’یونیورسٹی کو بدنام نہ کرو‘

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی میں جمعے کی دوپہر کو کچھ اساتذہ دہشت گردی کے خلاف بینر لیے کھڑے نظر آئے، جن پر جہاں مقامی اور بین الاقوامی دہشت گردی کی مذمت تحریر تھی وہاں ’کراچی یونیورسٹی کو بدنام نہ کرو‘ کے بھی بینر موجود تھے۔
اساتذہ کی تنظیم کے رہنما شکیل فاروقی جذباتی انداز میں خطاب کر رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ’30 ہزار طالب علموں میں سے کوئی ایک طالب علم، ایک ناکام طالب علم جو یونیورسٹی کی سختیاں برداشت نہ کر سکا، کلاس اٹینڈ نہیں کر سکا اور امتحانات پاس نہیں کر سکا۔ سات سال قبل فارغ ہو گیا، اگر آج وہ کسی سرگرمی میں شک کی بنیاد پر گرفتار ہوتا ہے تو کیا اس میں مادر علمی کے دودھ کا قصور ہے؟‘
شکیل فاروقی زمانہ طالب علمی میں جماعت اسلامی کی ذیلی جماعت جمعیت میں سرگرم رہے ہیں، انھوں نے میڈیا پر ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ کراچی یونیورسٹی کو بدنام کیا جا رہا ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن پر حملے میں کراچی یونیورسٹی کے طالب علم عبدالکریم سروش کا نام سامنے آیا ہے، جو مبینہ طور پر انصار الشریعہ تنظیم کا رکن بتایا گیا ہے۔
پاکستان کی نصف آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، ہر سیاسی و مذہبی جماعت انہیں اپنی طرف راغب کرنے کی جستجو میں ہے۔ شدت پسند گروہ اور تنظیمیں بھی ان زرخیز ذہنوں کو قابو میں کرنے کی خواہشمند ہیں۔
سعد عزیز کراچی کے بڑے بزنس سکول آئی بی اے سے گریجویٹ تھے، جو اسماعیلی بس پر حملے کا ذمہ دار ٹھہرے۔ نورین لغاری لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ ہیں جو خودکش بمبار بننے کے لیے گھر سے نکل پڑی تھیں۔ محمد اظفر عشرت سر سید یونیورسٹی سے الیکٹرک انجینیئر تھے، جن پر دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ یہ ایک طویل فہرست ہے جس میں مڈل کلاس کے نوجوان شدت پسندی کی طرف مائل ہوئے۔

