فاسٹ یونیورسٹی لاہور: ’نازیبا اور فحش میمز‘ کا الزام اور طلبا کو سزاؤں کا معاملہ

،تصویر کا ذریعہCourtesy Fast University Lahore
- مصنف, محمد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کی فاسٹ یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر ’نازیبا میمز‘ پوسٹ کرنے کے الزام میں گذشتہ ہفتے تین طلبا کو عارضی طور پر یونیورسٹی سے نکال دیا جبکہ متعدد کو مختلف سزائیں دی گئیں ہیں۔
یونیورسٹی کی جانب سے تین روز قبل سامنے آنے والے نوٹیفیکیشن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فیس بک پر ’فاسٹ لاہور پوسٹنگ‘ نامی گروپ میں یہ میمز شیئر کی گئی تھیں۔
اس نوٹیفیکیشن کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سے فاسٹ انتظامیہ پر نہ صرف کڑی تنقید کی جا رہی تھی بلکہ ’صرف میمز شیئر کرنے پر طلبا کو یونیورسٹی سے نکالنے‘ کی مذمت بھی کی جا رہی تھی۔
فاسٹ یونیورسٹی لاہور کے ترجمان حسن احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ میمز دراصل ’نازیبا اور ذاتی نوعیت‘ کی تھیں اور جن طلبا کو سزا دی گئی ہے ان میں سے اکثر کے اعترافی بیانات تادیبی کمیٹی کے سامنے ریکارڈ کیے گئے تھے۔
یونیورسٹی کی جانب سے جن طلبا کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے ان میں سے ایک طالبعلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی نازیبا میمز کی مذمت کرتے ہیں، تاہم ’اس فہرست میں اکثر افراد بے گناہ ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم یونیورسٹی کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ یونیورسٹی کے پاس اس حوالے سے ثبوت بھی موجود ہیں جن کے ذریعے میمز اپ لوڈ کرنے والوں کا تعین کیا گیا تھا۔
جب بی بی سی نے تصدیق کی غرض سے یہ شواہد ان سے مانگے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ میمز اس نوعیت کی ہیں کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ یہ کوئی بھی دیکھے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’خواتین ٹیچرز کی ذاتی تصاویر کو فوٹو شاپ کر کے یہ میمز بنائی گئی تھیں، اس کے ان کی ذاتی زندگی پر بھی اثرات ہو سکتے ہیں، اس لیے یہ انتہائی قدم اٹھایا گیا۔‘
فاسٹ یونیورسٹی کے نوٹیفیکیشن میں کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس نوٹیفیکیشن میں 25 طلبا کے نام درج ہیں جن میں سے 13 یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں جبکہ 12 فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔
زیرِ تعلیم طلبا میں سے جن تین کو عارضی طور پر یونیورسٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں سے ایک کو ایک سال جبکہ دیگر دو طلبا کو ایک ایک سمیسٹر کے لیے نکالا گیا ہے۔
ان دو طلبا کے موجودہ سمیسٹر کے تمام کورسز میں ایک گریڈ بھی کم کیا جائے گا جبکہ انھیں یونیورسٹی میں سزا کے طور پر چند ہفتوں کے لیے صفائی بھی کرنی ہو گی۔
اسی طرح اس فہرست میں موجود آٹھ طلبا کے کسی ایک مضمون یا چند کورسز میں ایک گریڈ کم کیا جائے گا اور ساتھ ہی سزا کے طور پر یونیورسٹی میں صفائی کرنا ہو گی جبکہ دو طالبات کو معافی نامہ جمع کرانا ہو گا اور ساتھ ہی اس معافی نامے کو اپنے فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے شیئر بھی کرنا ہو گا۔
گریجویٹ ہونے والے 12 طلبا سے 10 روز میں معافی نامہ جمع کروانے اور اسے اپنے فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے شیئر کرنے کا کہا گیا ہے بصورتِ دیگر نہ صرف ان کی ڈگری منسوخ کر دی جائے گی بلکہ بلیک لسٹ کرنے کے علاوہ قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔
