اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر کے زخمی ریچھ کی فریاد

،تصویر کا ذریعہMahera Omer/Pakistan Animal Welfare Society
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
بھورے ریچھ کا شمار پاکستان میں ایسے جنگلی جانوروں میں ہوتا ہے جن کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے اور چند سال قبل کیے جانے والے ایک عالمی سروے کے مطابق پاکستان کے جنگلات میں بُھورے ریچھوں کی تعداد صرف 200 ہے جبکہ کالے ریچھ 450 ہیں۔
سرد جنگلات میں بسیرا کرنے والے ریچھوں کے لیے ویسے تو گرم موسم کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتا لیکن اگر یہ گرمیاں انھیں ناموافق حالات میں کسی پنجرے میں کاٹنی پڑیں تو اِن کا حال مرغزار چڑیا گھر کے بھورے ریچھوں جیسا ہو جاتا ہے۔
اسلام آباد کے اس چڑیا گھر میں جانوروں کی دیکھ بھال کے معاملے میں پہلے بھی سوال اٹھتے رہے ہیں اور گذشتہ برس بھی ایک بُھورا ریچھ اس چڑیا گھر میں مر گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
اب یہاں آٹھ برس قبل ہمالیہ کے سرد جنگلات سے لائے گئے دو ریچھوں کو جس تنگ پنجرے میں قید رکھا گیا ہے وہ ان کے قدرتی مسکن سے کسی طرح بھی مطابقت نہیں رکھتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
موسم کی شدت کے ساتھ ساتھ مناسب دیکھ بھال کے فقدان کا نتیجہ بُھوری ریچھنی کے پاؤں پر ایک گہرے زخم کی صورت میں نکلا ہے اور جہاں ریچھنی درد سے کراہتی دکھائی دیتی ہے وہیں اس سے دو سال چھوٹا اس کا ساتھی بےبسی کی تصویر بنا ہوا ہے۔
حال ہی میں چڑیا گھر کا دورہ کرنے والے ایک اعلیٰ سطح کے سرکاری اور غیر سرکاری ماہرین کے وفد کے مطابق بُھورے ریچھوں کے اس جوڑے کو مسلسل کئی برس سے انتہائی نامناسب حالات میں رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے اب ان کی حالت اب قابل رحم ہو چکی ہے۔
اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر انیس الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ شکایات موصول ہونے کے بعد ریچھوں کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ان کے شعبے کے اہلکاروں نے ماہرین کے ہمراہ چڑیا گھر کا دورہ کیا تھا۔ ان کے مطابق ماہرین نے یہ بتایا کہ ’بُھورے رنگ کے خوبصورت ریچھ کو انتہائی خراب جگہ پر ایک تنگ پنجرے میں رکھا ہوا ہے۔‘
’ہم نے چڑیا گھر کی انتظامیہ کو زخمی ریچھ کو ایوبیہ نیشنل پارک منتقل کرنے کی تجویز بھی دی ہے، جہاں کا قدرتی ماحول اور پنجرے سمیت دستیاب سہولتیں زیادہ بہتر ہیں مگر سی ڈی اے نے اس پیشکش کا ابھی کوئی جواب نہیں دیا ہے۔‘
ادھر چڑیا گھر کے ڈائریکٹر رانا طاہر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سرکاری سطح پر ابھی تک انھیں ایسا کوئی نوٹیفکیشن یا خط موصول نہیں ہوا ہے۔ سب تجاویز زبانی ہی ہیں۔ ڈاکٹر انیس کی پیشکش کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری سطح پر ان سے کوئی تحریری رابطہ کیا جائے گا تو پھر وہ اس پر سوچ بچار کریں گے۔
زخمی ریچھ کی حالتِ زار
مرغزار چڑیا گھر میں موجود ریچھنی کو اس جگہ پر آٹھ برس ہونے کو ہیں۔ چڑیا گھر کی انتظامیہ کے مطابق جب اسے یہاں لایا گیا تھا تو اس کی عمر صرف چھ ماہ تھی۔
انتظامیہ کو اس ریچھ کے زخمی ہونے کی اطلاع جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم پاکستان اینیمل ویلفیئر سوسائٹی نے دی تھی۔
تنظیم سے تعلق رکھنے والی ماہرہ عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ دنوں انھوں نے اسلام آباد چڑیا گھر کا دورہ کیا تو اس موقع پر انھوں نے بھورے ریچھوں کو دیکھا جن میں سے ایک ریچھ کی حالت دوسرے کے مقابلے میں انتہائی خراب نظر آرہی تھی۔
’مجھے بعد میں بتایا گیا تھا کہ وہ مادہ ریچھ تھی۔ وہ بار بار چلتے چلتے بیٹھتی یا لیٹ جاتی تھی۔ تکلیف اس کے چہرے پر نمایاں تھی۔ میں نے غور سے دیکھا تو اس کے ایک پاؤں پر بڑا زخم نظر آیا جسے وہ بار بار کھجا رہی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہMahera Omer/Pakistan Animal Welfare Society
ان کے مطابق ’اس موقع پر میں نے اس کی ویڈیوزاور تصاویر بنائیں اور پھر چڑیا گھر کی انتظامیہ سے رابطہ کر کے ان کی توجہ اس جانب دلائی تو انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس حوالے سے وہ مناسب اقدامات اٹھائیں گے۔‘
ڈاکٹر انیس نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس جوڑے کو جس حالت میں رکھا گیا ہے وہاں یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ زخمی ریچھ کی حالت بہتر ہو سکے گی تاہم چڑیا گھر کے ڈائریکٹر رانا طاہر نے اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ زخمی ریچھ کی مناسب دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔
’ریچھنی کا ہمارے پاس دستیاب سہولتوں کے مطابق بہترین علاج جاری ہے۔ اس کا زخم کافی حد تک ٹھیک ہو چکا ہے اور امید ہے کہ کچھ دونوں میں وہ مکمل صحت یاب ہو جائے گی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو لوگ اس بارے میں آواز اٹھا رہے ہیں ’انھیں ہماری دعوت ہے کہ اگر وہ جانوروں کے حقوق کے علمبردار ہیں تو آئیں، ہماری مدد کریں جس میں وہ ہماری استعداد کار کو بہتر کریں اور ہمیں مدد فراہم کریں۔‘
اسلام آباد ہائیکورٹ کا اظہار برہمی
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد کے چڑیا گھر میں موجود جانوروں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ اگر اس طرح کا سلوک آپ لوگوں کے ساتھ روا رکھا جائے تو آپ کیسا محسوس کریں گے۔
حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مرغزار چڑیا گھر کو چلانے کیلیے فنڈز نہیں ہیں جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر فنڈز نہیں ہیں تو جانوروں کو کسی اور چڑیا گھر میں منتقل کر دیں۔
دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اسلام آباد چڑیا گھر میں موجودہ جانوروں کی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔ جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ڈائریکٹر چڑیا گھر اور میئر اسلام آباد جانوروں کے نقصانات کے ذمہ دار ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ چڑیا گھر میں موجود اگر کسی ایک بھی جانور کو نقصان ہوا تو اس کے ذمہ داروں کو نہیں چھوڑیں گے۔











