کیا پاکستان کے تدریسی نظام پر بھی پہرے بٹھائے جا رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images/Ammar Ali Jan Facebook
- مصنف, ترہب اصغر اور عابد حسین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پرویز ہود بھائی جیسے محقق اور استاد، محمد حنیف جیسے مصنف اور عمار علی جان جیسے استاد پاکستانی معاشرے کے لیے کیسے خطرہ ہو سکتے ہیں؟
یہ وہ سوال ہے جو گذشتہ چند دنوں کے دوران پاکستانی سوشل میڈیا اور دیگر حلقوں میں تواتر سے پوچھا جا رہا ہے۔
اس کی وجہ لاہور کے ایف سی کالج کا پروفیسر ہود بھائی اور عمار علی جان اور کراچی کی حبیب یونیورسٹی کا محمد حنیف کی خدمات سے مزید فائدہ اٹھانے سے انکار ہے۔
بہت سے حلقے ان اقدامات کو ملک کے تعلیمی نظام کو بھی ریاست کی جانب سے کنٹرول کرنے کی کوشش بھی قرار دے رہے ہیں تاہم ساتھ ہی ساتھ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اس بات سے اختلاف کرتے ہوئے یہ وضاحت دیتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی نظام میں کچھ ایسے عناصر شامل ہو گئے ہیں جو ہمارے معاشرے، تدریسی نظام اور ملک کی سلامتی کے لیے ’خطرہ‘ ہو سکتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی انتظامیہ اس بات کا تعین کیسے کرتی ہے کہ کون سا معلم ادارے، طالب علموں اور ملک کے لیے ’خطرہ‘ ہے اور کون سا نہیں۔
اس بات کو جاننے کے لیے بی بی سی نے انھی اساتذہ سے رابطہ کیا جنھیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عمار علی جان نے استعفیٰ کیوں دیا؟

،تصویر کا ذریعہcourtesy tabitha spence
لاہور کے ایف سی کالج سے منسلک معروف سماجی شخصیت عمار علی جان نے اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ وہ فورمین کریچیئن کالج (ایف سی کالج) میں بطور معلم مزید اپنی خدمات سرانجام نہیں دیں گے۔
ٹویٹس کے ایک تفصیلی سلسلے میں عمار علی جان نے لکھا کہ رواں برس کے آغاز میں ان کا کالج کے ساتھ معاہدہ اسسٹنٹ پروفیسر کی مستقل نوکری سے وزیٹنگ فیکلٹی میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب وہ وزٹنگ استاد کے طور پر بھی کام جاری نہیں رکھ پائیں گے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عمار علی جان نے بتایا کہ یونیورسٹی کے ریکٹر نے ان سے یونیورسٹی سے باہر ’غیر نصابی سرگرمیوں‘ کے بارے میں بات کی تھی اور انھیں تنبیہ کی کہ ایسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیں جس کی وجہ سے یونیورسٹی یا اس کی ساکھ کو کسی نوعیت کا نقصان پہنچے۔
عمار نے مزید بتایا کہ وہ ایف سی کالج میں تین سالہ معاہدے کے تحت کام کر رہے تھے جس کا دوسرا سال جاری تھا اور ہر سال جون کے مہینے میں اس معاہدے کا جائزہ لے کر تجدید کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر عمار علی جان کے مطابق ریکٹر سے گفتگو میں انھیں واضح طور پر بتایا گیا کہ اگر وہ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کے معاہدہ کی دوبارہ تجدید نہیں ہو گی جس پر عمار نے خود نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
عمار علی جان سماجی حلقوں میں اپنے بائیں بازو کے حامی خیالات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں اور ایک سماجی کارکن کے طور پر وہ مظاہروں اور تقاریب میں شرکت کرتے رہتے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ڈاکٹر عمار علی جان کو ایسے مسائل درپیش ہوئے ہوں۔ گذشتہ برس عمار علی جان کو ان کی رہائش گاہ سے پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن ارمان لونی کی ہلاکت پر ہونے والے مظاہرے میں شرکت کرنے پر گرفتار بھی کیا گیا تھا۔
اس سے قبل کیمبرج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ڈاکٹر عمار علی جان پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات میں بطور استاد خدمات انجام دیتے رہے لیکن اپریل 2018 میں انھیں یونیورسٹی انتظامیہ نے ’معاہدے کی شرائط پورا نہ کرنے‘ پر نوکری سے برخاست کر دیا تھا اور یونیورسٹی میں ان کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔
نومبر 2018 میں لاہور میں ہونے والے فیض انٹرنیشنل میلے میں بھی عمار علی جان کو پروگرام شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل اطلاع دی کہ 'بیرونی دباؤ کی وجہ سے اب انھیں اس سیشن میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔'
