کاون: برسوں سے زنجیروں میں جکڑے دنیا کے سب سے تنہا ہاتھی کی کہانی

،تصویر کا ذریعہUmair Najeeb Khan
- مصنف, سارہ عتیق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
یہ کہانی ہے دنیا کے سب سے تنہا ہاتھی ’کاون‘ کی جو سری لنکا میں 1981 میں پیدا ہوا۔ وہ صرف چار سال کا تھا جب سری لنکا کی حکومت نے اسے پاکستان کے اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کی درخواست پر پاکستان کو تحفے میں دے دیا۔
کاون پاکستان آیا تو اسے اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر رکھا گیا جو کاون کا گھر بن گیا۔ کیونکہ کاون اسلام آباد کے چڑیا گھر کا پہلا اور واحد ہاتھی تھا تو لوگ اسے دور دور سے دیکھنے آتے اور بچے تو کاون پر چڑھ کر بڑے شوق سے تصویریں بناتے۔ یہاں تک کہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے بچپن میں کاون کی سواری کی تھی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہUmair Najeeb Khan
کاون سب ہی بچوں کا دوست تھا لیکن کاون کو بھی تو ایک دوست کی ضرورت تھی جو اس کے ساتھ رہے، کھائے پیے اور کھیلے کودے۔ لیکن پاکستان کے جنگلوں میں تو ہاتھی ہوتے ہی نہیں۔ تو کاون ہاتھی کا ساتھی لاتے بھی تو کہاں سے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہUmair Najeeb Khan
لیکن پھر بالآخر کاون کو اس کی سہیلی مل گئی۔ سنہ 1991 میں بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء نے ایک ہتھنی پاکستان کی حکومت کو تحفے میں دی جسے ’سہیلی‘ کا نام دیا گیا۔
کاون کی طرح سہیلی بھی سری لنکا میں 1989 میں پیدا ہوئی اور وہاں اس کا نام مانیکا رکھا گیا تھا، لیکن جب وہ پاکستان آئی تو اس کا نام سہیلی رکھ دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہUmair Najeeb Khan
کاون کو اپنا ساتھی تو مل گیا لیکن اسے بھی کاون کی طرح زنجیروں میں باندھ دیا گیا اور کاون اور سہیلی دن رات بس انھی زنجیروں میں بندھے رہتے۔
کچھ عرصے بعد سہیلی کی طبعیت خراب ہونے لگی اور اس کے پاؤں میں تکلیف اتنی بڑھ گئی کہ 22 سال کی سہیلی سے کھڑا بھی نہیں ہوا جاتا تھا۔
اور پھر ایک دن سہیلی اس تکلیف کی وجہ سے دم توڑ گئی۔ جب کاون کی سہیلی ہلاک ہوئی تو تب بھی وہ اور کاون زنجیروں میں ہی بندھے تھے۔

،تصویر کا ذریعہUmair Najeeb Khan
سنہ 2012 میں سہیلی کے مر جانے کے بعد بے چارہ کاون ایک بار پھر اکیلا ہو گیا۔ زنجیروں میں جکڑا کاون اکیلے ہونے کی وجہ سے دن بدن ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا چلا گیا اور وہ ہر وقت یا تو پریشانی میں اپنا سر ایک سے دوسری جانب ہلاتا رہتا یا دیواروں اور درختوں سے سر ٹکراتا۔

،تصویر کا ذریعہUmair Najeeb Khan
کئی سال گزر گئے اور کاون اسی طرح اسلام آباد کے چڑیا گھر میں رہتا رہا۔ پریشان، تنہا، زنجیروں میں بندھا۔
یہ 2015 کی گرمیوں کی بات ہے جب ایک دن امریکہ سے چھٹیاں گزارنے پاکستان آئی ہوئی ثمر خان اور ان کی والدہ نے اسلام آباد کے چڑیا گھر کا رخ کیا۔
جب ثمر کاون کے پنجرے کے پاس پہنچی تو وہ کیا دیکھتی ہیں کہ کاون زنجیروں میں کھڑا ہے اور مسلسل بس اپنا سر دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں ہلا رہا ہے۔
چونکہ ثمر اس وقت جانوروں کی ڈاکٹر بن رہی تھیں وہ فوراً سمجھ گئیں کہ کاون کی ذہنی صحت ٹھیک نہیں۔ انھوں نے ٹھان لی کہ وہ کاون کو وہاں سے آزاد کروا کر رہیں گی۔