’ان میں سے زیادہ تر طلبا بے گناہ ہیں‘
بی بی سی نے دو ایسے طلبا سے بات کی جن کے نام نہ صرف اس فہرست میں شامل ہیں بلکہ وہ ’فاسٹ لاہور پوسٹنگ گروپ‘ کا حصہ بھی تھے۔ ان میں سے ایک گریجویٹ جبکہ دوسرے ابھی زیرِ تعلیم ہیں۔
ان میں سے ایک طالب علم نائل (فرضی نام) نے بتایا کہ یہ گروپ لاک ڈاؤن کے بعد یونیورسٹی کے پرانے اور نئے طلبا کو یکجا کرنے کی غرض سے بنایا گیا تھا اور تین ہزار سے زائد افراد کے اس گروپ میں ’مذاق کی غرض سے ہر طرح کی میمز شیئر کی جاتی تھیں۔‘
تاہم گروپ بنانے کے ایک مہینے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی کے تمام طلبا کو ایک وارننگ ای میل بھیجی گئی تھی۔
بی بی سی نے خود بھی اس ای میل کو دیکھا ہے جو ڈائریکٹر ڈاکٹر حامد حسن کی جانب سے 14 مئی کو بھیجی گئی تھی۔
اس ای میل میں کہا گیا تھا کہ حالیہ عرصے میں سوشل میڈیا کے ذریعے ’فاسٹ، اس کے اساتذہ اور انتظامیہ کے خلاف بدنیتی پر مبنی ذاتی حملے کیے جا رہے ہیں‘ تاہم اس ای میل میں کسی گروپ یا فرد کا نام نہیں لیا گیا تھا۔
ای میل میں مزید کہا گیا تھا کہ سائبر ہراسانی یا سوشل میڈیا پر کسی کو نیچا دکھانے کی غرض سے کی گئی باتوں پر پاکستان کے سائبر کرائم کے حوالے سے بنائے گئے قوانین لاگو ہوتے ہیں۔
’یونیورسٹی انتظامیہ ان گروپس اور ان میں موجود شرکا پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ آپ پر سوشل میڈیا کے ذریعے نظر نہیں رکھی جا سکتی۔‘
نائل کا کہنا تھا کہ ’ہمارے گروپ میں اس سے قبل اگر اس طرح کی کوئی میمز شیئر ہوئی بھی تھیں تو اس ای میل کے بعد سب ڈر گئے اور پھر ہم کچھ بھی شیئر نہیں کرتے تھے۔‘
یونیورسٹی کے ترجمان حسن احمد کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ تادیبی کمیٹی نے یہ فیصلے شواہد اور اعترافی بیانات کی روشنی میں کیے ہیں اور ’ہمارے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے پاس بھی تمام ثبوت موجود ہیں۔‘
انھوں نے کہا ’ہم نے یونیورسٹی کے تمام طلبا کو وارننگ ای میل اسی لیے بھیجی تھی کیونکہ ہم انھیں نتائج کے حوالے سے خبردار کرنا چاہتے تھے۔‘
میمز کس نوعیت کی تھیں؟

،تصویر کا ذریعہCourtesy Fast University Lahore
بی بی سی نے مختلف ذرائع سے ملنے والی ان میمز کا جائزہ لیا ہے جن میں ایک خاتون ٹیچر کے حوالے سے انتہائی قابل اعتراض میمز بھی شامل ہیں۔ چند ایک میں ان کی تصویر بھی استعمال کی گئی ہے اور اسے قابل اعتراض انداز میں فوٹو شاپ کیا گیا ہے۔
تاہم سکرین شاٹس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ میمز ’فاسٹ ڈینک پوسٹنگ‘ نامی گروپ پر شیئر کی گئی تھیں۔
یونیورسٹی کے ترجمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ میمز انٹرنیٹ سے ہٹا دی ہیں اور ہم چاہیں گے کے یہ آئندہ بھی کبھی شیئر نہ کی جائیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ انتہائی قدم اسی لیے اٹھانا پڑا کیونکہ یہ ہماری یونیورسٹی کے اساتذہ پر ذاتی حملہ تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مذاق میں شیئر کی جانے والی میمز اور ہوتی ہیں، کسی کے پاس میمز کے ذریعے کسی کی کردار کشی کرنے کا حق نہیں ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'یونیورسٹی ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات کو سنجیدگی سے لیتی رہی ہے اور ہم نے سزائیں ثبوت کی بنیاد پر دی ہیں اور اس حوالے سے اگر ہمارے پاس نئے شواہد آئے تو اس حساب سے مزید کارروائی بھی کر سکتے ہیں۔'
