کاون کی نئے گھر کے لیے تربیت جاری: کچھ گانے، کچھ چہل قدمی اور ڈھیر سارا پانی

اریب اور عامر

،تصویر کا ذریعہFacebook/Hanniah Tariq

    • مصنف, بلال کریم مغل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

کاون کے نام سے اب تک آپ بھی آشنا ہو چکے ہوں گے جو اس وقت دنیا کے سب سے مشہور ہاتھیوں میں سے ایک ہے اور اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں گذشتہ 35 برس سے مقیم ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے کاون کی کمبوڈیا منتقلی کے فیصلے کے بعد سے ان کی منتقلی کے لیے انتظامات تیز ہو گئے ہیں اور اس وقت ان کی باقاعدہ تربیت کی جا رہی ہے۔

اس طویل سفر کے لیے کاون کو تیار کرنے میں مصر کے ماہرِ حیوانات ڈاکٹر عامر خلیل ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اسے نہ صرف پیار اور محبت دے رہے ہیں بلکہ فرینک سیناٹرا کے گانے بھی سنوا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کاون فرینک سیناٹرا کے گانے پسند کرتے ہوئے اپنی سونڈ ہلا رہا ہے۔ تاہم اب کاون کی پلے لسٹ میں پاکستانی گلوکار اریب اظہر کی آواز کا بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اریب کی جانب سے سوشل میڈیا پر لگائی گئی ویڈیو میں وہ کاون کو ’ساغر کنارے سے موتی چنوں، ساز سنتی رہوں‘ گا کر سنا رہے ہیں اور کاون یہ سن کر جھوم رہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ کاون کو بھی کئی سالوں کے بعد اتنی توجہ حاصل کر کے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔

ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اریب سالوں تک نظرانداز کیے گئے اس ہاتھی کے سامنے آٹم لیوز یعنی خزاں کے پتے نامی مشہور گانا گا رہے ہیں۔

اور یہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کاون اس گانے سے لطف اندوز ہو رہا ہے یہاں تک کہ وہ گلوکار اریب اظہر کی جانب اپنی سونڈ بھی دوستانہ انداز میں بڑھاتا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں اریب اظہر نے کاون کے سامنے گانے کو ایک بہت منفرد تجربہ قرار دیا۔

کاون

،تصویر کا ذریعہReuters

انھوں نے گانے کے دوران کاون کی جانب سے سونڈ کے ذریعے تھپکی ملنے پر کہا کہ کئی سال پہلے انھیں مشہور گلوکارہ ریشماں نے کہا تھا کہ وہ اچھا گاتے ہیں، اور اس کے بعد آج انھیں یہ تعریف ملنے پر نہایت خوشی ہوئی ہے۔

اریب اظہر نے کہا کہ کاون ایک بالکل مختلف قسم کا اور بہت تعریف کرنے والا سامع تھا اور وہ دیگر افراد کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ جب تک کاون کی منتقلی کا دن نہیں آ جاتا تب تک ہر ہفتے کسی نہ کسی گلوکار کو بلوا کر کاون کو محظوظ کیا جائے۔

ان کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں کے بعد لوگوں میں جانوروں کے حقوق کے حوالے سے آگاہی پھیلنا شروع ہوئی ہے اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے لوگوں میں مزید شعور بیدار ہوگا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ڈاکٹر عامر خلیل کو اس مرغزار چڑیا گھر کے جانوروں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے اپنا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر عامر خلیل کی جانب سے کاون کی جو دیکھ بھال کی جا رہی ہے اسے دنیا بھر سے پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

جانوروں کو ریسکیو کرنے والی کارکن فریال حق نواز نے ٹویٹ کی کہ ڈاکٹر عامر اور ان کی تنظیم فور پاز انٹرنیشنل کو چڑیا گھر میں موجود کاون سمیت دیگر جانوروں کی مدد کرنے کے لیے مزید دو ماہ دے دیے گئے ہیں۔

انھوں نے کاون اور ڈاکٹر عامر کی کئی تصاویر بھی شیئر کیں جس میں وہ اسے نہلاتے ہوئے اور اس کی سونڈ پر پیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

کاون کی منتقلی کب تک ممکن ہوگی؟

ڈاکٹر عامر خلیل کہتے ہیں کہ جب انھوں نے کاون کو دیکھا تو انھیں ایک شدید ذہنی بیمار اور جارح ہاتھی نظر آیا جسے توجہ اور دیکھ بھال کی سخت ضرورت تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ چند دن قبل کاون کی دیکھ بھال کر رہے تھے تو انھوں نے گانا گنگنانا شروع کیا، اور انھیں ایسا محسوس ہوا کہ ہاتھی بھی اس میں دلچسپی لے رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے فون پر بھی گانا پلے کیا اور اب وہ اور کاون دونوں روز مرّہ کے معمولات کے دوران موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ برسوں تک تنہا رہنے کی وجہ سے کاون ذہنی طور پر متاثر ہو چکا ہے اور اس کا مزاج سخت جارح اور تنہائی پسند ہو چکا تھا حالانکہ ہاتھی ایک نہایت سماجی جانور ہے۔

