میرپور: زلزلے سے کم از کم 25 افراد ہلاک، 452 زخمی

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر، دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب کے کئی علاقوں سمیت پاکستان کے بالائی حصوں میں منگل کی سہ پہر آنے والے زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 25 تک پہنچ گئی ہے جبکہ امدادی کارروائیاں اور بحالی کا کام جاری ہے۔
ادھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں بدھ کی صبح زلزلے کا ایک اور جھٹکا محسوس کیا گیا۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے جبکہ زخمی افراد 452 ہیں۔ جن میں سے 162 افراد شدید زخمی جبکہ 292 افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک فوجی اہلکار بھی شامل ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت 5.8 جبکہ گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ اس زلزلے سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں میرپور، بھمبر اور جاتلاں کے علاقے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے مطابق فوج کے سربراہ نے سول انتظامیہ کا ہاتھ بٹانے کے لیے امدادی کارروائیوں کا حکم دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جاتلاں میں تین متاثرہ پُلوں اور جاتلاں-منگلا روڈ پر امدادی کام جاری رہے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زلزلہ زدہ علاقے کا دورہ کرنے والی بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق متاثرہ علاقے میں سڑکوں پر جگہ جگہ شگاف پڑ چکے ہیں جبکہ اپر جہلم کنال میں شگاف پڑنے سے اردگرد کے علاقوں میں پانی داخل ہو گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوراٹر ہسپتال میرپور میں ایمرجنسی نافذ ہے اور لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوراٹر ہسپتال میرپور کا سرجیکل وارڈ شہر کے نواح میں واقع کئی دیہات سے لائے گئے متاثرین سے بھرا ہے۔ ان افراد میں سے متعدد کی ٹانگیں ملبے تلے دب کر ٹوٹی ہیں جبکہ کچھ کو سر اور دیگر حصوں پر زخم آئے ہیں۔
نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق جب وہ ہسپتال میں داخل ہوئیں تو پہلی آواز جو ان کے کان میں پڑی وہ یہ تھی کہ 'میری بڑی بیٹی کا سر پھٹ گیا ہے'۔
ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے گیٹ کے قریب بنے چبوترے پر گرد آلود کپڑوں میں بیٹھا شخص بظاہر اپنے کسی رشتہ دار کو بتا رہا تھا کہ ان کا زلزلے سے کتنا نقصان ہوا ہے اور اس کی گود میں غالبا اس کی دوسری بیٹی ڈری سہمی بیٹھی تھی۔

،تصویر کا ذریعہMIRZA AURANGZAIB
اس سے چند ہی قدم پرسرجیکل وارڈ سے ایک میت نکالی جا رہی تھی جو ایک ایسے بچے کی جو زلزلے میں عمارت گرنے سے زخمی ہوا اور پھر دم توڑ گیاتھا۔
بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق ایک بستر پر اسی سال سے زائد عمر کے بزرگ لیٹے تھے، جن کی ٹانگیں اب بھی خون میں لت پت تھیں، انھیں متعدد فریکچر بھی آئے تھے۔ قریب ہی ایک اور بیڈ پر ایک ماں بار بار یہ سوچ کر سسکیاں بھر رہی تھیں کہ وہ اس وقت اپنے بیٹے کے پاس موجود نہیں تھیں جب ان پر دیوار گری۔
ابدو بٹ کی رہائشی خاتون صائمہ کے مطابق جب زلزلہ آیا تو وہ گھر میں کپڑے دھو رہی تھیں جبکہ ان کا بیٹا اپنی نانی کے گھر صحن میں کھیل رہا تھا۔
'بچہ صحن میں کھیل رہا تھا جب دیوار گری اور وہ زخمی ہو گیا۔'
انھوں نے بتایا ' اور بھی بچے زخمی ہوئے ہیں جبکہ دو خواتین فوت ہو گئیں ہیں۔ نقصان کا کوئی اندازہ نہیں بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔'
'ہمارے گاؤں میں بہت تباہی ہوئی ہے مکان گر کئے ہیں، کوٹھیاں گر گئی ہیں، نہر کا بند ٹوٹ گیا ہے اور پانی ہمارے گھروں میں داخل ہو گیا ہے۔'
ڈی ایچ کیو میرپور میں اپنے زخمی والد اور بیٹے کے ساتھ آئے ایک شخص نے بی بی سی کو کو بتایا کہ جب زلزلہ آیا تو وہ کام پر تھے جبکہ ان کے والد اور بیٹا گھر میں موجود تھے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
'یہ دادا اور پوتا گھر کے اندر تھے، چھت گری اور یہ دونوں زخمی ہو گئے۔ والد کی ٹانگ پر چوٹ آئی ہے اور سر پر زیادہ چوٹ آئی ہے۔ پورا جسم چھلنی ہو گیا ہے۔ بچے کی حالت کچھ بہتر ہے۔ خراشیں آئی ہیں لیکن نہیں معلوم کے اندرونی طور پر اسے کتنی چوٹیں آئی ہیں۔'