جب نائل سے ان قابل اعتراض میمز کی نوعیت کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ ان میمز میں سے چند میں اساتذہ کا مذاق ضرور اڑایا گیا تھا تاہم جو میمز ’فاسٹ لاہور پوسٹنگ گروپ‘ پر پوسٹ ہوئیں ان میں کچھ نازیبا نہیں تھا، ہاں اساتذہ کی تصاویر کا استعمال کیا گیا لیکن غلط انداز میں نہیں۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس نوٹیفیکیشن کے بعد ان کی نظر سے ایسی میمز گزری ہیں جو واقعی سائبر کرائم کے زمرے میں آتی ہیں یعنی ان میں فحش اور نازیبا میمز بھی شامل تھیں جن میں اساتذہ کی تصاویر استعمال کی گئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ قابلِ اعتراض میمز اس گروپ پر شیئر نہیں ہوئیں اور اساتذہ سے متعلق جو میمز اس گروپ پر شیئر ہوتی بھی تھیں وہ وارننگ کے بعد سے شیئر نہیں کی جا رہی تھیں۔
’ہم ان قابلِ اعتراض اور گندی میمز کی مذمت کرتے ہیں لیکن ان میمز کے حوالے سے غلط الزام طلبا پر لگایا گیا ہے۔‘
انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’یونیورسٹی نہ صرف یہ تحریری نوٹس واپس لے بلکہ ہماری بدنامی کرنے پر ہم سے معافی بھی مانگے ورنہ ہم قانونی کارروائی کر سکتے ہیں۔‘
’جن افراد نے نازیبا میمز بنائیں ان کا نام فہرست میں موجود نہیں‘
اس حوالے سے بی بی سی نے فاسٹ میں زیرِ تعلیم متعدد طلبا سے بات کی جو اس گروپ کا حصہ تھے اور انھوں نے نائل کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کی تصدیق کی ہے۔
ایسے ہی ایک طالبعلم اکبر (فرضی نام) نے جو اس وقت فاسٹ میں زیرِ تعلیم ہیں اور ان کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے، ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ کمیٹی کی جانب سے تمام طلبا کو ثبوت دکھائے گئے تھے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ میمز نہیں ہیں جو بعد میں منظر عام پر آئیں جس میں اساتذہ کے بارے میں بیہودہ اور فحش باتیں کی گئی تھیں۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ ایک اور گروپ میں شیئر ہوئی تھیں اور نہ وہ اس کا حصہ ہیں اور نہ ہی وہ دوسرے ایسے طلبا جنھیں سزائیں دی گئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ یہ مانتے ہیں کہ انتظامیہ کو اس حوالے سے کارروائی کرنی چاہیے تھی لیکن ’جن افراد کے نام سے نازیبا میمز منسوب کی جا رہی ہیں ان کا نام اس فہرست میں موجود نہیں ہے۔‘
ایک طالبہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے نزدیک ’ایسا بہت سارے طلبا کو سبق سکھانے کی غرض سے کیا گیا ہے اور فہرست میں شامل تمام طلبا ہی قصور وار نہیں ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’حالیہ تحریری نوٹس ان سمیت دیگر طلبا کے لیے حیران کن ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ اس سے قبل بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر سخت ایکشن لیتی رہی ہے۔‘
یونیورسٹی کو قانونی نوٹس
سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ اظہر صدیق کی جانب سے فاسٹ یونیورسٹی انتظامیہ کو ایک قانونی نوٹس بھیجا گیا ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی طلبا کو دی گئی سزائیں واپس لے کیونکہ اس کے پاس قانون کے مطابق سزائیں دینے کا اختیار نہیں ہے۔
اس حوالے سے یونیورسٹی کو سات دن کا وقت دیا گیا ہے جس کے بعد معاملہ ہائی کورٹ میں لے جایا جائے گا۔
ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر کسی سے سائبر کرائم کا کوئی جرم سرزد بھی ہو جائے تو یونیورسٹی خود ان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی۔
ان کا کہنا ہے ’اس حوالے سے ایک قانون موجود ہے جس پر ایف آئی اے ہی مکمل تحقیق کے بعد کوئی کارروائی کر سکتا ہے۔‘