طالب علموں میں شدت پسندی کیوں بڑھ رہی ہے؟ یہ سوال میں نے کراچی یونیورسٹی کے کچھ طالب علموں سے کیا۔ فیروز جمالی کہتے ہیں کہ اس کا ایک تاریخی پہلو ہے۔ ’ہم ایک ایسی جنگ میں رہ چکے ہیں جس میں ایک ایسے ہی بیانیے کی ضرورت تھی، اب وہ وقت گزرچکا ہے اس لیے ہمیں ایک نیا بیانیہ چاہیے لیکن دوبارہ اسی بیانیے کو ہی استعمال کیا جارہا ہے۔‘
ماجد کا خیال ہے کہ شدت پسندی کی وجہ غربت ہے۔ بقول ان کے ’اگر کسی کے پاس کھانے کے لیے پانچ روپے بھی نہیں ہیںاور اگر کوئی اس کو دس روپے دے کر کہے کہ فلاں کو تھپڑ مارو تو وہ رضامند ہو جائے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انسدادِ دہشت گردی محکمے کے مطابق 134 شدت پسندوں کے پاس بیچلرز یا ماسٹرز کی ڈگریاں ہیں، ان میں سے اکثر سائنس پڑھنے والے طلبہ ہیں۔
تجزیہ نگار عامر رانا کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں شدت پسندی کا سلسلہ اس وقت سے شروع ہو گیا تھا جب پاکستان میں جہادی کلچر کو فروغ دیا گیا تھا۔
’1980 اور 90 کی دہائیوں کے دوران جو تنظیمیں افغانستان میں جہاد کر رہی تھیں اور بعد میں یہ سلسلہ کشمیر میں بھی شروع کیا گیا تو اس کے لیے بھرتیاں مدراس یا گلیوں سے نہیں ہوتی تھیں، وہ عام کالجوں اور یونیورسٹیوں سے یہ بھرتیاں کرتی تھیں۔ ‘
عامر رانا کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص نقطۂ نظر کی تنظیمیں جن کا پس منظر مخصوص سیاسی و مذہب رہا ہے، وہ شدت پسندی میں پیش پیش رہی ہیں اور کراچی میں جو دہشت گرد سیل بنے خواہ وہ جنداللہ کی صورت میں ہوں یا ڈاکٹر ارشد وحید اور ڈاکٹر اکمل کی صورت میں بنے ہوں یا ابھی انصار الشریعہ جو بنی، یہ سب اس کلچر کا تسلسل ہے۔
کراچی میں گذشتہ چند سالوں میں یونیورسٹی کے دو اساتذہ پروفیسر شکیل اوج اور سید وحید الرحمان کا قتل ہو چکا ہے، کیا جامعات میں شدت پسندی کی سوچ اور فکر ظاہری طور پر نظر آتی ہے؟
طالب علم ممتاز کا کہنا ہے کہ ایسا کچھ نظر نہیں آتا لیکن محسوس ہوتا ہے کہ چھپے چھپے کچھ سرگرمیاں ہو رہی ہیں۔ ’کراچی یونیورسٹی میں طالب علموں کے لیے کوئی علمی ادبی پروگرام نہیں ہوتا، کسی آئیڈیا پر آپ بات نہیں کر سکتے اس صورتحال میں ظاہر سی بات ہے کچھ عناصر طالب علموں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں گے۔‘

زینب شبعہ بین الاقوامی کی طالبہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی واقعات پر بحث مباحثے ہوتے ہیں لیکن اس کو شدت پسندی کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ ’کچھ اساتذہ یا گروپ اگر اثر انداز ہو رہے ہیں تو تعلیم کے ساتھ گھر کی تربیت کی بھی ضرورت ہے جو شدت پسندی سے دور رکھے۔‘
تعلیمی اداروں میں شدت پسندی کی روک تھام کسی کی ذمہ داری ہے؟ اساتذہ، ریاستی ادارے اور والدین ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کے ساتھ ایک اجلاس میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سربراہان یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ طالب علموں کی نگرانی نہیں کر سکتے۔
کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اجمل خان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں لوگوں کو بات کرنے اور ملنے کی آزادی ہوتی ہے اس کے اندر کوئی پسماندہ ذہن انسانوں کو مارنے والی منصوبہ بندی کر رہا ہے تو اس کو آپ روک تو نہیں سکتے، البتہ اس پر نظر رکھ سکتے ہیں اور نظر رکھیں گی ایجنسیاں کیونکہ کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ اپنے شعبے کے ماہر ہوتے ہیں وہ سکیورٹی والا کام نہیں کر سکتے۔
’مجھے اطلاع ملی ہے کہ ایک دو اساتذہ ہیں جو اس طرح کی باتیں کرتے ہیں ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور اس سے ایجنسیوں کو آگاہ کیا جائے گا۔‘
کراچی یونیورسٹی سمیت اکثر سرکاری جامعات میں سکیورٹی کے لیے رینجرز گذشتہ کئی سالوں سے تعینات ہے، داخلی دروازے سے لے کر تعلیمی شعبوں کے اندر تک انھیں رسائی حاصل ہے۔ جمعے کو بھی موٹر سائیکل پر اس کے اہلکار گشت کرتے نظر آئے۔
نوجوانوں کو مثبت سیاسی سرگرمیوں کی طرف متوجہ کرنے کے لیے سینیٹ نے حال میں طلبہ یونین کی بحالی کی قرار داد منظور کی ہے۔ کراچی یونیورسٹی اس سے اتفاق کرتی ہے لیکن حتمی فیصلہ حکومت کو کرنا ہے۔