،تصویر کا ذریعہUmair Najeeb Khan
بس پھر کیا تھا ثمر خان نے دیواروں سے ٹکریں مارتے کاون کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ’فری کاون دی ایلیفینٹ‘ کے نام سے مہم شروع کی اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کاون کی رہائی کے لیے آواز اٹھائیں۔
ثمر نے ایک آن لائن پیٹیشن ’فری دی کاون‘ کا بھی آغاز کیا جس پر دنیا بھر سے چار لاکھ افراد نے دستخط کیے۔ ثمر اور اس مہم کا حصہ بننے والوں نے چڑیا گھر کے حکام، سی ڈی اے کے افسران اور یہاں تک کہ اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف کو بھی خط لکھے اور اپیل کی کہ کاون کو آزاد کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہUmair Najeeb Khan
دیکھتے ہی دیکھتے زنجیروں میں جکڑے کاون کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں اور امریکہ کی مشہور گلوکارہ شیر کو بھی اسلام آباد کے چڑیا گھر میں قید ہاتھی کاون کی خراب حالت کے بارے میں معلوم ہوا۔
جانوروں سے بہت پیار کرنے والی اور ان کے حقوق کے لیے کام کرنے والی شیر بھی ’فری کاون دی ایلیفینٹ‘ مہم کا حصہ بن گئیں اور پاکستانی حکومت سے کاون کی آزادی کی گزارش کی۔
شیر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر کاون کو آزاد کر دیا جائے تو کاون کو اس کے گھر سری لنکا یا کمبوڈیا لے جانے کا سارا خرچہ وہ اٹھائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہUmair Najeeb Khan
جب بچوں، بڑوں اور بوڑھوں سب نے کاون کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی تو چڑیا گھر انتظامیہ بھی مجبور ہوگئی اور انھوں نے بالآخر کاون کو زنجیروں سے آزاد کر دیا۔
لیکن کاون کے دوستوں کے لیے یہ کافی نہیں تھا۔
وہ جانتے تھے کہ کاون کا پنجرہ اس کے لیے بہت چھوٹا ہے اور پھر اس کا کوئی ساتھی بھی نہیں ہے اس لیے زنجیریں کھول دینے سے کاون ٹھیک نہیں ہوگا۔
انھوں نے اپیل کہ کاون کو کسی محفوظ قدرتی مقام جیسا کہ سری لنکا یا کمبوڈیا منتقل کیا جائے جہاں وہ آزادی سے دوسرے ہاتھیوں کے ساتھ رہ سکے۔

،تصویر کا ذریعہUmair Najeeb Khan
لیکن چڑیا گھر والوں کے پاس بھی تو بس ایک ہاتھی تھا وہ بھلا کیسے کاون کو اتنی آسانی سے جانے دیتے؟
کبھی وہ کہتے ہم کاون کو یہاں ہی بڑا پنجرہ بنا دیں گے اور اس کی ایک اور ساتھی لے آئیں گے۔ کبھی کہتے ہمیں جب تک ایک اور ہاتھی نہیں ملے گا ہم کاون کو نہیں جانے دیں گے۔
بس پھر کیا تھا سینیٹ کی ایک کمیٹی نے ان چڑیا گھر والوں کو بلا لیا اور 2016 میں حکم دیا کہ کاون کو کسی محفوظ جگہ پر منتقل کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہUmair Najeeb Khan
لیکن سینیٹ کے حکم کے باوجود بے چارے کاون کو کسی نے چڑیا گھر سے جانے نہ دیا تو کاون کے دوستوں کو ایک اور ترکیب سوجھی۔ انھوں نے سوچا کیوں نہ ہم عدالت میں جائیں اور جج صاحب سے کہیں کہ وہ کاون کی مدد کریں؟
کاون کے دوستوں کا یہ منصوبہ کامیاب ہوگیا اور عدالت نے کہا کہ اس چڑیا گھر میں کاون تو کیا کوئی بھی جانور نہیں رہے گا۔ جانوروں کو اتنی بری حالت میں قید رکھنا بلکل صحیح بات نہیں! اس لیے کاون کو کمبوڈیا اور چڑیا گھر کے باقی سارے جانوروں کو کسی محفوظ جگہ منتقل کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہUmair Najeeb Khan
کاون کی آزادی کی خبر سن کر کاون کے دوست خوش بڑے ہوئے۔ لیکن ابھی ایک مسئلہ اور تھا۔ کاون نے اپنے زندگی کے 35 سال چڑیا گھر کے پنجرے میں تنہا گزارے تھے، اسے جنگل اور دوسرے ہاتھیوں کے ساتھ رہنے کی تو عادت ہی نہیں تھی۔ اور پھر اکیلے رہ رہ کر وہ ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہو گیا تھا۔
کاون کی ان سب مشکلوں کو دور کرنے ایک این جی او ’فور پاز‘ کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم آئی جس نے کاون کا مکمل چیک اپ کیا اور دیکھا کہ وہ سفر کرنے کے لیے فِٹ بھی ہے یا نہیں۔ اس ٹیم میں مصر کے مشہور جانوروں کے ڈاکٹر عامر خلیل بھی تھے۔

،تصویر کا ذریعہUmair Najeeb Khan
ڈاکٹر خلیل جب کاون سے ملے تو انھیں فورًا پتا چل گیا کہ کاون کو ایک دوست کی ضرورت ہے۔ لیکن کاون میاں تو کسی کو اپنے پاس بھی نہیں آنے دیتے تھے تو بھلا ان سے کوئی دوستی کرتا بھی تو کیسے؟
لیکن ڈاکٹر خلیل بھی بہت ذہین تھے۔ انھوں نے کاون کو گانے سنائے، اسے پانی پلایا اور اس کے ساتھ خوب کھیلے کودے۔ پھر کاون اور ڈاکٹر خلیل کیسے دوست نہ بنتے؟ یوں ہو گئی ان کی دوستی۔

،تصویر کا ذریعہUmair Najeeb Khan
اور بالآخر 35 سال تنہا زنجیروں میں گزارنے کے بعد کاون کو کمبوڈیا کے ہرے بھرے جنگلوں میں بھیجا جا رہا ہے جہاں وہ اپنی باقی کی زندگی دوسرے ہاتھیوں کے ساتھ گزارے گا۔
اور یوں دنیا کا سب سے تنہا ہاتھی اب تنہا نہیں رہے گا۔













