پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کو نااہل قرار دینے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

فیصل واوڈا

،تصویر کا ذریعہwww.pid.gov.pk

اسلام آباد ہائی کورٹ میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا کو نااہل قرار دینے کی دائر درخواست کو بدھ 29 جنوری کو سماعت کے لیے مقرر کر لیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اس پٹیشن کی سماعت کریں گے۔

ایڈوکیٹ میاں محمد فیصل کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی وزیر فیصل واوڈا کو دہری شہرت رکھنے کی بنیاد پر بطور ممبر قومی اسمبلی نااہل قرار دیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت فیصل واوڈا امریکی شہریت رکھتے تھے مگر انھوں نے الیکشن کمیشن میں دہری شہریت نہ رکھنے کا جھوٹا حلف نامہ جمع کرایا۔

یہ بھی پڑھیے

فیصل واوڈا

،تصویر کا ذریعہwww.mowr.gov.pk

فیصل واوڈا نے دہری شہریت چھپا کر اور جھوٹا حلف دے کر بددیانتی کی، وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ فیصل واوڈا نے 11 جون 2018 کو الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی جمع کروائے جس میں انھوں نے دہری شہریت ظاہر نہیں کی تاہم وہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے وقت بھی امریکی شہریت رکھتے تھے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیصل واوڈا کے کاغذات 18 جون 2018 کو منظور ہوئے جبکہ انھوں نے امریکی شہریت چھوڑنے کے لیے درخواست 22 جون 2018 کو جمع کروائی۔ جبکہ ان کو امریکی سفارتخانے سے شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ 25 جون 2018 کو ملا۔ جو کہ ان کے کاغذات نامزدگی کے بہت بعد تھا۔

سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ نامزدگی فارم جمع کراتے وقت دہری شہریت ترک کرنے کاسرٹیفکیٹ ہونا ضروری ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فیصل واوڈا کو بطور رکن قومی اسمبلی نااہل قرار دیا جائے۔

میاں محمد فیصل ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی درخواست میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا، سیکرٹری کابینہ ڈویژن، سیکرٹری قانون وانصاف، سیکرٹری قومی اسمبلی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے۔