#ArmyAct کی منظوری پر سوشل میڈیا پر بحث: ’سلیکٹر کو سب نے سلیکٹ کر لیا‘

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
جب قومی اسمبلی میں مسلح افواج کے سربراہان کی مدتِ ملازمت کے حوالے سے ترمیمی بل کی منظوری کی بات شروع ہوئی تو لگتا تھا کہ یہ نہیں ہو پائے گا۔ مگر پھر آج کا دن چڑھا اور باقی تاریخ کا حصہ ہے۔
قومی اسمبلی نے بل کثرت رائے سے منظور کر لیا اور یوں بقول ماریہ میمن ’سلیکٹر کو سب نے سلیکٹ کر لیا'۔
اور یوں سوشل میڈیا پر اس موضوع پر بحث چل پڑی اور ٹوئٹر صارفین مختلف ہیش ٹیگز کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے جس میں #ووٹ_کی_عزت_ہاہاہاہا #مولانا_ڈٹ_گئے_باقی_دب_گئے #ArmyAct #BlackDay سرِفہرست رہے۔
آرمی ایکٹ کی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد فاٹا سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے آگاہ کیا انھوں نے اجلاس سے واک آؤٹ سے قبل آرمی ایکٹ کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ سپیکر قومی اسمبلی نے اختلاف رائے رکھنے والوں چند افراد کو بھی ان کا کیس پیش نہیں کرنے دیا۔
اس حوالے سے مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محسن داوڑ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں سیاہ ترین دن ہے۔ اور اس سے بہتری کی طرف آنے میں بہت عرصہ لگے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/mjdawar
دوسری جانب راجہ عمر کا کہنا تھا کہ ’آرمی ایکٹ جمہوریت سے زیادہ مسلح افواج کے لیے باعث شرمندگی ہے۔ یہ صفوں میں صرف اختلاف، تلخی اور تفریق پیدا کرےگا۔‘
ایک ٹوئٹر صارف نے حزب اختلاف کی جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’آرمی ایکٹ اور ووٹ کو عزت دو سے ووٹ کو ایکسٹنشن دو تک کے سفر نے عوام کی آنکھیں کھول دیں۔۔۔ پی پی پی، پی ایم ایل این اور پی ٹی آئی ایک پیج پر ہیں۔‘
صحافی رضا رومی نے آرمی ایکٹ کی قومی اسمبلی سے جھٹ پٹ منظوری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ’سیاسی پارٹیوں نے یہ فیصلہ تو کرنا ہی تھا لیکن تھوڑی سی پارلیمانی طریقوں کی لاج ہی رکھ لیتے۔ تیس سیکنڈ نے تو عالمی ریکارڈ بنا ڈالا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/RazaRumi
فراز نے اس پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے کردار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان دونوں پارٹیوں نے جنرل باجوہ پر الیکشن میں دھاندلی اور جعلی کیسز بنانے کا الزام عائد کیا اور آج انھیں کی (مدت ملازمت میں) توسیع کے لیے ووٹ ڈالا۔
جبکہ صحافی خاور گھمن نے سوال کیا کہ "کیا آج کے بعد عمران خان الیکٹڈ پرائم منسٹر ہو جائیں گے یا پھر سیلیکٹڈ ہی رہیں گے؟"

،تصویر کا ذریعہTwitter/Ghummans
جبکہ احمر محمود کیانی نے وزیر اعظم عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سال 2020 کا مثبت نوٹ پر آغاز ہوا ہے۔ ’امید ہے کہ نئے پاکستان میں ہمیں اور خوشخبریاں سننے کو ملیں گیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/AMKPTI












