاتا۔ اس حوالے سے سندھ کی کچھ بااثر حکومتی شخصیات نے دلچسپی بھی ظاہر کی ہے کہ وہ کاون کو صوبہ سندھ میں تمام سہولیات مہیا کرسکتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کاون کو جس مقصد کے لیے ملک سے باہر بھیجا جارہا ہے وہ وہاں بھی حل نہیں ہو گا کیونکہ کمبوڈیا کی محفوظ پناہ گاہ میں بھی کاون بالکل آزاد نہیں ہو گا اور اسے ایک مہاوت کی نگرانی میں گھومنے پھرنے کے بعد اسے کسی احاطے میں ہی بند کیا جائے گا کیونکہ اتنی عمر گزارنے کے بعد شاید وہ جنگل میں ایڈجسٹ بھی نہ کر سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پھر اتنے کھٹراگ کی کیا ضرورت ہے جب پاکستان میں ہی اس کے لیے مناسب انتظام کیا جا سکتا ہے۔

کاون

،تصویر کا ذریعہUzma Khan

،تصویر کا کیپشناگرچہ اب کاون کی روانگی چند ہفتوں کا معاملہ لگتی ہے مگر کچھ افراد کا یہ بھی خیال ہے کہ کاون کی ملک سے باہر روانگی اتنا سادہ معاملہ نہیں ہے جتنا بظاہر نظر آتا ہے اور اس میں بہت سے سیاسی عوامل بھی شامل ہو چکے ہیں

کاوان سے متعلق مہم جانوروں کے حقوق کی بحالی کا آغاز؟

اویس اعوان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وقت بدل گیا ہے، اب چڑیا گھروں کی موجودگی کا تصور فرسودہ ہو چکا ہے۔ اب تو ماحول دوست سیاحت اور جانوروں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کا دور ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’لوگوں کو اگر جانور دیکھنے ہیں تو قدرتی ماحول میں جاکر دیکھیں ہمارے ہاں لوگوں میں جانوروں کے حوالے سے معلومات، شعور اور حساسیت کی کمی ہے۔‘

’ہم نے لوگوں کو پنجروں میں پٹاخے پھینکتے، پتھر اچھالتے بھی دیکھا ہے۔ کاون کے حوالے سے ہونے والی اس بحث سے شاید انسان اور جانور کا ٹوٹا ہوا رشتہ برقرار ہو سکے۔‘

اس وقت کاون کی روانگی اور جانوروں کے قید و بند کے حوالے سے بھی بحث زوروں پر ہے۔

اس حوالے سے ہمارے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچڑیا گھر ختم کیے جائیں گے تو جانوروں کی غیر قانونی تجارت اور شکار بڑھے گا۔

ان کے مطابق امیر لوگ اپنے گھروں میں چڑیا گھر کھول لیں گے اور کم وسائل والے لوگوں میں پرندے پالنے کا رحجان بھی بڑھ سکتا ہے۔ غریب لوگ جنگلوں سے جانور اور پرندے پکڑ کر بیچنا شروع کر دیں گے۔

’کیا ہمارے قوانین اتنے سخت ہیں کہ ہم اس لاقانونیت کو روک پائیں گے؟‘

ایک اور صاحب جو وائلڈ لائف میں پی ایچ ڈی ڈگری کے حامل ہیں انھوں نے کہا کہ اگر چڑیا گھر ختم کر دیے جائیں توپھر طالب علم کیا کریں گے۔

’ہماری پی ایچ ڈی کی تو ابتدا ہی چڑیا گھروں میں جانوروں کے مشاہدے سے ہوتی ہے۔ بنیادی معلومات اور جانوروں کی عادات کا مشاہدہ یہیں ہوتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنی پی ایچ ڈی کے دوران 72 گھنٹے چڑیا گھر میں صرف کیے تھے حتیٰ کہ ایک رات وہاں سونا بھی پڑ گیا تھا۔

یوں تو پاکستان کے جنگلات میں ہاتھی پائے جانے کے شواہد نہیں ملتے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی سال صوبہ سندھ کے قدیم شہر بھنبھور کی کھدائی کے دوران ایک ایسی ورکشاپ کے آثار ملے ہیں جہاں ہاتھی دانت سے مختلف اشیا بنائی جاتی تھیں۔

یہ ہاتھی دانت کے ایسے ٹکڑے تھے جو اشیا کی تراش خراش کے دوران الگ ہوئے تھے۔ اس حوالے سے یہی امید ظاہر کی جا سکتی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں پاکستان میں ہاتھیوں کی موجودگی کے مستند شواہد بھی ملیں گے اور جانوروں کی فلاح کے لیے نظام بھی مرتب کیے جائیں گے۔