کاون

،تصویر کا ذریعہUzma Khan

،تصویر کا کیپشنایک بین الاقوامی تنظیم کے نمائندے مصری ڈاکٹر عامر خلیل نے اگرچہ کاون کا معائنہ کر کے اسے سفر کے لیے صحت مند اور فٹ قرار دیا ہے لیکن ملکی سطح پر اس حوالے سے تحفظات موجود ہیں

ڈاکٹر عامر خلیل کے مطابق کاون کی منتقلی کا مرحلہ ابھی مزید کئی ہفتے لے سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کاون کو منتقل کرنے کے لیے ایک خصوصی کنٹینر اور زنجیریں تیار کی جائیں گی جبکہ اس کے لیے ایک بڑے سائز کا کارگو طیارہ منگوایا جائے گا جس میں اس کا کنٹینر سما سکے۔

یاد رہے کہ سنہ 1985 میں سری لنکا کی حکومت نے کاون تحفے میں پاکستان کو دیا تھا اور اس کے شریک کے طور پر ایک ہتھنی کو بنگلہ دیش سے منگوایا گیا تھا۔

مگر 2012 میں ہتھنی کی موت کے بعد سے کاون تنہا ہے اور جانوروں کے حقوق کے کارکنوں اور جانوروں کی صحت کے متعدد ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ کاون شدید ذہنی امراض کا شکار ہے۔

ڈاکٹر عامر خلیل نے بتایا کہ اگلے دو ہفتوں میں کاون کی تربیت شروع ہوگی جو کہ چار سے پانچ ہفتے تک جاری رہے گی اور نومبر کے اختتام یا دسمبر کے وسط تک اس کی منتقلی ممکن ہو سکے گی۔

تربیت کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اس میں کاون کو روزانہ اس کے لیے بنوائے گئے کنٹینر سے مانوس کروایا جائے گا تاکہ جہاز میں سوار کروانے پر وہ گھبرا نہ جائے۔

سوشل میڈیا پر صارفین کا ردِ عمل

فیصل امین خان نے لکھا کہ ان کی کاون اور ڈاکٹر عامر سے ملاقات ہوئی جس میں ڈاکٹر عامر ان کے لیے گانا گا رہے تھے۔ انھوں نے لکھا کہ آزادی اس خوبصورت مخلوق کا حق ہے اور انھیں امید ہے کہ دیگر ہاتھیوں کے ساتھ کسی محفوظ جگہ جانے سے وہ اتنے طویل عرصے تک گزاری گئی تنہائی اور برے وقت کو بھول جائے گا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

فوزیہ نامی صارف نے وزیرِ اعظم عمران خان کو ٹوئٹر پر ٹیگ کرتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ پاکستان میں موجود تمام چڑیا گھروں کا فی الفور خاتمہ کر دیا جائے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 4

سید حسنین رضا نامی صارف نے لکھا کہ کاون کا دھیان رکھنے والے مہاوتوں نے اسے سنبھالنے کے لیے نہایت غلط طریقے اپنائے، اور یہاں تک کہا کہ ان کے علاوہ کاون کو کوئی چہل قدمی کے لیے نہیں لے جا سکتا۔

حسنین نے اس کے ساتھ ہی کاون کی ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ ڈاکٹر عامر کے ساتھ مزے سے چہل قدمی کرتے ہوئے جا رہا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 5
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 5

صارف ڈیبی بلوہم نے لکھا کہ کاون اب خوش ہوگا اور اسے تنہا اور خراب حالت میں دیکھ کر گلوکارہ شر بھی خوش ہوں گی کہ کاون کے لیے مستقبل میں اس کی آزادی کتنی خوشیاں لائے گی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 6
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 6

یاد رہے کہ امریکی گلوکارہ شیر نے بھی کاون کی رہائی کے لیے متعدد اپیلیں کی تھیں اور وہ مسلسل اس حوالے سے اپنے فالوورز کی توجہ مبذول کروائے رکھتی ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 7
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 7

چند دن قبل بھی انھوں نے ایک ٹویٹ میں ڈاکٹر عامر کی تعریف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ کاون کو تربیت دے رہے ہیں تاکہ جب اسے کمبوڈیا جانے کے لیے طیارے میں سوار کروایا جائے تو وہ محفوظ محسوس کرے۔