سنیچر کے روز اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں عمار علی جان نے صورتحال کو تفصیلی طور پر بیان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2016 میں پاکستان لوٹنے کے بعد وہ ایک سرکاری یونیورسٹی میں شعبہ تدریس سے منسلک ہو گئے۔
’میں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی اور بعد میں پنجاب یونیورسٹی کو جوائن کیا۔ دونوں اداروں نے مجھے 'قومی سلامتی' کو جواز بنا کر نوکری سے نکال دیا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ طلبا یکجہتی مارچ کے قریب چیزیں بدلنا شروع ہوئیں جہاں اُن پر اشتعال انگیزی کا الزام لگا۔ 'مجھ پر بغاوت کا الزام عائد کیا گیا اور یہ کیس ابھی بھی چل رہا ہے۔'
وہ کہتے ہیں کہ انھیں بتایا گیا کہ ’یا تو کیس پر خاموش رہوں یا پھر چلا جاؤں میں نے دوسرا آپشن منتخب کیا۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے دو ہفتے قبل بھی ایسی خبریں گردش کرتی رہیں کہ ایف سی کالج کے ہی پروفیسر پرویز ہود بھائی کو بھی ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔
اس حوالے سے جب بی بی سی نے ان سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا ابھی تک مجھے واضح نہیں ہے کہ کیا ہو گا اس لیے میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ہوں۔ تاہم بی بی سی نے اس معاملے پر ایف سی کالج سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
سوشل میڈیا صارفين کا ردعمل
عمار علی جان کی اس ٹویٹ پر بڑی تعداد میں ردعمل دیکھنے کو ملا۔
عوامی ورکر پارٹی پنجاب کے صدر عمار راشد نے اپنی ٹویٹ میں جہاں عمار سے یکجہتی کا اظہار کیا وہیں پاکستانی یونیورسٹیوں کی حالت زار پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ کوئی بھی استاد جو طلبا کو تنقیدی انداز میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے اسے دروازہ دکھایا جاتا ہے، اور موجودہ حکومت کے دور میں یہ رجحان اور بھی خراب ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@AmmarRashidT
تجزیہ نگار رضا رومی نے لکھا کہ ایک انتہائی کامیاب نوجوان اکیڈمک کی بدقسمت کہانی جو معاشرے میں اپنا حصہ ڈالنے اور نوجوان مرد و خواتین کی رہنمائی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ تھوڑے عرصے میں ہی بڑی یونیورسٹیوں نے ان کی خدمات کو ٹھکرا دیا اور اُن پر مکروہ نو آبادیاتی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@Razarumi
سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار مرتضیٰ سولنگی نے ایک شعر لکھ کر عمار علی جان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
عمار علی جان کی ایک ٹویٹ پر ہی ردعمل دیتے ہوئے صحافي اور تجزیہ کار محمد حنيف نے بھی انکشاف کیا کہ حبیب یونیورسٹی نے ان سے معاہدہ بھی ختم کر دیا ہے۔
عمار علی جان کی ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے محمد حنیف نے لکھا کہ ’میں بھی ایسے ہی کراچی کی حبیب یونیورسٹی میں پڑھا رہا تھا لیکن مجھے بھی اسی طرح باہر جانے کا دروازہ دکھا دیا گیا۔‘
’ریاست ہمارے دماغ میں بیٹھ کر سوچ کو روکنا چاہتی ہے‘
اپنے تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار محمد حنیف کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ہاں ایک رجحان پچھلے چند سالوں میں دیکھنے میں آ رہا ہے کہ پہلے جس طرح ہم جو باتیں ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر یا پھر کھل کر نہیں کر سکتے تھے تو عموما وہ باتیں آپ آپس میں تعلیمی اداروں میں بیٹھ کر کر لیا کرتے تھے مگر اب وہ بھی نہیں کر پاتے ہیں۔
’اب صورتحال کچھ ایسی ہو گئی ہے کہ کوئی سماجی کارکن، تنقیدی کام کرنے والا آرٹسٹ، استاد یا کوئی بھی ایسا شخص جو اختلاف رائے رکھتا ہو، اُس کے کام کو ختم کر دیا جاتا ہے یا پھر خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ ریاست چاہتی ہے کہ وہ ہمارے دماغ میں گھس کر ہمارے سوچ کو روک سکے۔‘
انھوں نے مزيد کہا میں تو ایک صحافی بھی ہوں اور لکھاری بھی لیکن جب میں نے کراچی کی حبیب یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا تو مجھے بہت اچھا محسوس ہوا۔ تاہم میرا معاہدہ ایک سال کا ہوا تھا اور جب وہ ختم ہونے والا تھا تو میں نے ان سے کہا کہ میں مزید پڑھانا چاہتا ہوں لیکن انھوں نے اس معاہدے کو نہیں بڑھایا جس کے بعد میں وہاں نہیں پڑھا پایا۔
’میں عمار جیسے لوگوں کے لیے سوچتا ہوں کہ میں تو صحافی بھی تھا اس لیے میرا گزارہ ہو گیا لیکن وہ شخص جو اپنا مستقبل ہی بطور استاد لے کر چل رہا ہو وہ کہاں جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محمد حنیف نے مزید کہا کہ جب میری ایک کتاب اردو میں شائع ہوئی تو ان لوگوں نے جنھیں اختلاف رائے پر اعتراضات ہوتے ہیں، انھوں نے پبلیشرز سمیت دکانوں سے میرے کتاب اٹھوا دی تاکہ کوئی اسے خرید کر پڑھ نا سکے۔
’ہم لکھتے ہیں یا پڑھاتے ہیں تو اس میں کوئی غیر قانونی بات نہیں ہے اور دیکھا جائے تو بات کرنے کا اختیار ہر شخص کو آئینی طور پر ہے۔ جب آپ کسی استاد کو بولنے نہیں دیں گے تو طالبعلم بھی انھیں سن نہیں سکیں گے اور اس کا اثر دوسروں پر ہوتا ہے۔ جس کے بعد باقی لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ہم نے اپنی روزی روٹی چلانی ہے اس لیے وہ بھی پھر خاموش ہو جاتے ہیں۔‘
یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف
عمار علی جان کے طرف سے کی جانے والی ٹویٹس پر موقف لینے کے لیے ایف سی کالج سے رابطہ کیا گیا اور انھیں سوالات بھی بھیجے گئے لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
تاہم کراچی کی حبیب یونیورسٹی سے جب ہم نے رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ محمد حنیف سے معاہدے کے خاتمے کی وجہ پروگرام کی تنظیمِ نو بنی۔
یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ ’حنیف صاحب ہمارے لیے قابل احترام ہیں اور پہلے بھی ہمارے ساتھ بطور وزیٹنگ سٹاف کام کر چکے ہیں۔ جب ان کا ایک سال کا کنٹریکٹ مکمل ہوا تو انھوں نے ہم سے ضرور کہا تھا کہ وہ مزید پڑھانا چاہتے ہیں لیکن ہم نے انھیں بتایا کہ ہمارے لٹریچر پروگرام کی رہنمائی کرنے والے پروفیسر آصف اسلم فرخی کے حالیہ افسوسناک انتقال کے بعد ، ہم فی الحال اپنے ادب کے پروگرام کی تنظیم نو میں مصروف ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم یہ معاہدہ نہیں بڑھا سکتے ہیں۔‘
کیسا استاد طلب علموں کے لیے بہتر ہوتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہFacebook/Arfa Syeda Zehra
ماہر تعلیم اور تاریخ دان ڈاکٹر عارفہ سیدہ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جب بھی کو تبدیلی لانی ہوتی ہے تو سب سے پہلے تعلیم کا نظام ہی یاد آتا ہے۔ ’میں جس سکول سے پڑھی وہ ایک سرکاری سکول تھا۔ میرے خیال میں پہلے دور سے آج کے دور کا تعلیمی نظام زیادہ بوسیدہ اور بدتر ہو گیا ہے۔‘
’اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ استاد تعلیم کے ساتھ تربیت بھی کرتے تھے اور کھل کر بولتے تھے تو ہم سنتے بھی تھے اور احترام کے ساتھ اختلاف بھی کرتے تھے۔ آج کل ہمارے میں شدت پسندی اتنی بڑھتی جا رہی کہ کوئی کسی بات سننے کو تیار ہی نہیں ہوتا ہے۔‘
کہا یہ جاتا ہے کہ یونیورسٹی نے استاد کو نکال دیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ 'ہمارے ریاستی اداروں نے ہمارے تعلیمی اداروں کا بھی دم گھوٹ دیا ہے۔ ہمارے اداروں میں ہر چیز پڑھانے کے لیے مخصوص حلقوں کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔'
انھوں نے کہا کہ عموما دو طرح کے استاد ہوتے ہیں ایک وہ جو آپ کو کتابی علم پڑھا دیتے ہیں اور ایک وہ جو آپ کو کتابی علم پڑھانے کے بعد سمجھاتے بھی ہیں۔ اب اس میں قصور صرف اداروں کا نہیں ہے۔ ہمارے طالبعلموں میں بھی اختلاف رائے کے حوالے سے عدم برداشت بے انتہا بڑھ گیا ہے۔
’جب آپ کسی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ کبھی بھی سننے کو تیار نہیں ہوتا ہے اور یہی وہ رویہ ہے جو آج کل ہمارے ریاستی اداروں سمیت ہر شخص نے اپنایا ہوا ہے۔‘
جب لوگوں کو تعلیمی ادارے نکالتے ہیں مثال کے طور پر ہود بھائی، اس شخص کا شمار اپنے شعبے کے ماہرین میں کیا جاتا ہے۔ ایسی طرح عمار وہ نوجوان ہے جو سماجی کارکن بھی ہے اور وہ ہمارے معاشرے سمیت ہمارے نوجوانوں کے مسائل کو بھی سمجھتا ہے۔ اگر یہ لوگ اتنے ہی برے ہیں تو کیوں پاکستان کے بہترین ادارے انھیں بار بار اپنے پاس بلاتے ہیں۔
عارفہ سیدہ کے مطابق ’ہمیں معاشرے کو بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک وہ اساتذہ کی بات نہیں سننے کو تیار ہوں گے تو کون سا استاد کس ادارے میں پڑھاتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘










